اکیسویں صدی کے تقاضے

نئی عیسوی صدی کی آمد آمد ہے اور اگرچہ اہلِ مغرب اور چین کے درمیان یہ اختلاف پیدا ہو گیا ہے کہ نئی صدی کا آغاز ۲۰۰۰ء سے ہو گا یا ۲۰۰۱ء سے اکیسویں صدی شروع ہو گی؟ کیونکہ اہلِ چین نے نئی صدی کی تقریبات ۲۰۰۱ء سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے مگر اہلِ مغرب اس کا آغاز ۲۰۰۰ء سے کر رہے ہیں اور اس کے لیے زور و شور کے ساتھ تیاریاں جاری ہیں اور تقریبات کا ہر جگہ اہتمام کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ دسمبر ۲۰۰۰ء

آج کا ابرہہ اور بیت اللہ شریف

تاریخ ایک بار پہلے بھی بیت اللہ کے خلاف عیسائی لشکر کی یلغار کا منظر دیکھ چکی ہے۔ یہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت والے سال کا قصہ ہے۔ یمن پر ابرہہ نامی شخص حکمران تھا اور سلطنتِ روما کی طرف سے یمن کا گورنر تھا۔ اس کا تعلق عیسائی مذہب سے تھا، یمن میں عیسائی مذہب کے لوگ کچھ عرصہ قبل ذونواس نامی بت پرست بادشاہ کے مظالم کا شکار ہوئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مارچ ۲۰۰۰ء

بہائی مذہب اور اس کے پیروکار

گزشتہ روز اسلام آباد میں جمعیت علماء اسلام (ق) کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ راہنما علامہ علی غضنفر کراروی نے مذہبی امور کے سابق وزیر راجہ محمد ظفر الحق کے بارے میں شکوہ کیا کہ انہوں نے ’’بہائی مذہب‘‘ کے افراد کو ملک میں سرگرمیوں کی کھلی اجازت دے رکھی تھی بلکہ بہائیوں کی مذہبی کتاب ’’کتاب اقدس‘‘ کی رونمائی کی ایک تقریب میں بھی وہ شریک ہوئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۱۹۹۹ء

حسن محمود عودہ اور قادیانی فلسفۂ حساب

گزشتہ ہفتے برطانیہ کے شہر سلاؤ میں مولانا منظور احمد چنیوٹی کے ہمراہ الاستاذ حسن عودہ سے ملاقات ہوئی اور مختلف امور پر باہم گفت و شنید کا موقع ملا۔ حسن عودہ کا تعلق فلسطین کے مشہور شہر حیفہ سے ہے اور قادیانی خاندان میں جنم لینے اور پرورش پانے کے باعث وہ ایک دور میں راسخ العقیدہ قادیانی شمار ہوتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۱۹۹۹ء

سودی نظام کے خاتمہ کی جدوجہد اور حافظ حسین احمد کی تجویز

سود کے مسئلہ پر سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بینچ میں دوبارہ بحث شروع ہونے والی ہے جو ان سطور کی اشاعت تک خاصی آگے بڑھ چکی ہو گی۔ سود اسلامی شریعت میں حرام ہے اور قرآن کریم نے سودی کاروبار پر اصرار کو اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ مئی ۱۹۹۹ء

اکتوبر ۲۰۲۳ء کی رپورٹس

جامعہ نصرۃ العلوم کے قراء کرام کے اعزاز میں ایک خصوصی نشست: علامہ زاہد الراشدی صاحب کی سرپرستی میں خلافتِ راشدہ اسٹڈی سنٹر کے زیر اہتمام ۵ اکتوبر ۲۰۲۳ء بروز جمعرات عصر کے متصل بعد خلافتِ راشدہ لائبریری مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں محکمہ اوقاف پاکستان کے زیر اہتمام گوجرانوالہ ڈویژنل حسنِ قراءت مسابقہ کے پوزیشن ہولڈرز طلباء کرام کے اعزاز میں عصرانے کا اہتمام کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ اکتوبر ۲۰۲۳ء

نومبر ۲۰۲۳ء کی رپورٹس

اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کیا جائے گا: قلعہ دیدار سنگھ (نامہ نگار) مرکزی سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل علامہ زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے وجود کو کبھی تسلیم نہیں کیا جائے گا اور اس کا وجود بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’پاسبان پاکستان‘‘ کے زیر اہتمام فلسطین کی حمایت میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ نومبر ۲۰۲۳ء

دسمبر ۲۰۲۳ء کی رپورٹس

ضلع وزیرآباد میں پاکستان شریعت کونسل کی تشکیل کا فیصلہ: پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی قومی فلسطین کنونشن میں شرکت کیلئے اسلام آباد جاتے ہوئے آج صبح وزیر آباد میں تھوڑی دیر رکے اور مدنی مسجد الٰہ آباد میں جماعتی احباب سے ملاقات کی۔ اس موقع پر پروفیسر حافظ منیر احمد، مولانا قاری محمد عثمان رمضان، مولانا حافظ امجد محمود معاویہ، مولانا حافظ نصر الدین خان عمر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ دسمبر ۲۰۲۳ء

ذکری مذہب اور اس کے عقائد

مولانا اللہ وسایا قاسم نے اپنے حالیہ دورہ تربت کے حوالہ سے ایک مضمون میں ذکری مذہب اور اس کے پیروکاروں کی سرگرمیوں کا تذکرہ کیا ہے۔ راقم الحروف کو بھی گزشتہ دنوں چنیوٹ اور چناب نگر میں مجلس تحفظ ختم نبوت اور ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد کی دو الگ الگ تربیتی کلاسوں میں ذکری مذہب کے بارے میں لیکچر دینے کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم دسمبر ۱۹۹۹ء

واشنگٹن ٹائمز اور ’’ملاؤں‘‘ کا خوف

بعض قومی اخبارات نے این این آئی کے حوالے سے امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز کی ایک رپورٹ کے کچھ حصے شائع کیے ہیں جس میں پاکستان میں مُلاؤں کی بڑھتی ہوئی طاقت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور ان کی راہ روکنے کے لیے امریکی حکومت کو عملی اقدامات کا مشورہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شدت پسند ملاؤں نے ایک مضبوط ملیشیا قائم کر رکھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اکتوبر ۱۹۹۹ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter