مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا پیغام
حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے بارے میں گفتگو کے مختلف پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک مستقل گفتگو کا متقاضی ہے۔ مثلاً ان کا قبول اسلام کیسے ہوا؟ ضلع سیالکوٹ کے گاؤں چیانوالی کے سکھ گھرانے کے ایک نوجوان نے اسلام قبول کیا تو اس کے اسباب کیا تھے اور وہ کن حالات و مراحل سے گزر کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ اسلام کی دعوت و تبلیغ اور غیر مسلموں کو اسلام کی طرف راغب کرنے میں اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ بوٹا سنگھ نامی نوجوان جب مسلمان ہوا تو سیالکوٹ سے جام پور اور وہاں سے بھرچونڈی شریف سندھ تک کے سفر کی داستان بھی توجہ کی مستحق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ہماری پالیسیوں کی بنیاد اور حکمرانوں کی قلابازیاں
اب جب ملک کے عوام سڑکوں پر آئے ہیں تو حکمرانوں نے زبان بدل لی ہے کہ اگر پھانسی سے بڑی کوئی سزا ہو تو ہم گستاخ رسولؐ کو وہ سزا دینے کے لیے بھی تیار ہیں، جبکہ صدر محترم کا ارشاد ہے کہ اس قانون میں ترمیم کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ ہمارے ہاں حکمرانوں کی یہ قلابازیاں کوئی نئی بات نہیں ہے، اس کا مظاہرہ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پالیسیوں کی بنیاد لوگوں کے خوف پر ہے، باہر کے لوگوں کا خوف بڑھ جائے تو رخ ادھر ہو جاتا ہے اور اندر کے لوگوں کا خوف پریشان کرنے لگے تو پالیسیوں کا توازن اس طرف جھکنے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسئلہ کشمیر پر قومی یکجہتی کے اہتمام کی ضرورت
حکومتی حلقوں اور اپوزیشن کی اس کشمکش سے قطع نظر بین الاقوامی پریس کا یہ تجزیہ بھی قابل توجہ ہے کہ قرارداد کے لیے جو محنت ضروری تھی پاکستان کی وزارت خارجہ اس کا اہتمام نہیں کر سکی حتیٰ کہ قرارداد کی حمایت میں مسلم ممالک سے روابط اور انہیں قائل کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی جس کی وجہ سے انسانی حقوق کمیشن میں قرارداد کی منظوری کے امکانات مخدوش تھے اور پاکستان نے شکست سے بچنے کے لیے قرارداد کو واپس لینے یا موخر کرنے میں عافیت سمجھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
متوقع دستوری ترامیم ۔ ارکان پارلیمنٹ کے نام کھلا خط
اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ کی خصوصی کمیٹی دستور کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ پارلیمنٹ میں حکومت کی طرف سے چند روز تک آئینی ترامیم کا ایک نیا بل سامنے آنے والا ہے۔ اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ زیر بحث امور کے بارے میں دینی نقطۂ نظر سے چند ضروری گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کی جائیں تاکہ پاکستان کے اسلامی تشخص اور دستور پاکستان کی نظریاتی بنیاد کے تحفظ کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے آپ پورے شعور و ادراک کے ساتھ اس اہم بحث میں شریک ہو سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مفتی اعظم سعودی عرب کا خطبہ حج اور او آئی سی
سعودی عرب میں آل سعود اور آل شیخ کی اصطلاحات عام طور پر دیکھنے سننے میں آتی ہیں۔ یہ دو خاندانوں کے نام ہیں۔ ایک حکمران خاندان ہے جو آل سعود کہلاتا ہے جبکہ دوسرا الشیخ محمد بن عبد الوہاب کا خاندان ہے جو آل شیخ کہلاتا ہے۔ سعودی مملکت کے قیام کے وقت سے ان دو خاندانوں میں شراکت اقتدار اور تعاون کا یہ معاہدہ چلا آرہا ہے کہ مذہبی اور عدالتی امور میں آل شیخ کی بالادستی ہے اور ان کے فیصلوں کو فوقیت حاصل ہوتی ہے جبکہ سیاسی و معاشی اور دیگر اجتماعی معاملات آل سعود کے کنٹرول میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سودی نظام کا کولہو اور اس کے بیل
جہاں تک نظام کو تبدیل کرنے کی صلاحیت کا تعلق ہے ہم اس صلاحیت سے محروم نہیں ہیں، ہم تو ایک فون کال پر پورے سسٹم میں ’’یو ٹرن‘‘ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نفع و نقصان کی پرواہ کیے بغیر اسے نباہنے اور بھگتنے کا حوصلہ بھی ہمارے اندر موجود ہے۔ اس لیے بات سسٹم کو تبدیل کرنے کی صلاحیت اور اس تبدیلی کے نقصانات برداشت کرنے کے حوصلہ کی نہیں ہے بلکہ اصل بات کچھ اور ہے۔ جب تک ہم اس بات کا پوری طرح ادراک کر کے اسے گرفت میں لانے کی کوشش نہیں کریں گے نو آبادیاتی استحصالی نظام کے ’’کولہو‘‘ کے گرد اسی طرح چکر کاٹتے رہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سودی نظام اور سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت ایپلیٹ بینچ نے ہر قسم کے سود اور سودی کاروبار کو قرآن و سنت سے متصادم اور غیر اسلامی قرار دے کر فیصلہ دے دیا ہے کہ سود اور سودی کاروبار کے بارے میں تمام مروجہ قوانین 31 مارچ 2000ء کو خودبخود ختم ہو جائیں گے۔ جسٹس خلیل الرحمان خان، جسٹس منیر اے شیخ، جسٹس وجیہہ الدین اور جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی پر مشتمل ایپلیٹ بینچ نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے خلاف متعلقہ فریقوں کی اپیلوں کی طویل سماعت کے بعد یہ تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام میں شخصی اور تجارتی سود دونوں حرام ہیں
حکومتی حلقے موجودہ مالیاتی نظام کے تسلسل کو ہر حال میں باقی رکھنا چاہتے ہیں اور سودی قوانین کو اسلامی قوانین میں تبدیل کرنے کے لیے قطعاً تیار نہیں ہیں۔ اس کی غمازی اٹارنی جنرل آف پاکستان کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم ایسے علماء تلاش کر رہے ہیں جو سود کا شرعی طور پر جواز پیش کر سکیں۔ اس لیے اس سلسلہ میں اب تک ہونے والے اقدامات کی روشنی میں قیاس کیا جا سکتا ہے کہ حکومت عدالت عظمیٰ سے اس فیصلہ پر عملدرآمد کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کرانے یا کم از کم مزید مہلت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسئلہ کشمیر : عالمی سازشیں، متحرک گروہ اور قابل قبول حل
البتہ مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں سازش، مفادات اور خیر خواہی کے عوامل میں فرق معلوم کرنے کے لیے ہمیں کوئی نہ کوئی حد فاصل اور اصول ضرور قائم کر لینا چاہیے اور میرے خیال میں اس سلسلہ میں دو نکتے کسوٹی کا کام دے سکتے ہیں اور انہیں بہرحال پیش نظر رکھنا چاہیے۔ پہلا یہ کہ جموں و کشمیر کی وحدت کا برقرار رہنا اس خطہ کے عوام کا تاریخی حق ہے، اس لیے جو فارمولا یا کوشش کشمیر کی وحدت کو ختم کرنے اور اس خطہ جنت نظیر کو تقسیم کرنے کے حوالہ سے ہو میرے نزدیک وہ کشمیری عوام کے خلاف سازش ہے اور ایسی ہر کوشش کو مسترد کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اختلافات کا دائرہ اور اہلِ علم و دانش کا اسلوب
راجہ صاحب کے ساتھ اس گفتگو میں بنیادی طور پر دو نکات زیر بحث ہیں۔ ایک ’’مذہبی کج بحثی‘‘ کے حوالہ سے کہ راجہ صاحب کو شکایت ہے کہ مذہبی لوگوں میں برداشت اور دوسرے فریق کی رائے کے احترام کا مادہ کم ہوتا ہے جس سے مذہبی جھگڑے جنم لیتے ہیں اور مذہبی بحث و مباحثہ افہام و تفہیم کے ماحول کا باعث بننے کی بجائے تنازعات کی شدت میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔ مجھے راجہ صاحب کی رائے سے اتفاق ہے لیکن ایک استثناء کے ساتھ کہ سب اہل دین اور اصحاب علم کے بارے میں یہ تاثر قائم کر لینا درست نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 353
- 354
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »