’’پاکستان کے مذہبی اچھوت‘‘

بعض مذہبی رہنماؤں کی طرف سے ’’پاکستان کے مذہبی اچھوت‘‘ نامی ایک کتاب کے مندرجات پر سخت غم و غصہ کا اظہار کیا جا رہا ہے، جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ دو قادیانی مصنفین تنویر احمد میر اور مرتضیٰ علی شاہ کی مشترکہ کاوش ہے، اور اس میں پاکستان میں قادیانیوں پر ہونے والے مبینہ مظالم کا رونا روتے ہوئے یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اصلی اور کھرے مسلمان صرف قادیانی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جولائی ۲۰۰۳ء

’’مسئلہ فلسطین‘‘

بیت المقدس اور فلسطین کا مسئلہ حماس مجاہدین کی قربانیوں اور ہزاروں فلسطینیوں کی حالیہ شہادتوں کے باعث ایک بار پھر متنازعہ عالمی مسائل میں سرفہرست ہے، جس پر پوری نسلِ انسانی بالخصوص ملتِ اسلامیہ اور عرب دنیا کی ترجیحی بنیادوں پر سنجیدہ اور فوری توجہ ضروری ہے، اور یہ عدل و انصاف کے ساتھ بین الاقوامی قوانین اور مسلّمہ انسانی حقوق کی پاسداری کا بھی تقاضا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ نومبر ۲۰۲۳ء

سائنس اور مذہب: کیسے اور کیوں کا سوال

۲۱ دسمبر کو مجھے مانسہرہ (ہزارہ) کے قراقرم ہوٹل میں سائنس اور مذہب کے حوالے سے منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا۔ سائنس میں نے نہ پڑھی ہے اور نہ ہی میرے مطالعہ اور تحقیق و گفتگو کا کبھی موضوع رہا ہے۔ مگر سیمینار کے منتظمین بالخصوص پروفیسر عبد الماجد صاحب کا اصرار تھا کہ میں بہرحال اس سیمینار میں شرکت کروں بلکہ کلیدی خطاب بھی کروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ دسمبر ۲۰۰۶ء

غیرت کے نام پر قتل اور اسلامی نظریاتی کونسل

وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے غیرت کے نام پر قتل اور الزام تراشی کے حوالے سے قومی اسمبلی میں بل پیش کرنے کا اعلان کیا ہے، اور کہا ہے کہ اس سلسلہ میں جو قانون تجویز کیا جائے گا وہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی بھجوایا جائے گا۔ غیرت کے نام پر قتل اور ’’کاروکاری‘‘ کا معاملہ ایک عرصہ سے ہمارے قومی حلقوں میں زیر بحث ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اگست ۲۰۰۴ء

تحفظِ حقوقِ نسواں بل اور خصوصی علماء کمیٹی

احادیث میں یہ روایت موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح رضامندی کے زنا پر حدِ شرعی جاری کی ہے، اسی طرح جبری زنا کے ایک کیس میں بھی مجبور کی جانے والی خاتون کو بری کر کے جبر کرنے والے مرد پر شرعی حد جاری کی تھی۔ اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عملی فیصلے کے بعد اس سلسلہ میں مزید کسی وضاحت کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ ستمبر ۲۰۰۶ء

بیت المقدس اور قیصرِ روم

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ فلسطین اور بیت المقدس جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے کچھ عرصہ بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ حکومت میں مسلمانوں کی تحویل میں آیا تھا، اس سے پہلے فلسطین عیسائیوں کے پاس تھا۔ حضرت عمرؓ کی خلافت کے زمانے میں حضرت ابو عبیدہ عامر بن الجراحؓ نے فلسطین فتح کیا جو کہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ نومبر ۲۰۲۳ء

’’نوجوان کیا سوچ رہے ہیں؟ جدید مسائل اور اجتہاد‘‘

اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جسے اس غرض سے تشکیل دیا گیا تھا کہ دستورِ پاکستان میں ملک کے تمام مروجہ قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنے کی جو ضمانت دی گئی ہے اس کی تکمیل کے لیے حکومتِ پاکستان کی مشاورت کرے۔ اس کی عملی شکل یہ ہے کہ جدید قانون کے ممتاز ماہرین اور جید علماء کرام پر مشتمل ایک کونسل تشکیل دی جاتی ہے جو حکومت کے استفسار پر یا اپنے طور پر ملک میں رائج کسی بھی قانون کا اس حوالے سے جائزہ لیتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جولائی ۲۰۰۶ء

اسلامی نظریاتی کونسل کی علمی اشاعتیں اور ملی مجلس شرعی کا قیام

جامعہ حفصہ کے سانحہ اور دیگر اہم معاملات کے باعث دو علمی مجالس کا تذکرہ مؤخر ہوتا آ رہا ہے، اب اس کا موقع ملا ہے کہ ان کی کچھ تفصیل قارئین کی خدمت میں پیش کر سکوں۔ ایک مجلس کا اہتمام اسلام آباد میں ۲ اگست کو اسلامی نظریاتی کونسل نے کیا، اسی روز بھوربن مری کے مدرسہ تعلیم القرآن میں پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلسِ عاملہ کا اجلاس تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اگست ۲۰۰۷ء

آل پاکستان مینارٹیز الائنس کی ریلی اور چارٹر آف ڈیمانڈ

مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر غیر مسلم اقلیتیں پاکستانی سوسائٹی کا حصہ ہیں اور انہیں وہ تمام سیاسی اور شہری حقوق حاصل ہیں جن کی دستورِ پاکستان میں ان کے لیے ضمانت دی گئی ہے۔ اس لیے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنا، اس کے لیے اجتماع کرنا، اور اپنے مطالبات پیش کرنا ان کا دستوری حق ہے اور اس پر کسی ردعمل یا مخالفانہ تبصرے کا جواز نہیں ہے۔ البتہ چارٹر آف ڈیمانڈ کی بعض باتوں کے بارے میں ہم تحفظات رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اگست ۲۰۰۷ء

جاہلیتِ قدیمہ اور جاہلیتِ جدیدہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ کچھ عرصہ پہلے آسٹریلیا کے ایک سابق وزیر اعظم مسٹر ٹونی ایبٹ کا ایک بیان شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ثقافتیں اور تہذیبیں ایک جیسی نہیں ہوتیں اور مغرب کو آج کی تہذیبی کشمکش میں اپنی برتری ثابت کرنا ہو گی۔ یہ دو جملے ہیں لیکن ان میں ایک طویل داستان ہے، اس حوالے سے میں آپ کے سامنے مجموعی تناظر میں اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کے اصولی فرق پر بات کرنا چاہوں گا۔ یہ دونوں تہذیبیں جو اس وقت آمنے سامنے ہیں اور جن کے درمیان انسانی معاشرے میں کشمکش جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ نومبر ۲۰۲۳ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter