اسلام مخالف مہم اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری

صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب ممنون حسین نے گزشتہ روز رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبد اللہ عبد المحسن الترکی حفظہ اللہ تعالیٰ سے ایوان صدر اسلام آباد میں ملاقات کے دوران دو اہم باتوں کا ذکر کیا ہے جس کی طرف نہ صرف رابطہ عالم اسلامی بلکہ عالم اسلام کے دیگر بین الاقوامی اداروں اور علمی و دینی مراکز کو بھی فوری توجہ دینی چاہیے۔ ایک بات یہ کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عالمی سطح پر چلائی جانے والی مہم اور پروپیگنڈا کا مؤثر جواب دینے کی ضرورت ہے اور صدر محترم کے نزدیک رابطہ عالم اسلامی اس کے لیے موزوں فورم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۵ء

اردو زبان کے حوالہ سے سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک ماہ سے بھی کم مدت تک چیف جسٹس رہنے والے فاضل جج محترم جسٹس جواد ایس خواجہ گزشتہ روز ریٹائر ہو گئے ہیں مگر ریٹائر منٹ سے پہلے انہوں نے سپریم کورٹ کے فل بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے ایک ایسا تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے جو ملک کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور آئندہ نسلیں یقیناً انہیں دعائیں دیتی رہیں گی۔ جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ کے بارے میں یہ خبریں بھی اخبارات کی زینت بنی ہیں کہ انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران نہ کوئی سرکاری پلاٹ لیا اور نہ ہی امتیازی پروٹوکول اور مراعات سے فائدہ اٹھایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۵ء

سودی نظام کے خلاف جدوجہد میں دینی حلقوں کی ذمہ داریاں

جامعۃ الرشید کراچی میں گزشتہ دنوں منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سودی بینکاری سے نجات حاصل کرنے کے لیے غیر سودی بینکاری کا تجربہ ضروری ہے اور اس وقت اس حوالہ سے جو محنت ہو رہی ہے اس کی اصلاح اور مزید بہتری کے لیے کوششوں کے ساتھ ساتھ اس کی حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہیے۔ دوسری طرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر جناب سعید احمد نے جامعۃ الخیر لاہور میں ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سودی بینکاری کا متبادل شرعی نظام موجود ہے مگر اسے چلانے کے لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۶ء

دینی مدارس کی جدوجہد اور مقتدر طبقات کی روش

۳ اپریل ۲۰۱۶ء کو لاہور میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیراہتمام ملک بھر کے دینی مدارس کے اساتذہ، طلبہ اور معاونین لاکھوں کی تعداد میں ’’استحکام پاکستان کانفرنس‘‘ کے عنوان سے جمع ہو کر ملکی صورتحال اور دینی مدارس کی معاشرتی جدوجہد کے حوالہ سے اپنے موقف اور عزائم کا ایک بار پھر اظہار کر رہے ہیں جو بلاشبہ اہل حق کی جدوجہد اور تاریخ کا اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ آج دینی مدارس کی یہ محنت اپنے علمی و فکری ماحول اور دینی و تہذیبی اثرات و نتائج کے حوالے سے دنیا بھر میں ہر سطح پر بحث و گفتگو کا موضوع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۶ء

بھارتی سپریم کورٹ کا ایک افسوسناک فیصلہ

ممتاز بھارتی کالم نگار ڈاکٹر وید پرتاب ویدک کے روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۱ جولائی ۲۰۱۵ء کو شائع ہونے والے کالم کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے: ’’بھارت کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایک انقلابی فیصلہ دیا ہے، اس نے ایک غیر شادی شدہ والدہ کی اس اپیل کو قبول کر لیا ہے کہ اس کا بچہ اپنے والد کی بجائے اپنی والدہ کا نام لکھے، اب ایسے بچوں کو اپنے والد کا نام لکھنا بتانا ضروری نہیں ہوگا۔ عدالت کا یہ فیصلہ پڑھتے ہی میرے دماغ میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ ہم سب بھارتی ہر جگہ اپنی ماں کا نام لکھیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۵ء

ایران کا ایٹمی سمجھوتہ اور مشرق وسطیٰ کا مستقبل

ایران کے ساتھ چھ بڑے ممالک کے ایٹمی سمجھوتے پر دنیا بھر میں اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے، ایران میں اسے اپنی کامیابی سمجھتے ہوئے جشن کا سماں ہے، اقتصادی پابندیوں کے ختم ہو جانے پر ہر طرف خوشی منائی جا رہی ہے اور اسے ایران کی سفارتی کامیابی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ معروضی صورتحال میں ہمیں بھی اس سے اختلاف نہیں ہے مگر اصولی طور پر دیکھا جائے تو اسے حالات کے جبر اور طاقت کی حکمرانی کے روایتی طریقِ کار کی ایک بار پھر توثیق کے علاوہ اور کوئی عنوان نہیں دیا جا سکتا کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۵ء

انسانی حقوق سیکرٹریٹ اور علمی اداروں کی ذمہ داری

روزنامہ انصاف لاہور میں ۱۸ اگست ۲۰۱۵ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’وزیر اعظم نواز شریف نے انسانی حقوق سیکرٹریٹ بنانے کی منظوری دے دی ہے جو انسانی حقوق سے متعلق عالمی معاہدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا، وزارت قانون نے نظام انصاف کو مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے حوالہ سے اصلاحات پر مبنی سمری وزیر اعظم کو بھجوائی تھی جس کی روشنی میں وزیر اعظم نے انسانی حقوق سیکرٹریٹ بنانے کی منظوری دے دی ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۵ء

عوام میں حلال و حرام کا شعور بیدار کرنے کی مہم

روزنامہ اوصاف لاہور نے ۱۴ اکتوبر ۲۰۱۵ء کی ایک خبر میں بتایا ہے کہ: ’’پنجاب حلال ڈیویلپمنٹ ایجنسی کے چیئرمین جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں سور کے گوشت اور دیگر حصوں کو ۱۰۰ سے زائد کھانے والی اشیا میں استعمال کیا جا رہا ہے جس کو مسلمان بھی انجانے میں استعمال کر رہے ہیں، اس لیے علماء کرام عوام میں حلال و حرام کے استعمال کے حوالہ سے شعور پیدا کریں کہ صرف گوشت ہی حلال اور حرام نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۵ء

امت مسلمہ اور اقوام متحدہ ۔ چند ضروری گزارشات

روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ۱۷ اکتوبر ۲۰۱۵ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ اسلام کی غلط اور غیر معقول عکاسی کرنے والوں کے خلاف کاروائی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے حکمت عملی بنائی جائے اور اسلام کے خلاف متعصبانہ رویے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں اسلامی عقائد کی تعصب پر مبنی کردارکشی کی روک تھام پر بھرپور توجہ دی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۵ء

سزائے موت کا قانون اور پاپائے روم

روزنامہ جنگ کراچی ۲۲ فروری ۲۰۱۶ء میں شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ موت کی سزا ختم کر دینی چاہیے، تمام حکومتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مشترکہ رائے سے موت کی سزا کو ختم کر دیں، کیونکہ اس طرح حکومتیں کسی انسان کی ہلاکت کی مرتکب نہیں ہوں گی۔ ویٹی کن سٹی میں سینٹ پیٹرز اسکوائر میں پوپ نے ہزاروں عقیدت مندوں سے خطاب کرتے ہوئے پوری دنیا بھر کے مسیحیوں کو تلقین کی ہے کہ وہ موت کی سزا کے خاتمہ کے لیے اپنی کوشش شروع کر دیں۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۶ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter