مقالات و مضامین

چائلڈ لیبر اور بنیادی انسانی حقوق

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ تصویر کا ایک رخ دیکھتے ہیں اور دوسرا رخ دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ ہمیں یہ تو نظر آتا ہے کہ مغربی ممالک میں بچوں سے محنت مزدوری کا کام لینا ممنوع ہے۔ لیکن یہ دکھائی نہیں دیتا کہ مغرب کی ویلفیئر ریاستیں اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات زندگی کی کفالت کی ذمہ داری بھی اٹھاتی ہیں۔ یہ اصل میں اسلام کا اصول ہے اور خلافت راشدہ کے دور میں بیت المال یعنی قومی خزانے سے ہر شہری کی ضروریات زندگی کی لازمی کفالت کا عملی نمونہ پیش کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جون ۱۹۹۹ء

توہین رسالتؐ قانون ۔ نفاذ کے طریق کار میں تبدیلی

اس سارے عمل کا اصل مقصد توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون کو عملاً غیر مؤثر بنانا ہے تاکہ اگر کہیں اس جرم کا ارتکاب ہو تو کوئی شخص الٹا خود پھنس جانے کے خوف سے ایف آئی آر درج کرانے کی جرأت نہ کرے۔ اور اگر کوئی آدمی جرأت کر کے پیش قدمی کر ہی لے تو کمیٹیوں کے چکر میں معاملہ اس قدر الجھ جائے کہ مقدمہ کی باضابطہ کاروائی کی نوبت ہی نہ آئے۔ ورنہ ہمارے ہاں اس کے علاوہ دیگر بعض جرائم پر بھی موت کی سزا کا قانون نافذ ہے ااور ان قوانین کا بھی بسا اوقات غلط استعمال ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جون ۱۹۹۹ء

’’پاکستان بنانے کا گناہ‘‘ اور مولانا مفتی محمودؒ

مولانا مفتی محمودؒ نے جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ میں ان مذاکرات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اور خان عبد الولی خان دونوں شیخ مجیب سے ملے اور ان سے دیگر بہت سی باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا کہ ’’شیخ صاحب! یہ بات یاد رکھیں کہ آپ مسلم لیگی ہیں اور ہم کانگرسی۔ کل آپ پاکستان بنا رہے تھے تو ہم نے کہا تھا کہ نہ بنائیں اس سے مسلمانوں کا نقصان ہوگا۔ اور آج آپ پاکستان توڑ رہے ہیں تو ہم آپ سے یہ کہنے آئے ہیں کہ اسے نہ توڑیں مسلمانوں کو نقصان ہوگا۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مئی ۱۹۹۹ء

بھارت کی عظمت اور نجم سیٹھی کا خطاب

نجم سیٹھی کو یہ بھی پریشانی ہے کہ اسلام کی تعبیر میں جماعت اسلامی، جمعیۃ علماء اسلام اور سپاہ صحابہ میں کس کی اجارہ داری ہوگی؟ مگر وہ اس حقیقت سے جان بوجھ کر لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسلام کی دستوری تعبیر اور قانون سازی کے حوالہ سے نہ صرف ان مذکورہ جماعتوں میں بلکہ پاکستان کے کم و بیش سبھی دینی حلقوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اور وہ اپنے اتفاق رائے کا اظہار علماء کے 22 دستوری نکات، 1973ء کے دستور، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات، اور وفاقی شرعی عدالتوں کے فیصلوں کی صورت میں کئی بار کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مئی ۱۹۹۹ء

دینی مدارس اور جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال

عکاظ کا میلہ کوئی مذہبی اجتماع نہیں تھا بلکہ اس کی حیثیت ایک کلچرل فیسٹیول کی ہوتی تھی جس میں ناچ گانا بھی ہوتا تھا، شراب نوشی بھی ہوتی تھی، دنگل بھی ہوتے تھے، شعر و خطابت کے مقابلے بھی ہوتے تھے، خرید و فروخت بھی ہوتی تھی، اور عرب کی جاہلی معاشرت کا ہر اچھا اور برا پہلو اس میں نمایاں ہوتا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی کا ایک ذریعہ بھی ہوتا تھا۔ اس لیے حضورؐ وہاں تشریف لے گئے اور ان سب سرگرمیوں کے باوجود وہاں آئے ہوئے مختلف قبائل کے لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کی کوشش کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مئی ۱۹۹۹ء

اجتہاد مطلق کا دروازہ کیوں بند ہے؟

سابقہ دو مضامین کے بارے میں ’’اوصاف‘‘ میں ایک دو مراسلے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ’’اجتہاد مطلق‘‘ کا دروازہ بند ہونے کے بارے میں جو کچھ عرض کیا تھا اس کی وضاحت ابھی پوری طرح نہیں ہو پائی اور کچھ ذہنوں میں شبہات موجود ہیں۔ اس لیے آگے بڑھنے سے پہلے اس ضمن میں کچھ مزید گزارشات پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ بعض دوستوں نے سوال کیا ہے کہ ’’اجتہاد مطلق‘‘ کا دروازہ بند ہونے پر دلیل کیا ہے؟ اور اب اگر کوئی اس درجہ کا کوئی ’’مجتہد‘‘ سامنے آجائے تو اسے اجتہاد مطلق سے روکنے کا کیا جواز ہوگا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مئی ۱۹۹۹ء

مجلس احرار اسلام ۔ پس منظر اور جدوجہد

جب استنبول میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا اور مصطفی کمال اتاترک نے آخری عثمانی خلیفہ کو جلاوطن کر کے خلافت کا باب بند کر دیا تو خلافت کے تحفظ کے لیے متحدہ ہندوستان میں چلائی جانے والی تحریک بھی غیر مؤثر ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی قومی سطح پر تحریک آزادی کے حوالہ سے بعض مسائل پر مرکزی تحریک خلافت اور پنجاب کی تحریک خلافت میں اختلافات نمودار ہونے لگے۔ اس کے نتیجے میں پنجاب کی تحریک خلافت کے لیڈروں نے مرکز سے اپنا راستہ الگ کرتے ہوئے ’’مجلس احرار اسلام ہند‘‘ کے نام سے ایک نیا پلیٹ فارم قائم کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ مئی ۱۹۹۹ء

’’طلوع اسلام‘‘ اور چوہدری غلام احمد پرویز

قرآن کریم میں آنحضرتؐ کے زندگی بھر کے تمام تر اعمال و افعال، ارشادات و اقوال اور فیصلوں میں سے صرف چار پانچ باتوں پر گرفت کی گئی۔ یہ ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ کی تکوینی حکمت کا تقاضا تھا تاکہ ان چند باتوں پر گرفت کے ساتھ حضورؐ کے باقی تمام ارشادات، اعمال اور فیصلوں کی توثیق ہو جائے۔ چنانچہ قرآن کریم کے آخر وقت تک نازل ہوتے رہنے اور چند باتوں کے علاوہ باقی تمام امور پر خاموش رہنے سے ان سب کی توثیق ہوگئی ہے۔ اس لیے لطیف چودھری صاحب سے گزارش ہے کہ حدیث و سنت کو جو ’’وحی حکمی‘‘ کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ و ۲۷ اپریل ۱۹۹۹ء

نظام مصطفٰیؐ، ایک قومی ضرورت

ملک میں اسلامی نظام کی عملداری خواہ نفاذ اسلام کے عنوان سے ہو، نفاذ شریعت کے نعرہ کے ساتھ ہو، یا نظام مصطفٰیؐ کے ٹائٹل سے ہو، یہ صرف دینی جماعتوں کا مطالبہ نہیں بلکہ ایک اہم ترین قومی ضرورت ہے۔ اور اسے دینی جماعتوں کے کسی متفقہ مطالبہ سے زیادہ ایک قومی تقاضے اور ملی آواز کے طور پر سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ نفاذ اسلام کی بات ہمارے ہاں قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کی زبان پر رہی ہے، لیاقت علی خان مرحوم اس کے علمبردار رہے ہیں، سردار عبد الرب نشتر مرحوم یہ بات کہتے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اپریل ۲۰۱۶ء

حضرت عثمان غنیؓ کے جلسے میں بھٹو مرحوم کا تذکرہ

حضرت عثمانؓ بلاشبہ اپنے دور کے مالدار ترین شخص تھے مگر ان کی دولت اسلام کے کام آئی، مسلمانوں کے کام آئی، جہاد میں صرف ہوئی، معاشرہ کے نادار افراد پر خرچ ہوئی، اور غرباء و مساکین کے حصے میں آئی۔ حتیٰ کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد ان کے ایک ساتھی نے کہا کہ میں یہ اندازہ نہیں کر سکتا کہ حضرت عثمانؓ کی زندگی (83 سال) کے دنوں کی تعداد زیادہ ہے یا ان غلاموں کی تعداد زیادہ ہے جنہیں انہوں نے اپنی گرہ سے خرید کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آزاد کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اپریل ۱۹۹۹ء

ہمارا طرزِ افتاء اور خاموش ذہنی ارتداد

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دین سے بالکل ناواقف پڑھے لکھے حضرات میں سے اکثر کی خاموش اور بند زبانوں کے پیچھے ان کے ذہنوں میں بے شمار سوالات اور شبہات قطار باندھے کھڑے ہیں۔ اور مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی باک نہیں کہ ایک محدود تعداد کے سوا کہ جن حضرات کو شخصی طور پر کسی نیک اور صالح بزرگ سے تعلق نصیب ہوگیا ہے، یا کسی پختہ کار اور صاحب دل عالم دین کی مجلس میں بیٹھنے کی سعادت مل رہی ہے، ان کے علاوہ باقی لوگوں کی غالب اکثریت ’’خاموش ذہنی ارتداد‘‘ یا کم از کم دین کے حوالہ سے ’’عدم اطمینان‘‘ کا شکار ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اپریل ۱۹۹۹ء

مائیکل سکاٹ سے چند باتیں

مائیکل سکاٹ نے کہا کہ یہ بات بھی درست ہے کہ ابلاغ کے جو عالمی ذرائع درست ’’پکچر‘‘ اور ’’معروضی صورتحال‘‘ پیش کرنے کے دعوے دار ہیں وہ بھی حالات کی تصویر کو ایک خاص زاویے سے دکھاتے ہیں اور عالمی حالات کی منظر کشی میں ان کی اپنی ترجیحات کا خاصا دخل ہوتا ہے جس کی وجہ سے اسلامی تحریکات کے بارے میں صحیح صورتحال اور ان کا اپنا موقف سامنے نہیں آپاتا۔ مائیکل نے کہا کہ وہ اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ عالمی ذرائع ابلاغ سے مسلمانوں اور اسلامی تحریکات کا موقف بھی خود ان کی اپنی زبان میں سامنے آنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ و ۹ اپریل ۱۹۹۹ء

کیا اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے؟

آج کی صحبت میں ایک اہم سوال کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ’’کیا اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے؟‘‘ یعنی آج اگر کوئی اجتہاد کرنا چاہے تو اس کی کس حد تک اجازت ہے؟ کیونکہ عام طور پر اجتہاد کا دروازہ بند ہوجانے کی بات اس قدر مشہور ہوگئی ہے کہ ’’اجتہاد‘‘ کا لفظ کسی کی زبان پر آتے ہی بہت سے حلقوں کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور اگر کوئی اس حوالہ سے صحیح رخ پر بھی بات کرنا چاہتا ہے تو تذبذب اور ہچکچاہٹ کے کانٹوں سے دامن چھڑانا اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اجتہاد کے دو حصے ہیں اور دونوں کی نوعیت اور احکام الگ الگ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اپریل ۱۹۹۹ء

اجتہاد اور اس کے راہنما اصول

حضرت عمرؓ کا معمول یہ تھا کہ کسی معاملہ میں فیصلہ کرتے وقت اگر قرآن و سنت سے کوئی حکم نہ ملتا تو حضرت ابوبکرٌ کا کوئی فیصلہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اور اگر ان کا بھی متعلقہ مسئلہ میں کوئی فیصلہ نہ ملتا تو پھر خود فیصلہ صادر کرتے تھے۔ امام بیہقیؒ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام امیر المومنین حضرت عمرؓ کا یہ خط بھی نقل کیا ہے کہ ’’جس معاملہ میں قرآن و سنت کا کوئی فیصلہ نہ ملے اور دل میں خلجان ہو تو اچھی طرح سوچ سمجھ سے کام لو اور اس جیسے فیصلے تلاش کر کے ان پر قیاس کرو، اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور صحیح بات تک پہنچنے کا عزم رکھو۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اپریل ۱۹۹۹ء

حق مہر اور عورت کی مظلومیت

تقریب میں ایسوسی ایشن کے صدر کوکب اقبال ایڈووکیٹ کی طرف سے پیش کیے جانے والے مطالبات میں ایک مطالبہ یہ بھی شامل ہے کہ ’’عورت کی طلاق یا مرد کی دوسری شادی کو حق مہر کی ادائیگی کے ساتھ مشروط کیا جائے۔‘‘ یہ مطالبہ پڑھ کر بے ساختہ سر پیٹ لینے کو جی چاہا کہ مہر کے بارے میں اس سطح کے پڑھے لکھے لوگوں کی معلومات کا یہ حال ہے تو ملک کے عام شہری بے چارے کس قطار میں ہیں۔ ہمارے ہاں عام طور پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ مہر اس صورت میں واجب الادا ہوتا ہے جب خاوند فوت ہو جائے یا وہ عورت کو طلاق دے دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مارچ ۱۹۹۹ء

حکومت کو زکوٰۃ کی ادائیگی اور علامہ ابوبکر بن مسعودؒ الکاسانی

علامہ کاسانیؒ لکھتے ہیں کہ ہمارے زمانے کے حکمران زکوٰۃ وصول کر کے اسے صحیح مصارف پر خرچ نہیں کرتے۔ اس لیے یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ ان کو زکوٰۃ کی رقم ادا کرنے سے مال کے مالک کی زکوٰۃ شرعاً ادا ہو جائے گی یا نہیں؟ اس ضمن میں انہوں نے تین بزرگوں کے قول الگ الگ نقل کیے ہیں۔ فقیہ ابوجعفر ہندوانیؒ کا کہنا ہے کہ چونکہ مسلم حکمرانوں کو زکوٰۃ وصول کرنے کی ولایت حاصل ہے اس لیے انہوں نے جس سے زکوٰۃ وصول کی ہے اس کی زکوٰۃ ادا ہوگئی ہے۔ اگر وہ زکوٰۃ صحیح مصرف پر خرچ نہیں ہوئی تو اس کا وبال ان حکمرانوں پر ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مارچ ۱۹۹۹ء

زکوٰۃ کی جبری کٹوتی، سپریم کورٹ اور مولانا مفتی محمودؒ

حضرت عثمانؓ کے دور خلافت میں جب مال کی کثرت ہوئی تو یہ مسئلہ پیدا ہوگیا کہ سونا چاندی یعنی نقد رقوم میں زکوٰۃ کی جبری وصولی سے لوگوں کے ذاتی معاملات میں سرکاری تجسس کے امکانات بڑھ جائیں گے اور لوگوں کی ’’پرائیویسی‘‘ متاثر ہوگی۔ اس لیے امیر المومنین حضرت عثمانؓ نے خلیفہ راشد کی حیثیت سے یہ فیصلہ صادر فرما دیا کہ زرعی پیداوار اور مال مویشی تو ’’اموال ظاہرہ‘‘ ہیں جن کی تفصیلات آسانی کے ساتھ زیادہ کرید کیے بغیر معلوم کی جا سکتی ہے اس لیے ان کی زکوٰۃ سرکاری طور پر وصول کی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مارچ ۱۹۹۹ء

مومن قوم کی بیس اچھی خصلتیں

بنو ازد قبیلے کا ایک وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جن میں حضرت سوید بن الحارث ازدیؓ بھی تھے اور وہی اس واقعہ کے راوی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ہم حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بات چیت کی تو آپؐ ہمارے طرز گفتگو اور انداز سے خوش ہوئے اور دریافت کیا کہ تم کون لوگ ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ ہم سب اہل ایمان ہیں۔ آپؐ نے پوچھا کہ ہر دعویٰ پر دلیل کی ضرورت ہوتی ہے، تمہارے اس دعوے کی دلیل کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ ہمارے اندر پندرہ خصلتیں موجود ہیں جو ہمارے مومن ہونے کی دلیل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مارچ ۱۹۹۹ء

طالبان کے بارے میں مایوسی کا آغاز

دونوں راستے بالکل واضح ہیں۔ ایک طرف مروجہ عالمی نظام ہے، امریکی قیادت ہے، بین الاقوامی ادارے ہیں اور انہی کے زیر سایہ چلنے والی مسلم حکومتیں ہیں۔ جبکہ دوسری طرف اسلامی تحریکات ہیں، اسلام کے غلبہ کا عزم ہے اور ایڈجسٹمنٹ کی بجائے مروجہ نیٹ ورک کو کلیتاً مسترد کرتے ہوئے اسلام کے اجتماعی اور عالمی کردار کا احیا ہے۔ پہلا راستہ سہولتوں کا، آسائشوں کا اور موجودہ عالمی سسٹم سے بے پناہ فائدے حاصل کرنے کا ہے۔ جبکہ دوسرا راستہ ایثار کا، قربانی کا اور فقر و فاقہ کا ہے۔ ایک راستہ شاہ فہد کا جبکہ دوسرا اسامہ بن لادن کا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مارچ ۱۹۹۹ء

سود کے بارے میں حضرت عمرؓ کا ایک فیصلہ

سپریم کورٹ کے شریعت بینچ میں سود پر بحث کے دوران ایک معزز جج نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ سود کے حکم میں علماء یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک جنس کا تبادلہ اسی جنس کے ساتھ کیا جائے تو بالکل برابری شرط ہے اور اس میں کمی بیشی کی کوئی صورت درست نہیں ہے۔ تو کیا جب سونے کی ڈلی کا تبادلہ سونے کے زیورات کے ساتھ کیا جائے گا تب بھی برابری ضروری ہوگی؟ ۔ ۔ ۔ گزشتہ روز حدیث نبویؐ کی کتاب ’’سنن ابن ماجہ‘‘ کے سبق میں ایک واقعہ سامنے آیا جس میں کم و بیش اسی نکتے پر امیر المومنین حضرت عمرؓ کا ایک واضح فیصلہ موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مارچ ۱۹۹۹ء

جمہوریت، ووٹ اور اسلام

محمد مشتاق احمد سے عرض ہے کہ امیر المومنین حضرت عمرؓ بن الخطاب ایک اسلامی حکومت کی تشکیل کے لیے مسلمانوں کی عمومی مشاورت کو ضروری قرار دے رہے ہیں جس کا دائرہ انہوں نے اس خطبہ میں ’’الناس‘‘ اور ’’المسلمون‘‘ بیان فرمایا ہے۔ جبکہ آج کے دور میں عام لوگوں اور مسلمانوں کی عمومی رائے معلوم کرنے کا طریقہ ’’ووٹ‘‘ ہی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ ان کے ذہن میں ہو تو وہ ارشاد فرما دیں۔ مگر طریقہ ایسا ہو کہ حکومت کی تشکیل اور حاکم کے انتخاب میں ’’الناس‘‘ اور ’’المسلمون‘‘ کی رائے کا فی الواقع اظہار ہوتا ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ مارچ ۱۹۹۹ء

سودی نظام اور اس کا مجوزہ متبادل سسٹم

حکومت کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ بلاسود بینکاری کا کوئی متبادل سسٹم ابھی تک پیش نہیں کیا گیا اس لیے ملکی معیشت سے سود کو ختم کرنا عملاً مشکل ہے۔ یہ بات غلط ہے اس لیے کہ جون 1984ء میں اس وقت کے وزیرخزانہ جناب غلام اسحاق خان نے اپنی سالانہ بجٹ تقریر میں واضح طور پر اس امر کا اعلان کیا تھا کہ اسٹیٹ بینک اور قومی معاشی اداروں کی مشاورت کے ساتھ بلاسود بینکاری کا ایک جامع اور ٹھوس پروگرام طے پا چکا ہے اور اس کی بنیاد پر اگلے سال یعنی 85-1984ء کا بجٹ قطعی طور پر غیرسودی ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مارچ ۱۹۹۹ء

نظام حکومت کی اصلاح کے لیے سعودی علماء کی تجاویز

اس ’’یادداشت‘‘ میں ملک کی داخلی، خارجی، دفاعی، معاشی، انتظامی اور قانونی پالیسیوں پر الگ الگ بحث کرتے ہوئے ان میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور شرعی نقطۂ نظر سے اصلاحی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ ان سب تجاویز کا احاطہ تو اس مختصر کالم میں ممکن نہیں ہے، البتہ ان میں سے چند تجاویز کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ الشیخ اسامہ بن لادن اور سعودی عرب کے دیگر علماء اور دانشوروں کا اصل موقف اور مشن کیا ہے جس کے لیے وہ محاذ آرائی، جلا وطنی اور قید و بند کے مراحل سے دوچار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ فروری ۱۹۹۹ء

جمہوریت، مولانا صوفی محمد اور اسلام

بنیادی فلسفے کے لحاظ سے جمہوریت اور اسلام ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے ہیں۔ اور صرف جمہوریت ہی نہیں بلکہ جو طرز حکومت بھی آسمانی تعلیمات کی پابندی کو قبول نہیں کرتا اور فائنل اتھارٹی کے اختیارات اپنے پاس رکھتا ہے، سراسر کفر ہے ۔ ۔ ۔ جہاں ایک اسلامی حکومت کے لیے قرآن و سنت کا پابند ہونا شرط ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ اسے عام مسلمانوں کا اعتماد حاصل ہو۔ چنانچہ آج کے دور یہ اعتماد حاصل کرنے کی واحد صورت ووٹ ہے، اس کی شرائط اپنی جگہ لیکن ووٹ اور اکثریت کی مطلقاً نفی درست نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ فروری ۱۹۹۹ء

وکالت کا مروجہ سسٹم اور اسلامی نظام

الجھن یہ ہے کہ وکلاء صاحبان مروجہ عدالتی نظام اور وکالت کے سسٹم کو ’’اسلام‘‘ کا لیبل لگا کر من و عن باقی رکھنا چاہتے ہیں، جبکہ مولانا صوفی محمد دو سو برس پہلے کے عدالتی نظام اور وکالتی سسٹم کو کسی تبدیلی کے بغیر نفاذ اسلام کی بنیاد بنانا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں موقف غیر حقیقت پسندانہ ہیں اور صحیح راستہ اسی وقت سامنے آئے گا جب دونوں طبقوں (علماء اور وکلاء) کے مخلص دیندار اور اسلام کی بالادستی پر یقین رکھنے والے سنجیدہ ارباب فہم و دانش سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور ایک دوسرے کا موقف سمجھتے ہوئے مل جل کر کوئی قابل قبول لائحہ عمل طے کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ فروری ۱۹۹۹ء

جرائم شکنی ۔ ہمارا روایتی نظام اور اسلام کا مزاج

ہمارے ارباب حل و عقد ابھی تک یہ نکتہ نہیں سمجھ پا رہے کہ کسی واقعہ کے بعد اس کے اثرات کے ازالہ کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے کی بجائے وقوعہ سے پہلے ایسے اسباب کی روک تھام ضروری ہے جو ان واقعات کا باعث بنتے ہیں۔ ورنہ اگر اسباب موجود رہیں گے تو واقعات رونما ہوتے رہیں گے اور کسی ایک جگہ عارضی رکاوٹ و بندش دیکھ کر وہ اسباب اپنے نتائج دکھانے کے لیے کسی اور جگہ سر اٹھا لیں گے۔ اسی لیے جب قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی ایک علاقے میں شکنجہ سخت کرتے ہیں تو دہشت گردی اپنا علاقائی دائرہ کار تبدیل کر لیتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جنوری ۱۹۹۹ء

این جی اوز اور انسانی حقوق کے ادارے

یہ این جی اوز یعنی غیر سرکاری تنظیمیں سماجی خدمت، صحت، انسانی حقوق، اور نادار لوگوں کی خدمت کے نام پر ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔ انہیں عالمی اداروں سے کروڑوں روپے کی امداد ملتی ہے اور وہ ایک وسیع نیٹ ورک میں لاکھوں پاکستانیوں کو شریک کار بنا کر اپنے مقاصد کے لیے مسلسل مصروف کار ہیں۔ یہ تنظیمیں اگر فی الواقع غریب عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں اور نادار عوام کے نام پر حاصل ہونے والے فنڈز ان کی صحت اور بہبود کے لیے صرف کریں تو ان سے کسی کو کیا شکایت ہو سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جنوری ۱۹۹۹ء

عبادات اور معاملات میں توازن

اس واقعہ سے جہاں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسلام حقوق اللہ اور حقوق العباد میں توازن قائم رکھنے حکم دیتا ہے اور حقوق اللہ کی ادائیگی کی کوئی ایسی صورت قبول نہیں کرتا جس سے حقوق العباد متاثر ہوتے ہوں۔ وہاں ایک اور بات بھی ذہن میں آتی ہے کہ انسان جب بھی اپنے بارے میں کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کے سامنے وقتی حالات ہوتے ہیں اور وہ انہی کی روشنی میں معاملات انجام دیتا ہے۔ جبکہ اسلام ایسا کوئی فیصلہ کرنے میں تمام احوال و ظروف کا لحاظ رکھتا ہے جو کہ بسا اوقات انسان کو عجیب محسوس ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جنوری ۱۹۹۹ء

مسیحی دنیا کو قرآن کریم کی دعوت

تاریخ نے قرآن کریم کی اس پیش گوئی کو اس طرح سچا کر دکھایا کہ آج یہودی اور عیسائی اپنی تمام تر دشمنی اور لڑائیاں بھلا کر باہم شیر و شکم ہوگئے ہیں کہ عیسائی دنیا کے وسائل اور یہودی دماغ مل کر اسلام اور عالم اسلام کے خلاف متحدہ محاذ قائم کیے ہوئے ہیں۔ مگر ان سب باتوں سے قطع نظر جی چاہتا ہے کہ مسیحی برادری کو ان کی اس عید پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے قرآن کریم کی وہ دعوت دہرا دی جائے جس میں مسیحی دنیا بلکہ سب اہل کتاب کو آسمانی تعلیمات کی ’’مشترک اقدار‘‘ کی طرف واپس لوٹ آنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ دسمبر ۱۹۹۸ء

حلال و حرام کا فرق اور عام مسلمان

مرکزی جامع مسجد میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ دو اصحاب تشریف لائے، انہوں نے کہا کہ ہم مسئلہ پوچھنے آئے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ایک دوست نے، جو یورپ کے ایک ملک میں رہتا ہے، لاعلمی میں اس جانور کا گوشت کھا لیا ہے جس کا نام بھی نہیں لینا چاہیے۔ اب اس کا کیا حکم ہے اور اسے اس کی تلافی کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ میں نے عرض کیا کہ اگر لاعلمی میں کھایا ہے تو اس کا قصور نہیں ہے، البتہ اس بے احتیاطی پر اسے توبہ استغفار کرنی چاہیے کیونکہ کوئی چیز کھاتے وقت ایک مسلمان کو اس کے بارے میں باخبر ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ دسمبر ۱۹۹۸ء

مروجہ قوانین کی اسلامائزیشن کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ

اب دستور کے مطابق ملک میں رائج تمام قوانین کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی مکمل رپورٹ پارلیمنٹ کے سپرد کی جا چکی ہے جس میں متعدد قوانین اور ان کی مختلف شقوں کا جائزہ لے کر ان کی شرعی حیثیت کا تعین کر دیا گیا ہے۔ اور کونسل نے جن قوانین اور دفعات کو قرآن و سنت سے متصادم محسوس کیا ہے ان کی جگہ متبادل قوانین کے مسودہ جات بھی رپورٹ میں شامل کر دیے گئے ہیں۔ دستور کے مطابق پارلیمنٹ اس بات کی پابند ہے کہ حتمی رپورٹ اس کے حوالے ہونے کے بعد دو سال کے اندر اس کے مطابق قانون سازی کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ دسمبر ۱۹۹۸ء

اسلامی نظریاتی کونسل اور جہاد سے متعلق عصری سوالات

قرآن کریم نے قتال کا لفظ تو ہتھیار کی جنگ کے لیے ہی استعمال کیا ہے مگر جہاد کے لفظ میں عموم ہے۔ قرآن کریم نے جہاد بالنفس کے ساتھ جہاد بالمال کا ذکر کیا ہے جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد باللسان کو بھی اس کے ساتھ شامل کیا ہے۔ بلکہ غزوۂ احزاب کے بعد حضورؐ نے واضح اعلان فرمایا تھا کہ اب قریش ہمارے مقابلہ میں ہتھیار لے کر نہیں آئیں گے بلکہ زبان کی جنگ لڑیں گے اور شعر و خطابت کے میدان میں جوہر دکھائیں گے۔ چنانچہ آپؐ کے ارشاد پر صحابہ کرامؓ میں سے نامور خطباء اور شعراء نے جہاد باللسان کا یہ معرکہ سر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اپریل ۲۰۱۶ء

نفاذِ اسلام اور دورِ غلامی کی عبوری تعبیرات

دور غلامی میں بعض بنیادی مسائل میں ہمارے فقہاء نے وقتی اور عبوری طور پر ایسی صورتیں نکالی تھیں جن کا جواز بس اسی دور میں ہو سکتا تھا۔ آزادی اور اقتدار کے دور میں اسلامی احکام کی وہ صورتیں کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہو سکتیں۔ مثال کے طور پر نماز اور زکوٰۃ کے دو بنیادی احکام کو سامنے رکھ لیجیے جو اسلام کے احکام میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور جنہیں سوسائٹی میں عملی طور پر لاگو اور نافذ کرنے کی ذمہ داری کو قرآن نے اسلامی حکومت کے فرائض میں بیان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ دسمبر ۱۹۹۸ء

وزیراعظم کا استقبال اور غریب عوام کی درگت

یہ واقعات نئے نہیں ہیں، جب بھی حکمرانوں کو کسی حوالہ سے بڑے ہجوم اور اجتماع کی ضرورت پڑتی ہے اس کے لیے اسی طرح کے حربے اختیار کیے جاتے ہیں۔ اس سے حکمرانوں کی وقتی سیاسی ضرورتیں تو پوری ہو جاتی ہیں، انتظامی افسران اور ممبران اسمبلی کو شاباش مل جاتی ہے اور کچھ لوگوں کی انا کو نفسیاتی تسکین بھی حاصل ہو جاتی ہے، مگر غریب عوام کی جو درگت بنتی ہے اس کا اندازہ انہی لوگوں کو ہو سکتا ہے جو عوام میں رہتے ہیں اور انہی کے ساتھ میسر سفر کے ذرائع اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم دسمبر ۱۹۹۸ء

ربوہ کا نام اور اس کے باشندوں کے مالکانہ حقوق

ایک فریق قرآن کریم کے ایک لفظ کو غلط استعمال کر کے دنیا بھر کے لوگوں کو دھوکہ دے رہا ہے، جبکہ دوسرے فریق نے دھوکہ کی اس فضا کو ختم کرنے کے لیے پیش رفت کرنا چاہی ہے۔ اب انصاف پسند لوگ خود فیصلہ کریں کہ ان میں سے کون سا فریق انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور کون سا فریق انسانی حقوق کی پاسداری میں مصروف ہے۔ بلکہ اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو ربوہ کے نام کی تبدیلی انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں بلکہ اس شہر کے باشندوں کو مکانات اور دکانوں کے مالکانہ حقوق دینے کا مسئلہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ نومبر ۱۹۹۸ء

اسلامی نظام حکومت میں صوبائی خودمختاری

اس پس منظر میں جب ہم صوبائی خودمختاری کے مسئلہ کو سنت نبویؐ اور خلفاء راشدینؓ کے طرز عمل کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو دو باتیں بطور اصول سمجھ میں آتی ہیں۔ ایک یہ کہ اسلام نے علاقائی یونٹوں کے وجود کو تسلیم کیا ہے لیکن لسانی اور قومی عصبیتوں کی نفی کی ہے۔ نبی اکرمؐ نے ایک طرف تو زبان، رنگ اور نسل کی بنیاد پر اجتماع کرنے اور اس حوالہ سے دوسروں کے خلاف نفرت پھیلانے کو جاہلی عصبیت قرار دے کر اس سے بیزاری کا اظہار فرمایا۔ اور دوسری طرف آپؐ کے زمانے میں جو علاقے فتح ہوئے ان کی انتظامی وحدتوں کو برقرار رکھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ نومبر ۱۹۹۸ء

سیرت نبویؐ اور ڈکٹیٹرشپ

یہ مسئلہ فی الواقع سنگین ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سب سے اعلیٰ قانون ساز ادارے کے ایک رکن کی زبان پر جناب رسالت مآبؐ کی ذات گرامی کے بارے میں یہ گمراہ کن اور گستاخانہ الفاظ آخر کس طرح آگئے؟ اس معاملہ کے ضروری پہلوؤں کا جائزہ لینا اور انصاف و دینی حمیت کے تقاضے کو پورا کرنا متعلقہ شخصیات اور اداروں کی ذمہ داری ہے۔ مگر ہم اس مسئلے کے بارے میں ایک اور پہلو سے کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ جناب رسول اللہؐ کے بارے میں مذکورہ سینیٹر کا یہ جملہ اس کا اپنا نہیں بلکہ ایک درآمدی فقرہ ہے جو مغرب کے نظریہ ساز کارخانوں میں ڈھلا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ نومبر ۱۹۹۸ء

اسلام کا نظامِ حکومت اور رائے عامہ

اسلام کے سیاسی نظام کے حوالے سے ’’جمہوریت‘‘ کی نفی کرنے والے حضرات بھی عام طور پر ادھوری بات کہتے ہیں جس سے کنفیوژن پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ یہ بات تو کہہ دیتے ہیں کہ مغربی جمہوریت کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ یہ وضاحت نہیں کرتے کہ خود اسلام میں حکومت کی تشکیل کا اصول کیا ہے اور حکومت کے قیام اور اسے چلانے میں رائے عامہ کو کیا مقام حاصل ہے؟ چنانچہ اس سلسلہ میں ایک دو اصولی باتیں قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کو جی چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ نومبر ۱۹۹۸ء

قبائلی علاقہ جات اور شرعی قوانین

پاکستان کی شمالی مغربی سرحد کے ساتھ ساتھ آزاد قبائل کو ایک عرصہ سے یہ منفرد حیثیت حاصل ہے کہ ان کا نظام اور کلچر باقی ملک کے لوگوں سے مختلف ہے۔ فرنگی حکمرانوں کے دور میں یہ ’’آزاد علاقہ‘‘ کہلاتا تھا اور افغانستان اور روس سے فاصلہ قائم رکھنے کے لیے ’’بفر زون‘‘ کا کام دیتا تھا۔ جبکہ قیام پاکستان کے بعد بھی اس کی اس حیثیت میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی اور پاکستان کا حصہ ہونے کے باوجود اس خطہ کا انتظامی اور عدالتی نظام ملک کے دیگر حصوں سے جداگانہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ نومبر ۱۹۹۸ء

مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ

مولانا محمد عبد اللہؒ اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد (لال مسجد) کے خطیب کی حیثیت سے سرکاری ملازم تھے اور ان کا عہدہ وفاقی حکومت کے ایڈیشنل سیکرٹری کے برابر بتایا جاتا ہے۔ لیکن ان کی یہ حیثیت دینی اور ملی معاملات میں ان کی حق گوئی میں کبھی حائل نہیں ہوئی۔ وہ صاف گو اور حق گو عالم دین تھے اور جس بات کو صحیح سمجھتے تھے اس کے اظہار میں کوئی خوف، مصلحت یا لالچ ان کی راہ میں کبھی رکاوٹ نہیں بن سکی۔ وہ تحفظ ختم نبوت اور نفاذ شریعت کی جدوجہد میں ہمیشہ پیش پیش رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اکتوبر ۱۹۹۸ء

حدیث نبویؐ کی ترویج میں مسلم خواتین کی خدمات

مولانا محمد اکرم ندوی انڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک محقق عالم دین ہیں جو آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز میں ایک عرصہ سے علمی و تحقیقی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ان سے پہلی ملاقات اچانک اور عجیب انداز میں ہوئی۔ پانچ سال قبل کی بات ہے جب راقم الحروف نے لندن جانے کے لیے تاشقند کا راستہ اختیار کیا، ازبک ائیرلائن سفر کا ذریعہ تھی، تاشقند میں چار پانچ روز گزارنے کے بعد جب تاشقند کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے لندن کے لیے روانہ ہوا تو ایئرپورٹ پر اسی قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اکتوبر ۱۹۹۸ء

ایرانی سفیر کے طالبان حکومت سے چار مطالبات

اگر طالبان کی حکومت اپنے دعوؤں کے مطابق افغان عوام کو امن اور خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہی وقتی طور پر بدنامی کا باعث بننے والی سخت پالیسیاں اپنے نتائج کے لحاظ سے باقی دنیا کے لیے بھی قابل تقلید بن سکتی ہیں۔ اور اگر خدانخواستہ طالبان اپنے دعوؤں کو عملی جامہ نہ پہنا سکے تو تاریخ کے عجائب گھر میں ابھی بہت سے خانے خالی ہیں، کسی ایک میں وہ بھی فٹ ہو جائیں گے۔ لیکن اس کا فیصلہ ہونے میں ابھی کچھ وقت درکار ہے جس کا سب کو حوصلے کے ساتھ انتظار کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ ستمبر ۱۹۹۸ء

دعوتِ اسلام کا فریضہ اور اس کے تقاضے

اس خطۂ زمین میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کا عمل حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ اور حضرت سید علی ہجویریؒ جیسے عظیم صوفیاء کرام کا ورثہ ہے۔ ان مشائخِ امت نے محبت اور اخلاق کے ذریعے اسلام کا پیغام اس سرزمین کے باشندوں تک پہنچایا اور لاکھوں پیاسے دلوں کو سیراب کر گئے۔ مگر بدقسمتی سے اس روایت کا تسلسل قائم نہ رہا اور ہم مسلمانوں نے صدیوں تک جنوبی ایشیا میں سیاست اور اقتدار پر اپنی گرفت کو ہی سب کچھ سمجھتے ہوئے محبت اور کردار کے ذریعہ اسلام کی دعوت و تبلیغ کی بساط لپیٹ کر ایک طرف رکھ دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ ستمبر ۱۹۹۸ء

قرآن و سنت کی بالادستی کا دستوری سفر

قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے کا فیصلہ اعلیٰ ایوانوں میں اس سے قبل بھی ایک سے زائد بار ہو چکا ہے لیکن اصل مسئلہ موجودہ نو آبادیاتی سسٹم کا ہے کہ اس نے اس فیصلہ کو کبھی ایک خاص حد سے آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیا۔ اور جب بھی قرآن و سنت کی بالادستی کے کسی فیصلے نے یہ ’’ریڈ لائن‘‘ کراس کرنے کی کوشش کی وہ کسی نہ کسی جال میں پھنس کر رہ گیا۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلا اقدام ’’قرارداد مقاصد‘‘ کی منظوری کا تھا جو پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان مرحوم نے دستور ساز اسمبلی سے منظور کرائی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ ستمبر ۱۹۹۸ء

حضرت عائشہؓ کا علمی مقام

حضرت عائشہؓ قرآن کریم کی بہت بڑی مفسرہ تھیں، حدیث رسولؐ کی ایک بڑی راویہ و شارحہ تھیں، دینی مسائل و احکام کی حکمت و فلسفہ بیان کرنے والی دانشور تھیں، عرب قبائل کی روایات و کلچر و نسب ناموں و تاریخ پر عبور رکھتی تھیں، انہیں ادب و شعر و خطابت پر دسترس حاصل تھی، وہ مجتہد درجے کی مفتیہ تھیں، عوامی مسائل پر رائے دینے والی راہنما تھیں، اور طب و علاج کے بارے میں بھی ضروری معلومات سے بہرہ ور تھیں۔ اور یہ سب کمالات انہوں نے درسگاہ نبویؐ سے سیکھے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ ستمبر ۱۹۹۸ء

اسامہ بن لادن پر امریکی حملہ

ہم امریکی صدر بل کلنٹن سے پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ ’’دہشت گردی‘‘ کی تعریف کیا ہے؟ کیا کسی کے خلاف ہتھیار اٹھانا مطلقاً دہشت گردی ہے؟ اور کیا اپنی آزادی، خود مختاری، اور حقوق کے لیے جابر اور ظالم قوتوں کو ہتھیار کا جواب ہتھیار کی زبان میں دینا بھی دہشت گردی کہلاتا ہے؟ اگر امریکی صدر کی منطق یہی ہے تو ہم بصد احترام یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ خود امریکہ نے برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف جنگ لڑ کر آزادی حاصل کی تھی اور ہتھیار اٹھا کر برطانوی حکمرانوں کو امریکہ سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اگست ۱۹۹۸ء

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ

حضرت درخواستیؒ کا احادیث نبویہؓ کے ساتھ شغف انہیں اپنے سب معاصرین میں ممتاز کیے ہوئے تھا۔ وہ جب رسول اللہؐ کا تذکرہ کرتے یا آپؐ کی کوئی حدیث سناتے تو اکثر ان کی آنکھوں میں آنسو آجایا کرتے تھے اور وہ صرف خود نہیں روتے تھے بلکہ ان کے سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں کے لیے بھی آنسوؤں کو روکنا مشکل ہو جایا کرتا تھا۔ رسول اللہؐ کا تذکرہ کرتے ہوئے اور آپؐ کی احادیث سناتے ہوئے انہیں نہ وقت گزرنے کا کوئی احساس ہوتا تھا اور نہ ہی گرد و پیش کا کوئی ہوش رہتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اگست ۱۹۹۸ء

’’نیشن آف اسلام‘‘ کا تاریخی پس منظر

ویلس دی فارد 1934ء میں غائب ہوگیا اور ایلیجاہ محمد نے اس کی جگہ سنبھال کر یہ اعلان کیا کہ فارد اصل میں خود اللہ تھے (نعوذ باللہ) جو انسانی شکل میں آئے تھے اور اب ایلیجاہ محمد کو اپنا رسول بنا کر واپس چلے گئے ہیں۔ ایلیجاہ محمد نے کہا کہ وہ خدا کا رسول بلکہ خاتم المرسلین ہے اور اب دنیا کی نجات اس کے ساتھ وابستہ ہے۔ مالکم ایکس شہیدؒ نے بتایا ہے کہ جب وہ ایلیجاہ محمد کے دست راست کے طور پر مختلف اجتماعات میں خطاب کیا کرتے تھے تو خطبہ میں سورہ فاتحہ کے ساتھ یہ کلمہ شہادت پڑھا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اگست ۱۹۹۸ء

وقت کے حکمرانوں کے لیے تین آئینے

جب بادشاہ سلامت عوامی جلوس کی قیادت کرتے ہوئے آگے بڑھے اور لوگوں نے منظر دیکھا تو حیرت زدہ رہ گئے، لیکن کس کو گویائی کا یارا تھا؟ جب وزیر و مشیر اور ارباب علم و دانش خاموش تھے تو عام لوگوں کو کیا پڑی تھی کہ مفت میں بے وقوف کہلاتے اور بادشاہ کے عتاب کا نشانہ بھی بنتے۔ چنانچہ جلوس اپنے روٹ پر روانہ ہوگیا جس میں سب سے اونچی گاڑی پر بادشاہ سلامت پوری آب و تاب کے ساتھ اپنے اصلی لباس میں کھڑے چاروں طرف سے داد و تحسین وصول کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اگست ۱۹۹۸ء

دورِ فاروقیؓ کے دو سبق آموز واقعات

امیر المومنین یہ سن کر رو پڑے اور حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ آپ بتائیں کیا جناب نبی اکرمؐ نے کبھی مسلسل تین روز گندم کی روٹی کھائی ہے؟ کیا رسول اللہؐ کے پاس اون کا ایک ہی جبہ نہیں تھا جس کے مسلسل استعمال سے آپؐ کی جلد پر خراشیں پڑ گئی تھیں؟ اور کیا آپؐ کے جسم پر ننگی چٹائی پر لیٹنے کی وجہ سے نشانات نہیں پڑ جاتے تھے؟ پھر حضرت حفصہؓ سے کہا کہ یہ بات تمہی نے بتائی تھی کہ ایک صبح آپؐ اٹھے تو ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ اس نرم بستر کی وجہ سے وہ رات کا قیام نہیں فرما سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۱۹۹۸ء

Pages