جناب صدر! ہماری منزل یہ نہیں ہے
روزنامہ پاکستان لاہور ۲۲ جنوری ۲۰۰۸ ء میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے حالیہ دورۂ یورپ کے دوران یورپی یونین کے دارالحکومت بر سلز میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پاکستان کو انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے غیر حقیقی معیار پر نہیں پرکھا جانا چاہیے‘‘۔ انہوں نے مغرب پر الزام لگایا ہے کہ اس پر جمہوریت کا بھوت سوار ہے اور کہا کہ ’’آپ لوگ جس معیار تک پہنچ چکے ہیں وہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں وقت درکار ہے اور یہ وقت ہمیں ملنا چاہیے‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان پیپلز پارٹی کا قادیانی امیدوار
روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ دسمبر ۲۰۰۷ ء کی ایک خبر کے مطابق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم، نائب امیر حضرت مولانا سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم اور ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان کی صوبائی سیٹ پر ایک قادیانی امام بخش قیصرانی کو پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے ٹکٹ دیے جانے کی مذمت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکہ کا صدارتی امیدوار ’’باراک حسین اوباما‘‘
روزنامہ وقت لاہور ۲۱ دسمبر ۲۰۰۷ ء کی ایک خبر کے مطابق نیویارک کے سابق گورنر باب کیری نے آئندہ انتخاب کے ایک امریکی صدارتی امیدوار باراک اوباما سے اس بات پر معافی مانگ لی ہے کہ انہوں نے ایک اور صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کے دوران باراک اوباما کے اسلامی تشخص کو نمایاں کرنے کی کوشش کی تھی۔ باب کیری نے ایک اخباری انٹرویو میں بتایا ہے کہ انہوں نے باراک اوباما کو خط لکھا ہے جس میں ان سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران ان کے اسلامی تشخص کا ذکر کر کے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حیا کا فطری جذبہ اور عریانی و فحاشی
روزنامہ وقت لاہور ۲۱ دسمبر ۲۰۰۷ ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی اخبار ڈیلی سن کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ فلمی دنیا کی معروف سپر ماڈل سنڈی کرافورڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے نیم برہنہ ماڈلنگ سے ہمیشہ کے لیے توبہ کر لی ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتی کہ اس کے شعور کی منزل تک پہنچنے والے بچے اسے اس حالت میں دیکھیں، اس کا کہنا ہے کہ ’’اس وقت میری بیٹی کا یا ۶ سال اور بیٹا پریسلے ۸ سال کا ہو گیا ہے وہ دونوں اس وقت شعور کی منزل پر پہنچ رہے ہیں اور میں نہیں چاہتی کہ وہ میری ایسی ماڈلنگ دیکھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
موت کی سزا: اقوام متحدہ اور آسمانی تعلیمات
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے موت کی سزا ختم کرنے کی قرارداد منظور کر لی ہے جس میں دنیا بھر کے ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے قوانین میں موت کی سزا کو ختم کر دیں۔ روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ دسمبر ۲۰۰۷ ء کی ایک خبر کے مطابق یہ قرارداد ۵۴ کے مقابلہ میں ۱۰۴ ووٹوں سے منظور کی گئی ہے جبکہ ۲۹ ملکوں کے نمائندوں نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
منشیات کا فروغ اور حکومت کی ذمہ داری
روزنامہ جنگ راولپنڈی ۲۵ نومبر ۲۰۰۷ء کی ایک خبر کے مطابق پاکستان میں منشیات کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس پر قابو پانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو رہی۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں افیون کاشت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور اس سال ۴۰ میٹرک ٹن پیداوار ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ افیون ہیروئن کی شکل میں قبائلی سرداروں اور پیشہ ور اسمگلروں کے ذریعے پاکستان میں سپلائی ہوتی ہے اور پھر دنیا کے مختلف ممالک میں سپلائی ہونے کے ساتھ ساتھ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حیات عیسٰی علیہ السلام اور پنجاب ٹیکسٹ بور ڈ لاہور
اہل اسلام کا اجماعی عقیدہ ہے کہ سیدنا حضرت عیسیٰ ؑ زندہ آسمانوں پر اٹھائے گئے تھے، وہ اسی حالت میں دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے اور مدینہ منورہ میں وفات پاکر جناب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر میں مدفون ہوں گے۔ اس کے برعکس قادیانی امت ایک عرصہ سے اس عقیدہ کا پرچار کر رہی ہے کہ حضرت عیسٰیؑ وفات پا چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کیا اسلام مکمل ضابطہ حیات نہیں؟
روزنامہ نوائے وقت لاہور ۷ نومبر۲۰۰۷ء کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا ہے کہ اسلام مکمل دین ہے مگر مکمل ضابطہ حیات نہیں ہے، اسلام میں چہرے کا پردہ ہے نہ سر کا، یہ محض معاشرتی رواج ہے، جبکہ حجاب صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے لیے تھا۔ ڈاکٹر خالد مسعود نے یہ بھی کہا ہے کہ حدود اللہ کا کوئی تصور قرآن میں موجود نہیں ہے، یہ تصور فقہاء حضرات کا ہے کہ مخصوص جرائم کی سزا کو حدود اللہ کہا جائے، وغیرہ ذٰلک ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’معتدل مسلمان‘‘ کا امریکی معیار
دہلی سے شائع ہونے والے جریدہ سہ روزہ دعوت کی ۱۶ نومبر ۲۰۰۷ء کی اشاعت میں امریکہ کے تحقیقی ادارہ ’’راند‘‘ کے حوالہ سے ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی راہنماؤں کی طرف سے ’’اعتدال پسند مسلمانوں‘‘ کو مسلم ممالک میں آگے لانے او ر ’’انتہا پسندوں‘‘ کو کارنر کرنے کی جو پالیسی جاری ہے اور جس پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں اس میں ’’معتدل مسلمانوں‘‘ سے ان کی مراد کیا ہے اور وہ کن حوالوں سے اعتدال پسند مسلمانوں اور انتہا پسند مسلمانوں کے درمیان امتیاز قائم کرتے ہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریک طلبہ و طالبات
لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے افسوسناک سانحہ کے پس منظر میں پشاور میں ایک اجلاس کے دوران ’تحریک طلبہ و طالبات‘‘ کے نام سے ایک فورم کی تشکیل عمل میں لائی گئی ہے جس کے سربراہ حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ دامت برکاتہم کو منتخب کیا گیا ہے اور ان کی امارت میں صوبائی امراء اور دیگر ذمہ داروں کا تعین کرکے اسی رخ پر تحریک کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے خلاف آپریشن سے قبل موجود تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 201
- 202
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »