اسلام میں خواتین کے حقوق
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ اب تک پوری دنیا میں گیارہ کروڑ سے زائد لڑکیاں قتل کی جا چکی ہیں۔ اس نسل کشی کو رپورٹ میں ’’جینڈر سائڈ‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے اور اس کے اسباب میں (۱) اسقاط حمل (۲) کارو کاری (۳) نو عمری کی شادی اور (۴) چین میں ایک بچہ پیدا کرنے کی پالیسی کو نمایاں قرار دیا گیا ہے۔ اسلام سے پہلے عرب معاشرہ میں لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کا رجحان عام تھا جس کا قرآن کریم میں ذکر موجود ہے اور کلام باری تعالیٰ میں اس کے دو اہم اسباب بیان کیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس اور عدالت عظمیٰ
دینی مدارس کو این جی اوز کا ہی ایک وسیع نیٹ ورک سمجھا جاتا ہے اس لیے کہ ہزاروں دینی مدارس ملک بھر میں لاکھوں طلبہ اور طالبات کو نہ صرف مفت تعلیم فراہم کر رہے ہیں بلکہ رہائش، خوراک اور علاج وغیرہ کی سہولتیں بھی انہیں بلا معاوضہ مہیا کی جا رہی ہیں۔ اس تعلیم میں قرآن و حدیث اور دیگر دینی علوم کے ساتھ ساتھ میٹرک تک عصری تعلیم اور کمپیوٹر ٹریننگ بھی شامل ہے۔ اصحاب ثروت اپنی زکوٰۃ و صدقات اور عطیات وغیرہ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں جو مستحق طلبہ اور طالبات پر خرچ کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نیب کا کردار ۔ ایک لمحۂ فکریہ
ہار کی واپسی کی خبر جن تفصیلات کے ساتھ شائع ہوئی ہیں انہیں پڑھتے ہوئے ہمیں دور نبویؐ کا ایک واقعہ یاد آگیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ایک صاحب کو کسی علاقہ سے زکوٰۃ و عشر اور دیگر محصولات کی وصولی کے لیے عامل بنا کر بھیجا۔ اس دور میں تحصیلدار اور محصولات وصول کرنے والے کے لیے ’’عامل‘‘ کی اصطلاح ہی استعمال ہوتی تھی۔ وہ جب اپنی ڈیوٹی مکمل کر کے واپس آئے تو جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں وصول شدہ اموال پیش کیے مگر ایک گٹھڑی علیحدہ رکھ دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد کے چند پہلو
میں قادیانیوں سے کہا کرتا ہوں کہ انہیں مسیلمہ اور اسود کے راستہ پر بضد رہنے کی بجائے طلیحہؓ اور سجاحؒ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور غلط عقائد سے توبہ کر کے مسلم امت میں واپس آجانا چاہیے۔ جبکہ اہل اسلام سے میری گزارش یہ ہے کہ قادیانیوں کے دجل و فریب کا مقابلہ اپنی جگہ لیکن انہیں اسلام کی دعوت دینا اور دعوت کے لیے مناسب ماحول پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ اور یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ مقابلہ کا ماحول اور نفسیات الگ ہوتی ہیں جبکہ دعوت کا ماحول اور نفسیات اس سے بالکل مختلف ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دستور پاکستان کی اسلامی بنیادیں
جنوری 1953ء میں انہی اکابر علماء کرام کا اجلاس دوبارہ کراچی میں ہوا تھا اور اس میں تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام نے مجلس دستور ساز کے تجویز کردہ بنیادی اصولوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے بارے میں متفقہ سفارشات پیش کی تھیں۔ یہ سفارشات شاید دوبارہ منظر عام پر نہیں آسکیں۔ یہ دستاویز پاکستان کی دستور سازی کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور ہم اسے اسلامی نظریاتی کونسل کے سیکرٹری ڈاکٹر حافظ اکرام الحق کے شکریہ کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
غیر ملکی این جی اوز کے خلاف کاروائی!
بلاشبہ ساری این جی اوز ایسی نہیں ہیں اور بہت سی ملکی اور غیر ملکی این جی اوز موجود ہیں جو انسانی فلاح و بہبود، معاشرتی ترقی، سماجی اصلاح اور خدمت خلق کے مختلف دائروں میں مثبت اور مفید خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ لیکن جب سے استعماری قوتوں نے سماجی بہبود اور خدمت انسانیت کے مقدس عنوانات کو اپنے سیاسی اور استعماری مقاصد کے لیے ذریعہ بنانے کی ریت ڈالی ہے، ’’این جی او‘‘ کی اصطلاح ہی جاسوسی، تہذیبی خلفشار، اور سیاسی افراتفری کے فروغ کا عنوان بن کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’وہی شکستہ سے جام اب بھی‘‘
عام طور پر حکومتی جماعتیں اور ارکان اسمبلی بجٹ کی تحسین کرتے ہیں اور اس کا دفاع کرتے ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں اور اراکان اسمبلی کی طرف سے اعتراضات سامنے آتے ہیں اور ردّ و مدّح کا شور بپا ہوتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہی ہونے لگ جاتا ہے جو وزرائے خزانہ کی طرف سے ایوانوں میں پیش ہو چکا ہوتا ہے۔ البتہ عوام کو وقتی طور پر پڑھنے اور سننے کی حد تک تسلی کی کچھ ایسی باتیں ضرور مل جاتی ہیں جن میں ان کے معاشی مسائل اور مالی مشکلات کا تذکرہ موجود ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
رد قادیانیت کے لیے جدید اسلوب اپنانے کی ضرورت
فتنوں سے آگاہی حاصل کرنا اور امت کو ان سے خبردار کرنا دینی تقاضوں اور فرائض میں سے ہے، اور معاشرہ میں کسی بھی حوالہ سے پیدا ہونے والی خرابیوں کی نشاندہی کر کے مسلمانوں کو ان سے بچانے کی کوشش کرنا بھی ہماری دینی ذمہ داریوں میں سے ہے۔ اس لیے توحید و سنت، ختم نبوت، مقام صحابہ کرامؓ اور اہل سنت کے عقائد و مسلک کے تحفظ کے حوالہ سے مختلف مقامات پر اس قسم کے جو کورسز ہو رہے ہیں وہ دینی جدوجہد کا اہم حصہ ہیں اور ان کو کامیاب بنانے کی سب حضرات کو پوری کوشش کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ملی و قومی مسائل ۔ پاکستان شریعت کونسل کی قراردادیں
اجلاس میں پاکستان شریعت کونسل کی تشکیل نو کے موقع پر یہ دعوت دی گئی کہ ملک بھر میں ایسے اصحاب و دانش سے جو اقتدار اور الیکشن کی سیاست سے الگ تھلگ رہتے ہوئے نفاذِ شریعت کے لیے علمی و فکری جدوجہد کے خواہشمند ہیں، وہ پاکستان شریعت کونسل کے ساتھ شریک کار ہوں۔ اجلاس میں یہ وضاحت بھی دہرائی گئی کہ کسی بھی دینی یا سیاسی جماعت میں کام کرنے والے حضرات علمی و فکری جدوجہد کے لیے پاکستان شریعت کونسل میں شامل ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امام بخاریؒ کی علمی دیانت
امام بخاریؒ کے حوصلہ اور علمی دیانت کا یہ پہلو ہم سب کے لیے لائق تقلید ہے کہ ان کے اساتذہ میں امام محمد بن یحییٰ ذہلیؒ ایک بڑے محدث تھے جن کی مسند حدیث نیشاپور میں تھی۔ اور امام بخاریؒ نے ان سے استفادہ کے بعد نیشاپور میں ہی اپنی مجلس قائم کرنے کا ارادہ کر لیا تھا مگر استاذ محترم سے ایک علمی مسئلہ پر اختلاف ہوگیا۔ امام ذہلیؒ حنابلہ کے امام تھے اور خلق قرآن کے مسئلہ پر اس دور میں اس حد تک شدت آگئی تھی کہ ’’قرآن کریم مخلوق نہیں ہے‘‘ کا اطلاق ظاہری الفاظ اور قرآن کریم سے متعلقہ ہر چیز پر کیا جانے لگا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 401
- 402
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »