عالم اسلام یا پاکستان میں ایک روز عید کے امکانات

عید الفطر اس سال بھی پاکستان میں ایک دن نہیں منائی جا سکی کیونکہ صوبہ سرحد کے اکثر علاقوں میں باقی ملک سے ایک دن پہلے منائی گئی ہے۔ اس پر مختلف حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور ایسا ہر سال ہوتا ہے کہ عید کے چند روز تک بحث و مباحثہ جاری رہتا ہے لیکن اس حوالہ سے کوئی ٹھوس عملی پیش رفت ہوئے بغیر خاموشی طاری ہو جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں چند اصولی باتوں کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے جن سے قارئین کو موجودہ صورتحال کا پس منظر سمجھنے میں کچھ آسانی ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جنوری ۲۰۰۰ء

مسلم پرسنل لاء اور موجودہ عالمی صورتحال

اس کے ساتھ میں یہ بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ مسلم ممالک میں غیر مسلموں کو پرسنل لاء میں جداگانہ تشخص فراہم کیا گیا ہے۔خود پاکستان کے دستور میں ان کا یہ حق تسلیم کیا گیا ہے اور سب سے پہلے علماء کرام نے 22 متفقہ دستوری نکات میں اس اصول کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا کہ پرسنل لاء میں تمام اقلیتوں کو اپنے مذہبی احکام پر عمل کرنے کی آزادی ہوگی۔ اس لیے جب پاکستان میں عیسائی اقلیت اور دیگر اقلیتوں کو یہ حق دینے سے انکار نہیں کیا گیا تو برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں مسلمانوں کا یہ حق تسلیم کرنے میں بھی کوئی حجاب نہیں ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ اگست ۱۹۹۹ء

آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کے مطالبات

کانفرنس سے مولانا سمیع الحق نے کہا کہ اصل بات امریکہ کے تسلط سے نجات حاصل کرنے کی ہے کیونکہ جب تک غلامی کا یہ طوق ہماری گردن سے نہیں اترتا اس قسم کے جزوی مسائل پیدا ہوتے رہیں گے اور ہم ان کے حل میں لگے رہیں گے۔ اصل مسئلہ قومی آزادی کی بحالی کا ہے اور ہمیں عالمی استعمار سے مکمل آزادی اور خودمختاری حاصل کرنے کے لیے ایک نئی جنگِ آزادی کا آغاز کرنا ہوگا۔ راقم الحروف نے اس طرف توجہ دلائی کہ عقیدۂ ختم نبوت کے علاوہ اور مسائل بھی بیرونی دباؤ کی زد میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جون ۲۰۰۲ء

توہین رسالت کا قانون: فرحت اللہ بابر کے جواب میں

یہ بات درست ہے کہ عام آدمی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور کسی مولوی صاحب کا لوگوں کو اشتعال دلا کر کسی کے قتل پر آمادہ کرنا اس سے بھی زیادہ سنگین جرم ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر اس کے ساتھ عام مسلمانوں کے جذبات کے خلاف بین الاقوامی اداروں کی مہم، مغربی ممالک کی طرف سے گستاخان رسولؐ کی پشت پناہی، اور ملک کے عدالتی نظام پر بے اعتمادی کے عوامل کو بھی پیش نظر رکھا جائے تو صرف قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کو تنہا مجرم قرار دینا کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اگست ۲۰۰۲ء

اللہ تعالیٰ اپنے دین کی اشاعت کے اسباب خود پیدا کرتا ہے

مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کی تاریخ کا سب سے زیادہ قابل ذکر باب یہ ہے کہ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے والد محترم شیخ حبیب اللہ مرحوم نے، جو گکھڑ کے قریب بستی جلال کے رہنے والے تھے، اسی مسجد میں مولانا سراج الدین احمدؒ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ اسی زمانہ میں گکھڑ کے قریب دو بستیوں ترگڑی اور تلونڈی کھجور والی کے دو اور غیر مسلم بھی مشرف بہ اسلام ہوئے۔ ایک کا نام شیخ عبد الرحیمؒ ہے جو ضلع گوجرانوالہ کے معروف صنعتکار الحاج سیٹھی محمد یوسف مرحوم (راہوالی گتہ مل والے) کے والد محترم تھے، وہ ترگڑی کے رہنے والے تھے اور ہندو تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مارچ ۲۰۰۲ء

تنزانیہ کے حکمران خاندان کا قبولِ اسلام

مالیر کوٹلہ (بھارت) سے مولانا مفتی فضیل الرحمان ہلال عثمانی کی زیر ادارت شائع ہونے والے دینی جریدہ ماہنامہ دارالسلام نے مئی 2000ء کے شمارہ میں افریقہ کے مسلم اکثریت رکھنے والے ملک تنزانیہ کے سابق صدر جولیس نریرے اور ان کے خاندان کے قبول اسلام کے واقعہ اور اس کے پس منظر پر جناب منظور الحق آف کامٹی کی رپورٹ شائع کی ہے جو انہی کے الفاظ میں قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۰۰ء

بسنت کے بارے میں حکومتِ پنجاب کا موقف

ہمیں حیرت پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل مقبول انور ملک صاحب کے اس ارشاد پر ہوتی ہے کہ انہیں بسنت پر پابندی لگانے کے لیے کوئی قانون نہیں مل رہا۔ اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ ان کے سامنے شریعت اسلامیہ کے قوانین نہیں ہیں۔ ورنہ انہیں یہ بات معلوم ہوتی کہ فقہاء اسلام نے ’’سد ذرائع‘‘ کا ایک مستقل اصول بیان کیا ہے کہ جو چیز کسی غلط نتیجہ کا باعث بن رہی ہو اور جس سے کسی نقصان کا واضح خطرہ نظر آرہا ہو اسے جائز ہونے کے باوجود شرعاً ممنوع قرار دیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ فروری ۲۰۰۱ء

’’دینِ الٰہی‘‘ اور حضرت مجدد الفؒ ثانی: آج کے مغربی فلسفہ کے تناظر میں

حضرت مجدد الفؒ ثانی کی حیات د خدمات کے بارے میں ارباب فکر و دانش اس محفل میں اظہار خیال کر رہے ہیں جو حضرت مجددؒ کی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کے حوالہ سے ہوگی، میں ان میں سے صرف ایک پہلو پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت مجددؒ نے اکبر بادشاہ کے خودساختہ ’’دین الٰہی‘‘ کو اپنی مخلصانہ جدوجہد کے ذریعہ ناکام بنا دیا تھا۔ وہ دین الٰہی کیا تھا اور اس کے مقابلہ میں حضرت مجددؒ کی جدوجہد کیا تھی؟ اکبر بادشاہ کے دین الٰہی کے خدوخال اور حدود اربعہ کے بارے میں تاریخ بہت کچھ بتاتی ہے جسے میں چار دائروں یا مراحل میں تقسیم کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ نومبر ۲۰۱۶ء

دینی نظامِ تعلیم ۔ اصلاحِ احوال کی ضرورت اور حکمتِ عملی

جنوبی ایشیا کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے جن دینی مدارس کے بارے میں آج ہم بحث و گفتگو کر رہے ہیں وہ اس وقت عالمی سطح کے ان اہم موضوعات میں سے ہیں جن پر علم و دانش اور میڈیا کے اعلیٰ حلقوں میں مسلسل مباحثہ جاری ہے۔ مغرب اور عالم اسلام کے درمیان تیزی سے آگے بڑھنے والی تہذیبی کشمکش میں یہ مدارس اسلامی تہذیب و ثقافت اور علوم و روایات کے ایسے مراکز اور سرچشموں کے طور پر متعارف ہو رہے ہیں جو مغربی تہذیب و ثقافت کے ساتھ کسی قسم کی مصالحت اور ایڈجسٹمنٹ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اگست ۲۰۰۰ء

طالبان، امریکہ اور اقوام متحدہ

امریکی صدر بل کلنٹن نے اعلان کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے پر طالبان کو سزا دینا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ افغانستان پر عائد کی جانے والی پابندیوں کا مقصد طالبان تحریک کو عالمی برادری سے دہشت گردی سمیت اہم معاملات پر عدم تعاون کی راہ اپنانے کی سزا دینا ہے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان جنرل اسمبلی میں سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ افغانستان دنیا بھر کے مذہبی دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۹ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter