پتنگ بازی اور انسانی جانیں ‒ دینی مدارس میں غیر ملکی طلبہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۴ فروری ۲۰۰۶ء کی خبر کے مطابق لاہور میں ایک اور دس سالہ بچہ پتنگ بازی کی نذر ہوگیا، تفصیل کے مطابق پیکو روڈ کا دس سالہ بچہ حمزہ اپنے گھر کے باہر کھڑا تھا کہ ایک پتنگ بجلی کی تاروں پر گری، اس کے ساتھ لٹکتی دھاتی تار سے چھو کر بچہ بری طرح جھلس گیا اور تھوڑی دیر کے بعد جاں بحق ہوگیا۔ اس دوران لاہور کے بعض شہریوں نے ایک پریس کانفرنس منعقد کرکے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پتنگ بازی کے دھندے میں ملوث افراد کے لائسنس منسوخ کیے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۶ء

توہین آمیز خاکوں کی اشاعت سے متعلق چند ضروری باتیں

ڈنمارک کے اخبار جیلنڈر پوسٹن میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکے شائع ہونے پر مسلم امہ میں جو اضطراب اور بے چینی پیدا ہوئی ہے وہ دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور احتجاجی مظاہروں کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے- اخباری رپورٹوں کے مطابق اس روزنامہ نے باقاعدہ دعوت دے کر کارٹونسٹوں سے یہ خاکے بنوائے اور انہیں اہتمام کے ساتھ شائع کیا، اس پر ابتدا میں رسمی طور پر مختلف حلقوں کی طرف سے احتجاج ہوا جس کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا بلکہ یورپ کے بعض دیگر ملکوں کے اخبارات نے بھی یہ خاکے شائع کرنا شروع کر دیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۶ء

ملک بھر کے احباب سے ایک ذاتی گزارش

ایک ذاتی نوعیت کے مسئلے کی طرف احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ دینی اجتماعات اور پروگراموں میں حاضری طالب علمی کے دور سے میرا معمول رہی ہے اور ملک کا شاید ہی کوئی حصہ ایسا ہو جہاں میں نے اس سلسلے میں حاضری نہ دی ہو۔ یہ سلسلہ چالیس سال سے زیادہ عرصہ پر محیط ہے لیکن اب یہ معاملہ میری دسترس سے بتدریج نکلتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۶ء

تحفظ ناموس رسالتؐ کے سلسلہ میں اہل علم کی ذمہ داری

جناب سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا ہر پہلو تاریخ کے حوالہ سے اہم اور قیامت تک کے لیے مشعل راہ ہے اسی لیے اس کے تحفظ اور اسے تاریخ کے ریکارڈ میں پوری تفصیل کے ساتھ لانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ لیکن اس میں سب سے زیادہ اہمیت ’’حجۃ الوداع‘‘ کو حاصل ہے اس لیے کہ اس روز جناب نبی اکرمؐ کے اس مشن کی عملی تکمیل ہوئی تھی جس کا اعلان آپؐ نے نبوت ملنے اور پہلی وحی نازل ہونے کے بعد صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر اہل مکہ کے سامنے کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۶ء

کینیڈا میں خاندانی اسلامی قوانین پر پابندی کا فیصلہ

مدرسہ نصرۃ العلوم کی سالانہ تعطیلات کے دوران حسب معمول بیرونی سفر پر ہوں۔ ۳۰ اگست کو پروگرام کے مطابق مجھے لندن پہنچنا تھا جہاں مانچسٹر میں مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی نے امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کی سیرت وخدمات کے حوالہ سے کانفرنس رکھی ہوئی تھی اور گلاسگو میں بھی ایک کانفرنس کا اہتمام تھا۔ انڈیا سے مولانا مفتی سیف اللہ خالد رحمانی پہنچ چکے تھے، پاکستان سے مجھے شریک ہونا تھا مگر ٹریول ایجنٹ کی غفلت کے باعث آخر وقت تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ ان دنوں فلائٹوں پر بہت رش ہوتا ہے اور میری سیٹ اوکے نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۵ء

زلزلہ کی تباہ کاریاں ۔ چند توجہ طلب امور

۸ اکتوبر کے زلزلہ کی شدت اور سنگینی کا اس بات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے اور ملکی و عالمی سطح پر تمام ممکنہ اور میسر وسائل استعمال کیے جانے کے باوجود نہ تو نقصانات کا پورے طور پر تخمینہ لگایا جا سکا ہے، نہ تمام متاثرہ علاقوں تک رسائی ممکن ہو سکی ہے اور نہ ہی ملبہ میں دب جانے والے انسانوں کو زندہ یا مردہ وہاں سے نکال لینے کی کوئی صورت قابل عمل دکھائی دے رہی ہے۔ امدادی کاروائیاں جاری ہیں اور عالمی برادری، مسلم امہ اور پاکستانی قوم کی بھرپور نمائندگی ان امدادی کاروائیوں میں نظر آرہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۵ء

افغان طالبان کو شاہ محمود قریشی کا مشورہ

وزیرخارجہ جناب شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کا یہ موقف تسلیم کر لیا ہے کہ افغانستان میں امن و امان کے قیام کے لیے مذاکرات ہی مسئلہ کا واحد حل ہیں اور افغان مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے افغان طالبان سے کہا ہے کہ انہیں ہتھیار چھوڑ کر مذاکرات کی طرف آنا ہوگا۔ افغان مسئلہ کے فوجی حل کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جو عسکری یلغار کی تھی اس کی ناکامی کا اعتراف خود امریکی جرنیل متعدد بار کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ دسمبر ۲۰۱۸ء

مولانا اعظم طارق کا شریعت بل اور مسیحی اقلیت

ملت اسلامیہ پاکستان کے سربراہ مولانا محمد اعظم طارق نے قومی اسمبلی میں ’’شریعت بل‘‘ پیش کر رکھا ہے جس میں قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے اور قرآن و سنت کے خلاف ملک میں رائج تمام قوانین ختم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اس شریعت بل کا مسودہ ان نصف درجن کے لگ بھگ شریعت بلوں سے ملتا جلتا ہے جو مختلف اوقات میں قومی اسمبلی اور سینٹ میں پیش ہوئے، ان پر سالہا سال تک بحث ہوئی اور ان ایوانوں میں منظور بھی ہوئے لیکن اس کے بعد پھر طاق نسیاں کی نذر ہوگئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۳ء

شریعت ایکٹ اور گورنر سرحد

اخباری اطلاعات کے مطابق گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ نے سرحد اسمبلی کے متفقہ طور پر منظور کردہ ’’شریعت ایکٹ‘‘ پر ابھی تک دستخط نہیں کیے جبکہ سرحد کابینہ کے تجویز کردہ ’’حسبہ ایکٹ‘‘ کو اس اعتراض کے ساتھ واپس بھجوا دیا ہے کہ اس میں عدالتوں کو نظر انداز کیا گیا ہے اور آئینی حدود سے تجاوز کیا گیا ہے۔ سرحد اسمبلی نے شریعت ایکٹ ۷ جون ۲۰۰۳ء کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا اور اس میں اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اسمبلی کے اقلیتی ارکان نے بھی شریعت ایکٹ کی حمایت کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۳ء

مسلم سربراہ کانفرنس، دنیائے اسلام کو مایوسی

گزشتہ دنوں مکہ مکرمہ میں مسلم سربراہ کانفرنس کا غیر معمولی اجلاس ہوا، اجلاس جس انداز سے بلایا گیا اور اسے غیر معمولی قرار دے کر اس کی جس طرح تشہیر کی گئی اس سے بہت سے مسلمانوں کو یہ خوش فہمی ہوگئی تھی کہ شاید مسلم حکمرانوں کو وقت کی ضروریات کا احساس ہوگیا ہے اور وہ مسلم امہ کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے کوئی سنجیدہ پروگرام تشکیل دینا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۶

Pages


2016ء سے
Flag Counter