ذکری مذہب اور اس کے عقائد

مولانا اللہ وسایا قاسم نے اپنے حالیہ دورہ تربت کے حوالہ سے ایک مضمون میں ذکری مذہب اور اس کے پیروکاروں کی سرگرمیوں کا تذکرہ کیا ہے۔ راقم الحروف کو بھی گزشتہ دنوں چنیوٹ اور چناب نگر میں مجلس تحفظ ختم نبوت اور ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد کی دو الگ الگ تربیتی کلاسوں میں ذکری مذہب کے بارے میں لیکچر دینے کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم دسمبر ۱۹۹۹ء

واشنگٹن ٹائمز اور ’’ملاؤں‘‘ کا خوف

بعض قومی اخبارات نے این این آئی کے حوالے سے امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز کی ایک رپورٹ کے کچھ حصے شائع کیے ہیں جس میں پاکستان میں مُلاؤں کی بڑھتی ہوئی طاقت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور ان کی راہ روکنے کے لیے امریکی حکومت کو عملی اقدامات کا مشورہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شدت پسند ملاؤں نے ایک مضبوط ملیشیا قائم کر رکھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اکتوبر ۱۹۹۹ء

دوراہے پر منزل کا تعین!

دورِ نبویؐ کا مشہور واقعہ ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں مگر میرے اندر اتنے عیب ہیں اور اتنے گناہوں کا عادی ہوں کہ بیک وقت سب کو چھوڑنا میرے لیے مشکل ہے، اس لیے گناہوں کو مجھ سے باری باری چھڑوائیے۔ ایک ایک کر کے سب ترک کر دوں گا مگر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مارچ ۱۹۹۹ء

ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مولانا سید سلمان حسن ندوی کے ساتھ چند روز

سیرین ایئرلائنز سے سفر کا پہلا تجربہ تھا۔ یہ ان سستی ایئرلائنوں میں سے ہے جو میرے جیسے سفید پوش مسافروں کی کئی کمزوریاں ڈھانپ لیتی ہیں۔ چھ جون کو صبح پانچ بجے کراچی سے سوار ہوا اور دہران، دمشق اور میونخ کے ہوائی اڈوں پر دو دو تین تین گھنٹے سٹاپ کرتا ہوا شام سات بجے (پاکستانی گیارہ بجے) ہیتھرو ایئر پورٹ سے امیگریشن کے مراحل سے گزر کر لندن میں داخل ہو گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جولائی ۱۹۹۸ء

طالبان اور شمالی اتحاد: وزیر خارجہ پاکستان کے بیان کا جائزہ

وزیر خارجہ جناب گوہر ایوب خان نے کہا ہے کہ پاکستان، افغانستان میں طالبان اور شمالی اتحاد کے لیڈروں کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا چاہتا ہے۔ اور اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’ہمارے نزدیک دونوں برابر ہیں‘‘۔ خدا جانے خان صاحب نے یہ بات کس ترنگ میں آ کر کہہ دی ہے، ورنہ جہاں تک حقائق کا تعلق ہے وہ اس کی کسی طرح بھی تائید نہیں کرتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ مارچ ۱۹۹۸ء

لوئیس فرخان اور نیشن آف اسلام

امریکہ کی سیاہ فام آبادی سے تعلق رکھنے والی تنظیم ’’نیشن آف اسلام‘‘ اور اس کے لیڈر لوئیس فرخان کے بارے میں ان دنوں عالمی ذرائع ابلاغ سے مختلف پروگرام نشر ہو رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے یہ خبر آئی تھی کہ برطانوی ہوم آفس نے لوئیس فرخان کے برطانیہ میں داخلے پر وہ پابندی برقرار رکھی ہے جو ۱۹۸۶ء میں اس بنا پر عائد کی گئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جولائی ۱۹۹۸ء

الشیخ عز الدین بن عبد السلامؒ اور ہمارے آج کے مسائل

امتِ مسلمہ کی چودہ سو سالہ تاریخ ایسے علماءِ حق کے تذکروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے ہر دور میں حالات کی رفتار کا جائزہ لیتے ہوئے امتِ مسلمہ کی صحیح راہنمائی کی اور وقت کے ظالم و جابر حکمرانوں کو راہِ راست پر لانے اور ان کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ انہی میں سے ایک حق گو اور صاحبِ بصیرت عالمِ دین کا تذکرہ آج کے کالم میں کرنے کو جی چاہتا ہے جنہیں تاریخ شیخ الاسلام عز مکمل تحریر

۷ جون ۱۹۹۸ء

استحکامِ پاکستان کی جدوجہد کے پانچ اہم دائرے

مرکزی علماء کونسل گوجرانوالہ بالخصوص مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا عبید اللہ حیدری اور ان کے رفقاء کا شکرگزار ہوں کہ آج کی اہم قومی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے اس سیمینار کا اہتمام کیا اور اس میں کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ استحکامِ پاکستان کے حوالے سے غور و فکر اور اس کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے تبادلۂ خیالات آج کا اہم قومی تقاضہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جنوری ۲۰۲۴ء

سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کا سیرت اسٹڈی سنٹر

سیالکوٹ کے ’’سیرت اسٹڈی سنٹر‘‘ کا نام تو کافی عرصہ سے سن رکھا تھا اور اس کی سرگرمیوں کی اطلاعات بھی وقتاً فوقتاً ملتی رہیں، مگر اسے دیکھنے کا اتفاق گزشتہ روز ہوا۔ پروفیسر عبد الجبار شیخ اس ادارے کے ڈائریکٹر ہیں، پرانے اساتذہ میں سے ہیں، متعدد کتابوں کے مصنف ہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد آرام سے نہیں بیٹھے اور نہ صرف سیرت اسٹڈی سنٹر کے کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جولائی ۲۰۰۳ء

برمنگھم (الاباما، امریکہ) میں دو دن

گزشتہ اٹھارہ برس کے دوران بلامبالغہ بیسیوں بار برمنگھم جانے کا اتفاق ہوا ہے، مگر ۷ اکتوبر ۲۰۰۳ء کو جب میں برمنگھم کے ایئرپورٹ پر اترا تو یہ شہر میرے لیے بالکل نیا تھا، اس لیے کہ یہ وہ برمنگھم نہیں تھا جو برطانیہ کا دوسرا بڑا شہر ہے اور دنیا بھر میں معروف ہے۔ بلکہ یہ امریکہ کی ریاست الاباما کا ایک شہر ہے جو نیویارک سے تقریباً تیرہ سو میل جنوب کی طرف واقع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اکتوبر ۲۰۰۳ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter