مقالات و مضامین

خدماتِ علماء دیوبند کانفرنس: قائدین اور شرکاء سے چند گزارشات

گزشتہ کم و بیش ڈیڑھ سو برس کے دوران اس خطۂ زمین میں اسلامی تعلیم و ثقافت کو زندہ رکھنے اور عام مسلمانوں کا دین کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کے لیے علمائے دیوبند نے جو کردار ادا کیا ہے اس کا مختصر اور سرسری تذکرہ ہم گزشتہ کالم میں کر چکے ہیں۔ اور آج اس حوالہ سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں کہ مستقبل کے امکانات و خدشات اور ضرورتوں کا دائرہ کیا ہے اور علمائے دیوبند کے ماضی کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے اس قافلۂ حق و صداقت پر اس حوالہ سے کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ مئی ۲۰۰۴ء

طالبان، امریکہ اور اقوام متحدہ

امریکی صدر بل کلنٹن نے اعلان کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے پر طالبان کو سزا دینا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ افغانستان پر عائد کی جانے والی پابندیوں کا مقصد طالبان تحریک کو عالمی برادری سے دہشت گردی سمیت اہم معاملات پر عدم تعاون کی راہ اپنانے کی سزا دینا ہے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان جنرل اسمبلی میں سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ افغانستان دنیا بھر کے مذہبی دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۹ء

فہم قرآن کریم کی اہمیت اور اس کے تقاضے

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور ہمارے لیے ہے۔ جب یہ بات بطور عقیدہ ہمارے ذہن میں آجاتی ہے تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے لیے اللہ تعالیٰ کے اس پیغام کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ کسی بھی پیغام کا پہلا حق یہی ہوتا ہے کہ اسے پڑھا جائے، سمجھا جائے اور پیغام بھیجنے والے کے مقصد سے آگاہی حاصل کی جائے۔ پیغام کسی دوست کا ہو، دفتری خط ہو، عدالتی سمن ہو، کاروباری لیٹر ہو حتیٰ کہ کسی دشمن کا پیغام بھی ہو تو منطقی طور پر اسے وصول کرنے والے کی پہلی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ اسے پڑھے اور سمجھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۰۴ء

اسلام دشمنی ۔ یہود و نصارٰی میں قدرِ مشترک

امریکی سینٹ نے ملائیشیا کے لیے بارہ لاکھ ڈالر کی فوجی امداد کو مبینہ مذہبی آزادی کے ساتھ مشروط کر دیا ہے اور یہودیوں پر ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کی تنقید کو ہدف اعتراض بناتے ہوئے امریکی قیادت نے کہا ہے کہ فوجی امداد کے حصول کے لیے مہاتیر محمد کو اس تنقید پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ دوسری طرف ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی سربراہ کانفرنس میں انہوں نے اپنے خطاب کے دوران یہودیوں کے بارے میں جو یہ بات کہی تھی کہ دنیا پر دراصل چند مٹھی بھر یہودی حکومت کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ نومبر ۲۰۰۳ء

دینی جماعتوں کے راہنماؤں کے نام ایک اہم خط

محترمی و مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ گزارش ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قرآن و سنت کی دستوری بالادستی کی جدوجہد، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر اسلام کے نام پر سرگرمیوں سے روکنے، توہین رسالتؐ پر موت کی سزا اور دیگر نافذ شدہ بعض اسلامی قوانین کے حوالہ سے اس وقت عالمی سطح پر جو کشمکش جاری ہے اس کے بارے میں دو اہم خبریں پیش خدمت ہیں جو تازہ ترین صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔ آنجناب سے گزارش ہے کہ اس سلسلہ میں رائے عامہ کی راہنمائی فرمائیں اور اسلامی قوانین کے تحفظ کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جون ۱۹۹۹ء

دنیا میں معاشی توازن قائم کرنے کا اصل راستہ

اس حوالے سے غربت، ناداری اور بھوک کے عالمی تناظر میں اصولی طور پر اس بات کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس غربت و ناداری اور بھوک وافلاس کے اسباب کیا ہیں اور ان اسباب کو دور کرنے کے لیے عالمی سطح پر آج کے دور میں کیا کیا جا سکتا ہے؟ اس کے بارے میں ایک نقطہ نظر یہ ہے اور آج کی بین الاقوامی قوتوں اور اداروں کی پالیسیوں کی بنیاد اسی نقطہ نظر پر ہے کہ آبادی بے تحاشا بڑھ رہی ہے اور دنیا کے موجود اور میسروسائل آبادی میں اس تیز رفتار اضافے کا ساتھ نہیں دے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۱ء

ملٹی نیشنل کمپنیاں اور پاکستان کی خودمختاری

ہرصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے تجارت اور محصولات کے نظام میں شرکت کے ذریعہ کنٹرول حاصل کیا تھا اور فلسطین میں یہودیوں نے زمینوں کی وسیع پیمانے پر خریداری کے ذریعے سے قبضے کی راہ ہموار کی تھی۔ اس پس منظر میں یوں محسوس ہو رہا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں ایک طرف پاکستان کی صنعت و تجارت پر کنٹرول حاصل کر کے قومی معیشت کو بین القوامیت کے جال میں مکمل طور پر جکڑنے کی تگ ودو میں مصروف ہیں اور دوسی طرف ’’کارپوریٹ ایگریکلچرل فارمنگ‘‘ کے نام پر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۱ء

دینی مدارس کا نصاب تعلیم

دینی مدارس میں مروج نصاب تعلیم کو درس نظامی کا نصاب کہا جاتا ہے جو ملا نظام الدین سہالویؒ سے منسوب ہے۔ ملا نظام الدین سہالویؒ المتوفی (۱۱۶۱ھ)حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے معاصرین میں تھے۔ ان کا قدیمی تعلق ہرات (افغانستان) کے معروف بزرگ حضرت شیخ عبد اللہ انصاریؒ سے تھا۔ اس خاندان کے شیخ نظام الدینؒ نامی بزرگ نے یوپی کے قصبہ سہالی میں کسی دور میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا تھا اور پھر ان کے خاندان میں یہ سلسلہ نسل درنسل چلتا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۱ء

امریکہ کا خدا بیزار سسٹم

روزنامہ جنگ لاہور ۲۶ فروری ۲۰۰۱ء کی ایک خبر کے مطابق امریکی ریاست ورجینیا میں سینٹ کے ریاستی ارکان نے ایک یادگاری سکہ پر ’’ہم خدا پر بھروسہ کرتے ہیں‘‘ کے الفاظ کندہ کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ریاست میں امریکہ کے قدیم باشندوں ’’ریڈ انڈین‘‘ کے اعزاز اور توقیر کے لیے ایک سلور ڈالر جاری کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں جس پر جنگلی بھینس کی تصویر کے ساتھ In God We Trust (ہم خدا پر بھروسہ کرتے ہیں) کے الفاظ کندہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۱ء

حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ پر ایک نظر

حکومت نے آخر کار "حمود الرحمان کمیشن" کی رپورٹ کا ایک اہم حصہ عوام کی معلومات کے لیے کیبنٹ ڈویژن کی لائبریری میں رکھ دیا ہے اور اس کے اقتباسات قومی اخبارات میں شائع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ۱۹۷۱ء میں ملک سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد مغربی پاکستان کے باقی ماندہ حصے میں قائم ہونے والی بھٹو حکومت نے عوامی مطالبہ پر اس وقت کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سربراہ جسٹس حمود الرحمان مرحوم کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن قائم کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۱ء

اسلامی ممالک کا اتحاد، داعش اور ہم

گزشتہ دنوں سعودی عرب کی قیادت میں 34 مسلمان ملکوں کا عسکری اتحاد قائم کرنے کا اعلان ہوا ہے جن میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے جبکہ عراق، ایران اور شام اس کا حصہ نہیں ہیں، سعودی عرب کا دارالحکومت ریاض اس فوجی اتحاد کا ہیڈ کوارٹر ہوگا اور ا س کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنا اور داعش کے خطرے سے نمٹنا بیان کیا گیا ہے، پاکستان کی وزارت خارجہ نے اپنے پہلے رد عمل میں اس سلسلہ میں بے خبری کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ تفصیلات معلوم ہونے کے بعد ہی اس کے بارے میں کوئی حتمی بات کہی جا سکے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جنوری ۲۰۱۶ء

Pages