جاگیرداری نظام اور علماء کی ذمہ داری

ایٹمی دھماکوں کے بعد وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جس قومی ایجنڈے کا اعلان کیا ہے اس میں زرعی اصلاحات بھی شامل ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ وہ قوم کو جاگیرداری سسٹم سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ ہمارا موجودہ زمیندارہ سسٹم برطانوی تسلط کے نوآبادیاتی دور کی یادگار ہے جو ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد برطانوی استعمار نے اپنا تسلط مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے استوار کیا تھا۔ مغل دور کی زمینداریاں ختم کر دی گئی تھیں اور جاگیریں ضبط کر لی گئی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۹۸ء

کرونا بحران ۔ خدائی تنبیہ کی ایک صورت

اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں انسانی سوسائٹی پر اپنے عذاب کی مختلف صورتیں، سطحیں اور دائرے بیان فرمائے ہیں، ان میں سب سے بڑا عذاب آخرت کا عذاب اور قبر کا عذاب ہے جس سے تعوذ اور پناہ کے لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل دعائیں مانگنے کی تلقین فرمائی ہے۔ مگر دنیا میں بھی عذاب کے مختلف پہلو اور صورتیں قرآن کریم میں مذکور ہیں جن کا مقصد تنبیہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اس تنبیہ اور وارننگ کے بعد لوگ توبہ کر لیں اور اپنے گناہوں اور نافرمانی سے باز آجائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۲۰ء

قرآن و سنت کی روشنی میں انسانی حقوق کا تصور

سورۃ الذاریات کی چند آیات میں نے تلاوت کی ہیں جن میں اللہ تعالٰی نے اپنے نیک بندوں اور متقین کے اوصاف بیان فرمائے ہیں اور ان میں ایک بات یہ بھی ذکر کی ہے کہ ’’ان کے اموال میں ضرورت مندوں کے حقوق ہوتے ہیں‘‘۔ یعنی وہ اپنے اموال میں سے معاشرہ کے ضرورت مند افراد پر خرچ کرتے رہتے ہیں۔ یہ ان حقوق میں سے ایک ہے جو اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں انسانوں کے باہمی حقوق کے حوالہ سے تفصیل کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ انسانی حقوق کا آج بھی بہت شہرہ ہے اور مختلف حوالوں سے ان کا تذکرہ ہوتا رہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۰۵ء (غالباً)

مغرب کی نقالی کا ایک افسوسناک پہلو

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’لتتبعن سنن من کان قبلکم حذو النعل بالنعل‘‘ تم پہلی امتوں کی قدم بہ قدم پیروی کرو گے۔ اس حدیث مبارکہ کی تشریح میں محدثین کرامؒ نے مختلف پہلوؤں پر بات کی ہے، ان میں سے ایک پہلو پر آج کچھ معروضات پیش کرنے کا ارادہ ہے۔اس تمہیدی گزارش کے ساتھ کہ انسان بنیادی طور پر اپنی خوبیوں اور کمزوریوں کے حوالہ سے شروع سے کم و بیش یکساں چلا آرہا ہے اور قیامت تک اس نے ایسا ہی رہنا ہے۔ اس کے اندر فطرت نے خیر و شر کی جو صلاحیتیں ودیعت کی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جولائی ۲۰۲۰ء

افتاء کے ساتھ مشورہ اور تحکیم بھی ضروری ہے

معاشرے میں شرعی احکام پر عملداری کا رجحان فروغ دینے کے لیے محنت و کاوش کے مختلف دائرے ہیں جن میں بعض تو حکومت و ریاست سے تعلق رکھتے ہیں مگر زیادہ تر کام وہ ہیں جو حکومت و ریاست کے عمل دخل کے بغیر آزادانہ طور پر بھی کیے جا سکتے ہیں، مگر ہمارا عمومی مزاج یہ بن گیا ہے کہ سارے کام حکومت کے کھاتے میں ڈال کر اپنے حصے کا کام بھول جاتے ہیں اور سوسائٹی میں دینی ماحول کے کمزور ہوتے چلے جانے کی ساری ذمہ داری سرکار پر ڈال دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جولائی ۲۰۲۰ء

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ ایک جید عالم دین

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی وفات کی خبر اس قدر اچانک ملی کہ اس پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ میں اس روز مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر اور حافظ زبیر جمیل کے ہمراہ ڈیرہ اسماعیل خان میں تھا۔ ہم سابق سینیٹر مولانا قاضی عبد اللطیفؒ کی وفات پر تعزیت کے لیے کلاچی گئے تھے اور مولانا نور محمد ؒآف وانا کی تعزیت کے لیے وانا جانے کی خواہش تھی، مگر حالات کی نامساعدت نے اس کی اجازت نہ دی۔ ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں ہم نے جمعیۃ علماء اسلام کے سابق مرکزی قائد خواجہ محمد زاہد شہیدؒ اور شیخ محمد ایازؒ کے اہل خاندان سے تعزیت کی اور بعض مدارس میں حاضری دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اکتوبر ۲۰۱۰ء

حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ

حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ وہ گزشتہ چند برس سے صاحب فراش تھے، ۵ مئی کو ملتان کے ایک ہسپتال میں انہوں نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گزشتہ سال اسی تاریخ کو میرے والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا انتقال ہوا تھا۔ دونوں دارالعلوم دیوبند میں ہم سبق رہے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد تھے۔ ان کا روحانی سرچشمہ بھی ایک ہی تھا کہ موسٰی زئی شریف کی خانقاہ کے فیض یافتہ تھے۔ نقشبندی سلسلے کی اس خانقاہ کے حضرت خواجہ سراج الدینؒ سے حضرت مولانا احمد خانؒ نے خلافت پائی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ مئی ۲۰۱۰ء

سردار عبد القیوم خان سے ملاقات

چند روز قبل راولپنڈی میں شادی کی ایک تقریب کے دوران آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کے والد محترم سردار محمد عبد القیوم خان کی صحت کے بارے میں پوچھا، انہوں نے بتایا کہ وہ خاصے کمزور ہو گئے ہیں اور راولپنڈی میں ہی ہیں۔ اگلے روز میں نے ان کے پاس حاضری کا پروگرام بنا لیا اور تھوڑی دیر ان کے ساتھ گزارنے کا موقع مل گیا۔ مجاہد اول سردار محمد عبد القیوم خان کے ساتھ میرا اس دور سے تھوڑا بہت رابطہ چلا آ رہا ہے جب انہوں نے غالباً ۱۹۶۸ء کے دوران باغ بیرون موچی دروازہ لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ دسمبر ۲۰۱۲ء

انسانی حقوق کا مغربی فلسفہ اور امتِ مسلمہ

آج کا دور انسانی حقوق کا دور کہلاتا ہے اور مغرب کا دعوٰی ہے کہ اس نے دنیا کو انسانی اقدار اور انسانی حقوق سے متعارف کرایا اور نسل انسانی کے مختلف طبقات بالخصوص کمزور طبقوں کو حقوق کا شعور بخشا۔ اس سے قبل انسانی معاشرہ جہالت، جبر، ظلم اور تشدد کی ظلمتوں اور تاریکیوں کا شکار تھا، مغرب نے اس تاریکی اور ظلمت سے نسل انسانی کو نجات دلا کر روشن خیالی اور علم کے نئے دور کا آغاز کیا۔ مغرب کے معاشرتی، سائنسی اور ثقافتی انقلاب سے پہلے کا دور تاریکی، جبر اور جہالت کا دور کہلاتا ہے ، جبکہ انقلاب فرانس کے بعد سے شروع ہونے والا دور روشنی، انصاف اور علم کا دور سمجھا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مارچ ۲۰۱۱ء

مذہبی تعلیمی اداروں کے حوالہ سے امریکی سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ

آٹھ دس برس قبل کی بات ہے امریکہ کے ایک سفر کے دوران چند دوست ورجینیا میں ملے جو ایشین امیریکن تھے اور اپنا تعلق اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے بتا رہے تھے، انہوں نے کہا کہ وہ ایک مسئلہ پر اسٹڈی اور عوامی سروے کر رہے ہیں کہ اگر مذہب سوسائٹی میں واپس آ گیا تو کہیں وہ ریاستی نظم اور اجتماعی معاملات میں دخل اندازی تو نہیں کرے گا؟ میں نے ان کے اس سوال پر عرض کیا کہ اگر تو یہ واقعی مذہب ہوا تو ضرور کرے گا۔ کیونکہ جو مذہب اصل آسمانی تعلیمات پر مشتمل ہے اور اپنے پاس وحی الٰہی کے ذخیرے کے ساتھ صاحب وحی پیغمبرؑ کی ہدایات کو موجود پاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جولائی ۲۰۲۰ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter