اسلام آباد اور چارسدہ کی سرگرمیاں
اسلام آباد میں جو کچھ ہو رہا ہے پوری قوم کی طرح میں بھی اس کے نتائج کا منتظر ہوں اور مسلسل دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت ملک و قوم کو کسی نقصان سے محفوظ رکھیں، آمین یا رب العالمین۔ اونٹ کسی کروٹ بیٹھے گا تو واضح ہوگا کہ کون کون کہاں کہاں اور کس کس کے لیے کام کر رہا ہے۔ عربی کا ایک شعر ہے کہ فسوف ترٰی اذا انکشف الغبار، افرس تحت رجلک ام حمار یعنی عن قریب جب دھند چھٹ جائے گی تو تم خود دیکھ لو گے کہ تمہارے پاؤں کے نیچے گھوڑا ہے یا گدھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آزادی مارچ اور انقلاب مارچ
ہمارے خیال میں ان تحریکات کا باعث یا بہانہ بننے والے دو مسئلے ہیں جو اہم قومی مسائل میں سے ہیں، اور جو ہر دور میں قومی سیاسی راہ نماؤں کی سنجیدہ توجہ کے طلبگار رہے ہیں۔ ایک مسئلہ ملک کے عمومی نظام کا ہے جو نو آبادیاتی دور کی یادگار ہے اور جس نے قیام پاکستان کے بعد سے اب تک عوام کی مشکلات و مسائل کو حل کرنے کی بجائے انہیں مزید الجھانے اور ان میں اضافہ کرتے چلے جانے کا کردار ہی ادا کیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب جمعیۃ علماء اسلام کی قیادت ’’فک کل نظام‘‘ کے نعرہ کے ساتھ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسئلہ فلسطین اور او آئی سی کا کردار
غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان تین دن کی عارضی جنگ بندی ہو چکی ہے اور اسرائیلی درندگی کا مسلسل نشانہ بننے والے فلسطینیوں نے وقتی طور پر کچھ سکون کا سانس لیا ہے۔ تین دن کے بعد کیا ہوگا، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کے سیکرٹری جنرل عیاض امین مدنی کے اس بیان کے بعد اس کے بارے میں اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے کہ ’’او آئی سی ایک سیاسی تنظیم ہے، مذہبی نہیں۔ ہم ممبر ممالک کے درمیان تحقیق، تجارت اور دیگر شعبوں میں کام کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مجید نظامی مرحوم
میں اپنے بچپن اور نوجوانی کے دور میں آغا شورش کاشمیری مرحوم کی خطابت و صحافت کا پر جوش سامع و قاری رہا ہوں اور مطالعہ کا ذوق پیدا ہوتے ہی نوائے وقت اور ہفت روزہ چٹان میرے مطالعہ کا ناگزیر حصہ بن گئے تھے۔ آغا شورش کاشمیری مرحوم کی حمید نظامی مرحوم کے ساتھ دوستی بھی تھی اور بعض مسائل میں اختلاف کا اظہار بھی بے تکلفانہ انداز میں ہو جاتا تھا۔ نظامی برادران کے ساتھ میرا تعلق بھی کچھ اسی طرح کا رہا ہے۔ مجید نظامی مرحوم، بڑے نظامی صاحب کی وفات کے بعد لندن سے لاہور منتقل ہوئے اور نوائے وقت کی ادارت سنبھالی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانامحمد امین صفدرؒ
اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ وہ ہر زمانے کی ضروریات کے مطابق مختلف شعبوں کے لیے افراد پیدا کرتے ہیں اور انہیں استعداد و صلاحیت سے بہرہ ور کر کے ان سے کام لیتے ہیں۔ یہ معاملہ دین و دنیا دونوں حوالوں سے یکساں چلا آرہا ہے اور بہت سے افراد و شخصیات کی محنت اور عمل کو دیکھ کر اس کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ ہمارے محترم اور بزرگ دوست حضرت مولانا محمد امین صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کی علمی و دینی جدوجہد بھی اسی کی غمازی کرتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ہماری کمزوریاں اور ان سے فائدہ اٹھانے والے!
ایک قومی اخبار نے یہ دلچسپ خبر شائع کی ہے کہ سلطنت آف اومان کے وزیر خارجہ کی اہلیہ نے، جو شہزادی نورا کہلاتی ہیں، لندن کے ایک جوا خانے میں بیس لاکھ پاؤنڈ ہار کر عدالت میں جوا خانے کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے کہ اس کے کارندوں نے جان بوجھ کر شہزادی نورا کو ہرانے کی پلاننگ کی۔ محترمہ نے عدالت میں کیس پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب وہ شام کے وقت جوا خانے پہنچی تو کھیلنے کے لیے تیار نہیں تھی مگر اس کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملازمین نے اسے کھیلنے پر آمادہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامک اسٹیٹ آف عراق و شام
’’آن لائن‘‘ کی ایک خبر کے مطابق عراق و شام میں سنی مجاہدین کے گروپ نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں اسلام خلافت کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ ’’اسلامک اسٹیٹ آف عراق و شام‘‘ کے نام سے کام کرنے والے ان مجاہدین نے مسلح پیش رفت کر کے عراق اور شام کی سرحد پر دونوں طرف کے بعض علاقوں پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے اور بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کا قبضہ ختم کرانے میں عراق اور شام دونوں طرف کی حکومتوں کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
رمضان المبارک اور قرآن کریم
عالم اسلام میں رمضان المبارک کا آغاز ہو چکا ہے اور دنیا بھر کے مسلمان عبادات کے نئے ذوق و شوق کے ساتھ رمضان المبارک کی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔ یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے اور اسی میں لیلۃ القدر بھی ہے، اس رات کو ایک مہینے سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کریم کا نزول اسی ماہ میں ہوا، جو اگرچہ عملاً جناب نبی اکرم ﷺ پر مسلسل ۲۳ سال تک نازل ہوتا رہا مگر لوح محفوظ سے آسمانی دنیا تک منتقل کرنے کا حکم اس رات میں دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
الرحمت ٹرسٹ ہاسپٹل، کامونکی، گوجرانوالہ
جامعہ اسلامیہ کامونکی ضلع گوجرانوالہ کے قیام کے بعد سے ایک ڈسپنسری ہفتہ وار ترتیب سے قائم چلی آرہی ہے کہ لاہور سے ڈاکٹر آصف اور کامونکی سے ڈاکٹر محمود الحسن ہر بدھ کو اس ڈسپنسری میں پابندی سے آتے رہے ہیں اور علاقہ بھر سے سینکڑوں مریضوں کو علاج معالجہ کی فری سہولت ملتی رہی ہے۔ جبکہ اب اسے باقاعدہ ہسپتال کی شکل دے دی گئی ہے اور اس کے لیے بلڈنگ تیار ہے۔ ڈاکٹر محمد علی نے اسے مکمل ہسپتال کے طور پر چلانے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور ایک باوقار تقریب میں دعا کے ساتھ اس کا افتتاح ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ملکی و قومی مسائل ۔ ملی مجلس شرعی کا اجلاس
وفاقی شرعی عدالت میں سودی نظام و قوانین کے خلاف کیس کی از سر نو سماعت شروع ہونے کے بعد عدالت کی طرف سے ملک بھر کے علمی و دینی حلقوں کے لیے جو سوالنامہ جاری کیا گیا ہے، ملی مجلس شرعی نے مختلف مکاتب فکر کی طرف سے اس کا متفقہ جواب بھجوانے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی کئی ماہ تک کام کرتی رہی ہے اور اس نے متفقہ جواب تیار کر لیا ہے۔ کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امین نے اس کی رپورٹ پیش کی جس پر اجلاس میں اس متفقہ جواب کی منظوری دیتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مغربی دنیا میں مذہب کا معاشرتی کردار
مغربی دنیا کی مذہب کے معاشرتی کردار سے دستبرداری کو دو صدیاں بیت گئی ہیں۔ اٹھارویں صدی کے آخر میں انقلاب فرانس سے اس کا آغاز ہوا تھا مگر کئی نسلیں گزر جانے کے بعد بھی مذہب وہاں کے اعلیٰ حلقوں میں گفتگو کا موضوع ہے اور مذہب کی اہمیت و ضرورت کا احساس ابھی تک دلوں اور دماغوں سے کھرچا نہیں جا سکا۔ گزشتہ دنوں امریکہ کی سپریم کورٹ میں یہ کیس آیا کہ دعا مذہب کی علامت ہے اس لیے ریاستی اداروں کے اجلاسوں کا آغاز یا اختتام دعا پر نہیں ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان میں غیر سودی معاشی نظام
غیر سودی بینکاری کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ پاکستان کے قیام کے بعد سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے واضح طور پر کہا تھا کہ ہم اپنے معاشی نظام کی بنیاد مغرب کے معاشی فلسفہ پر نہیں بلکہ اسلام کے اصولوں پر رکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ مغرب کے معاشی نظام نے انسانی سوسائٹی کو جنگوں اور تباہی سے دوچار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قائد اعظمؒ نے ملک کے معاشی ماہرین کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسلامی اصولوں کے مطابق ملک کے معاشی نظام کی تشکیل کی طرف پیش رفت کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ڈیرہ اسماعیل خان کا سفر
خاصے عرصے کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان جانے کا اتفاق ہوا مگر تین دن میں ساری کسر نکل گئی۔ ڈی جی خان روڈ پر بستی ملانہ کے ایک نوجوان مولوی محمد یوسف ثانی اس سال جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ حدیث میں شریک تھے اور گزشتہ جمعہ کو جامعہ میں ان کی دستار بندی دوسرے فضلاء کے ساتھ ہو چکی تھی۔ مگر ان کا تقاضہ تھا کہ ان کے گاؤں میں برادری کی موجودگی میں بھی ان کی دستار بندی ہو۔ شاگرد بیٹوں کی طرح ہوتے ہیں اور ان کی بات ماننا پڑتی ہے، اس لیے وعدہ کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کی سالانہ تعطیلات کی سرگرمیاں
شعبان المعظم اور رمضان المبارک دینی مدارس میں درجہ کتب کے طلبہ کے لیے تعطیلات کے ہوتے ہیں۔ اور شوال المکرم کے وسط میں عام طور پر نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس دوران حفاظ اور قراء کا زیادہ وقت قرآن کریم کی منزل یاد کرنے اور رمضان المبارک کے دوران تراویح میں سننے سنانے میں گزرتا ہے۔ جبکہ عام طلبہ کو تعلیمی مصروفیات میں مشغول رکھنے اور ان کے وقت کو مفید بنانے کے لیے مختلف کورسز کے اہتمام کی روایت کافی عرصہ سے چلی آرہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
طرز تدریس میں جدت لانے کی ضرورت!
استاذ صرف معلّم نہیں ہوتا بلکہ اس کی حیثیت سوسائٹی کے راہ نما کی بھی ہوتی ہے۔ اس لیے ہمیں اس بات کی طرف توجہ دینی چاہیے کہ آج کے حالات بالخصوص فکری و علمی تغیرات اور ثقافتی تبدیلیوں پر نظر رکھیں اور انہیں سامنے رکھ کر اپنے شاگردوں اور سوسائٹی کی صحیح سمت راہ نمائی کا اہتمام کریں۔ اساتذہ کرام سے میری گزارش ہے کہ وہ نئی نسل کی تعلیم اور سوسائٹی کی راہ نمائی میں عالمی سطح پر رونما ہونے والی فکری و تہذیبی تبدیلیوں پر نظر رکھیں اور اس کے ساتھ سائنسی ارتقا کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کے داماد کا اغوا
مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی ایک محقق اور نکتہ رس مفتی کے طور پر ملک بھر میں تعارف رکھتے ہیں۔ گزشتہ روز ان کے ساتھ ایک سانحہ پیش آیا ہے جس کی وجہ سے یہ سطور تحریر کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے، وہ یہ کہ رات کے پچھلے پہر خفیہ اداروں کے اہل کاروں نے مولانا حافظ احمد اللہ گورمانی کے گھر میں دروازے توڑ کر گھس جانے کے بعد خوف و ہراس کی فضا قائم کی اور مفتی صاحب محترم کے داماد مولانا حافظ محمد آصف کو اٹھا کر لے گئے جن کے بارے میں مسلسل رابطوں کے باوجود ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی تقریبات میں شرکت
مدارس میں اسباق کا سلسلہ آخری مراحل میں ہے اور بخاری شریف سمیت مختلف بڑی کتابوں کے اختتامی اسباق کے حوالہ سے تقریبات منعقد ہو رہی ہیں۔ میرا ذوق شروع سے چلا آرہا ہے کہ ان تقریبات اور اپنے اسفار کے بارے میں قارئین کو مختصرًا آگاہ کرتا رہتا ہوں جس کے بارے میں دل چسپ تبصرے سننے کو ملتے ہیں۔ ایک دوست نے کہا کہ اس کے ذریعہ تم اپنی ذاتی تشہیر کرتے ہو۔ بعض دوستوں کا کہنا ہے کہ مختلف مدارس اور مراکز کے بارے میں ہمیں اس سے معلومات ملتی رہتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مشرق وسطیٰ میں شیعہ سنی کشمکش
مشرق وسطیٰ میں اس کشیدگی کا واقعاتی تناظر یہ ہے کہ شام میں اس وقت حکومت اور باغیوں کے درمیان جو جنگ جاری ہے وہ زیادہ تر سنی شیعہ کشیدگی کا پس منظر رکھتی ہے۔ کویت میں گزشتہ انتخابات میں سنی شیعہ بنیادوں پر پارلیمنٹ میں جو تناسب سامنے آیا اور پھر حکومتی سطح پر جو اقدامات دکھائی دیے وہ اس کشیدگی کی موجودگی اور کویت کی قومی سیاست میں اس کی اثر خیزی کی غمازی کرتے ہیں۔ عراق کو سنی شیعہ بنیادوں پر مختلف ریاستوں میں تقسیم کر دینے کی تجویزیں بین الاقوامی حلقوں میں آگے بڑھ رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اجتماعاتِ مدارس
گزشتہ دنوں مختلف شہروں میں دینی مدارس کے اجتماعات میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔ روڈ و سلطان ضلع جھنگ میں شیخ العلماء حضرت مولانا محمد عبد اللہ بہلوی قدس اللہ سرہ العزیز کے پوتے مولانا عبید اللہ ازہر نے ’’خانقاہ بہلویہ‘‘ کے نام سے روحانی مرکز آباد کر رکھا ہے جہاں حضرت بہلویؒ کے معتقدین اور منتسبین کی آمد و رفت کی رونق قائم رہتی ہے اور ذکر و اذکار کے معمولات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ مولانا موصوف کے ارشاد پر 20 مارچ کو خانقاہ شریف کے سالانہ اجتماع میں حاضری ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس و جامعات میں نئے سال کا آغاز
ملک بھر کی دینی مدارس میں شعبان رمضان کی چھٹیوں کے بعد نئے تعلیمی سال کے آغاز کی تیاریاں جاری ہیں اور تمام مدارس و جامعات میں نئے آنے والے طلبہ و طالبات کے داخلے جاری ہیں۔ مدارس کے لیے تمام تر نامساعد حالات اور مخالفانہ پروپیگنڈے کے باوجود نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد مدارس کا رخ کر رہی ہے اور بڑے مدارس اور جامعات میں داخلے کی سخت شرائط کے باوجود داخلے کے امیدواروں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سودی نظام پر بحث
4 مارچ کو قومی اسمبلی میں سودی نظام کے حوالہ سے بحث ہوئی اور مختلف ارکان نے اس سلسلہ میں کھل کر اظہار خیال کیا۔ یہ بحث صاحبزادہ محمد یعقوب کی پیش کردہ اس قرارداد کے ضمن میں ہوئی جس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں۔ جبکہ وزارت خزانہ کے پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد افضل خان نے قرارداد کی مخالفت کی۔ بحث میں حصہ لینے والوں میں صاحبزادہ طارق اللہ، شیر اکبر خان، عائشہ سید، جمشید دستی، قیصر احمد شیخ، قاری محمد یوسف، علی محمد خان اور نعیمہ کشور خان شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
صوفیائے کرام امت کے اجتماعی مسائل سے بے نیاز نہیں تھے
قادیانی پاکستان میں ہمیشہ غیر مسلم ہی شمار ہوں گے اور عالمی سطح پر وہ جس قدر چاہے لابنگ کر لیں پاکستان میں وہ اسلام کے ٹائٹل کے ساتھ اور مسلمان کے عنوان کے ساتھ معاشرتی حیثیت حاصل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ ان کے لیے صحیح راستہ صرف یہ ہے کہ وہ یا تو باطل عقائد سے توبہ کر کے ملت اسلامیہ کے اجتماعی دھارے میں شامل ہو جائیں، اور اگر وہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں تو غیر مسلم اقلیت کی حیثیت کو ایک حقیقت واقعہ سمجھ کر قبول کر لیں، اس کے سوا قادیانیوں کے لیے کوئی آپشن باقی نہیں رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دستور پاکستان ۔ اسلامی یا غیر اسلامی؟
پاکستان پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ دستور پاکستان کی کوئی شق غیر اسلامی نہیں ہے جبکہ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کہہ رہے ہیں کہ آئین کی کوئی شق اسلامی نہیں ہے۔ ہمارے خیال میں یہ دونوں موقف انتہا پسندانہ ہیں اور اصل بات ان دونوں کے درمیان درمیان ہے۔ اول تو کسی چیز کو اسلامی یا غیر اسلامی قرار دینے کی اتھارٹی نہ بلاول بھٹو ہیں اور نہ ہی شاہد اللہ شاہد ہیں، بلکہ اس کی اتھارٹی ملک کے جمہور علماء کرام ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام کا نظام کفالت اور سوسائٹی کی اجتماعی انشورنس
جب حالات بہتر ہوئے اور بیت المال میں مختلف انواع کے اموال جمع ہونے شروع ہوگئے تو آنحضرتؐ نے ایک ایسا نظام بنا دیا کہ اگر کسی کو ضرورت کی کوئی چیز درکار ہوتی جسے وہ خود مہیا نہ کر پاتا تو حضورؐ سے درخواست کرتا، اور اس کی ضرورت پوری کر دی جاتی۔ جناب نبی اکرمؐ کا طریقہ یہ تھا کہ کوئی ضرورت مند آتا اور اپنی ضرورت کا اظہار کرتا تو اگر اپنے پاس کچھ موجود ہوتا تو دے دیتے ورنہ کسی ساتھی سے کہہ کر دلوا دیتے، اور بسا اوقات قرض لے کر بھی اس کی ضرورت پوری فرما دیتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دستور کی بالادستی اور حکومتی رویہ
دستور کے حوالہ سے اہلِ دین کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ دستور اسلامی ہے یا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کا منافقانہ رویہ ہے جس نے دستور کی اسلامی دفعات کو عملاً معطل رکھا ہوا ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ سرے سے دستور سے انکار کر دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ تمام اہل دین متحد ہو کر ایک زبردست عوامی تحریک کے ذریعہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنا رویہ تبدیل کرنے اور دستور کی اسلامی دفعات پر عمل درآمد پر آمادہ کریں۔ شریعت کے نفاذ کے خواہاں حلقے اگر اس کا اہتمام کر سکیں تو نفاذِ شریعت کی منزل زیادہ دور نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذ شریعت کی جدوجہد اور حاجی محمد بوستان کا مکتوب
طالبان کے ساتھ مذاکرات کی جو فضا بن رہی ہے اس نے اسلام، ملک اور امن کے بہی خواہوں کے دلوں میں امید کی ایک نئی کرن روشن کر دی ہے، وزیر اعظم پاکستان اور تحریک طالبان کی طرف سے مذاکراتی ٹیموں کی نامزدگی دونوں فریقوں کی سنجیدگی کی غمازی کرتی ہے۔ خصوصًا طالبان کی طرف سے ایک متوازن گروپ کے اعلان نے خوشگوار ماحول کی توقع پیدا کر دی ہے جس پر دونوں فریق مبارک باد اور شکریہ کے مستحق ہیں۔ ہم ان مذاکرات میں مثبت پیش رفت اور ان کی کامیابی کے لیے بارگاہ ایزدی میں دعا گو ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سودی نظام کے خلاف جدوجہد ۔ دینی راہ نماؤں کا اجلاس
اجلاس میں سودی نظام کے سلسلہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں زیر سماعت نظر ثانی کی اپیل کے حوالہ سے صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور ملی مجلس شرعی کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے شرکاء کو بتایا کہ وفاقی شرعی عدالت کے سوال نامہ کا تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کی طرف سے متفقہ جواب بھجوانے کے لیے کام جاری ہے اور مختلف مسوّدات پر سرکردہ علماء کرام کی ایک مشترکہ کمیٹی غور کر رہی ہے اور حتمی جواب کو آخری شکل دی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ایوننگ دینی مدرسہ کا تجربہ
گزشتہ روز مولانا محمد ادریس اور حافظ سید علی محی الدین کے ہمراہ راجہ بازار راولپنڈی میں دارالعلوم تعلیم القرآن کے سامنے سے گزرا تو دل سے اک ہوک سی اٹھی اور اس علمی و دینی مرکز کے بارے میں ماضی کی کئی یادیں ذہن میں تازہ ہوتی چلی گئیں۔ اس سے قبل ظہر کے بعد ایف ٹین ٹو اسلام آباد کی مسجد امیر حمزہؓ میں علماء کرام کی ایک فکری نشست تھی، اس مسجد میں مولانا محمد ادریس اور ان کے رفقاء نے منفرد نوعیت کا دینی مدرسہ ’’کلیۃ الدراسات الدینیۃ‘‘ کے نام سے قائم کر رکھا ہے جس میں سرکاری ملازمین تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لاہور اور کراچی کی سرگرمیاں
27-26 جنوری کو لاہور اور کراچی میں مختلف دینی اجتماعات میں شرکت کا موقع ملا۔ 26 جنوری کو ظہر کے بعد ہمدرد سنٹر لاہور میں ضیاء الامت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ’’مذہبی رواداری اور تعلیمات نبویؐ‘‘ کے موضوع پر سیمینار تھا جس کی صدارت وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور صاحبزادہ پیر سید امین الحسنات نے کی۔ اور پروفیسر عبد الرحمن لدھیانوی، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، حافظ کاظم رضا اور دیگر راہ نماؤں کے علاوہ راقم الحروف نے بھی خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عربی زبان، ہماری قومی ضرورت
عربی زبان قرآن و سنت کی زبان ہے اور ایک مسلمان کے لیے اس کی تعلیم اساسی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں قیام پاکستان کے بعد سے ہی اسے وہ درجہ نہیں دیا جا رہا ہے جو اس کا حق ہونے کے ساتھ مسلم سوسائٹی کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔ حتیٰ کہ دینی مدارس میں بھی عربی زبان صرف کتاب فہمی تک محدود ہے اور کتاب فہمی کا دائرہ بھی سمٹ سمٹا کر صرف درس و تدریس کے دائرے میں بند ہو کر رہ گیا ہے۔ معاصر عربی ادب، بول چال، میڈیا اور خطابت و صحافت کے میدان ہماری دسترس سے ابھی تک باہر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ڈیرہ غازی خان کا سفر
16-15 جنوری کو لیہ، کوٹ ادو، جتوئی اور ڈیرہ غازی خان کے سفر کا اتفاق ہوا۔ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ناظم حافظ محمد عثمان میرے ہمراہ تھے، وہ دار العلوم کراچی کے فاضل اور جتوئی کے علاقہ کے رہنے والے ہیں۔ لیہ میں جمعیۃ علماء اسلام نے ایک شادی ہال میں ’’شیخ الہندؒ سیمینار‘‘ کا اہتمام کر رکھا تھا اور ان کا تقاضہ تھا کہ حالیہ سفر دیوبند اور ’’شیخ الہند امن عالم کانفرنس‘‘ کے کچھ احوال ان کو سناؤں۔ میں نے عرض کیا کہ اس کی تفصیلات اپنے متعدد کالموں میں لکھ چکا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چنیوٹ اور سرگودھا میں داخلہ پر پابندی
چنیوٹ اور سرگودھا کے اضلاع میں میرے ساتھ متعدد بار یہ واقعہ پیش آچکا ہے کہ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں کسی اجتماع میں شرکت کے لیے جاتا ہوں تو پابندی کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ گزشتہ سے پیوستہ سال سرگودھا شہر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے سرگودھا پہنچ چکا تھا اور مولانا محمد الیاس گھمن کے مرکز اہل سنت میں تھوڑی دیر کے لیے رکا ہوا تھا کہ وہیں پیغام آگیا کہ ضلعی پولیس نے چند مقررین کے خطابات سے منع کر دیا ہے جس میں میرا نام بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ربیع الاول ۱۴۳۵ھ کی سرگرمیاں
ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک تذکرہ کی محافل کا آغاز ہوگیا ہے۔ یہ سلسلہ عام طور پر ربیع الثانی میں بھی جاری رہتا ہے اور مختلف مکاتب فکر کے لوگ اپنے اپنے ذوق کے مطابق جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہیں اور ان کے ساتھ محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں سے اس حوالہ سے جلسوں میں حاضری کے مسلسل تقاضے رہتے ہیں۔ مگر اسباق کی وجہ سے سب دوستوں کی فرمائش پوری کرنا مشکل ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام کا نظام حکومت ۔ تصنیفی کاوشیں
حضرت مولانا محمد میاں المعروف منصور انصاریؒ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے تربیت یافتہ لوگوں میں سے تھے۔ دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے نواسے تھے۔ انہوں نے مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے ساتھ آزادیٔ ہند کی تحریک میں ان کے دست راست کے طور پر کام کیا۔ ہندوستان سے ہجرت کر کے وہ کابل چلے گئے تھے اور وہیں انہوں نے تحریکی جدوجہد کے تانے بانے بُنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذ شریعت کی پر امن جدوجہد اور مولانا سمیع الحق
اگلے روز نئے سال کے پہلے دن کی اخبار میں یہ خبر پڑھ کر اس امید کے بر آنے کی کچھ آس لگ گئی ہے کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعیۃ علماء اسلام (س) پاکستان کے امیر مولانا سمیع الحق سے تفصیلی ملاقات کر کے طالبان کے ساتھ مجوّزہ مذاکرات کے بارے میں ان سے گفتگو کی ہے اور انہیں یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کے ساتھ حکومت کے مذاکرات کا ماحول پیدا کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں اور مذاکرات کی طرف پیش رفت میں کردار ادا کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء کی تاثراتی نشستیں
بھارت سے واپس آئے ہوئے دو ہفتے گزرنے کو ہیں مگر ذہنی طور پر ابھی تک دیوبند اور دہلی کے ماحول میں ہوں۔ کچھ تو اپنا معاملہ یہ ہوگیا ہے کہ ’’لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم‘‘ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ دوستوں کا حال یہ ہے کہ جہاں جاتا ہوں اسی داستانِ محبت کو دہرانے کا تقاضہ ہو جاتا ہے۔ اپنے علمی، فکری اور روحانی مرکز کے ساتھ دیوبندیوں کی عقیدت و محبت کی ایک جھلک آپ بھی دیکھ لیجئے! 18 دسمبر بدھ کو واپسی پر واہگہ بارڈر کراس کرتے ہی پہلا فون گوجرانوالہ سے مولانا حافظ گلزار احمد آزاد کا آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عالم اسلام کے لیے سیکولر قوتوں کا پیغام!
بنگلہ دیش میں ملّا عبد القادر شہیدؒ کی پھانسی اور مصر میں اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ بظاہر دو الگ الگ ملکوں کے واقعات ہیں لیکن ان کے پیچھے ایک ہی روح کار فرما ہے اور وہ ایسی جانی پہچانی قوت ہے جو اپنے اظہار کے لیے موقع و محل کے مطابق روپ بدلتی رہتی ہے۔ لادینیت بلکہ مذہبی دشمنی نے سوسائٹی سے مذہب کو بے دخل کرنے اور آسمانی تعلیمات پر مبنی اقدار و روایات کی بجائے انسانی خواہشات کی بالادستی کو فروغ دینے کے لیے گزشتہ دو صدیوں میں کتنے پینترے بدلے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دہلی میں تین روزہ قیام کا احوال
دو روز دیوبند میں قیام اور کانفرنس کی چار نشستوں میں شرکت کے بعد ہفتہ کی شام کو ہم دہلی پہنچے، جمعیۃ علماء ہند ہماری میزبان اور داعی تھی، کچھ حضرات کا قیام جمعیۃ کے دفتر میں رہا اور باقی دوستوں کو ترکمان گیٹ کے قریب دو ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا۔ 15 دسمبر کا دن رام لیلا میدان میں ’’شیخ الہند امن عالم کانفرنس‘‘ کی عمومی نشست میں گزر گیا جو صبح ساڑھے نو بجے سے اڑھائی بجے تک مسلسل جاری رہی اور بھارت کے طول و عرض سے ہزاروں علماء کرام اور کارکنوں نے اس میں شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شہداء کا مشن جاری رکھنے کی ضرورت
اس موقع پر میں نے گزارش کی کہ شہداء راولپنڈی اور مولانا شمس الرحمن معاویہؓ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کی قربانیاں جس مقصد کے لیے ہوئی ہیں اس پر توجہ دی جائے اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کی محنت کی جائے۔ میں نے عرض کیا کہ سنی شیعہ کشیدگی کا دائرہ دن بدن پھیلتا جا رہا ہے اور اس کی سنگینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے حل کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے، میرے خیال میں پاکستان میں سنی شیعہ تنازعات کے اسباب بنیادی طور پر تین ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا علاء الدینؒ
ہم لوگ دہلی میں حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ تعالیٰ کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے حاضر ہوئے تھے۔ اسی جگہ مجھے وفد میں شامل مولانا حافظ عبد القیوم نعمانی نے بتایا کہ استاذ علاء الدین صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، انہیں ٹیلی فون رابطہ کے ذریعہ یہ خبر ملی تھی۔ خبر سن کر سب احباب غم زدہ ہوگئے اور زبانوں سے بے ساختہ انا للہ وانا الیہ راجعون جاری ہوا۔ حضرت مولانا علاء الدینؒ ہمارے پرانے بزرگوں میں سے تھے، سو سال کے لگ بھگ عمر پائی ہے اور ساری زندگی دینی علوم کی تعلیم و تدریس میں گزاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شیخ الہندؒ عالمی امن فورم کا قیام
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ نہ صرف اپنے وقت کے عظیم محدث اور صوفی تھے بلکہ تحریک آزادی کے بہت بڑے مجاہد بھی تھے۔ انہوں نے تحریک آزادی کی مدبرانہ قیادت کی ہے اور جنوبی ایشیا کی تمام اقوام کو آزادی کی جدوجہد میں راہ نمائی فراہم کی ہے۔ انہوں نے آزادی اور فروغ اسلام کے لیے جدوجہد کے جن خطوط کی طرف امت مسلمہ کی راہ نمائی فرمائی تھی انہیں آج پھر سے سامنے لانے کی ضرورت ہے اور شیخ الہندؒ کے حوالہ سے منعقد ہونے والی اس عظیم الشان کانفرنس میں ہمیں اس کے لیے کوئی لائحہ عمل طے کر لینا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جمعیۃ طلباء اسلام اور جمعیۃ علماء اسلام سے میرا تعلق
جمعیۃ طلباء اسلام کے ساتھ میرا تعلق طالب علمی کے زمانے سے ہوگیا تھا۔ میں اس سے قبل جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ 1962ء سے وابستہ تھا، گوجرانوالہ شہر کا سیکرٹری اطلاعات اور سرگرم کارکن تھا۔ جمعیۃ طلباء اسلام قائم ہوئی تو میں اس کے گوجرانوالہ یونٹ کا نائب صدر بنا۔ مولانا حافظ عزیز الرحمنؒ صدر تھے اور میاں محمد عارف ایڈووکیٹ مرحوم سیکرٹری تھے۔ جمعیۃ طلباء اسلام میں باقاعدہ شامل ہونے پر میں نے جمعیۃ علماء اسلام کے سیکرٹری اطلاعات کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شیخ الہندؒ عالمی امن کانفرنس
’’شیخ الہند عالمی امن کانفرنس‘‘ کی مختلف نشستوں میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری نے اظہار خیال کیا اور رام لیلا میدان کے کھلے جلسے میں خطبۂ صدارت بھی پیش فرمایا۔ راقم الحروف کے خیال میں ان کی گفتگو سب سے زیادہ فکر انگیز تھی۔ انہوں نے اپنے مختلف خطابات میں نہ صرف علماء کرام کو حضرت شیخ الہندؒ کے مشن اور پروگرام سے متعارف کرایا بلکہ عمل کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ حضرت شیخ الہندؒ اور دیگر بزرگوں کا صرف تذکرہ کافی نہیں ہے بلکہ موجودہ حالات میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شیخ الہند عالمی امن کانفرنس دہلی کا متفقہ اعلامیہ
جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام شیخ الہند ایجوکیشنل ٹرسٹ کے عنوان سے ۱۳ تا ۱۵ دسمبر ۲۰۱۳ء کو دیوبند اور دہلی میں ’’شیخ الہند عالمی امن کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ کانفرنس شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی زیر قیادت برطانوی استعمار کے خلاف منظم کی جانے والی عظیم جدوجہد ’’تحریک ریشمی رومال‘‘ کو ایک صدی مکمل ہو جانے پر صد سالہ تقریبات کے حوالہ سے منعقد کی گئی اور اس میں بھارت کے طول و عرض سے شریک ہونے والے سرکردہ علماء کرام اور عوامی قافلوں کے علاوہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سہارنپور، کاندھلہ اور تھانہ بھون میں
بدھ کو امرتسر اور لدھیانہ سے ہوتے ہوئے ہم رات چندی گڑھ پہنچے تھے، جمعرات کو صبح وہاں سے سرہند شریف کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ کی قبر پر حاضری کا پروگرام تھا مگر اس سے قبل چندی گڑھ سے بیس کلو میٹر کے فاصلے پر مغلیہ دور سے چلے آنے والے ایک باغ میں جانا ہوا۔ پنجور گارڈن کے نام سے یہ باغ آج بھی اسی حالت میں موجود ہے اور دور دراز سے لوگ اسے دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ نے یہ باغ بنوایا تھا، قریب میں پنجور نامی بستی ہے جس کے حوالے سے یہ معروف تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لدھیانہ اور چندی گڑھ میں
دیوبند اور دہلی میں شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریبات میں شرکت کے لیے 11 دسمبر کو مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ہم واہگہ بارڈر کراس کر کے بارہ بجے کے لگ بھگ انڈیا میں داخل ہوئے تو پروگرام یہ بنا کہ ظہر کی نماز امرتسر کی مسجد خیر دین میں ادا کریں گے۔ جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی راہ نماؤں نے جو دہلی اور دیوبند سے تشریف لائے ہوئے تھے اور امرتسر کے بس ٹرمینل پر پاکستان کے قافلہ کا انتظار کر رہے تھے، استقبال اور خیر مقدم کے مرحلہ سے فارغ ہوتے ہی تقاضہ کیا کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دیوبند کا سفر
جنوبی افریقہ جاتے ہوئے آخری وقت مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ دیوبند اور دہلی میں 13، 14 اور 15 دسمبر کو شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے حوالہ سے کانفرنسیں منعقد ہو رہی ہیں جن میں شرکت کے لیے جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا ایک بھرپور وفد جا رہا ہے اور مولانا فضل الرحمن نے اس وفد میں میرا نام بھی شامل کر رکھا ہے۔ میں نے اس کرم فرمائی پر ان کا شکریہ ادا کیا، لیکن اس وقت میں ویزے کے لیے پاسپورٹ ان کے سپرد کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا، اس لیے واپسی پر قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا شمس الرحمن معاویہ شہیدؒ
جنوبی افریقہ سے واپسی پر لاہور ایئر پورٹ پر اترتے ہی موبائل فون آن کیا تو پہلا میسج مولانا شمس الرحمن معاویہؒ کی شہادت کے بارے میں تھا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جوھانسبرگ سے میں اور صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی اکٹھے جدہ کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ انہوں نے عمرہ کے لیے ٹرانزٹ ویزا حاصل کر رکھا تھا اس لیے وہ وہیں رک گئے جبکہ میں نے رات جدہ ایئر پورٹ پر گزاری اور دوسرے دن شام کو لاہو رپہنچا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ختم نبوت کانفرنس کیپ ٹاؤن کی قراردادیں
دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی دامت برکاتہم نے 29 نومبر تا 1دسمبر کو کیپ ٹاؤن میں منعقد ہونے والی سہ روزہ عالمی ختم نبوت کانفرنس میں تحریری خطبۂ صدارت پڑھنے کے علاوہ اپنے خطاب کے دوران کچھ دیگر اہم امور کی طرف بھی علماء کرام کو توجہ دلائی جس کا مختصرًا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے تحریک ختم نبوت کے لیے کام کرنے والی مختلف جماعتوں، حلقوں اور اداروں کے درمیان مشاورت و رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا ابوالقاسم نعمانی کے ساتھ
جوہانسبرگ میں مولانا محمد ابراہیم پانڈور کی رہائش گاہ پر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی کے ساتھ نشست کی باتیں ادھوری رہ گئی تھیں، ان کا مکمل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ مولانا نعمانی کی اس بات کا تذکرہ ہو رہا تھا کہ بڑے بزرگوں کے جانے پر بعد والے لوگوں میں ان کی خصوصیات تلاش کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ اس پر مولانا مفتی محمد اسماعیل نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہر دور کے لیے اس کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق صلاحیتوں کے ساتھ لوگوں کو کھڑا کرتا ہے اور چونکہ دین نے قیامت تک باقی رہنا ہے اس لیے یہ تسلسل بھی باقی رہے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر