تحریک پاکستان اور علماء کرام
پاکستان کے قیام کو نصف صدی گزر چکی ہے مگر ابھی تک اس کے نظریاتی اہداف کے حصول کے لیے کوئی سنجیدہ پیشرفت نہیں ہوئی، بلکہ قیام پاکستان کے نظریاتی مقاصد کو دھندلانے کے لیے اس پراپیگنڈا میں دن بدن شدت پیدا کی جا رہی ہے کہ پاکستان تو علماء کے موقف کے علی الرغم قائم ہوا تھا، اس لیے اس ملک میں علماء کی راہنمائی اور ان کے نظریاتی موقف و پروگرام کی پذیرائی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ حالانکہ یہ محض ایک دھوکہ ہے جس کا مقصد صرف پاکستان کو اسلامی تشخص سے دور رکھنے کی راہ ہموار کرنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مذہبی انتہا پسندی کے اسباب اور اس کا علاج
برطانیہ کی انتظامیہ کا مسلمانوں کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ یہاں کے مسلم نوجوانوں کے جذبات اور مبینہ طور پر ان کی انتہا پسندی کو کنٹرول میں رکھنا ہے، تاکہ انتظامی مسائل پیدا نہ ہوں اور اس سلسلے میں مشکلات کم ہوں۔ آج جبکہ میں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں، میرے سامنے لندن میں شائع ہونے والا ایک اردو اخبار پڑا ہے جس کی اہم خبر یہ ہے کہ برطانوی حکومت لوکل اتھارٹیز کو پانچ ملین پونڈ اس مقصد کے لیے دے رہی ہے کہ وہ نوجوان مسلمانوں کو انتہا پسندی کی طرف جانے سے روکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جنرل مشرف کے لیے تین نکاتی ایجنڈا
پاک فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے آئین معطل کر کے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو کا منصب سنبھال لیا ہے۔ اس کے پس منظر میں واقعات کا ایک پورا تسلسل ہے جو قارئین کے سامنے ہے اور ان میں سے کسی بات کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عام حلقوں میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ملک کسی بڑے بحران سے بچ گیا ہے۔ نواز شریف کے سیاسی مخالفین خوشیاں منا رہے ہیں اور ان کے سیاسی ہمدرد افسوس کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ ہمارے نزدیک اب تک کی صورتحال میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسئلہ قادیانیت: بھٹی صاحب کے تین اعتراضات
راقم الحروف نے مندرجہ بالا عنوان کے تحت چند روز قبل قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے ایک بیان پر گرفت کی تھی جس میں انہوں نے حالیہ مردم شماری میں قادیانی جماعت کے بعض افراد کے اندراج کے حوالہ سے کچھ علماء کرام کے اس بیان کو جھٹلایا تھا کہ مردم شماری میں اپنے نام درج کرانے والے قادیانیوں نے خود کو غیر مسلم تسلیم کر لیا ہے۔ اس کے جواب میں طاہر احمد بھٹی صاحب کا ایک مضمون ’’مولانا! آپ کی دعوت سر آنکھوں پر مگر……’’ کے عنوان سے روزنامہ اوصاف میں شائع ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کرونا کنٹرول میں چین کی پالیسی اور ہمارا طرز عمل
کرونا وائرس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ چائنہ نے کافی حد تک اسے کنٹرول کر لیا ہے مگر ایران اور اٹلی کے بعد امریکہ میں اس کے پھیلاؤ کو روکنا مشکل مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ رپورٹیں بھی آنا شروع ہو گئی ہیں کہ کرونا وائرس یا وبائی فلو کی یہ لہر فطری ہے یا اس کے پیچھے کوئی منصوبہ بندی کارفرما ہے۔ ہم اس سلسلہ میں اپنے ایک کالم میں عرض کر چکے ہیں کہ اس کا پورا امکان موجود ہے کہ یہ حیاتیاتی جنگ یا وائرس وار کا کوئی مرحلہ ہو، مگر ابھی اس بحث کو چھیڑنے کی بجائے ہم اس کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرین کی مدد کے پہلو کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کو درپیش آزمائش اور اسوۂ حسنہ
دینی مدارس کو درپیش فکری چیلنجز بہت سے ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ ان مدارس کی آخر الگ سے کیا ضرورت ہے؟ اور جب مسلمان معاشرے میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں موجود ہیں اور تعلیمی خدمات سرانجام دے رہی ہیں تو اجتماعی دھارے اور مین اسٹریم سے ہٹ کر یہ مدارس الگ کیا کام کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں؟ یہ بہت بڑا سوال ہے جو پوری دنیا میں دہرایا جا رہا ہے اور بار بار دہرایا جا رہا ہے جس کا جواب دینا ضروری ہے اور نئی نسل کو مطمئن کرنا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عصر حاضر کے چیلنجز اور دینی جدوجہد کے ۷ دائرے
اس وقت پورے عالم اسلام میں علماء کرام اور دین سے تعلق رکھنے والے حلقے، شخصیات اور ادارے جن دائروں میں کام کر رہے ہیں، اور جو دین کے حوالے سے ان کی تگ و دو کے دائرے ہیں، ان کی معروضی صورتحال پر میں اس وقت آپ حضرات سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں، تاکہ یہ بات آپ دوستوں کے سامنے آ جائے کہ کون سے کام ہمارے کرنے کے ہیں؟ ان میں سے کون سے ہو رہے ہیں اور کون سے نہیں ہو رہے ہیں؟ میں نے موجودہ مسلم معاشرے اور عالمی ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے دینی جدوجہد کی مختلف سطحوں کو سات دائروں میں تقسیم کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عالم اسلام پر مغربی فکر کی یلغار اور علماء کرام کی ذمہ داری
آج کی اس ملاقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس عنوان کے تحت کچھ تلخ گزارشات آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ حضرات محترم! اس عنوان کے تحت بنیادی طور پر چار امور غور طلب ہیں: ایک یہ کہ مغربی فکر کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ مغربی فکر کے عالم اسلام پر اثرات کیا ہیں؟ تیسرا یہ کہ اس کے مقابلہ میں ہم جو کچھ کر رہے ہیں، وہ کہاں تک مؤثر ہے؟ اور چوتھا یہ کہ مسلمانوں کو اس مغربی فکر کے حصار سے نکالنے کے لیے علماء کرام پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مغربی عوام اور حکمران ہم آہنگ نہیں
۲۸ ستمبر ۲۰۰۲ء کو لندن میں عراق پر مجوزہ امریکی حملے کے خلاف عوامی مظاہرہ تھا۔ گزشتہ سال انہی دنوں میں افغانستان پر امریکی حملے کے خلاف بھی لندن میں ایک بڑا مظاہرہ ہوا تھا جس میں شرکت کا مجھے بھی موقع ملا۔ مغربی ممالک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو عراق، فلسطین، کشمیر اور افغانستان کے حوالے سے امریکہ اور برطانیہ کی قیادت کے درمیان قائم عالمی اتحاد کے عزائم کو ان کے اصل پس منظر میں سمجھتے ہیں اور اسے سراسر ظلم قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف آواز بھی بلند کرتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسلمان اور مسیحی مذہبی راہنماؤں کے درمیان مکالمہ کی ضرورت
ایک عرصہ سے دل میں یہ خواہش پرورش پاتی چلی آ رہی ہے کہ مغرب آسمانی تعلیمات اور مذہبی احکامات و اقدار سے بغاوت کے جو تلخ نتائج بھگت رہا ہے اور اب ان میں ہم مشرق والوں کو بھی شریک کرنے کے درپے ہے، ان کے بارے میں سنجیدہ مسیحی مذہبی راہنماؤں سے گفتگو کی جائے اور اگر مذہب گریز رجحانات کو روکنے کے لیے کسی درجے میں مشترکہ کوششوں کی کوئی راہ نکل سکتی ہو تو اس کے لیے پیشرفت کی جائے۔ پاکستان کے مسیحی راہنماؤں میں آنجہانی جسٹس اے آر کارنیلیس اور آنجہانی جوشوا فضل دین کے بعد کوئی ایسا مسیحی راہنما نظر نہیں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 152
- 153
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »