اندرونِ سندھ کا سفر

علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ نے مختلف مواقع پر تقاضہ کیا کہ میں خیر پور میرس میں ان کے ادارہ جامعہ حیدریہ میں حاضری دوں۔ متعدد بار وعدہ بھی کیا مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ان کے شہادت کے بعد یہ تقاضہ عزیز محترم محمد یونس قاسمی کی طرف سے جاری رہا، مگر ہر کام کا ایک وقت قدرت کی طرف سے مقرر ہوتا ہے اس لیے یہ حاضری مؤخر ہوتی رہی۔ حتیٰ کہ گزشتہ دنوں کراچی سے واپسی پر ایک دن کا کچھ حصہ جامعہ حیدریہ میں گزارنے کا موقع مل گیا۔ کراچی سے ڈائیوو بس کے ذریعہ سکھر پہنچا تو مولانا اسد اللہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مئی ۲۰۱۵ء

کراچی میں تین دن

تین دن کراچی میں گزار کر آج ۵ مئی کو سکھر، لاڑکانہ اور خیرپور کے لئے روانہ ہو رہا ہوں۔ جامعہ اسلامیہ کلفٹن، جامعہ انوار القرآن، آدم ٹاؤن میں ختم بخاری شریف اور دستار بندی کی سالانہ تقریبات میں شرکت کے لئے حاضری ہوئی تھی۔ ۲ مئی کو جامعہ اسلامیہ کی تقریب ہوئی جو نماز مغرب کے بعد شروع ہو کر کم و بیش نصف شب تک جاری رہی۔ حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد آف کندیاں شریف مہمان خصوصی تھے جبکہ جامعہ کے اساتذہ کے علاوہ مولانا عبدالقیوم حقانی اور راقم الحروف نے تفصیلی خطابات کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مئی ۲۰۱۵ء

حفظ حدیث کا قابل رشک ذوق

شاہ کوٹ ضلع شیخوپورہ میں ایک ایسی تقریب میں حاضری کا شرف حاصل ہوا جس کی خوشی کے اظہار کے لیے یقیناً میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ پرانے دور میں احادیث کو زبانی یاد کرنے کا ذوق پایا جاتا تھا اور قرآن کریم کی طرح حدیث کے حفاظ بھی بڑی تعداد میں موجود ہوتے تھے۔ یہ شوق رفتہ رفتہ کم ہوتا جا رہا ہے اور آج احادیث کو اہتمام کے ساتھ یاد کرنے اور یاد کرانے کا کوئی نظم کم از کم ہمارے علم میں نہیں ہے۔ قریب کے دور میں حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ اس شرف کے ساتھ موصوف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱ مئی ۲۰۱۵ء

قادیانی رپورٹ ۲۰۱۴ء

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ رپورٹ شائع کرنے کا مقصد اس خود ساختہ مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹنے کے سوا کچھ نہیں ہے جس کا روپ قادیانی جماعت نے عالمی سطح پر ایک عرصہ سے دھار رکھا ہے۔ اور جس کے ذریعہ وہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہنے کے ساتھ ساتھ اسلام اور پاکستان کے خلاف سرگرم عمل بین الاقوامی اداروں کی توجہ اور ان سے مفادات حاصل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ورنہ ملک کی کوئی بھی سیاسی یا دینی جماعت اس قسم کا سروے کر کے اپنے خلاف شائع ہونے والی خبروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اپریل ۲۰۱۵ء

مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور امریکہ

ہم آج امریکہ کے صدر باراک اوباما کے ایک اہم انٹرویو کا تذکرہ کرنا چاہیں گے جو انہوں نے گزشتہ دنوں ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے صحافی تھامس فریڈمین کو دیا ہے اور مشرق وسطیٰ کی سنی آبادی کے حوالہ سے اپنے موقف اور احساسات کا اظہار فرمایا ہے۔ امریکی صدر محترم کا ارشاد ہے کہ ’’جہاں تک ہمارے سنی عرب اتحادیوں مثلاً سعودی عرب کی حفاظت کا سوال ہے تو میرے خیال میں سعودیوں کو واقعی چند حقیقی بیرونی خطرات کا سامنا ہے لیکن ان کو کئی اندرونی خطرات بھی لاحق ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اپریل ۲۰۱۵ء

قرارداد مقاصد کی آئینی پوزیشن کی بحث

قیام پاکستان کی تحریک میں قائد اعظم مرحوم اور دیگر قائدین کے واضح بیانات اور ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی منظور کردہ ’’قرارداد مقاصد‘‘ کو دستور پاکستان کے ’’بنیادی ڈھانچہ‘‘ کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے دستور کے کسی بنیادی ڈھانچے کی موجودگی سے انکار پاکستان کے نظریاتی تشخص اور قرارداد مقاصد کی اہمیت کو کم کرنا ہے جو ملک کو اسلامی تشخص سے محروم کر کے سیکولر ریاست بنانے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ اور یہ خدشہ اس پس منظر میں اور زیادہ سنگین اور خطرناک ہو جاتا ہے کہ عالمی استعماری حلقے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اپریل ۲۰۱۵ء

سنی شیعہ کشمکش ۔ خواہشات اور حقائق

کسی شخص کو کینسر ہو جائے تو اس کے اسباب کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے اور اسے بے حوصلہ ہونے سے بچانے کے لیے اسے اس کے مرض سے آگاہ نہ کرنا بھی بسا اوقات حکمت عملی کا تقاضہ بن جاتا ہے، لیکن علاج تو بہرحال کینسر کا ہی ہوتا ہے اور موجود و میسر حالات و اسباب کے دائرہ میں ہوتا ہے۔ سنّی شیعہ کشمکش اور تصادم کو ہم عالم اسلام کے اجتماعی وجود کے لیے کینسر سے کم نہیں سمجھتے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ کینسر نہ صرف موجود ہے بلکہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۲۰۱۵ء

پاکستان شریعت کونسل کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ، اسلامی نظام کے نفاذ، قومی خودمختاری کے تحفظ اور مغرب کی نظریاتی و ثقافتی یلغار کے مقابلہ کے لیے رائے عامہ کو بیدار و منظم کرنے کی غرض سے ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کے قیام کا اعلان سامنے آیا تو مختلف حلقوں کی طرف سے اس سوال کا اٹھایا جانا ایک فطری امر تھا کہ آخر ان مقاصد کے لیے ایک نئی جماعت کے قیام کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟ بعض دوستوں کا خیال ہے کہ پہلے سے موجود بیسیوں جماعتوں میں ایک نئی جماعت کا اضافہ کوئی ضروری امر نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۶ء

حالات کا تغیر اور علماء کرام کی ذمہ داریاں

ہمارے اکابر کا ہمیشہ سے یہ معمول رہا ہے کہ وہ حالات کے تغیر اور اس سے پیدا شدہ صورت حال پر مسلسل نظر رکھتے ہیں اور اس حوالہ سے سامنے آنے والے مسائل اور ضروریات کو نظر انداز کرنے کی بجائے ان کے حل کی صورتیں نکالتے ہیں۔ اس لیے کہ نئے پیدا ہونے والے مسائل کو نظر انداز کر دینا ان کا صحیح حل نہیں ہوتا بلکہ ان کے مناسب حل کی طرف قوم کی راہ نمائی کرنا علماء کرام کی ذمہ داری شمار ہوتا ہے۔ یہ بات تو فطری طور پر طے ہے کہ حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں، قوموں کے عرف و تعامل میں مسلسل تغیر بپا رہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اپریل ۲۰۱۵ء

مشرق وسطیٰ میں ایران کا کردار

ایرانی وزیر خارجہ محترم جواد ظریف اسلام آباد تشریف لائے اور وزیر اعظم پاکستان کے امور خارجہ کے مشیر جناب سرتاج عزیز سے یمن کے بحران پر گفتگو کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایران امت مسلمہ کی وحدت کا خواہاں ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ مل کر یمن کے تنازعہ کے سیاسی حل کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔ اس سے قبل ایران کے صدر محترم جناب حسن روحانی نے ترکی کا دورہ کیا ہے اور ترک حکمرانوں کے ساتھ اسی قسم کے جذبات کا اظہار کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اپریل ۲۰۱۵ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter