حضرت مولانا سید علی میاںؒ کی یاد میں ایک نشست

۲۵ فروری کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں الشریعہ اکادمی کی طرف سے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں شہر کے سرکردہ علماء کرام اور اہل دانش نے شرکت کی۔ اسلامیہ کالج گوجرانوالہ کے ریٹائرڈ پرنسپل پروفیسر محمد عبد اللہ جمال نے نشست کی صدارت کی جبکہ گوجرانوالہ تعلیمی بورڈ کے شعبہ امتحانات کے نگران پروفیسر غلام رسول عدیم مہمان خصوصی تھے، انہوں نے تفصیل کے ساتھ ندوۃ العلماء لکھنو کی ملی خدمات اور مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مارچ ۲۰۰۰ء

’’دی لیڈر‘‘ اور قومی نصاب کمیٹی

جہاں تک نظم کو نصاب سے خارج کرنے کا تعلق ہے یہ خوش آئند بات ہے کہ وزارت تعلیم نے ملک کے کروڑوں عوام اور ارباب علم و دانش کے جذبات کا احترام کیا ہے اور اس کا بروقت نوٹس لیا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں جو عذر پیش کیا گیا ہے وہ محل نظر ہے اور اس نے ایک اور نازک سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ہمارے ہاں قومی نصاب سازی کا معیار یہی ہے کہ کسی صاحب کو انٹرنیٹ سے اپنے ذوق کی کوئی نظم مل گئی اور اس نے اسے اٹھا کر نصاب میں شامل کر دیا؟ ظاہر ہے کہ یہ کتاب ’’قومی نصاب کمیٹی‘‘ میں منظوری کے مراحل سے گزری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ دسمبر ۲۰۰۵ء

قرآن کریم اور نبی کریمؐ سے مسلمانوں کی عقیدت

سعودی عرب کا رسم الخط اور انداز تحریر جنوبی ایشیا سے مختلف ہے۔ قرآن کریم کے متن میں تو کسی جگہ کوئی فرق نہیں اور نہ ہو سکتا ہے لیکن بعض سورتوں کے ناموں اور بعض الفاظ کے طرز تحریر میں فرق ہے جس سے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو سعودی عرب کی طرز پر طبع شدہ قرآن کریم کی تلاوت میں دقت پیش آتی ہے۔ چنانچہ حرمین شریفین یعنی مسجد حرام اور مسجد نبویؐ میں بھی اس فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے عام لوگوں کو تلاوت کے لیے دونوں طرز کے نسخے الگ الگ فراہم کیے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ فروری ۲۰۰۶ء

ڈنمارک میں توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت اور مسلمانوں کا ردِ عمل

مغرب یہ سمجھتا ہے کہ قرآن کریم اور جناب رسول اکرمؐ کی ذات گرامی کے ساتھ ایک عام مسلمان کی اس درجہ محبت و عقیدت اور کمٹمنٹ کی موجودگی میں مسلمان سوسائٹی کو قرآن و سنت کی تعلیمات سے لاتعلق نہیں کیا جا سکتا اور مسلمانوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات و احکام کی عملداری سے دستبردار کرانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ عالمی سطح پر مسلمانوں کو مذہبی رواداری، برداشت اور تحمل کے خوبصورت عنوانوں کے ساتھ جو سبق پڑھایا جا رہا ہے اس کا ایک پس منظر یہ بھی ہے کہ قرآن کریم اور آنحضرتؐ کے ساتھ عام مسلمان کی اس درجہ کی بے لچک کمٹمنٹ کو کمزور کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۲۰۰۶ء

مشرق وسطیٰ میں ’’ٹرمپائزیشن‘‘ کے دور کا آغاز

یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس نئی منصوبہ بندی کا ہوم ورک کسی حد تک مکمل ہو چکا ہے کہ ٹرمپ صاحب اسے لے کر آگے چل پڑے ہیں اور انہوں نے اپنے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ جبکہ جرمن وزیر خارجہ کے بقول اب سے شروع ہونے والا دور ’’ٹرمپائزیشن‘‘ کا دور ہوگا جس کی شروعات ’’اسلامی سربراہ کانفرنس‘‘ سے ہوئی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے نہ صرف اس سے سرپرستانہ خطاب کیا ہے بلکہ جاتے ہوئے سعودی عرب اور قطر کے غیر متوقع تنازعہ کا تحفہ بھی دے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جون ۲۰۱۷ء

انقلابِ ایران اور مریم رجاوی

ایک کامیاب مذہبی انقلاب کے طور پر ہم بھی انقلابِ ایران کا خیرمقدم کرنے والوں میں شامل تھے اور ہم نے یہ توقع وابستہ کر لی تھی کہ ایران کا کامیاب اور بھرپور مذہبی انقلاب عالم اسلام کی ان مذہبی قوتوں اور تحریکوں کا معاون بنے گا جو اپنے اپنے ممالک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے محنت کر رہی ہیں۔ لیکن یہ توقع غلط ثابت ہوئی حتیٰ کہ خود ہمارے ہاں پاکستان میں اسلامی تحریکوں کو سپورٹ کرنے کی بجائے ’’فقہ جعفریہ‘‘ کے نفاذ کی تحریک کے عنوان سے پریشان کن مسائل کھڑے کر دیے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جون ۲۰۱۷ء

خلافتِ راشدہ اور مروجہ سسٹم

اپوزیشن لیڈر میاں محمد نواز شریف نے خلفائے راشدینؓ کا نظام نافذ کرنے کی بات کی ہے تو اس کے ساتھ ’’خلافت راشدہ‘‘ کی اصطلاح قومی سطح پر بحث و مباحثہ کا عنوان بن گئی ہے۔ میاں صاحب کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ جب برسرِ اقتدار تھے اس وقت انہیں خلفائے راشدینؓ کا نظام نافذ کرنے کی بات کیوں نہ سوجھی؟ اور بعض راہنماؤں نے اس خیال کا اظہار بھی کیا ہے کہ خلافت کی بات موجودہ نظام کے خلاف سازش ہے اور اس طرح سسٹم کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم ستمبر ۱۹۹۶ء

پاکستان میں سودی نظام ۔ تین پہلوؤں سے

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سودی نظام و قوانین کے ۳۰ جون ۲۰۰۲ء تک خاتمہ کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلے پر نظر ثانی کے سلسلے میں یو بی ایل کی اپیل ان دنوں شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہے۔ اس موقع پر دینی و ملی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کی طرف سے چند گزارشات فریقین کے وکلاء اور اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے دیگر سرکردہ ارباب علم و دانش کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جون ۲۰۰۲ء

’’تجدید‘‘ اور ’’تجدد‘‘ میں بنیادی فرق

تجدید اور مجدد کی اصطلاح تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد گرامی سے لی گئی ہے جس میں یہ پیش گوئی فرمائی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ اس امت میں ہر صدی کے آغاز پر ایک مجدد بھیجے گا جو دین کی تجدید کرے گا۔ جبکہ تجدید کا معنٰی علماء امت کے ہاں یہ معروف چلا آرہا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سوسائٹی اور افراد کے اعمال و اقدار میں غیر محسوس طریقہ سے کچھ اضافے ہوتے چلے جاتے ہیں، جس طرح کھیت اور باغ میں کچھ خودرو پود پیدا ہوتے رہتے ہیں جنہیں وقفہ وقفہ سے تلف کر کے چھانٹی کر دی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جون ۲۰۱۷ء

’’رویتِ ہلال: قانونی و فقہی تجزیہ‘‘

رؤیت ہلال کا مسئلہ ہمارے ہاں طویل عرصہ سے بحث ومباحثہ اور اختلاف وتنازعہ کا موضوع چلا آ رہا ہے اور مختلف کوششوں کے باوجود ابھی تک کوئی تسلی بخش اجتماعی صورت بن نہیں پا رہی۔ اکابر علماء کرام کی مساعی سے حکومتی سطح پر مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی قائم ہوئی تو امید ہو گئی تھی کہ اب یہ مسئلہ مستقل طور پر طے پا جائے گا، مگر ملک کے بیشتر حصوں میں اجتماعیت کا ماحول قائم ہو جانے کے باوجود بعض علاقوں میں انفرادیت کی صورتیں ابھی تک موجود ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۷ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter