نوجوان علماء کی مثبت سرگرمیاں
کچھ عرصہ سے نوجوان علماء کی سرگرمیوں میں ایک خوشگوار تبدیلی سامنے آرہی ہے جس کا ذکر وقتاً فوقتاً اس کالم میں کرتا رہتا ہوں اور خاص طور پر میرے لیے اس میں اطمینان کے دو تین پہلو نمایاں ہیں: ایک یہ کہ دینی مدارس کے نئے فضلاء اور نوجوان علماء کرام میں کچھ نہ کچھ کرتے رہنے اور فارغ نہ بیٹھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے جو ایک اچھی علامت ہے۔ دوسرا یہ کہ سرگرمیوں کا رخ امت کے اجتماعی مسائل و ضروریات کی طرف مڑ رہا ہے جو اس سے بھی اچھی بات ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دستور پاکستان اور تحفظ حرمین ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس
اجلاس میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں اٹارنی جنرل کی طرف سے پیش کردہ اس بیان کا جائزہ لیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ دستور پاکستان کا کوئی ایسا بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے جس کی پابندی پارلیمنٹ کے لیے ضروری ہو۔ اس کے مضمرات و نتائج پر تفصیلی غور و خوض کے بعد اس رائے کا اظہار کیا گیا کہ قیام پاکستان کا مقصد مسلمانوں کی جداگانہ تہذیب کا تحفظ، اسلامی احکام و قوانین کے مطابق معاشرہ کی تشکیل اور امت مسلمہ کے دینی و نظریاتی تشخص کا اظہار تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حرمین شریفین کا تحفظ ہر چیز پر مقدم ہے
مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ حالات پر مسلسل نظر رکھنے والوں کے لیے قطعاً غیر متوقع نہیں ہے، بلکہ ہم ایک عرصہ سے وقتاً فوقتاً اس طرف توجہ دلاتے آرہے ہیں کہ ایسا کچھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یمن میں حوثی قبائل کو جس طرح حکومت وقت کے خلاف کھڑا کیا گیا ہے وہ سب پر روز روشن کی طرح عیاں ہے، لیکن یہ سال دو سال کا قصہ نہیں بلکہ اس کی پشت پر کم و بیش چار عشروں کی تاریخ ہے اور ایک مکمل تیاری کے ساتھ ساتھ بھرپور پلاننگ نے حالات کو یہ رخ دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سینٹ کے انتخابات اور دینی حلقوں کی امیدیں
سینٹ آف پاکستان کے حالیہ انتخابات میں مولانا عبد الغفور حیدری کا ڈپٹی چیئرمین منتخب ہونا ملک بھر کے سنجیدہ دینی حلقوں بالخصوص دیوبندی علماء اور کارکنوں کے لیے خوشی اور حوصلہ کا باعث بنا ہے۔ بطور خاص اس ماحول میں جبکہ قومی سیاست میں دینی حلقوں اور مدارس کو مسلسل کردار کشی اور سیکولر لابیوں کی طرف سے انہیں قومی سیاست کے میدان سے باہر دھکیل دینے کی مہم شدت کے ساتھ جاری ہے اور اس مہم کی سرپرستی عالمی استعمار اور میڈیا پورے شعور اور مہارت کے ساتھ کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مذہبی رواداری اور علماء کی ذمہ داریاں
میں نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ اختلافات تو علمی، فکری اور فقہی دنیا میں چلتے ہی رہتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف مزاجوں، ذہنی سطحوں اور فکری دائروں سے نوازا ہے، اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ سب ایک ہی طرح سوچیں اور کسی مسئلہ پر سب کی سوچ اور فکر کے نتائج یکساں ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہے تو اس نعمت کا استعمال بھی ہوگا اور جب عقل کا استعمال ہوگا تو نتائج فکر میں تفاوت اور اختلاف لازمی بات ہے۔ اس لیے اختلاف سے گبھرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسجد میں تقریبِ نکاح
نکاح کی کوئی تقریب مسجد میں ہوتی ہے تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ یہ سنت کے مطابق ہے، اور پھر شادی کے حوالہ سے جو خرافات عام ہوگئی ہیں کم از کم خطبہ اور ایجاب و قبول کے معاملات اس سے ہٹ کر مسجد کے ماحول میں طے پا جاتے ہیں۔ اس لیے ایسی تقریب کے ہر موقع پر خوشی کا اظہار کرتا ہوں اور اپنی گفتگو میں اس کی ترغیب اور حوصلہ افزائی کو بھی شامل کر لیتا ہوں۔ خرافات کا یہ سلسلہ اس قدر وسعت پکڑ چکا ہے کہ کہیں مجبورًا شریک ہونا پڑ جائے تو بہت پریشانی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چنیوٹ میں تعزیتی ریفرنس
چنیوٹ میں حضرت مولانا محمد نافع جھنگویؒ اور حضرت مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کی یاد میں منعقد ہونے والے ایک تعزیتی ریفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس کا اہتمام ’’خدام فکر اسلاف‘‘ نے جامع مسجد گڑھا میں بعد نماز عشاء کیا تھا۔ اس کی صدارت حضرت مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی نے کی اور مفکر اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مہمان خصوصی تھے۔ خطاب کرنے والوں میں مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا مفتی شاہد مسعود، برادرم مولانا عبد القدوس قارن، حافظ محمد عمیر چنیوٹی اور راقم الحروف شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے قیام کا پس منظر
ایک عرصہ سے خواہش تھی کہ کوئی ایسا ادارہ ہو جو درس نظامی کے فضلاء کے لیے فکری و ذہنی تربیت گاہ کے ساتھ ساتھ مطالعہ و تحقیق اور تحریر و تقریر کا تربیتی مرکز بنے۔ دینی مدارس کا موجودہ نظام جس بین الاقوامی دباؤ اور اس کے نتیجے میں ریاستی اداروں کی مداخلت کے خطرہ سے دوچار ہے اس کے پیش نظر دینی مدارس کے منتظمین کے ذہنی تحفظات کی وجہ سمجھ میں آتی ہے، اس لیے ان کے داخلی نظام میں کسی بڑی تبدیلی کی سردست کوئی توقع ہے اور نہ ہی میں خود موجودہ فضا میں اس کے حق میں ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ایران کا علاقائی تشخص
یہ چار خبریں ہیں جو صرف تین روز کے اندر مختلف اخبارات میں شائع ہوئی ہیں لیکن اپنے اندر معانی، سوالات اور خدشات و امکانات کا ایک وسیع جہان سموئے ہوئے ہیں جس کے بہت سے پہلوؤں میں سے ہر ایک مستقل گفتگو اور بحث و تجزیہ کا متقاضی ہے۔ مگر سرِ دست ان کی تفصیلات میں جانے کی بجائے ہم اہل السنۃ والجماعۃ کے علماء کرام، راہ نماؤں اور دانشوروں کی خدمت میں ایک سوال پیش کرنے کی جسارت پر اکتفاء کر رہے ہیں کہ کیا ہمارے لیے اس ساری صورت حال میں کچھ سوچنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مذہبی ہم آہنگی اور باہمی رواداری کے تقاضے
آرا و افکار کا تنوع اور خیالات و تاثرات کا اختلاف سیاست میں بھی ہے، تہذیب و ثقافت میں بھی ہے، معیشت و تجارت میں بھی ہے، طب و حکمت میں بھی ہے، اور مذہب میں بھی ہے۔ اس لیے اختلافات کا موجود ہونا کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے بلکہ انسانی عقل و دانش کے مسلسل استعمال کی علامت ہے۔ البتہ اختلاف کا اظہار جب اپنی جائز حدود کو کراس کرنے لگتا ہے تو وہ تنازعہ اور جھگڑے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ رواداری اور ہم آہنگی کے باب میں یہی نکتہ سب سے زیادہ قابل توجہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 403
- 404
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »