صلح حدیبیہ کے چند اہم پہلو

جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ رفقاء کو حدیبیہ کے مقام پر روک دیا گیا اور یہ بات سامنے آگئی کہ قریش مکہ جناب رسول اللہؐ اور ان کے ساتھیوں کو عمرہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے تو آنحضرتؐ نے وہاں رک کر اس صورتحال کا جائزہ لیا اور اپنی آئندہ حکمت عملی طے فرمائی۔ قبیلہ بنو خزاعہ کے ساتھ نبی کریمؐ کے اچھے تعلقات تھے وہ مسلمانوں کے بارے میں دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے، ان کے سردار بدیل بن ورقاء خزاعی اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ حضورؐ سے ملاقات کے لیے آئے تو آپؐ نے ان کے ذریعے قریش مکہ کو ایک پیغام بھجوایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مارچ ۲۰۱۷ء

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ اور ڈاکٹر عبد القدیر خان

میرا ایک سوال ہے جس کا جواب میں ارباب فکر و دانش سے چاہوں گا کہ وہ کونسا سانچہ تھا جس میں ڈھل کر ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ علم و فکر کے اس مقام پر پہنچے تھے؟ کیا یہ محض شخصی کمال تھا کہ ایک باذوق شخص نے اس کے سارے تقاضوں کو اپنے گرد جمع کر لیا تھا یا ہمارے نظام میں بھی اس کی کوئی جھلک موجود ہے؟ اصل ضرورت یہ ہے کہ اس سانچے کو ایک نظام کی صورت دی جائے جس نے ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ جیسی شخصیت ہمیں عطا کی اور اسے مستقبل میں ایسی ہمہ گیر شخصیات سامنے لانے کا ذریعہ بنایا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مارچ ۲۰۱۷ء

’’شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار‘‘

گزشتہ دنوں پنجاب یونیورسٹی کے چند اساتذہ کے ساتھ ایک غیر رسمی گفتگو میں مذہب اور ریاست کے باہمی تعلق کی بات چل پڑی، ایک دوست نے کہا کہ مذہب اور ریاست میں تعلق کبھی نہیں ہوا۔ میں نے عرض کیا کہ ہمارے ہاں تو ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک ریاست کی بنیاد مذہب رہا ہے۔ خلافت راشدہ، خلافت بنو امیہ، خلافت عباسیہ اور خلافت عثمانیہ کا مجموعی دورانیہ تیرہ صدیوں کو محیط ہے اور ان سب کا ٹائٹل ہی ’’خلافت‘‘ تھا جو خالصتاً ایک مذہبی اصطلاح ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ مارچ ۲۰۱۷ء

موجودہ ملکی و علاقائی صورت حال میں علماء دیوبند کا’’مشترکہ موقف‘‘

اجتماع اور مشاورت میں شریک ہونے والے حضرات میں صدر وفاق المدارس و صدر اجلاس حضرت مولانا سلیم اللہ خان، مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، مولانا مفتی غلام الرحمن، مولانا عبد المجید آف کہروڑ پکا، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا عبید اللہ اشرفی، مولانا فضل الرحیم، مولانا عبد الرحمن اشرفی، مولانا سید عبد المجید ندیم، مولانا محمد احمد لدھیانوی، ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں، مولانا اللہ وسایا، مولانا اشرف علی، مولانا عبد السلام، مولانا قاضی ارشد الحسینی، حافظ حسین احمد، مولانا پیر عزیز ارحمن ہزاروی ،مولانا مفتی حبیب الرحمن درخواستی، مولانا محمد عبد اللہ آف بھکر، مولانا انوار الحق حقانی، مفتی کفایت اللہ ہزاروی اور مولانا سعید یوسف خان بطور خاص قابل ذکر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۰ء

سودی نظام اور مذہبی طبقات کی بے بسی

دینی طبقات کی بے بسی یہ ہے کہ وہ عملی طور پر صرف مطالبات ہی کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس نہ تو اتنی پارلیمانی قوت ہوتی ہے کہ وہ جمہوری ذرائع سے اپنے مطالبات کو عملی جامہ پہنا سکیں، اور نہ ہی ملک کے دیگر ریاستی اداروں میں ان کی کوئی نمائندگی نظر آتی ہے کہ وہ منظور شدہ قوانین کو حقیقی معنوں میں نافذ کروا سکیں۔ بہرحال حسب صورتحال دینی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ حکومت سے دوٹوک مطالبہ کریں کہ وہ سودی نظام کے خاتمہ کے لیے اپنی دستوری ذمہ داری کو فوری طور پر پورا کرے۔ اس مطالبہ کو مؤثر بنانے کے لیے دینی حلقوں اور رائے عامہ کو بیدار و منظم کرنے کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ فروری ۲۰۱۷ء

آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کے مطالبات

اصل ضرورت ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴، اور ۱۹۸۴ء کی طرز کی ہمہ گیر تحریک کا ماحول پیدا کرنے کی ہے لیکن یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ اب صورتحال خاصی مختلف ہو چکی ہے۔ مذکورہ تحریکات میں ذرائع ابلاغ بالخصوص اخبارات کی مجموعی حمایت تحریک ختم نبوت کو حاصل ہوتی تھی، اب میڈیا کی عمومی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی اور میڈیا کے اہم مراکز خود ان مطالبات کے خلاف فریق کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ماضی کی ان تحریکات کے دوران ملک کے اندر بیرونی سرمائے اورا یجنڈے کے تحت کام کرنے والی سینکڑوں این جی اوز اس طرح متحرک نہیں تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ فروری ۲۰۱۷ء

حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ

مولانا عبید اللہ انورؒ میرے شیخ تھے اور امیر بھی۔ میں نے ایک طویل عرصہ ان کے ساتھ ایک خادم، مرید اور ساتھی کے طور پر گزارا ہے۔ حضرت لاہوریؒ کے بڑے بیٹے حضرت مولانا حافظ حبیب اللہؒ فاضل دیوبند تھے، ان کی زیارت میں نہیں کر سکا کہ وہ میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی ہجرت کر کے مکہ مکرمہ چلے گئے تھے۔ اسی وجہ سے وہ ’’مہاجر مکی‘‘ کہلاتے تھے، وہیں زندگی گزاری اور ان کا انتقال بھی وہیں ہوا۔ حضرت لاہوریؒ کے دوسرے بیٹے حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ تھے۔ جبکہ حضرت لاہوریؒ کے تیسرے بیٹے حضرت مولانا حافظ حمید اللہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اگست ۲۰۱۶ء

قومی اسمبلی کا منظور کردہ قانونِ تنازع جاتی تصفیہ

اپنی نوعیت کے لحاظ سے بلاشبہ یہ بل تاریخی نوعیت کا ہے جس کے لیے مختلف حلقوں کی طرف سے ایک عرصہ سے تقاضہ کیا جا رہا تھا۔ اس وقت ملک بھر میں ہر سطح کی عدالتوں میں مقدمات کی جو بھرمار ہے اور جس طرح کوئی تنازع اپنے حل کے لیے سالہا سال تک عدالتوں کی فائلوں میں دبا رہتا ہے اس کے پیش نظر یہ مصالحتی او رپنچایتی سسٹم ایک اہم قومی ضرور ت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں نچلی سطح پر عام نوعیت کے تنازعات کے تصفیہ کے لیے اس قسم کے سسٹم موجود ہیں جن کو دستوری اور قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ فروری ۲۰۱۷ء

مسئلہ کشمیر اور نوآبادیاتی نظام کی جکڑبندی

ان سب شعبوں میں گزشتہ سات عشروں کی صورتحال پر نظر ڈال لیں آپ کو تبدیلی کے مطالبات نظر آئیں گے، اصلاح و تجاویز کی فائلیں ادھر سے ادھر گھومتی دکھائی دیں گی، بیانات اور تجزیوں کا وسیع تناظر سامنے آئے گا، وعدوں اور تسلیوں کے سبز باغ آپ کی نگاہوں کے سامنے رہیں گے، احتجاج و اضطراب کی لہریں بھی مسلسل موجود ملیں گی لیکن کیا مجال ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود کسی شعبہ میں کوئی عملی تبدیلی دیکھنے میں آجائے۔ ہم ستر سال کے بعد بھی کولہو کے بیل کی طرح ایک ہی دائرے میں گھوم رہے ہیں بلکہ بعض معاملات میں تو ہم اس سے بھی پیچھے جا چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ فروری ۲۰۱۷ء

وطنِ عزیز پاکستان کی خصوصیات اور انہیں درپیش خطرات

پاکستان جب ۱۹۴۷ء کے دوران دنیا کے نقشے پر ایک نئی ریاست کے طور پر نمودار ہوا تو دنیا میں عام طور پر یہ سمجھا گیا کہ جنوبی ایشیا کے اس خطہ کے مسلمانوں نے جذباتیت کا اظہار کر کے اسلام کے نام پر ایک الگ ملک کے قیام کا مقصد تو حاصل کر لیا ہے مگر اسے ایک مستحکم نظریاتی ریاست بنانے کے مراحل شاید وہ نہیں طے کر پائیں گے اور بھارت کے اردگرد موجود دیگر چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی طرح یہ ملک بھی اسی طرز کی ایک ریاست کی صورت اختیار کر جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۷ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter