حضرت مولانا مفتی محمودؒ ۔ ایک صاحب بصیرت سیاستدان

سیاست زندگی بھر حضرت مفتی صاحبؒ کا اوڑھنا بچھونا رہی ہے، انہوں نے سیاست کو مشغلہ، ہابی یا آج کے سیاسی پس منظر میں کاروبار کے طور پر نہیں بلکہ مشن اور فریضہ کے طور پر اختیار کیا اور اس کا حق ادا کر کے دکھایا۔ ان کا شمار ملک کے مقتدر اور کامیاب سیاستدانوں میں ہوتا تھا اور ان کی سیاسی قیادت کا لوہا ان کے معاصر بلکہ سینئر سیاستدانوں نے بھی مانا۔ لیکن آج سیاست اور سیاستدانوں کی اصطلاحات کے گرد مفہوم و تعارف کے جو نامانوس دائرے نمایاں ہوتے جا رہے ہیں اور جن لوازمات نے ایک سیاستدان کے لیے ناگزیر حیثیت اختیار کر لی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۱۹۹۷ء

اقوامِ متحدہ اور عالمِ اسلام

۲۴ اکتوبر ۱۹۹۵ء کو اقوام متحدہ کا پچاسواں یومِ تاسیس منایا جا رہا ہے اور اس موقع پر عالمی سطح پر اقوامِ متحدہ کی پچاس سالہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ سے قبل بھی عالمی سطح پر اقوام کی ایک مشترکہ تنظیم ’’انجمنِ اقوام‘‘ کے نام سے موجود تھی جس کا مقصد مختلف ملکوں کے درمیان محاذ آرائی اور مسلح تصادم کے امکانات کو روکنا اور بین الاقوامی طور پر رواداری اور مفاہمت کی فضا کو فروغ دینا تھا۔ لیکن انجمن اقوام اس مقصد میں کامیاب نہ ہو سکی اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے بعد ’’اقوام متحدہ‘‘ کے نام سے ایک نئی عالمی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اکتوبر ۱۹۹۵ء

’’بیانیہ بیانیہ‘‘ کا کھیل

ہمارے بہت سے دانشور کچھ عرصہ سے باقی سارے کام چھوڑ کر ’’بیانیہ بیانیہ‘‘ کھیلنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ میڈیا کے مختلف شعبوں میں بیانیہ، جوابی بیانیہ، قومی بیانیہ، ریاستی بیانیہ، دینی بیانیہ، متبادل بیانیہ جیسے متنوع عنوانات کے ساتھ بحث و مباحثہ کی گرم بازاری ہے اور ہر طرف ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ ہم اس ’’فری اسٹائل کبڈی میچ‘‘ کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ اس ’’بیانیہ‘‘ کی غرض کیا ہے، اس کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے اور اس کا دائرہ کار کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ اپریل ۲۰۱۷ء

جمعیۃ کے صد سالہ عالمی اجتماع کی کامیابی پر مبارکباد

شیخ الہندؒ کی راہنمائی میں ایک صدی قبل کے دینی راہنماؤں نے آزادی و خودمختاری اور نفاذِ اسلام کے دو بنیادی اہداف کے لیے تحریک کا جو نیا رخ طے کیا تھا، اس کی بنیاد میں (۱) عدم تشدد پر مبنی پر امن سیاسی جدوجہد (۲) غیر مسلم باشندگان وطن کی اس تحریک میں شرکت (۳) جدید تعلیم یافتہ حضرات کو اس کی قیادت کے لیے آگے لانا (۴) اور تمام مذہبی مکاتب فکر کو اس تحریک کا عملی حصہ بنانا شامل تھا۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے حالیہ ’’صد سالہ عالمی اجتماع‘‘ کو دیکھ کر یہ اطمینان بخش اندازہ ہوتا ہے کہ دینی جدوجہد کے یہ اہداف اور دائرے نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ اپریل ۲۰۱۷ء

مولانا سید شمس الدین شہیدؒ

جمعرات ۱۴ مارچ کی صبح کو ملک بھر میں یہ خبر انتہائی غم کے ساتھ سنی گئی کہ گزشتہ روز کوئٹہ فورٹ سنڈیمن روڈ پر پاکستان کے انتہائی قابل احترام عالم با عمل، عظیم سیاسی راہنما، بلوچستان جمعیۃ کے امیر، صوبائی متحدہ جمہوری محاذ کے نائب صدر اور صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر حضرت مولانا سید محمد شمس الدین شہید کر دیے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس اندوہناک سانحہ نے ملک کے دینی و سیاسی حلقوں میں صفِ ماتم بچھا دی ہے۔ مولانا سید شمس الدین جمعیۃ علماء اسلام کے مقتدر راہنما تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مارچ ۱۹۷۴ء

صوبہ خیبر پختون خوا ۹۰ سال پہلے کے تناظر میں

نومبر 1927ء کے دوران پشاور میں جمعیۃ علماء ہند کی کانفرنس میں خطبۂ صدارت ارشاد فرماتے ہوئے امام المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے صوبہ خیبر پختون خواہ کی اس وقت کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبصرہ فرمایا تھا۔ یہ صوبہ اس وقت ’’شمال مغربی سرحدی صوبہ‘‘ کہلاتا تھا اور اسے عام طور پر صوبہ سرحد یا سرحدی صوبہ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ کم و بیش ایک صدی قبل کی سیاسی صورتحال پر یہ وقیع تبصرہ اگرچہ مجموعی طور پر اس دور کے تناظر میں ہے لیکن آج بھی بہت سے معاملات میں ہماری راہنمائی کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ و ۱۴ اپریل ۲۰۱۷ء

جمعیۃ العلماء کے مقاصد اور دائرہ کار

جمعیۃ علماء ہند کا قیام 1919ء میں عمل میں لایا گیا تھا جبکہ 1927ء کے دوران پشاور میں جمعیۃ علماء ہند کے زیراہتمام منعقدہ سہ روزہ اجلاس میں امام المحدثین علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے اپنے تاریخی خطبۂ صدارت میں جمعیۃ کی آٹھ سالہ کارکردگی، مقاصد اور عزائم کا ایک ہلکا سا خاکہ پیش فرمایا تھا۔ یہ خطبۂ صدارت ایک وقیع فکری و علمی دستاویز ہے جو جنوبی ایشیا کے مسلمانوں، علماء کرام اور دینی کارکنوں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اپریل ۲۰۱۷ء

جمعیۃ کے صد سالہ عالمی اجتماع کے موقع پر چند گزارشات

’’صد سالہ عالمی اجتماع‘‘ کے حوالہ سے ملک بھر میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی سرگرمیاں جاری ہیں اور ایک عرصہ کے بعد جمعیۃ کی قیادت اور کارکن ہر سطح پر متحرک نظر آرہے ہیں جو میرے جیسے پرانے کارکنوں کے لیے یقیناً خوشی اور حوصلہ کی بات ہے۔ اس موقع پر مختلف امور کو سامنے رکھتے ہوئے دو تین گزارشات پیش کرنے کو جی چاہتا ہے، ہو سکتا ہے کسی حد تک فائدہ دے جائیں۔ امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے پہلی صدی ہجری کے خاتمہ پر خلافت سنبھالی تھی، اس سے قبل حضرات صحابہ کرامؓ کے درمیان جمل اور صفین کی جنگیں ہو چکی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اپریل ۲۰۱۷ء

مولانا سید محمد ایوب جان بنوری سے ملاقات

جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سرحد کے امیر شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمد ایوب جان بنوری دامت برکاتہم ۲۱ رمضان المبارک ۱۳۳۰ھ کو پشاور میں پیدا ہوئے، آپ کے والد محترم کا اسم گرامی مولانا سید فضل خانؒ ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کی اور دورہ حدیث دارالعلوم دیوبند میں شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمدؒ مدنی نے ۱۳۵۲ھ میں کیا۔ طالب علمی کے دور میں دارالعلوم میں طلبہ کی انجمن اصلاح الکلام کے ناظم رہے جبکہ شیخ الحدیث مولانا عبد الحق مدظلہ ایم این اے اکوڑہ خٹک اس انجمن کے صدر تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ دسمبر ۱۹۷۳ء

حضرت مولانا عبد العزیز سہالویؒ

محدث پنجاب مولانا عبد العزیز سہالویؒ ۱۸۸۴ء میں تھانہ چونترہ ضلع راولپنڈی کی بستی سہال میں پیدا ہوئے، آپ کے والد محترم مولانا غلام رسول مرحوم بھی عالم دین تھے۔ مولانا عبد العزیزؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر میں اور اردگرد نواح کے روایتی درسوں میں حاصل کی، اس کے بعد انّہی شریف کی معروف درسگاہ میں برصغیر کے نامور استاد حضرت مولانا غلام رسولؒ المعروف بابا انّہی والے سے کافی عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر دارالعلوم دیوبند چلے گئے اور دورۂ حدیث شریف شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسنؒ سے پڑھ کر سندِ فراغت حاصل کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹۸۲ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter