خان غلام سرور خان مرحوم

15 اپریل کو صبح نمازِ فجر کے بعد سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور بنوں کے جماعتی سفر کے لیے پایۂ رکاب تھا کہ فون کے ذریعہ یہ روح فرسا خبر ملی کہ جمعیۃ علماء اسلام بہاولپور کے امیر خان غلام سرور خان انتقال کر گئے ہیں اور دس بجے دن بہاولپور میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے رہی ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ نمازِ جنازہ کے لیے بہاولپور پہنچنا ممکن نہیں تھا اس لیے دکھی دل کے ساتھ طے شدہ سفر پر روانہ ہوگیا۔ غلام سرور خان مرحوم ایک عرصہ سے بیمار تھے، فالج کے ساتھ دل کا عارضہ بھی لاحق تھا اور تحریک نظام مصطفٰیؐ کے دوران پولیس کے وحشیانہ تشدد سے ان کا بازو بھی ٹوٹ گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مئی ۱۹۸۶ء

علامہ محمد احمد لدھیانویؒ

علامہ صاحب کے ساتھ میری جماعتی اور تحریکی رفاقت کا دورانیہ کم و بیش اڑتیس سال کے عرصہ کو محیط ہے اور کم و بیش ربع صدی تک ضلع گوجرانوالہ کی دینی اور قومی سیاست میں علامہ محمد احمد لدھیانوی، مولانا احمد سعید ہزاروی، ڈاکٹر غلام محمد مرحوم، مولانا علی احمد جامیؒ اور راقم الحروف جمعیۃ علمائے اسلام اور دیوبندی مسلک کی نمائندگی کرتے رہے۔ ہم مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی ٹیم شمار ہوتے تھے اور یہ ٹیم ان کی سرپرستی اور قیادت میں دینی و قومی سیاست میں ضلع کی سطح پر ایک بھرپور کردار کی حامل رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ مئی ۲۰۰۶ء

ایک تعزیتی سفر اور علماء سے ملاقاتیں

عید الفطر سے ایک روز قبل ہمارے ایک پرانے بزرگ مولانا روشن دین صاحب ٹیکسلا میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے دور میں جمعیۃ علمائے اسلام ضلع راولپنڈی کے سیکرٹری جنرل اور پھر امیر رہے۔ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ سے بیعت کا تعلق تھا ۔۔۔۔ اس سے دو روز قبل ستائیسویں شب کو ہمارے ایک اور پرانے جماعتی ساتھی مولوی عبد الکریم کا مریدکے میں انتقال ہوا مگر بے حد خواہش کے باوجود ان کے جنازہ میں بھی حاضری نہ ہو سکی۔ مولوی عبد الکریم صاحب جمعیۃ علمائے اسلام کے پرانے کارکنوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ نومبر ۲۰۰۶ء

الشیخ عبد اللہ عزام شہیدؒ

ڈاکٹر عبد اللہ عزام شہیدؒ سعودی عرب کے رہنے والے تھے، یونیورسٹی کے پروفیسر تھے، جہادِ افغانستان کے آغاز کے ساتھ ہی جذبۂ جہاد سے سرشار ہو کر ملازمت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے محاذِ جنگ پر آگئے۔ مختلف محاذوں پر جنگ میں حصہ لیا، افغان مجاہدین کی حمایت و امداد کے لیے ادارہ قائم کیا، جہادِ افغانستان پر مقالات اور کتابیں لکھیں، ’’الجہاد‘‘ کے نام سے ایک معیاری عربی جریدے کی اشاعت کا اہتمام کیا اور ان جذبۂ جہاد سے سرشار عرب نوجوانوں کی راہنمائی اور قیادت کی جو مختلف ممالک سے جہادِ افغانستان میں شرکت کے لیے محاذوں پر پہنچے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۸۹ء

ضلعی حکومتیں اور عالمی بینک

گزشتہ دنوں آزادکشمیر کے دو اضلاع باغ اور سدھنوتی کے مختلف مقامات پر جانے کا اتفاق ہوا تو اس دوران خاص طور پر یہ منظر دیکھ کر حیرت اور تعجب میں اضافہ ہوا کہ قدم قدم پر عالمی بینک کے تعاون سے مکمل کیے جانے والے آب رسانی کے منصوبوں کی تفصیلات کے بورڈ نصب ہیں۔ ان علاقوں میں لوگوں نے ورلڈ بینک کے تعاون سے پینے کے پانی کے حصول اور گھروں تک اسے پہنچانے کے بہت سے منصوبے مکمل کیے ہیں جن کے لیے بتایا جاتا ہے کہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور چشموں سے آبادی اور گھروں تک پہنچانےکے لیے پانی کے پائپ ورلڈ بینک نے مہیا کیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اگست ۲۰۰۰ء

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی خدمات

حضرت تھانویؒ کو 1857ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی ناکامی اور برطانوی استعمار کے مکمل تسلط کے تناظر میں دیکھا جائے تو صورتحال کا نقشہ کچھ اس طرح سامنے آتا ہے کہ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد اس خطہ کے مسلمان اپنا سب کچھ کھو کر نئے سرے سے معاشرتی زندگی کا آغاز کر رہے تھے۔ صدیوں اس خطہ پر حکومت کرنے کے بعد مسلمانوں کا سیاسی نظام ختم ہو چکا تھا، عدالتی اور انتظامی سسٹم ان کے ہاتھ سے نکل گیا تھا، عسکری قوت اور شان و شوکت سے وہ محروم ہو چکے تھے، اور ان کا علمی و تہذیبی ڈھانچہ بھی شکست و ریخت سے دوچار تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جنوری ۲۰۱۷ء

الحاج سیٹھی محمد یوسف مرحوم

سیٹھی صاحب مرحوم نے قرآن کریم کے مدارس کے قیام کو اپنی زندگی کا مشن قرار دے رکھا تھا۔ اس مقصد کے لیے تعلیم القرآن ٹرسٹ قائم تھا اور اس کے ذریعہ انہوں نے پاکستان کے مختلف حصوں میں مذکورہ بالا ترغیب کے ساتھ حفظ قرآن کریم کے مدارس کے قیام کی مہم چلائی۔ بعد میں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں آنے سے قبل مجھے گتہ مل کالونی کی مسجد میں کم و بیش ڈیڑھ دو سال خطابت کے فرائض سرانجام دینے کا موقع ملا تو اس کام سے زیادہ واقفیت حاصل ہوئی اور معلوم ہوا کہ تعلیم القرآن ٹرسٹ کے تحت ملک بھر میں کم و بیش گیارہ سو مدارس کی امداد کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ نومبر ۲۰۰۴ء

الحاج مولانا محمد زکریاؒ

مولانا محمد زکریا مرحوم کے ساتھ میرے روابط اور مراسم کا سلسلہ بہت پرانا تھا۔ وہ جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کے ان پرجوش، متحرک اور بے لوث ارکا ن میں شامل رہے جنہوں نے ایوبی مارشل لاء کے بعد جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کو ایک متحرک سیاسی قوت بنانے کے لیے دن رات ایک کر دیے، اور وسائل کی کمی بلکہ فقدان کے باوجود اپنی جدوجہد کے تسلسل میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔ مجھے ان کے ساتھ ان گنت اجتماعات میں شرکت کا موقع ملا، وہ بحث میں پرجوش حصہ لینے اور دوٹوک رائے دے کر اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے کے عادی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اگست ۱۹۸۸ء

حضرت مولانا جمیل احمد میواتی دہلویؒ

حضرت مولانا جمیل احمد میواتی دہلویؒ بھی اسی قافلہ کے فرد تھے، اس لیے انہوں نے بھی اپنی تگ و تاز کے لیے کسی ایک شعبے پر قناعت نہیں کی بلکہ تصوف و سلوک کو اپنی جولانگاہ بنانے کے ساتھ ساتھ نفاذِ اسلام کی جدوجہد، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی تحریک، دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تدریس کے شعبوں میں بھی فکر و عمل کا حصہ ڈالا۔ ان کا تعلق میوات سے تھا لیکن تقسیم ہند کے وقت ان کے والدین دہلی میں آباد تھے۔ 1947ء میں دہلی سے ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ حضرت مولانا کا روحانی تعلق پہلے شیخ الاسلام حضرت حسین احمدؒ مدنی سے تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ نومبر ۲۰۰۴ء

حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ

حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ پاکستان میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے آخری خلفاء میں سے تھے اور ان کے بعد ہمارے علم کے مطابق پاکستان میں اب ایسے کوئی بزرگ باقی نہیں رہے جنہیں حضرت مدنی نے اپنے روحانی سلسلہ میں خلافت سے نوازا ہو۔ بنگلہ دیش میں دو تین بزرگ ابھی موجود ہیں جن میں سے ایک بزرگ حضرت مولانا عبد الحق صاحب آف درگاپور ضلع سونام گنج کا میں ایک کالم میں تذکرہ کر چکا ہوں۔ حضرت مولانا قاضی مظہر حسین 1914ء کے دوران ضلع چکوال کے گاؤں بھیس میں پیدا ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم فروری ۲۰۰۴ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter