گورنر اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی سرپرستی میں اجتماعی شادیوں کا سلسلہ

گورنر پنجاب جنرل (ر) خالد مقبول کچھ عرصہ سے اجتماعی شادیوں کی سرپرستی میں مصروف ہیں، اور اب وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی بھی اس مہم میں ان کے ساتھ شریک ہو گئے ہیں، بلکہ گزشتہ دنوں لاہور میں اجتماعی شادیوں کے حوالے سے ایک تقریب میں صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی شرکت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اپریل ۲۰۰۴ء

انسانی حقوق کے قومی کمیشن کی علمی و فکری بنیاد کیا ہو گی؟

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں انسانی حقوق کے بارے میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر غیرت کے نام پر قتل، حدود آرڈیننس، اور توہینِ رسالتؐ کے قانون کا ذکر چھیڑا، اور مروجہ قوانین پر نظرثانی کی حمایت کرتے ہوئے ایک بااختیار قومی کمیشن کے قیام کا اعلان کیا ہے، جو ملک میں انسانی حقوق کے حوالے سے صورتحال کا جائزہ لے گا اور اسے بہتر بنانے کے لیے اقدامات تجویز کرے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۲۰۰۴ء

آفاتِ سماوی احادیثِ رسولؐ کی روشنی میں

کسی مسئلہ پر قرآن کریم اور احادیثِ نبویہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کا مطالعہ کرنے سے قبل اگر ہمارے ذہن میں پہلے سے ایک رائے جگہ پکڑ چکی ہو، اور اس کو سامنے رکھ کر ہم قرآن پاک اور حدیثِ نبویؐ کا مطالعہ کرنا چاہیں تو اکثر اوقات الجھن اور کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں، پھر اس الجھن کو اپنی عقل و فہم کے ساتھ دور کرنے کی کوشش اس میں مزید اضافہ کرتی چلی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ و ۱۲ نومبر ۲۰۰۵ء

سرحد اسمبلی کے شریعت ایکٹ اور حسبہ ایکٹ کے متعلق تحفظات

اخباری اطلاعات کے مطابق گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ نے سرحد اسمبلی کے ۶ جون ۲۰۰۳ء کو متفقہ طور پر منظور کردہ ’’شریعت ایکٹ‘‘ کی ابھی تک توثیق نہیں کی۔ جبکہ سرحد حکومت کی طرف سے بھیجے گئے ’’حسبہ ایکٹ‘‘ کو سات اعتراضات کے ساتھ واپس کر دیا ہے، جن کے بارے میں صوبائی وزارتِ قانون نے جوابی خط میں گورنر سرحد سے کہا ہے کہ یہ اعتراضات غلط فہمی پر مبنی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جولائی ۲۰۰۳ء

وراثت میں عورتوں کا حصہ اور عدالتِ عظمیٰ کے ریمارکس

روزنامہ پاکستان کی ۷ فروری ۲۰۰۶ء کی ایک خبر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ بہنوں کو وراثت میں حصہ نہ دینا ہمارا معاشرتی المیہ ہے۔ مرد ورثاء مختلف طریقوں سے ان کی جائیداد اپنے نام کرا لیتے ہیں۔ اسلام نے خواتین کے لیے وراثت میں حصہ مقرر کر رکھا ہے مگر خواتین اپنے رشتہ داروں کے زیر اثر خود ہی اپنے حق سے دستبردار ہو جاتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ فروری ۲۰۰۶ء

شراب پر پابندی کا قانون ختم کرنے کی مہم

وفاقی وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے شراب کے بارے میں جو کچھ کہا ہے اسے بعض دوست اتفاقی بات سمجھ رہے ہیں، لیکن ہمارے خیال میں ایسی بات نہیں ہے، کیونکہ جس انداز میں اس مسئلہ کو اٹھایا گیا ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ شراب نوشی پر پابندی کا قانون ختم کرنے کا پروگرام بنا لیا گیا ہے اور اس کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش شروع ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ فروری ۲۰۰۷ء

عصرِ حاضر کے چیلنجز اور علماء کرام کی ذمہ داریاں

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مکتبہ یاران اور العصر فاؤنڈیشن کراچی کا شکر گزار ہوں کہ علماء کرام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کام کرنے والے اہلِ علم کی اس متنوع مجلس اور گلدستہ میں مجھے بھی حاضری کا شرف بخشا، عروس البلاد کراچی کے حضرات سے ملاقات ہوئی اور کچھ عرض کرنے کا موقع مل رہا ہے، اللہ رب العزت اس کاوش کو قبول فرمائیں، انتظام کرنے والوں کو جزائے خیر عطا فرمائیں اور ہم سب کی حاضری کو قبول کرتے ہوئے اسے دارین کی سعادتوں اور خیر کا ذریعہ بنائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ نومبر ۲۰۲۳ء

نوجوان اہلِ علم کی تعلیمی و معاشرتی ذمہ داریاں

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ محترم ڈاکٹر محمد زمان چیمہ صاحب پرنسپل کالج، اساتذہ کرام، عزیز طلباء و طالبات! میرے لیے سعادت کی بات ہے کہ جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے منعقد ہونے والے اس اجتماع میں اپنے شہر کی قدیم درسگاہ اور تعلیمی مرکز اسلامیہ کالج میں ایک مرتبہ پھر حاضری کا موقع ملا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ دسمبر ۲۰۲۳ء

دو ریاستی حل : نگران وزیر اعظم سے تین گزارشات

گزشتہ دنوں اسلام آباد کنونشن سینٹر میں ’’حرمتِ مسجدِ اقصیٰ اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری‘‘ کے عنوان پر ایک بڑا قومی سیمینار ہوا تھا جس میں تمام مکاتب فکر کے قائدین جمع ہوئے، میں بھی اس میں شریک تھا، وہاں میں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ اسرائیل کے بارے میں پاکستان بننے کے فوراً بعد بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جسے ہم کبھی تسلیم نہیں کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ دسمبر ۲۰۲۳ء

عظیم تر مشرقِ وسطیٰ یا عظیم تر اسرائیل؟

ایک قومی اخبار نے اپنے برسلز کے نمائندے کے حوالے سے یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بادشاہتوں کے خاتمے کا ایک امریکی منصوبہ تیاری کے مراحل میں ہے اور اس کے تحت تمام اسلامی دنیا اور عرب ممالک کو مغربی تحفظ کی چھتری کے نیچے لایا جائے گا۔ یورپی سفارتی ذرائع کے مطابق ’’اقدام برائے عظیم تر مشرقِ وسطیٰ‘‘ کی حکمتِ عملی پر امریکہ، یورپی یونین، اور جی ایٹ ممالک میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ مارچ ۲۰۰۴ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter