پاکستان کے بارے میں امریکی عزائم کے حوالہ سے وزیر اعظم پاکستان کے نام کھلا خط
جناب وزیر اعظم! یہ عرب باشندے دو چار ہفتوں یا چند مہینوں سے پشاور میں قیام پذیر نہیں ہیں بلکہ دس بارہ سال سے اس علاقہ میں رہ رہے ہیں۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو افغانستان میں روسی استعمار کے تسلط اور مسلح جارحیت کے خلاف افغان عوام کے جہاد حریت میں شمولیت کے لیے دنیا کے مختلف ممالک بالخصوص عرب ملکوں سے آئے ہیں اور جہاد کے دینی جذبہ کے ساتھ جہاد افغانستان میں عملاً شریک رہے ہیں۔ یہ عرب نوجوان افغانستان یا حکومت پاکستان پر بوجھ نہیں بنے بلکہ انہوں نے اپنے ممالک سے جہاد افغانستان کے لیے بے پناہ مالی امداد فراہم کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بین الاقوامی سائنس کانفرنس یا عالم اسلام کے خلاف گھناؤنی سازش؟
استعماری قوتیں عالم اسلام کو ایٹمی توانائی، ٹیکنالوجی اور سائنس میں اعلی مہارت سے محروم رکھنے کے لیے جو جتن کر رہی ہیں وہ کسی ذی شعور مسلمان سے مخفی نہیں ہے، اور ان قوتوں کے پورے وسائل اس کوشش میں صرف ہو رہے ہیں کہ کوئی مسلمان ملک ان معاملات میں اعلی مہارت اور وسائل کسی صورت بھی حاصل نہ کر سکے۔ اس سلسلہ میں استعماری قوتوں کا ایک طریق واردات یہ بھی ہے کہ اپنی مرضی کے سائنسدان مسلمان ممالک کے سائنسی شعبوں پر مسلط کر دیے جائیں تاکہ ان کے ذریعے عالم اسلام کی سائنسی استعداد و صلاحیت پر نظر بلکہ گرفت رکھی جا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
الجزائر کے عوام کا تاریخی فیصلہ
الجزائر کے عام انتخابات میں اسلامک سالویشن فرنٹ کی شاندار کامیابی کے بعد عوام کے اس تاریخی فیصلہ کو سبوتاژ کرنے کے لیے جو قوتیں سامنے آئی ہیں انہوں نے اپنے طرز عمل کے ساتھ اس حقیقت کا ایک بار پھر اظہار کر دیا ہے کہ مسلم ممالک میں اس وقت جو طبقے حکمران ہیں انہیں نہ اسلام سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی جمہوریت پر ان کا یقین ہے۔ وہ ان ممالک میں صرف اپنے استعماری آقاؤں کے مسلط کردہ نظام کے محافظ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اور اس نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ کے لیے اسلام یا جمہوریت جس راستے سے بھی سامنے آئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’الشریعہ‘‘ کا نیا دور
ماہنامہ الشریعہ نے اپنے سفر کا آغاز اکتوبر ۱۹۸۹ء میں کیا تھا۔ حالات کی نامساعدت کے باوجود محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ جریدہ اپنی زندگی کے سوا چھ سال اور چھ جلدیں مکمل کر چکا ہے اور زیر نظر شمارہ سے ساتویں جلد کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس دوران الشریعہ نے اسلامائزیشن، مغربی میڈیا اور لابیوں کی اسلام دشمن مہم کے تعاقب، اور عالمی استعمار کی فکری اور نظریاتی یلغار کے حوالے سے دینی حلقوں کی آگاہی و بیداری کے لیے اپنی بساط کی حد تک خدمات سرانجام دی ہیں۔ اور اہل علم و نظر کے ہاں پسندیدگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جمعیۃ کے ساتھ متحرک وابستگی کے دور کی تکمیل اور آئندہ کے عزائم اور پروگرام
گزشتہ سال جولائی کے دوران جب میں لندن پہنچا تو آتے ہی جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے قائم مقام امیر حضرت مولانا اجمل خان مدظلہ کی خدمت میں عریضہ ارسال کر دیا تھا کہ جمعیۃ میں اب کوئی متحرک کردار ادا کرنا میرے لیے مشکل ہوگا اس لیے مجھے مرکزی ناظم انتخابات کے منصب سے فوری طور پر سبکدوش سمجھا جائے، اور نومبر میں ہونے والے جماعتی انتخابات میں سیکرٹری اطلاعات یا کسی اور منصب کے لیے میرا انتخاب نہ کیا جائے، میرے لیے اسے قبول کرنا مشکل ہوگا۔ اس کے بعد مولانا محمد اجمل خان صاحب اگست کے دوران برمنگھم میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جہاد افغانستان اور ہماری ذمہ داریاں
آپ حضرات مختلف علاقوں سے اپنے معمولات، گھر بار، مصروفیات اور مشاغل چھوڑ کر ایک بے آب و گیاہ وادی کی سنگلاخ چٹانوں میں جمع ہیں۔ آپ کے یہاں جمع ہونے کا ایک مقصد ہے، وہ مقصد آپ دلوں میں لیے جوش و جذبہ کے ساتھ اپنے ایمان کو حرارت دے رہے ہیں، اللہ تعالٰی آپ کے اس مقصد میں آپ کو اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو کامیابی عطا فرمائے، آمین۔ وہ مقصد یہ ہے کہ آج کے دور میں جہاد کا فریضہ مسلمانوں کی عملی زندگی سے نکل چکا ہے، وہ فریضہ مسلمانوں کے عملی زندگی میں دوبارہ آ جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریک خلافت اور اس کے ناگزیر تقاضے
گزشتہ دنوں خلافت اسلامیہ کے احیا کے جذبہ کے ساتھ دو حلقوں کی طرف سے جدوجہد کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایک طرف تنظیم اسلامی پاکستان کے سربراہ محترم جناب ڈاکٹر اسرار احمد نے ’’تحریک خلافت‘‘ بپا کرنے کا عزم کا اعلان کیا ہے اور دوسری طرف مولانا مفتی غلام مسرور نورانی قادری کی سربراہی میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام نے خلافت کی بحالی کے لیے علماء اور عوام کو منظم کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ جہاں تک خلافت اسلامیہ کے احیا اور بحالی کا تعلق ہے یہ ایک انتہائی مبارک اور مقدس جذبہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی‘‘
علامہ محمد اقبالؒ نے افغانستان پر برطانوی استعمار کی یلغار کی ناکامی پر فرنگیوں کے جذبات کی عکاسی ان الفاظ سے کی تھی ؎ ’’افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج ۔ ملّا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو‘‘۔ مگر جب افغانیوں کی غیرت ملی کا ترجمان اور محافظ ملّا فرنگی استعمار کے ہاتھوں افغانستان کے کوہ و دمن سے جلاوطن نہ ہو سکا تو یہ درد سر روسی استعمار نے اپنے کھاتے میں ڈال لیا۔ اور یہ سوچ کر افغانستان کو ملّا اور اس کے دین و ثقافت سے نجات دلانے پر کمر باندھ لی کہ برطانوی استعمار کی کامیابی کی راہ میں شاید جغرافیائی فاصلے رکاوٹ بن گئے ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
موجودہ حکومت اور سودی نظام
یہ اجتماع وفاقی شرعی عدالت کے اس تاریخی فیصلہ کو ملک میں قرآن و سنت کی بالادستی اور نفاذ کی جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل قرار دیتا ہے جس کے تحت وفاقی شرعی عدالت نے ملک میں رائج تمام سودی قوانین کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت کو ۳۰ جون تک ان کے متبادل اسلامی قوانین نافذ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ اجتماع اس سلسلہ میں حکومت پاکستان کے اس طرز عمل کو انتہائی افسوسناک بلکہ شرمناک قرار دیتا ہے کہ اسلام کے نفاذ کے نعرے پر برسرِ اقدار آنے والی حکومت اس فیصلہ پر عملدرآمد کرنے کے بجائے اس سے پیچھا چھڑانے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نیو ورلڈ آرڈر۔ عالم اسلام کے خلاف سازش
میں صرف اجتماع میں شرکت اور آپ حضرات کے ہم نشینوں میں نام لکھوانے کے لیے حاضر ہوا ہوں، وقت مختصر ہے۔ دیگر حضرات علماء کرام بھی تشریف فرما ہیں اور بالخصوص مفتی صاحب دامت برکاتہم تشریف فرما ہیں، اس لیے کسی تمہید کے بغیر صرف دو مختصر باتیں عروض کروں گا۔ ایک تو اس وقت جہاد افغانستان کس پوزیشن میں ہے اس کا نقشہ تھوڑا سا سامنے ہونا چاہیے۔ ایک وقت وہ تھا جب افغانستان کے علماء نے جہاد کا آغاز کیا تو دنیا کے دانشور یہ کہتے تھے۔ یہ پاگل لوگ ہیں روس جیسی سپر پاور چٹان ہے ان سے سر ٹکرا ٹکرا کر تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 150
- 151
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »