غازی ممتاز قادری شہیدؒ
ہماری مروجہ دانش کو صرف اپنے ایجنڈے کی فکر ہے جو خود اس کا اپنا نہیں ہے بلکہ اس کا ریموٹ کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ اور یہ ریموٹ کنٹرول بھی اب خفیہ نہیں رہا بلکہ ساری دنیا کو دکھائی دے رہا ہے کہ کون کس کے ایجنڈے پر چل رہا ہے۔ اس دانش کو نہ دستور کی نظریاتی اساس سے کوئی دلچسپی ہے، نہ شریعت کے تقاضوں کی کوئی پروا ہے، اور نہ ہی سول سوسائٹی کے احساسات و جذبات اور رائے عامہ کا کوئی لحاظ ہے۔ اسے صرف اپنے ایجنڈے سے غرض ہے اور اس کے لیے مروجہ دانش اکثر اوقات جنگل کا شیر بن جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام کا خاندانی نظام اور مغربی ثقافت
پرانے شماروں کی ورق گردانی کے دوران جنوری 1997ء میں شائع ہونے والی ’’الشریعہ‘‘ کی ایک خصوصی اشاعت سامنے آگئی جو ’’اسلام کا خاندانی نظام اور مغربی ثقافت‘‘ کے عنوان سے ایک سو صفحات پر مشتمل تھی اور اس میں مولانا مفتی محمودؒ، مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ، مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا مفتی فضیل الرحمن عثمانی، اور راقم الحروف کے تفصیلی مضامین کے علاوہ جناب عمران خان، جناب ارشاد احمد حقانیؒ، اور جاوید اقبال خواجہ کی اہم تجزیاتی نگارشات بھی شامل تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قابلِ تشویش سیاسی منظر نامہ اور پاکستان شریعت کونسل کی قراردادیں
یہ اجتماع اس عزم کا ایک بار پھر اظہار ضروری سمجھتا ہے کہ پاکستان کو اسلامی تشخص سے محروم کرنے، دستور کی اسلامی بنیادوں کو کمزور کرنے اور پاکستانی قوم کو اسلامی و مشرقی ثقافتی اقدار و روایات کے ماحول سے نکال کر مغربی و ہندووانہ ثقافت کو فروغ دینے کی ہر کوشش کا مقابلہ کیا جائے گا۔ اور پاکستانی قوم متحد ہو کر اپنے عقائد و اقدار کا تحفظ کرتے ہوئے اسلام کے معاشرتی کردار کے خلاف عالمی و ملکی سیکولر لابیوں کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت شاہ ولی اللہؒ کا فکر و فلسفہ اور دور حاضر
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ بارھویں صدی کے ان عظیم علماء امت میں سے تھے جنہوں نے دین کے مختلف شعبوں میں اجتہاد و تجدید کا کام سنبھالا اور اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے وہ اس کٹھن گھاٹی سے اس طرح کامیابی سے گزرے کہ ان کے علوم و فیوض اور سعی و کاوش سے اب تک مسلسل استفادہ کیا جا رہا ہے۔بلکہ دینی علوم کے فروغ اور ترویج میں ان کے ذوق و اسلوب کی ضرورت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید اجاگر ہوتی جا رہی ہے۔وہ ایک بڑے محدث، مفسر ، مجاہد ،متکلم اور صوفی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قرآنِ کریم کے مروجہ نسخے اور ایک نئی بحث
مصحف عثمانی کے دو نمونے عالم اسلام میں اشاعت پذیر ہو رہے ہیں جو قرأت میں تو ایک دوسرے سے زیادہ مختلف نہیں ہیں مگر رسوم و علامات کے حوالہ سے الگ الگ ہیں۔ عرب دنیا میں قرآن کریم کی طباعت ان رسوم و علامات کے ساتھ ہوتی ہے جو وہاں معروف ہیں، جبکہ جنوبی ایشیا یعنی بنگلہ دیش، پاکستان اور بھارت وغیرہ میں مطبوعہ قرآن کریم کی رسوم و علامات ان سے الگ ہیں جو اس قدر متعارف اور عام فہم ہو چکی ہیں کہ یہاں کے عام مسلمان کے لیے کسی دوسرے نسخہ سے قرآن کریم کی تلاوت کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ایک اچھی خبر اور ایک حسرت!
جمعیۃ علماء اسلام میرا گھر ہے، میں نے 1962ء میں چودہ سال کی عمر میں اس حویلی میں قدم رکھا تھا اور اب جبکہ ہجری اعتبار سے سترہواں (۷۰) سال گزر رہا ہے اس کے مین گیٹ کے اندر ہی ہوں اور اسی حویلی میں زندگی کے باقی ماندہ لمحات گزارنے کی خواہش رکھتا ہوں۔ کنبے بڑے ہو جائیں تو حویلی میں دیواریں بھی کھینچی جاتی ہیں، نئے نئے پورشن بھی تعمیر ہوتے ہیں اور اسٹرکچر میں رد و بدل بھی ہوتا رہتا ہے۔ ان سارے مراحل سے گزشتہ نصف صدی کے دوران میں بھی بار بار گزرا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
معاہدۂ حدیبیہ کے اہم سبق
صلح حدیبیہ کے معاہدہ میں جہاں یہ طے ہوا تھا کہ مسلمانوں اور قریش کے درمیان دس سال تک جنگ نہیں ہوگی، وہاں دوسری شرائط کے ساتھ ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر مکہ مکرمہ سے قریش کا کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرے گا تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔ لیکن اگر کوئی مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا (نعوذ باللہ) ساتھ چھوڑ کر مکہ مکرمہ چلا جائے گا تو اس کی واپسی ضروری نہیں ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اور اب دینی سرگرمیوں پر پابندی !
ملک کے تمام مذہبی مکاتب فکر نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی جدوجہد میں حکومت سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔ لیکن دینی حلقوں میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ اس سلسلہ میں وہ امتیازی سلوک کا نشانہ بنے ہوئے ہیں کیونکہ یوں نظر آتا ہے کہ اس ایکشن پلان کا بڑا ہدف دینی جماعتوں کی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ اور اس کے لیے قانونی و غیر قانونی سرگرمیوں اور دہشت گردی کے خلاف ایکشن میں تعاون کرنے والوں اور نہ کرنے والوں کے درمیان کوئی فرق روا نہیں رکھا جا رہا اور سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سعودیہ ایران کشمکش اور اس کے مضمرات
سعودی عرب اور ایران کی یہ کشمکش مسلسل آگے بڑھ رہی ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں سنی شیعہ تصادم خوفناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ عرب اسرائیل تنازعہ بھی پس منظر میں چلا گیا ہے اور پاکستان پر اس کے منفی اثرات کے سیاہ بادل منڈلانا شروع ہوگئے ہیں۔ وطن عزیز پاکستان کی داخلی صورت حال اس سے قبل بھی سنی شیعہ کشمکش اور باہمی خونریزی کے تلخ مراحل سے گزر چکی ہے۔ اس لیے واقفان حال کو اس کے دوبارہ لوٹ آنے کے امکانات و خدشات نے بے چین و مضطرب کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
یومِ یکجہتیٔ کشمیر
وہ خطہ جو صدیوں جموں و کشمیر اور اس کے ملحقات کے عنوان سے وحدت سے بہرہ ور تھا اب عملاً انتظامی طور پر تین حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک بڑے حصے پر بھارت نے ناجائز قبضہ جما رکھا ہے۔ دوسرا حصہ پاکستان کے زیر انتظام آزاد ریاست جموں و کشمیر کے نام سے اپنی حکومت، اسمبلی اور خود مختار عدالت رکھتا ہے۔ جبکہ تیسرا حصہ جو گلگت، بلتستان، سکردو اور ہنزہ وغیرہ پر مشتمل ہے، یہ پاکستان ہی کے انتظام کے تحت انتظامی صوبہ کے طور پر اپنے الگ تشخص سے بہرہ ور ہو چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 392
- 393
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »