مقالات و مضامین

حرمین شریفین کا تحفظ ہر چیز پر مقدم ہے

مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ حالات پر مسلسل نظر رکھنے والوں کے لیے قطعاً غیر متوقع نہیں ہے، بلکہ ہم ایک عرصہ سے وقتاً فوقتاً اس طرف توجہ دلاتے آرہے ہیں کہ ایسا کچھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یمن میں حوثی قبائل کو جس طرح حکومت وقت کے خلاف کھڑا کیا گیا ہے وہ سب پر روز روشن کی طرح عیاں ہے، لیکن یہ سال دو سال کا قصہ نہیں بلکہ اس کی پشت پر کم و بیش چار عشروں کی تاریخ ہے اور ایک مکمل تیاری کے ساتھ ساتھ بھرپور پلاننگ نے حالات کو یہ رخ دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ مارچ ۲۰۱۵ء

سینٹ کے انتخابات اور دینی حلقوں کی امیدیں

سینٹ آف پاکستان کے حالیہ انتخابات میں مولانا عبد الغفور حیدری کا ڈپٹی چیئرمین منتخب ہونا ملک بھر کے سنجیدہ دینی حلقوں بالخصوص دیوبندی علماء اور کارکنوں کے لیے خوشی اور حوصلہ کا باعث بنا ہے۔ بطور خاص اس ماحول میں جبکہ قومی سیاست میں دینی حلقوں اور مدارس کو مسلسل کردار کشی اور سیکولر لابیوں کی طرف سے انہیں قومی سیاست کے میدان سے باہر دھکیل دینے کی مہم شدت کے ساتھ جاری ہے اور اس مہم کی سرپرستی عالمی استعمار اور میڈیا پورے شعور اور مہارت کے ساتھ کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ مارچ ۲۰۱۵ء

مذہبی رواداری اور علماء کی ذمہ داریاں

میں نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ اختلافات تو علمی، فکری اور فقہی دنیا میں چلتے ہی رہتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف مزاجوں، ذہنی سطحوں اور فکری دائروں سے نوازا ہے، اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ سب ایک ہی طرح سوچیں اور کسی مسئلہ پر سب کی سوچ اور فکر کے نتائج یکساں ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہے تو اس نعمت کا استعمال بھی ہوگا اور جب عقل کا استعمال ہوگا تو نتائج فکر میں تفاوت اور اختلاف لازمی بات ہے۔ اس لیے اختلاف سے گبھرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۱۵ء

مسجد میں تقریبِ نکاح

نکاح کی کوئی تقریب مسجد میں ہوتی ہے تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ یہ سنت کے مطابق ہے، اور پھر شادی کے حوالہ سے جو خرافات عام ہوگئی ہیں کم از کم خطبہ اور ایجاب و قبول کے معاملات اس سے ہٹ کر مسجد کے ماحول میں طے پا جاتے ہیں۔ اس لیے ایسی تقریب کے ہر موقع پر خوشی کا اظہار کرتا ہوں اور اپنی گفتگو میں اس کی ترغیب اور حوصلہ افزائی کو بھی شامل کر لیتا ہوں۔ خرافات کا یہ سلسلہ اس قدر وسعت پکڑ چکا ہے کہ کہیں مجبورًا شریک ہونا پڑ جائے تو بہت پریشانی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مارچ ۲۰۱۵ء

چنیوٹ میں تعزیتی ریفرنس

چنیوٹ میں حضرت مولانا محمد نافع جھنگویؒ اور حضرت مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کی یاد میں منعقد ہونے والے ایک تعزیتی ریفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس کا اہتمام ’’خدام فکر اسلاف‘‘ نے جامع مسجد گڑھا میں بعد نماز عشاء کیا تھا۔ اس کی صدارت حضرت مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی نے کی اور مفکر اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مہمان خصوصی تھے۔ خطاب کرنے والوں میں مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا مفتی شاہد مسعود، برادرم مولانا عبد القدوس قارن، حافظ محمد عمیر چنیوٹی اور راقم الحروف شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مارچ ۲۰۱۵ء

ایران کا علاقائی تشخص

یہ چار خبریں ہیں جو صرف تین روز کے اندر مختلف اخبارات میں شائع ہوئی ہیں لیکن اپنے اندر معانی، سوالات اور خدشات و امکانات کا ایک وسیع جہان سموئے ہوئے ہیں جس کے بہت سے پہلوؤں میں سے ہر ایک مستقل گفتگو اور بحث و تجزیہ کا متقاضی ہے۔ مگر سرِ دست ان کی تفصیلات میں جانے کی بجائے ہم اہل السنۃ والجماعۃ کے علماء کرام، راہ نماؤں اور دانشوروں کی خدمت میں ایک سوال پیش کرنے کی جسارت پر اکتفاء کر رہے ہیں کہ کیا ہمارے لیے اس ساری صورت حال میں کچھ سوچنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مارچ ۲۰۱۵ء

خلیفہ کی اصطلاح اور غامدی صاحب کا موقف

محترم جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنے ایک تازہ مضمون میں انکشاف فرمایا ہے کہ ’’خلیفہ‘‘ کوئی شرعی اصطلاح نہیں ہے بلکہ بعد میں مسلمانوں نے اپنے نظام حکمرانی کے لیے یہ اصطلاح اختیار کر لی تھی۔ ان کا یہ بھی ارشاد ہے کہ غزالیؒ ، ابن خلدونؒ ، رازیؒ ، ماوردیؒ اور ابن حزمؒ کے بنانے سے دینی اصطلاحات نہیں بنتیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے بنانے سے بنتی ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ بحث طلب ہے کہ اگر کوئی دینی اصطلاح مذکورہ بالا بزرگوں سے نہیں بنتیں تو خود غامدی صاحب کی ان اصطلاحات کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مارچ ۲۰۱۵ء

کراچی اور لاہور میں چند نشستیں

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں شش ماہی امتحان کی تعطیلات کے دوران حسب سابق چند روز کراچی میں گزارنے کا موقع ملا اور دو تین دن لاہور کی مصروفیات میں گزر گئے۔ 22 تا 25 فروری پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی نے جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نارتھ کراچی میں مختلف عنوانات پر مسلسل فکری نشستوں کے لیے پابند کر رکھا تھا۔ چار روز کے دوران کم و بیش سات نشستوں میں متعدد عنوانات پر گفتگو ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مارچ ۲۰۱۵ء

اکیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے تحفظات

اکیسویں آئینی ترمیم کے بارے میں قوم کے دو بڑے طبقوں کے تحفظات اس وقت سب سے زیادہ زیر بحث ہیں۔ وکلاء برادری نے بعض حوالوں سے اکیسویں آئینی ترمیم کو ملکی دستور کے بنیادی ڈھانچے اور جمہوری و شہری حقوق کے منافی قرار دیا ہے اور اس پر اپنے تحفظات کا واضح طور پر اظہار کیا ہے۔ جبکہ دینی جماعتوں نے اکیسویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ہونے والی فوجی عدالتوں کو صرف مذہبی حوالہ سے ہونے والی دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت تک محدود کرنے کو مذہب کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مارچ ۲۰۱۵ء

وراثت میں خواتین کے ساتھ نا انصافی

سپریم کورٹ کے جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاشرے کی روایت بن چکی ہے کہ بہنوں اور بیٹیوں کو وراثت میں ایک ٹکہ بھی نہیں دیا جاتا، انہیں ڈرا دھمکا کر وراثت نہ لینے پر قائل کیا جاتا ہے۔ زمینوں سے پیار کرنے والے اپنی وراثت بچانے کے لیے سگی بہنوں اور بیٹیوں کے وجود تک سے انکار کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی معاشرہ نے خواتین کو وراثت میں جو حقوق دیے ہیں اس سے کوئی انکار کی جرأت نہیں کر سکتا، وقت آگیا ہے کہ بیٹیوں اور بہنوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ فروری ۲۰۱۵ء

دینی جماعتیں اپنی ترجیحات پر نظرثانی کریں ۔ مجلس علماء اسلام پاکستان کا اجلاس

ملک میں نفاذ شریعت کی بات ہو یا سیکولر قوتوں کی ہمہ جہت یلغار کے مقابلہ کا مسئلہ ہو، نہ صرف پارلیمانی اور انتخابی سیاست کے ذریعہ اس جدوجہد میں کوئی پیشرفت ہو سکتی ہے اور نہ ہی ہتھیار اٹھانا اس مسئلہ کا حل ہے۔ ہماری اصل ضرورت اور ہماری جدوجہد کا اصل میدان پر امن اور عدم تشدد پر مبنی عوامی جدوجہد ہے، اور دستور و قانون کے دائرہ میں پر جوش احتجاجی سیاست ہے۔ اس کے بغیر نہ ہم کوئی پیشرفت کر سکتے ہیں اور نہ ہی موجودہ صورت حال کو مزید خراب ہونے سے بچا سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ فروری ۲۰۱۵ء

لاہور میں ناموس رسالت اے پی سی

فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں کے بعد سے تحفظ ناموس رسالتؐ کے مسئلہ نے جو صورت اختیار کر لی ہے اس کے پیش نظر یہ کانفرنس بہت زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔ بعض راہنماؤں نے اپنے خطابات میں کہا کہ یہ کانفرنس شروع میں ہی ہو جانی چاہیے تھی مگر تاخیر کے ساتھ انعقاد پذیر ہونے کے باوجود اس کی اہمیت و ضرورت بدستور قائم ہے۔ اس لیے کہ اگرچہ ملک کی دینی و قومی جماعتوں نے اپنی اپنی سطح پر اس سلسلہ میں اپنے جذبات کا مسلسل اظہار کیا ہے اور ملک بھر میں عوامی ریلیاں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ فروری ۲۰۱۵ء

عالم اسلام اور تکفیر و قتال کا فتنہ

عالم اسلام میں باہمی تکفیر اور اس کی بنیاد پر قتل و قتال کی روایت نئی نہیں ہے بلکہ شروع دور سے ہی چلی آرہی ہے۔ امیر المؤمنین حضرت علیؓ کے خلاف بغاوت کرنے والے خوارج نے تکفیر کو ہی اپنے امتیاز و تشخص کی علامت بنایا تھا اور چاروں طرف قتل و قتال کا بازار گرم کر دیا تھا۔ وہ نہ صرف حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان مصالحت کے لیے حکم اور ثالث کے تقرر کے فیصلے کو کفر قرار دیتے تھے بلکہ کبیرہ گناہ کے مرتکب عام مسلمانوں کو مرتد قرار دے کر ان کے قتل کو بھی ضروری سمجھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ فروری ۲۰۱۵ء

قومی ایکشن پلان اور اس کا رد عمل

مدارس پر چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے، فورتھ شیڈول کا ایک نیا نیٹ ورک وجود میں آگیا ہے، گرفتاریاں ہو رہی ہیں، لاؤڈ اسپیکر کی خلاف ورزی کے الزام میں سرسری مقدمات چل رہے ہیں، سزائیں دی جا رہی ہیں، مساجد سے لاؤڈ اسپیکر اتارے جا رہے ہیں اور دینی ماحول میں خوف و ہراس کی ایک عجیب سے فضا ابھر رہی ہے۔ اس صورت حال سے دیوبندی علماء کرام اور مساجد و مراکز سب سے زیادہ متاثر ہیں اس لیے فطری طور پر کارکنوں کی نظریں مجلس علماء اسلام پاکستان کی طرف اٹھتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ فروری ۲۰۱۵ء

مولانا نور محمد تونسویؒ / مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ

مولانا نور محمد تونسویؒ مطالعہ و تحقیق کی دنیا کے آدمی تھے اور مسلکی دائرہ میں مسائل کا تجزیہ و تنقیح اور استدلال و توضیح ان کا خاص ذوق تھا۔ مختلف موضوعات پر ان کی تحقیقی کاوشیں مضامین و رسائل کی صورت میں ان کا ذخیرہ آخرت ہیں ۔ ۔ ۔ مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ بھی کتابی دنیا کے ماحول میں رہتے تھے، لکھنا پڑھنا اور قادیانیت کے محاذ پر نوجوان علماء و طلبہ کو تیار کرنا ان کا محاذ تھا۔ چند روز قبل عمرہ کے لیے گئے اور مکہ مکرمہ میں احرام کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ فروری ۲۰۱۵ء

تین طلاقوں کو تعزیری جرم قرار دینے کی سفارش

اسلامی نظریاتی کونسل نے تین طلاقیں اکٹھی دینے کو تعزیری جرم قرار دینے کی سفارش کی ہے جس پر بعض حلقوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس پر بحث و تمحیص ہو رہی ہے۔ یہ تجویز دراصل مشرف حکومت کے دوران حدود آرڈیننس میں تحفظ حقوق نسواں کے عنوان سے کی جانے والی ترامیم کے موقع پر سرکردہ علماء کرام کی ایک کمیٹی کی طرف سے ستمبر 2006ء کے دوران سامنے آئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جنوری ۲۰۱۵ء

شاہ عبد اللہ مرحوم

شاہ عبد اللہؒ کم و بیش نصف صدی سے سعودی عرب کے حکومتی نظام کا اہم حصہ چلے آرہے تھے اور شاہ فہدؒ کی وفات کے بعد انہوں نے سعودی عرب کے فرمانروا کے طور پر منصب سنبھالا تھا۔ انہوں نے عالم اسلام کی وحدت، مظلوم مسلمانوں کی حمایت اور دینی حلقوں کی معاونت کے لیے اپنے پیشرو حکمرانوں کی طرح خصوصی محنت کی ہے اور بہت سے حوالوں سے انہیں ایک بیدار مغز اور ترقی پسند حکمران کے طور پر عالمی حلقوں میں یاد کیا جاتا ہے۔ مملکت سعودی عرب کے قیام کو ایک صدی ہونے کو ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جنوری ۲۰۱۵ء

مغرب کی فکری دہشت گردی

پورا عالم اسلام متفق ہے اور دیگر مذاہب بھی اس کی تائید کرتے ہیں کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین و تحقیر سنگین ترین جرم ہے۔ اس لیے کہ اس میں مذہبی پیشواؤں کی توہین کے ساتھ ساتھ ان کے کروڑوں پیروکاروں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور امن عامہ کو خطرے میں ڈالنے کے جرائم بھی شامل ہو جاتے ہیں، جس سے اس جرم کی سنگینی میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور قرآن و سنت، بائبل اور وید سمیت تمام مسلمہ مذہبی کتابوں میں اس کی سزا موت ہی بیان کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جنوری ۲۰۱۵ء

’’انسداد سود سیمینار‘‘ میں شرکت

راقم الحروف نے اپنی گفتگو میں عرض کیا کہ حرام سے بچنا شرعی فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری معاشرتی ضرورت بھی ہے کہ سود اور حرام کے دیگر کاروباروں کی وجہ سے معاشرتی بے سکونی، بے برکتی اور نحوست میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ ہم عام طور پر دعائیں قبول نہ ہونے کی جو شکایت کرتے رہتے ہیں اس کا ایک بڑا سبب جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام خوری کو قرار دیا ہے۔ اور برکت و سکون کے مسلسل کم ہونے کا باعث بھی حلال و حرام میں فرق نہ کرنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جنوری ۲۰۱۵ء

مجلس صوت الاسلام کے زیر اہتمام تقریری مقابلہ

صوت الاسلام کی یہ مہم دراصل کئی سالوں سے جاری ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ میں خطابت کے عصری تقاضوں کا ذوق بیدار کیا جائے اور انہیں بیان و خطابت کی فنی ضروریات کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے اسلوب اور معروضی حالات و مسائل کے ادراک کی طرف متوجہ کیا جائے، تاکہ وہ اسلام کی دعوت و دفاع اور معاشرہ کی اصلاح و تنظیم کے لیے زیادہ بہتر خدمات سر انجام دے سکیں۔ اس مقصد کے لیے مجلس صوت الاسلام کے زیر اہتمام خطابت کا ایک سالہ تربیتی کورس بھی جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جنوری ۲۰۱۵ء

سرگودھا، جوہر آباد، قائد آباد، چنیوٹ اور چناب نگر کا سفر

۳ و ۴ جنوری کو سرگودھا، جوہر آباد، قائد آباد، چنیوٹ اور چناب نگر کے سفر کے دوران دو بزرگوں کی وفات پر تعزیت کے لیے حاضری کا موقع ملا۔ جوہر آباد میں جمعیۃ علماء اسلام کے ایک پرانے بزرگ حکیم علی احمد خان صاحب کا گزشتہ دنوں انتقال ہوگیا تھا۔ نوے برس سے زیادہ عمر پائی ہے، ہمیشہ جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ وابستہ رہے۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خصوصی تعلق تھا۔ ایک عرصہ تک جمعیۃ کے ضلعی امیر اور مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جنوری ۲۰۱۵ء

سنٹر فار پالیسی ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کی سرگرمیوں کا آغاز

جامعۃ الرشید کراچی کے قائم کردہ علمی و فکری فورم ’’سنٹر فار پالیسی ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ‘‘ (CPRD) نے 31 دسمبر کو اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس روز سنٹر کے مرکز اسلام آباد میں سی پی آر ڈی کے ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس مولانا مفتی عبد الرحیم کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مولانا مفتی منیب الرحمن، جنرل (ر) حمید گل، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، سینیٹر طلحہ محمود، جناب ڈاکٹر انعام الرحمن، جناب ایاز وزیر، ڈاکٹر محسن نقوی، مولانا سید عدنان کاکاخیل، چودھری عبد الجبار اور دیگر حضرات کے علاوہ راقم الحروف نے بھی شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جنوری ۲۰۱۵ء

آرمی پبلک اسکول پشاور کا سانحہ

16 دسمبر کے سانحۂ پشاور نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور پاکستان کی سیاسی و دینی جماعتیں اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دہشت گردی بلکہ درندگی کے خلاف متحد ہوگئی ہیں۔ ملک کے اخبارات اور میڈیا کے بہت سے مراکز نے اس دن سانحہ سقوط ڈھاکہ اور اس کے اسباب و اثرات کے حوالہ سے مضامین اور پروگراموں کا اہتمام کیا تھا، مگر پشاور کے اس المناک سانحہ نے قوم کے غم کو ہلکا کرنے کی بجائے ایک اور قومی سانحہ کے صدمہ سے اسے دو چار کر دیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ دسمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مولانا محمد عیسٰی منصوری کا دورۂ پاکستان

ورلڈ اسلامک فورم لندن کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری گزشتہ دو ہفتہ سے پاکستان میں ہیں اور مختلف شہروں میں احباب سے ملاقاتوں کے علاوہ فکری و نظریاتی محافل میں شرکت کر رہے ہیں۔ وہ جب بھی پاکستان آتے ہیں جامعہ مدنیہ لاہور ان کی قیام گاہ ہوتا ہے۔ اس بار بھی یہ روایت برقرار ہے البتہ ملتان، چیچہ وطنی، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ کے علاوہ اسلام آباد میں بھی متعدد محافل میں انہوں نے خطاب کیا ہے۔ جبکہ ایک آدھ روز میں وہ واپس روانہ ہونے والے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ دسمبر ۲۰۱۴ء

مجلس علماء اسلام کے مقاصد و اہداف

9 دسمبر کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان میں مجلس علماء اسلام پاکستان کی سپریم کونسل کے منعقدہ اجلاس میں اکثر جماعتوں کے صف اول کے راہنما شریک ہوئے اور خطاب کیا۔ ان میں سے حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر اور مولانا حافظ سید عطاء المومن شاہ بخاری کے خطابات چونکہ کلیدی حیثیت رکھتے ہیں اس لیے ان کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ دسمبر ۲۰۱۴ء

مجلس علماء اسلام پاکستان کا قیام

ابن امیر شریعتؒ مولانا حافظ سید عطاء المومن شاہ بخاری کی دعوت پر ان کی شبانہ روز مساعی کے نتیجہ میں 18 نومبر کو اسلام آباد میں اہل السنۃ والجماعۃ دیوبندی مکتب فکر کی کم و بیش سب جماعتوں، حلقوں اور بڑے مراکز کے سربراہوں اور نمائندوں نے جمع ہو کر جو مشترکہ فورم قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، اس نے 9 دسمبر کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان میں منعقدہ اجلاس میں ’’مجلس علماء اسلام پاکستان‘‘ کے نام سے ایک باقاعدہ اتحاد کی شکل اختیار کر لی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ دسمبر ۲۰۱۴ء

ڈاکٹر خالد محمود سومرو کا قتل اور کیپٹن صفدر کے خیالات

ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہید کے المناک قتل کا درد ملک بھر کے بیشتر حلقوں میں یکساں طور پر محسوس کیا گیا ہے، اور ہر سطح پر اس کا اظہار ہوا ہے۔ قومی اسمبلی کے متعدد معزز ارکان نے یکم دسمبر کو ایوان میں اس المناک سانحہ پر اپنے جذبات کا اظہار کیا، جبکہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے داماد اور مانسہرہ سے قومی اسمبلی کے رکن کیپٹن صفدر نے اس دکھ کو جس انداز میں پیش کیا ہے اس میں اس سلسلہ میں قومی اضطراب کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ دسمبر ۲۰۱۴ء

ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ / حافظ خلیل الرحمان ضیاء مرحوم / حضرت مولانا میاں سراج احمدؒ

آج (۲۹ نومبر کو) دن کا آغاز دو غمناک خبروں سے ہوا۔ صبح نماز کے لیے نیند سے بیدار ہوا تو موبائل فون پر پہلا میسج یہ پڑھنے کو ملا کہ ہمارے پرانے دوست اور ساتھی حافظ خلیل الرحمان ضیاء کا انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جبکہ مدرسہ میں اسباق سے فارغ ہو کر دوبارہ موبائل کے میسج چیک کیے تو اس المناک خبر نے کلیجہ پکڑ لیا کہ جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سندھ کے سیکرٹری ڈاکٹر خالد محمود سومرو کو صبح نماز فجر کے دوران نا معلوم افراد نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ نومبر ۲۰۱۴ء

قومی و مذہبی خود مختاری کی بحالی

سیکولر حلقوں کی یہ محنت دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کو کمزور کرنے کے حوالہ سے بھی ہے، اور جو قوانین شرعی حوالہ سے موجود ہیں ان پر عملدرآمد میں ہر سطح پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے حوالہ سے بھی ہے۔ اس منصوبہ بندی کا مقابلہ اور پاکستان کے اسلامی تشخص کی حفاظت بلکہ نفاذِ اسلام کی عملی پیش رفت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ جبکہ دوسرا اہم ترین مسئلہ قومی خود مختاری کی بحالی کا ہے کہ ہمارے قومی معاملات میں مغربی اور علاقائی حکومتوں کی مداخلت بڑھتے بڑھتے اب تسلط کے درجہ تک جا پہنچی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ نومبر ۲۰۱۴ء

مطالعۂ قرآن کانفرنس اسلام آباد

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے علامہ اقبالؒ آڈیٹوریم میں اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق و مکالمہ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے ادارہ تحقیقات اسلامی نے ’’پاکستان میں مطالعۂ قرآن کی صورت حال‘‘ کے موضوع پر ۱۱ تا ۱۳ نومبر کو تین روزہ قومی کانفرنس کا اہتمام کیا جس کی دس کے لگ بھگ نشستوں میں مختلف ارباب علم و دانش نے قرآن کریم کی تعلیم و تدریس، تحقیق و مطالعہ اور فہم قرآن کی اہمیت و ضرورت کے بیسیوں پہلوؤں پر اظہار خیال کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ نومبر ۲۰۱۴ء

قانون کو ہاتھ میں لینے کی روایت

اگر قرآن کریم کی توہین کا الزام درست تھا تو بھی اس سے نمٹنے کا یہ طریق کار کسی طرح بھی جائز نہیں تھا۔ کسی تحقیق کے بغیر مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان غلط تھا، پھر لوگوں کے ہجوم کی صورت میں اشتعال کے ماحول میں از خود تشدد کرنا درست نہیں تھا۔ اس پر پولیس کو حرکت میں آنا چاہیے تھا اور علاقہ کے معززین کو مداخلت کر کے معاملہ کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہیے تھا۔ اس کے بعد نذر آتش کر دینا تو ظلم و زیادتی کی انتہا ہے، اور یہ واقعہ اسلام اور پاکستان دونوں کی بدنامی کا باعث بنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ نومبر ۲۰۱۴ء

سنی شیعہ کشمکش کے اسباب و عوامل

’’تحریک جعفریہؒ پاکستان اور سپاہ صحابہؓ پاکستان کے درمیان کشمکش نے مسلح تصادم کی جو صورت اختیار کر لی ہے، اس سے ملک کا ہر ذی شعور شہری پریشان ہے۔ دونوں جانب سے سینکڑوں افراد اب تک اس مسلح تصادم کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اور ارباب اختیار فرقہ واریت کے خاتمہ کے عنوان سے اس کشمکش پر قابو پانے کا بار بار عزم ظاہر کرتے ہیں، مگر اس کی جڑیں معاشرہ میں اس قدر گہرائی تک اتر چکی ہیں کہ بیخ کنی کے لیے ان تک رسائی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۴ء

رائیونڈ کا سالانہ تبلیغی اجتماع

دعوت و تبلیغ کی اس محنت کا بنیادی ہدف مسلمانوں کو دین کی طرف واپس لانا ہے تاکہ مسلم معاشروں میں دین کے اثرات عام ہوں اور ایسا ماحول پیدا ہو جو غیر مسلموں کے اسلام کی طرف متوجہ اور راغب ہونے کے ذریعہ بن سکے۔ تبلیغی جماعت کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ دین کی طرف واپسی، معاشرہ میں دینی ماحول کا فروغ اور خاص طور پر مسجد کے کردار کا دوبارہ زندہ ہونا، نہ صرف یہ کہ ہم مسلمانوں کی ضرورت ہے بلکہ یہ آج کی دکھوں اور مصیبتوں میں سسکتی ہوئی انسانیت کی ضرورت بھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ نومبر ۲۰۱۴ء

ختم نبوت کے محاذ پر مولانا سعید عنایت اللہ کی خدمات

26 اکتوبر کو سیالکوٹ چھاؤنی میں سیرت اسٹڈی سنٹر کے ایک پروگرام میں حاضری ہوئی تو وہاں ہمارے محترم دوست جناب محمد اعجاز رتو نے بتایا کہ مولانا سعید احمد عنایت اللہ صاحب مکہ مکرمہ سے تشریف لائے ہوئے ہیں اور وہ ان سے مل کر آرہے ہیں۔ میں نے موقع غنیمت سمجھا اور ان سے عرض کیا کہ پروگرام کے بعد میں بھی مولانا موصوف سے ملنا چاہوں گا۔ انہوں نے رابطہ کیا تو ملاقات کا وقت طے ہوگیا اور ہم اس کے مطابق عصر کے وقت ان کے گاؤں میں حاضر ہوگئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ نومبر ۲۰۱۴ء

مولانا فضل الرحمان پر حملہ / اسلام اور مغرب کی کشمکش

’’اسلام اور مغرب کی کشمکش‘‘ کا عنوان بجائے خود محل نظر ہے، اس لیے کہ مغرب بحیثیت مغرب اسلام دشمن نہیں ہے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد مغرب میں آباد ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، مغرب کی غیر مسلم آبادی میں ایک بڑی تعداد اسلام قبول کر رہی ہے، اور مغرب کی یونیورسٹیوں میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالہ سے بہت سے پہلوؤں پر تحقیقی کام ہو رہا ہے۔ چنانچہ مغرب کو کلیتاً‌ استشراق اور اسلام دشمنی کے ساتھ جوڑنا درست نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم نومبر ۲۰۱۴ء

شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور برما وغیرہ پر مشتمل برصغیر کی علمی، دینی، سیاسی، تحریکی اور فکری جدوجہد کے دو عظیم نام ہیں۔ جن کے تذکرہ کے بغیر اس خطہ کے کسی ملی شعبہ کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی، اور خاص طور پر دینی و سیاسی تحریکات کا کوئی بھی راہ نما یا کارکن خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا طبقہ سے ہو ان سے راہ نمائی لیے بغیر آزادی کی عظیم جدوجہد کے خدوخال سے آگاہی حاصل نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اکتوبر ۲۰۱۴ء

پاکستان کو ’’سنی ریاست‘‘ قرار دینے کا مطالبہ

1973ء میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو ’’سنی مطالبات‘‘ کے عنوان سے ایک عرضداشت پیش کی گئی تھی جس پر مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، مولانا عبد الحقؒ ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ ، مفتی محمد حسین نعیمیؒ ، مولانا عبد القادر روپڑیؒ ، مولانا عبد الستار تونسویؒ ، مولانا سید حامد میاںؒ ، مولانا سرفراز خان صفدرؒ ، ڈاکٹر اسرار احمدؒ ، مولانا اجمل خانؒ ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا تاج محمودؒ ، اور مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ سمیت تمام سنی مکاتب فکر کے ایک ہزار کے لگ بھگ علماء کرام نے دستخط کیے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ اکتوبر ۲۰۱۴ء

پاکستان شریعت کونسل کا مشاورتی اجلاس

پاکستان شریعت کونسل کا ایک اہم مشاورتی اجلاس 14 اکتوبر کو جامع مسجد عثمان غنیؓ بلند مارکیٹ اسلام آباد میں امیر مرکزیہ مولانا فداء الرحمن درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ ۔ ۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ مذہبی صورت حال بالخصوص دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی کے معاملات اور مولانا مفتی محمد امان اللہ کی المناک شہادت سے پیدا شدہ حالات کا جائزہ لیا گیا اور شرکاء اجلاس نے مختلف خیالات و جذبات کا اظہار کیا، جن کا خلاصہ درج ذیل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اکتوبر ۲۰۱۴ء

کل کے مجاہد، آج کے دہشت گرد

امریکہ بہادر نے مولانا فضل الرحمن خلیل کو بھی دہشت گردی کی عالمی فہرست میں شامل کر لیا ہے اور ان پر مختلف النوع پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ اس میں اس قدر تاخیر کیوں ہوئی ہے؟ کیونکہ مولانا فضل الرحمن خلیل اپنے طالب علمی سے ہی جس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث دیکھے جا رہے ہیں ان کے پیش نظر یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ مولانا فضل الرحمن خلیل اگر مجھے ترجمانی کا موقع دیں تو میں ایک شعر کے اس مصرعہ پر اکتفا کروں گا کہ ’’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اکتوبر ۲۰۱۴ء

شرح صحیح مسلم شریف

اس وقت میرے سامنے مولانا حقانی کی تالیف کردہ ’’شرح صحیح مسلم‘‘ کی پانچ ضخیم جلدیں ڈیسک پر پڑی ہیں جو آغاز سے کتاب الایمان تک ہیں۔ اور ان کی سرسری ورق گردانی کی سعادت حاصل کرنے کے بعد یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ امام مسلمؒ کی ’’الجامع الصحیح‘‘ کو حدیث کی کتابوں میں امام بخاریؒ کی ’’الجامع الصحیح‘‘ کے بعد سب سے نمایاں حیثیت اور درجہ حاصل ہے۔ اور بخاری شریف کی مجموعی فوقیت کے باوجود مسلم شریف کو بعض حوالوں سے اس پر ترجیح حاصل ہے جس کا مختلف محدثین نے ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اکتوبر ۲۰۱۴ء

دولتِ فاطمیہ کیا تھی؟

حضرت امام جعفر صادقؒ کی وفات کے بعد اہل تشیع دو حصوں میں بٹ گئے تھے۔ ایک گروہ نے ان کے فرزند امام موسیٰ کاظمؒ کو ان کے جانشین کے طور پر امام تسلیم کر لیا۔ اس اکثریتی گروہ نے امام موسیٰ کاظمؒ کے بعد بارہویں امام تک امام حاضر، اور پھر بارہویں امام کے غائب ہو جانے پر ’’امام غائب‘‘ کی مسلسل امامت کے ساتھ اثنا عشریہ کا عنوان اختیار کر رکھا ہے۔ جبکہ دوسرے گروہ نے امام جعفر صادقؒ کے بڑے بیٹے امام اسماعیلؒ کو، جو اُن کی زندگی میں ہی وفات پا چکے تھے، ان کا جانشین قرار دیتے ہوئے ان کے فرزند محمدؒ (امام جعفر صادقؒ کے پوتے) کو اپنا امام بنا لیا۔ یہ گروہ اسماعیلی کہلاتا ہے جو آج تک امام حاضر کے تسلسل کے ساتھ دنیا میں موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اکتوبر ۲۰۱۴ء

کشمیر کا دورہ اور سردار عبد القیوم سے ملاقات

گزشتہ ماہ کے آخری روز میں میر پور آزاد کشمیر میں تھا۔ جامعہ اسلامیہ کا سالانہ جلسہ دستار بندی تھا، مولانا عبد الخالق پیرزادہ، مولانا سید عبد الخبیر آزاد، قاضی محمد رویس خان ایوبی، مولانا حق نواز اور حاجی بوستان صاحب کے ہمراہ میں نے بھی اس سعادت میں حصہ لیا۔ گزشتہ سال دورہ حدیث سے فراغت حاصل کرنے والے فضلاء اور قرآن کریم مکمل کرنے والے حفاظ کی دستار بندی کی گئی۔ پروگرام سے فارغ ہونے کے بعد جامعہ اسلامیہ کے مہتمم حاجی بوستان صاحب اور شیخ الحدیث مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اکتوبر ۲۰۱۴ء

صدارتی ایوارڈ اور ایک المناک حادثہ

صدارتی ایوارڈز کی اس فہرست میں ڈاکٹر محمد شکیل اوج صاحب بھی شامل تھے اور ان کی شہادت کا غم تمغۂ امتیاز ملنے کی خوشی پر ہزاروں گنا بھاری ہے۔ اس لیے دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ مجھے کوئی مبارک باد دینے کی بجائے ڈاکٹر صاحب مرحوم کے لیے دعا کریں کہ اللہ رب العزت انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، اور اپنے مذموم مقاصد کے لیے معصوم مذہبی جذبات کے شرمناک استعمال کے خوگر حضرات کو ہدایت عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ ستمبر ۲۰۱۴ء

آنے والے خطرناک حالات اور ہمارا طرز عمل

شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ کے پوتے اور مولانا اشرف علی کے فرزند مولانا مفتی امان اللہ کی المناک شہادت نے پچھلے زخم پھر سے تازہ کر دیے ہیں۔ دارالعلوم تعلیم القرآن کے المناک سانحہ کو ایک سال بھی نہیں گزرا کہ دارالعلوم کے نائب مہتمم سفاک قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ چند روز قبل جامعہ بنوریہ کراچی کے مہتمم مولانا مفتی محمد نعیم کے داماد مولانا مسعود بیگ اور کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے سربراہ ڈاکٹر شکیل اوج دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ ستمبر ۲۰۱۴ء

تحریک انسداد سود کا اجلاس

اجلاس میں ملک کی موجودہ عمومی صورت حال اور انسداد سود مہم کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اور طے پایا کہ سود کی لعنت کے خاتمہ کے لیے جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے گا اور وفاقی شرعی عدالت میں مقدمہ کی پیروی کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر پرائیویٹ سود کے مسلسل پھیلاؤ کے نقصانات کی طرف رائے عامہ کو توجہ دلاتے ہوئے علماء کرام، دینی کارکنوں اور مراکز کو اس سلسلہ میں جدوجہد کے لیے تیار کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ ستمبر ۲۰۱۴ء

اسلام آباد کے گرد و نواح میں سرگرمیاں

گزشتہ ماہ کے آخری دو روز اسلام آباد کے اردگرد گزرے۔ اسلام آباد کے بہت سے دوستوں کے تقاضے دھرنوں کی وجہ سے مؤخر ہوتے جا رہے ہیں۔ البتہ قرب و جوار کے کئی پروگراموں میں شرکت ہوگئی۔ 30 اگست کو عصر کے بعد جمعیۃ علماء اسلام کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات جناب محمد اقبال اعوان صاحب نے ٹیکسلا کے جماعتی ہیڈ کوارٹر میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی یاد میں ایک سیمینار کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں علاقہ بھر کے علماء کرام اور جماعتی کارکن شریک تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ ستمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

ستمبر کا مہینہ اور قادیانی مسئلہ

ستمبر کے پہلے عشرہ کے دوران ملک بھر میں دو حوالوں سے تقریبات ہوتی ہیں۔ 1965ء میں پاک بھارت جنگ کا آغاز اس عشرہ میں ہوا تھا اور ملک کی مسلح افواج نے دفاع وطن کے لیے شاندار خدمات سر انجام دی تھیں جس پر شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ جبکہ 1974ء میں 7 ستمبر کو پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے قادیانی مسئلہ کے حوالہ سے تاریخی فیصلہ صادر کرتے ہوئے مفکر پاکستان علامہ سر محمد اقبالؒ کی تجویز کے مطابق قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا دستوری فیصلہ صادر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ ستمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے مقاصد

’’رائٹر‘‘ نے اسلام آباد کے دھرنوں کے آغاز میں ہی یہ بات کہہ دی تھی کہ اس ساری مہم کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ پرائم منسٹر اور ڈپٹی کمشنر کے درمیان فرق کے احساس کو باقی رکھا جائے جو بعض حلقوں کے خیال میں مدّھم پڑنے لگا ہے۔ یہ مقصد پورا ہوا ہے یا نہیں اس کا اندازہ موجودہ منظر تبدیل ہونے کے بعد ہی ہوگا۔ مگر گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے قوم کے سامنے حقائق کا جو منظر نامہ پیش کیا ہے وہ نیا نہ ہونے کے باوجود نیا لگتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ ستمبر ۲۰۱۴ء

موجودہ صورتحال سے جڑے کچھ پرانے قصے

آرمی چیف کی مداخلت سے دھرنوں کے معاملات کچھ صحیح سمت بڑھتے دکھائی دینے لگے ہیں۔ مجھے ان دوستوں سے اتفاق ہے جن کا کہنا ہے کہ سیاسی معاملات کو سیاسی جماعتوں کے ذریعہ حل کرنا ہی بہتر تھا اور فوج کو زحمت نہیں دینا چاہیے تھی، مگر جس طرح کا ڈیڈلاک پیدا ہوگیا ہے، اس کو ختم کرنے کے لیے جنرل راحیل شریف کی دلچسپی پر بہرحال اطمینان محسوس کیا جا رہا ہے۔ یہ سیاسی جماعتوں یا فریقین میں بے اعتمادی بلکہ بد اعتمادی کی اس انتہا کا لازمی نتیجہ ہے جو سامنے آیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اگست ۲۰۱۴ء

مولانا مفتی عبد الشکورؒ

باغ آزاد کشمیر کے ضلع مفتی مولانا عبد الشکور کشمیری گزشتہ روز انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق علاقہ تھب سے تھا اور بزرگ عالم دین حضرت مفتی عبد المتین فاضل دیوبند کے متعلقین میں سے تھے۔ جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل تھے، والد محترم حضرت سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے قریبی شاگردوں میں سے تھے۔ اور جامعہ دارالعلوم کراچی میں تخصص فی الفقہ والافتاء کرنے کے بعد جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں سالہا سال تک تدریس و افتاء کی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اگست ۲۰۱۴ء

Pages