عمر شیخ کے بارے میں برطانوی اخبار کا تبصرہ

بہت سے دوستوں نے مجھے مشورہ دیا کہ ابھی لندن کا سفر نہ کروں اور کچھ دن مزید انتظار کر لوں مگر اپنے شیڈول میں اس کی گنجائش نہ پا کر اللہ توکل چل پڑا اور ۲۲ ستمبر کو صبح ۹ بجے پی آئی اے کی لاہور سے لندن کی پرواز کے ذریعے ۳ بجے تک لندن پہنچ گیا۔ مفتی محمد جمیل خان کے تجربہ کے پیش نظر ذہن میں کسی حد تک خدشہ تھا کہ کہیں سوال و جواب کے لمبے چکر میں نہ ڈال دیا جاؤں لیکن ایسا نہیں ہوا اور ایئرپورٹ کے امیگریشن کاؤنٹر پر خاتون آفیسر نے صرف یہ سوال کیا کہ کتنا عرصہ رہوں گا اور اس جواب کے بعد انٹری کی مہر لگا دی کہ سات آٹھ ہفتے رہنے کا ارادہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اکتوبر ۲۰۰۱ء

امریکی ایجنڈا اور جنرل پرویز مشرف

امریکی نائب وزیرخارجہ مسٹر انڈرفرتھ گزشتہ دنوں اسلام آباد آئے اور چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف اور دیگر مقتدر شخصیات سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انتباہ کیا کہ پاکستان کو اپنی سرحدی حدود میں کام کرنے والے انتہا پسند اسلامی گروپوں پر پابندی عائد کرنا ہوگی جو بین الاقوامی برادری کے لیے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق مسٹر انڈر فرتھ نے کہا کہ حرکۃ المجاہدین سمیت بہت سے مسلح اسلامی گروپ دہشت گردی کر رہے ہیں اس لیے ان پر پابندی لگائی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۰ء

کیا امریکہ واقعی اسلام مخالف نہیں؟

امریکہ کے صدر محترم جناب بل کلنٹن جنوبی ایشیا کا دورہ کر کے واپس چلے گئے ہیں۔ اس دورہ کے اختتام پر وہ چند گھنٹوں کے لیے پاکستان بھی آئے اور صدر محمد رفیق تارڑ اور چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کے ساتھ گفت و شنید کے علاوہ پاکستانی عوام سے ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے جمہوریت کی بحالی اور انتہاپسندی و دہشت گردی کی روک تھام کے حوالہ سے اپنے روایتی موقف کا اعادہ کیا، اور اپنے خطاب میں قرآن کریم کا حوالہ دے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ان کی مہم اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۰ء

چیچنیا کے مشیر سلیم خان کی گرفتاری

چیچنیا کے سابق صدر اور موجودہ حکومت کے مشیر سلیم خان کی اسلام آباد میں گرفتاری کی خبر پڑھی تو سناٹے میں آگیا۔ میں توقع کر رہا تھا کہ سلیم خان اسلام آباد پہنچیں گے تو انہیں ایک مجاہد اور مجاہدوں کے غیور نمائندہ کے طور پر پروٹوکول دیا جائے گا، جہاد کشمیر اور جہاد افغانستان میں مجاہدین کی پشت پناہی کرنے والے ادارے جہادِ چیچنیا کے سرکاری سفیر سے وہاں کے حالات معلوم کر کے انہیں تعاون کا یقین دلائیں گے، اور روسی جارحیت کا دلیرانہ سامنا کرنے والے غیور مسلمانوں کی پشت پر ہاتھ رکھیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۲۰۰۰ء

جنید جمشیدؒ

جنید جمشیدؒ کی جدائی پر وسیع پیمانے پر محسوس کیا جانے والا یہ غم دراصل ہمارے اس قومی اور معاشرتی جذبہ و احساس کا عکاس ہے کہ اپنے اللہ کی طرف رجوع، عیش و عشرت کے ماحول سے واپسی، اور آخرت کی تیاری کے لیے ہر مسلمان کے دل میں تڑپ کسی نہ کسی درجہ میں ضرور موجود ہے۔ اس تڑپ کو بے ثبات دنیا کی رنگا رنگ آسائشوں نے گھیر رکھا ہے، اسے صرف صحیح راہنمائی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، یہ کام اگر سلیقے سے کیا جا سکے تو جنید جمشید کا غم محسوس کرنے والے لاکھوں افراد خود بھی جنید جمشید بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ دسمبر ۲۰۱۶ء

ذرائع ابلاغ اور سنت نبویؐ

قرآن کریم کا پیغام فطری جبکہ اسلوب فصاحت و بلاغت کے کمال کا تھا، اس لیے مخالفین کو اس کا اثر کم کرنے کے لیے طعن و تشنیع اور کردار کشی کے سوا کوئی بات نہیں سوجھتی تھی۔ کبھی مجنون کہتے، کبھی شاعر، کبھی ساحر اور کبھی کاہن کے طعنے کا سہارا لیتے۔ ایک مرحلہ میں قریشی سردار نضر بن حارث کو قرآن کریم کے مقابلہ میں محفلیں بپا کرنے کی سوجھی تو اس نے ناچ گانے، موسیقی اور قصے کہانیوں کو ذریعہ بنایا جس کا ذکر قرآن کریم نے ’’لھو الحدیث‘‘ کے عنوان سے کیا ہے اور ’’لیضل عن سبیل اللە‘‘ کے ارشاد کے ساتھ گمراہی پھیلانے کا اہم سبب قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ دسمبر ۲۰۱۶ء

دینی مدارس اور وفاقی وزیر داخلہ کی خوش آئند باتیں

دستور کی بالادستی کے نام پر ووٹ لینے والے حکمران بھی دستور کی اسلامی دفعات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کے بارے میں اس عالمی سیکولر ایجنڈے کے لیے مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں جس کے بارے میں اب کوئی ابہام باقی نہیں رہا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ دستور پاکستان کی اسلامی بنیادوں کو خدانخواستہ سرے سے ختم کر دیا جائے یا کم از کم انہیں غیر موثر بنا دیا جائے، اور پاکستان میں دین کی سربلندی اور دینی اقدار و روایات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے حلقوں اور افراد کو مسلسل خوف و ہراس کے ماحول میں رکھا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۶ء

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے مغربی ثقافت اور اس کے پیداکردہ نظریاتی و علمی فتنوں کے تعاقب کو اپنی زندگی کا مشن بنا رکھا تھا۔ وہ بلاشبہ اس دور میں اسلامی تہذیب و ثقافت اور تاریخ و روایات کے بے باک نقیب تھے۔ انہوں نے اس حوالہ سے دنیائے اسلام کے اربابِ فکر و دانش کے ایک بڑے حصے کو ادراک و شعور کی منزل سے ہمکنار کیا اور مغرب کے سیکولر فلسفہ اور فری سوسائٹی کے تار و پود بکھیر کر ذہنی مرعوبیت کی فضا کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۰ء

حضرت جی مولانا انعام الحسنؒ

تبلیغی جماعت کے امیر حضرت مولانا انعام الحسن ۹ جون کو دہلی میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی وفات کی خبر آناً فاناً دنیا بھر کے تبلیغی مراکز میں پہنچ گئی اور دنیا کے کونے کونے میں دعوت و تبلیغ کے عمل سے وابستہ لاکھوں مسلمان رنج و غم کی تصویر بن گئے۔ مولانا انعام الحسن کو تقریباً تیس برس پہلے تبلیغی جماعت کے دوسرے امیر حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ کی وفات کے بعد عالمگیر تبلیغی جماعت کا امیر منتخب کیا گیا تھا۔ ان کی امارت میں دعوت و تبلیغ کے عمل کو عالمی سطح پر جو وسعت اور ہمہ گیری حاصل ہوئی وہ ان کے خلوص و محنت کی علامت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۱۹۹۵ء

حاجی عبد المتین چوہان مرحوم

عبد المتین مرحوم کے ساتھ راقم الحروف کا تعلق حفظ قرآن کریم کے دور سے تھا جب ہم دونوں مدرسہ نصرۃ العلوم میں استاذ محترم حضرت قاری محمد یاسین صاحب مرحوم سے پڑھتے تھے۔ یہ غالباً سن 1958ء یا 1959ء کی بات ہے۔ عبد المتین مرحوم قرآن کریم یاد نہ کر سکے لیکن علماء کرام اور جماعتی امور کے ساتھ ان کا تعلق آخر دم تک قائم رہا۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ، اور حضرت سید نفیس شاہ صاحب کے ساتھ عقیدت و محبت کا خصوصی تعلق تھا اور جمعیۃ علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے کاموں میں بطور خاص دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری مارچ ۱۹۹۶ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter