سوات کے مظلوم عوام کا مقدمہ

۱۱ اپریل کو بادشاہی مسجد لاہور میں منعقد ہونے والی ’’قومی ختم نبوت کانفرنس‘‘ میں راقم الحروف کو بھی کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع دیا گیا لیکن میں نے کانفرنس سے خطاب کی دعوت دینے پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عرض کیا کہ کانفرنس کے موضوع پر بہت سے مقررین آپ سے خطاب کریں گے اس لیے میں اپنے معمول کے خلاف کانفرنس کے موضوع سے ہٹ کر ملک بھر سے آنے والے علماء اور دینی کارکنوں کے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۹ء

قومی ختم نبوت کانفرنس اور اس کے اہداف

۱۱ اپریل ۲۰۰۹ء کو بادشاہی مسجد لاہور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام قومی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت امیر مرکزیہ حضرت خواجہ خان محمد دامت برکاتہم آف کندیاں شریف کے فرزند جانشین حضرت صاحبزادہ عزیز احمد صاحب زیدمجدہم نے کی اور مختلف مکاتِب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے کانفرنس سے خطاب کیا۔ ملک بھر سے ہزاروں علماء کرام، دینی کارکنوں اور عوام نے شریک ہو کر کانفرنس کے موضوع اور مقاصد کے ساتھ ہم آہنگی اور یکجہتی کا اظہار کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۹ء

سوات میں شرعی عدالتوں کا آغاز

مولانا صوفی محمد کے ساتھ صوبہ سرحد کی حکومت کے معاہدہ کے تحت سوات اور ملحقہ علاقوں میں شرعی عدالتوں نے کام کا آغاز کر دیا ہے اور عدالتوں میں مختلف مقامات کے فیصلے کیے گئے ہیں۔ مولانا صوفی محمد خود ان فیصلوں اور مقدمات کے نظام کی نگرانی کر رہے ہیں اور رفتہ رفتہ لوگوں کا اعتماد بحال ہوتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۹ء

ہانگ کانگ میں مسلمانوں کی سرگرمیاں

ربیع الاول کے وسطی عشرہ میں مجھے چار پانچ روز کے لیے ہانگ کانگ جانے کا موقع ملا ۔ ہانگ کانگ مشرق بعید کا ایک اہم جزیرہ ہے جو کم و بیش ایک صدی تک برطانیہ کے زیرنگیں رہا اور ۱۹۹۷ء میں عوامی جمہوریہ چین نے اسے برطانیہ سے واپس لیا ہے۔ انیسویں صدی کے وسط میں جب پوری دنیا میں برطانیہ کا طوطی بولتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ برطانیہ عظمٰی کی سلطنت اس قدر وسیع ہے کہ اس میں سورج غروب ہی نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۹ء

مسلمان ممالک کا اسرائیل کو دہشت گرد قرار دینے پر اتفاق

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۲ فروری ۲۰۰۹ء کی خبر کے مطابق سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں گزشتہ دنوں بچوں کے بارے میں منعقد ہونے والی مسلمان ملکوں کی دوسری سالانہ بین الاقوامی کانفرنس میں ۳۶ مسلمان ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اسرائیل کو ایک دہشت گرد ملک قرار دیتے ہوئے اسے دنیا میں مسلمانوں کے اجتماعی فورم کی طرف سے دہشت گرد ملک کے طور پر متعارف کرانے کی مہم چلائی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۹ء

عالم اسلام کے خیالات اور امریکہ

روزنامہ پاکستان لاہور میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق امریکہ کی وزیر خارجہ محترمہ ہیلری کلنٹن گزشتہ روز جب انڈونیشیا کے دورے پر پہنچیں تو انڈونیشیا کے کئی شہروں میں امریکہ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی صورت میں عوام نے امریکہ کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا، بلکہ انڈونیشیا کی ایک بڑی مسلمان تنظیم محمدیہ کے سر براہ جناب شمس الدین نے امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ دعوت میں شرکت کی دعوت مسترد کر کے امریکہ کو انڈونیشیا عوام کے جذبات سے باخبر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۹ء

سوات میں نفاذ شریعت اور سیکولر حلقوں کی جھنجھلاہٹ

مالاکنڈ ڈویژن میں نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کے معاہدہ نے دنیا بھر کے سیکولر حلقوں میں بے چینی کی لہر پیدا کر دی ہے اور ہر سطح پر اس پر جھنجھلاہٹ کا اظہار مسلسل جاری ہے۔ حالانکہ یہ سادہ سی بات ہے کہ سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے لوگوں کا ایک مدت سے مطالبہ تھا کہ انہیں شرعی عدالتوں کا نظام فراہم کیا جائے، کیونکہ پاکستان کے ساتھ ریاست سوات کے الحاق سے قبل وہاں شرعی عدالتوں کا جو نظام موجود تھا اس میں انہیں جلد اور سستے انصاف کی سہولت حاصل تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۹ء

سانحۂ ساہیوال اور ریاستی نظامِ امن و عدل

سانحۂ ساہیوال نے پوری قوم کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے اور اس کا ارتعاش قومی زندگی میں ہر سطح پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ جس طرح ایک پر امن فیملی کو جی ٹی روڈ پر سفر کرتے ہوئے گولیوں سے بھون کر رکھ دیا گیا اس نے امن و امان اور عدل و انصاف کے نظام پر ایک عرصہ سے چلے آنے والے سوالیہ نشان کو اور زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔ قوم کی اعلیٰ ترین سطح پر اس کی ایک جھلک آج کے قومی اخبارات میں شائع ہونے والی درج ذیل خبروں میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جنوری ۲۰۱۹ء

نواستعماری عزائم اور ایجنڈے پر دو اہم کتابیں

بہت سے احباب کو بعض معاملات میں مجھ سے شکایت رہتی ہے مگر ان دوستوں کے تمام تر خلوص و محبت کے باوجود ایسی شکایات کا ازالہ میرے بس میں نہیں ہوتا۔ مثلاً وقتاً فوقتاً مختلف مقامات میں دینی و علمی تقریبات میں شریک ہوتا ہوں تو وہاں کے دوستوں کی خواہش ہوتی ہے کہ اس تقریب کے حوالہ سے کالم لکھوں اور اس میں کی جانے والی گفتگو بھی ریکارڈ میں لاؤں، جو کہ اس لیے ناقابل عمل ہو جاتا ہے کہ یہ کالم پھر اسی کام کے لیے مخصوص ہو جائے گا اور باقی اہم موضوعات نظرانداز ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جنوری ۲۰۱۹ء

اقوام متحدہ یا پانچ بڑی طاقتوں کی فرعونیت؟

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب حسین عبد اللہ ہارون نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں جمہوریت نہیں بلکہ پانچ بڑی طاقتوں کی فرعونیت ہے۔ روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۰ جنوری ۲۰۰۹ء کے مطابق ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے میزبان جاوید چوہدری سے بات چیت کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے ان تاثرات کا اظہار کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۹ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter