تحفظ ناموس رسالتؐ قانون اور سینٹ آف پاکستان
سینٹ آف پاکستان کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق اس قانون کے مبینہ طور پر غلط استعمال کی روک تھام کے عنوان سے اس کا از سرِ نو جائزہ لے رہی ہے۔ اس لیے مختلف مذہبی مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کے مشترکہ عملی فورم ’’ملّی مجلس شرعی پاکستان‘‘ نے اس کے متعلقہ ضروری پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا ہے اور مجلس کے مرکزی راہ نماؤں کی طرف سے جن میں راقم الحروف بھی شامل ہے ، ایک جائزہ رپورٹ سینٹ آف پاکستان کی قائمہ کمیٹی کو محترم سنیٹرفرحت اللہ بابر کی وساطت سے بھجوائی ہے جو قارئین کے مطالعہ کیلئے پیش خدمت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انسدادِ توہینِ رسالتؐ کا قانون طے شدہ مسئلہ ہے
عمومی روایت یہ ہے کہ کسی مسئلہ پر رائے عامہ کی اکثریت ایک طرف ہو جائے اور منتخب پارلیمنٹ اس پر قانون سازی کر دے تو اسے قومی فیصلہ تصور کیا جاتا ہے اور کسی شدید مجبوری کے بغیر اسے دوبارہ زیر بحث لانے سے گریز کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں یہ عجیب صورتحال بنا دی گئی ہے کہ اسلامی عقائد و احکام سے متعلقہ ہر فیصلہ کو بار بار چیلنج کرنے اور اس پر بحث و تمحیص کا دروازہ کھولنے کی کوشش اس کے ساتھ ہی شروع کر دی جاتی ہے جسے متعدد عالمی اداروں اور لابیوں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، نوشہرہ اور چارسدہ کا سفر
موجودہ عالمی اور ملکی صورتحال پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہوئے طلبہ سے عرض کیا کہ آپ کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اپنے علم کو پختہ کریں اور تعلیم کی طرف پوری توجہ دیں۔ اس لیے کہ علمی استعداد اور صلاحیت جس قدر مضبوط ہوگی اسی قدر آج کے فکری اور علمی فتنوں کا اعتماد کے ساتھ مقابلہ کر سکیں گے۔ جبکہ ادھورا علم اور ناقص استعداد خود فتنوں کا باعث بن جاتی ہے۔ اس لیے ’’ملاّ‘‘ بننے کی کوشش کریں اور ’’نیم ملاّ‘‘ نہ بنیں کیونکہ نیم ملا ہمیشہ ایمان کے لیے خطرہ ثابت ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سعودی دانشور ڈاکٹر محمد المسعری کے خیالات
ڈاکٹر محمد المسعری نے کہا کہ طالبان کو اپنا نظام باقاعدہ طور پر تشکیل دینا چاہیے، اس کا اعلان کرنا چاہیے اور اس کے لیے عالم اسلام کے دانشوروں سے استفادہ کرنا چاہیے۔ طالبان نے اپنے داخلی نظام کی بنیاد فقہ حنفی اور فتاویٰ عالمگیری پر رکھی ہے مگر میرے خیال میں انہیں فتاویٰ عالمگیری کی بجائے اس کے مرتب کرنے والے حکمران سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ کی پیروی کرنی چاہیے جنہوں نے اس وقت کے منتخب اربابِ علم و دانش کو جمع کر کے اس دور کے تقاضوں کے مطابق فتاوٰی عالمگیری کے نام سے ایک نظام مرتب کرایا اور اسے نافذ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا سلیم اللہؒ ، حضرت قاری محمد انورؒ، حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ
گزشتہ دو روز سے صدمہ در صدمہ در صدمہ کی کیفیت میں ہوں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ کی وفات پر صدمہ کے اظہار کے لیے حواس کو مجتمع کر رہا تھا کہ مدینہ منورہ سے استاذِ محترم حضرت قاری محمد انورؒ کی وفات کی خبر نے دوہرے صدمے سے دوچار کر دیا ۔ اور ابھی اس کی تفصیلات معلوم کرنے کی کوشش میں تھا کہ جنوبی افریقہ سے حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ کی اچانک وفات کی خبر آگئی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ تینوں بزرگوں کا تذکرہ خاصی تفصیل کا متقاضی ہے مگر سرِدست ابتدائی تاثرات ہی پیش کر سکوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اقوام متحدہ کا منشور اور اسلامی نقطۂ نظر
اقوامِ متحدہ کی طرف سے ایک بار پھر یہ تقاضہ سامنے آیا ہے کہ پاکستان میں ناموسِ رسالت کے تحفظ کا قانون تبدیل کیا جائے۔ توہینِ رسالتؐ پر سزا کا قانون، تحفظ ختم نبوت کی قانونی دفعات، نافذ شدہ چند شرعی قوانین اور دستور کی اسلامی دفعات ایک عرصہ سے بین الاقوامی دباؤ کی زد میں ہیں۔ اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت بہت سے عالمی ادارے ہمارے ان قوانین کو انسانی حقوق کے منافی قرار دے کر ان کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سرکاری شریعت ایکٹ کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کا تاریخی فیصلہ
وفاقی شرعی عدالت نے پارلیمنٹ کے منظور کردہ شریعت ایکٹ کی دفعہ ۳ اور ۱۹ کو قرآن و سنت کے منافی قرار دے دیا ہے۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۳ مئی ۱۹۹۲ء کی رپورٹ کے مطابق وفاقی شرعی عدالت کے فل بینچ نے جو چیف جسٹس جناب جسٹس تنزیل الرحمان، جناب جسٹس فدا محمد خان اور جناب جسٹس میر ہزار خان پر مشتمل تھا، یہ فیصلہ ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کے کنوینر جناب محمد اسماعیل قریشی اور دیگر تین شہریوں کی درخواست پر صادر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’شریعت بل‘‘ پر مختلف حلقوں کے اعتراضات
پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینٹ آف پاکستان نے ۱۳ مئی ۱۹۹۰ء کو ’’نفاذِ شریعت ایکٹ ۱۹۹۰ء‘‘ کے عنوان سے ایک نئے مسودہ قانون کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔ یہ مسودہ قانون اسی ’’شریعت بل‘‘ کی ترمیم شدہ شکل ہے جو سینٹ کے دو معزز ارکان مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف نے ۱۹۸۵ء کے دوران سینٹ کے سامنے پیش کیا تھا اور اس پر ایوان کے اندر اور باہر مسلسل پانچ برس تک بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری رہا۔ سینٹ آف پاکستان نے شریعت بل کے مسودہ پر نظر ثانی کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف کمیٹیاں تشکیل دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
صدر جنرل محمد ضیاء الحق کا نفاذ شریعت آرڈیننس
ہم ان سطور میں اس سے قبل بھی عرض کر چکے ہیں کہ ہمارے لیے اس سے زیادہ مسرت کی کوئی بات نہیں ہو سکتی کہ پاکستان میں شریعت اسلامیہ کے نفاذ اور بالادستی کے لیے ایسی مؤثر پیش رفت ہو جس سے ملک کے قانونی، عدالتی اور معاشی نظام میں کوئی عملی تبدیلی بھی نظر آئے۔ بدقسمتی سے گزشتہ گیارہ سال سے اس ضمن میں ہونے والے اسلامی اقدامات اس معیار پر پورے نہیں اترتے اور انہی تجربات کے باعث ملک کے سنجیدہ حلقے اس نئے او ربظاہر بہت اہم اقدام کے ساتھ بھی اعتماد کا رشتہ قائم کرنے کے لیے خود کو تیار نہیں پا رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا مفتی محمودؒ کی آئینی جدوجہد اور اندازِ سیاست
قائدِ محترم حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کی علمی، دینی اور سیاسی جدوجہد پر نظر ڈالتے ہوئے ان کی جو امتیازی خصوصیات او رنمایاں پہلو دکھائی دیتے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ مرحوم نے قومی سیاست کے دھارے میں شامل ہو کر خود کو اس میں جذب نہیں کر دیا بلکہ وہ اس دھارے کو اپنے عزائم اور مقاصد کی طرف موڑنے میں کامیاب بھی رہے۔ اور اگر آپ آج سے پچیس سال قبل کی قومی سیاست کا آج کی قومی سیاست سے موازنہ کریں گے تو ان نمایاں تبدیلیوں کے پس منظر میں مولانا مفتی محمودؒ اور ان کے رفقاء کی جدوجہد جھلکتی نظر آئے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 340
- 341
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »