اراکان کے مظلوم مسلمانوں کی حالت زار

ایک برس سے جاری بودھ مسلمان فسادات کے باعث تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ یہ خطہ مذہبی اور نسلی بنیادوں پر بٹ چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضرورت مندوں کو اب روزانہ کی بنیاد پر خوراک تقسیم ہوتی ہے اور اکہتر ہزار سے زائد افراد کو پناہ دینے کے لیے عارضی خیمے قائم ہیں۔ عالمی ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ تناؤ کی بنیادی وجوہات ختم کیے بغیر دیرپا امن اور ہم آہنگی قائم نہیں ہو سکتی۔ رپورٹ میں کم و بیش آٹھ لاکھ مسلمانوں کی شہریت کے تعین کے معاملے کو حل کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۳ء

دینی مدارس اور نظامِ تعلیم کا اجتماعی دھارا

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے اپنے حالیہ غیر ملکی دورہ کے دوران قاہرہ میں پاکستانیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دینی مدارس کے بارے میں بھی کچھ باتیں کی ہیں اور فرمایا ہے کہ ان کی حکومت دینی مدارس کے نظام میں اصلاح کا ارادہ رکھتی ہے اور ان کا پروگرام ہے کہ دینی مدارس کو ملک کے اجتماعی نظام تعلیم کے دھارے میں لایا جائے۔ دینی مدارس اور انہیں اجتماعی نظام تعلیم کے دھارے میں لانے کی خواہش کا ایک عرصہ سے قومی حلقوں میں اظہار کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اپریل ۲۰۰۰ء

الشریعہ بنام ضرب مومن

مولانا مفتی ابو لبابہ شاہ منصور نے کچھ عرصہ سے ’’ضرب مومن‘‘ اور ’’اسلام‘‘ میں ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ کے خلاف باقاعدہ مورچہ قائم کر رکھا ہے اور وہ خوب ’’داد شجاعت‘‘ پا رہے ہیں۔ ہم نے دینی وعلمی مسائل پر اختلافات کی حدود کے اندر باہمی مکالمہ کی ضرورت کا ایک عرصے سے احساس دلانا شروع کر رکھا ہے اور اس میں بحمد اللہ تعالیٰ ہمیں اس حد تک کامیابی ضرور حاصل ہوئی ہے کہ باہمی بحث ومباحثہ کا دائرہ وسیع ہونے لگا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۳ء

عمار خان ناصر اور اس کے ناقدین

ہمارے ہاں بد قسمتی سے یہ مزاج پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ رائے کا اختلاف، تحقیق سے پیدا ہونے والا اختلاف اور علمی مسائل میں تحقیق وتجزیہ کا معاملہ ذاتی پسند و ناپسند اور مخالفت و عناد کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ اور ہم جس سے کسی مسئلہ پر اختلاف کرتے ہیں، اسے کسی نہ کسی دشمن کا ایجنٹ اور گماشتہ قرار دیے بغیر خود اپنے موقف کی سچائی پر ہمارا اعتماد قائم نہیں ہوتا۔ تحریک پاکستان میں قیام پاکستان کی حمایت ومخالفت میں دونوں طرف ہمارے بزرگ تھے اور ارباب علم وفضل تھے، مگر اس دور کا لٹریچر ایسے الزامات سے بھرا پڑا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۳ء

نسل انسانی کو درپیش اجتماعی مسائل ۔ خوش آمدید جناب بل کلنٹن!

ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر جناب بل کلنٹن کے جنوبی ایشیا کے دورے کا آغاز ہو چکا ہے اور وہ اس دورے کے اختتام پر چند گھنٹوں کے لیے پاکستان بھی تشریف لانے والے ہیں۔ ان کے اس مختصر دورۂ پاکستان اور پاکستانی لیڈروں کے ساتھ گفت و شنید میں ان کے ایجنڈے اور ترجیحات کے حوالے سے قومی پریس میں مثبت اور منفی پہلوؤں پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور دورۂ کے بعد بھی بہت کچھ لکھا جائے گا۔ لیکن اس ساری بحث سے قطع نظر ایک محترم مہمان کے طور پر جنوبی ایشیا اور پاکستان میں تشریف آوری پر ہم جناب بل کلنٹن کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۰۰ء

شاہ ولی اللہؒ کی تعلیمات اور فکرِ اقبالؒ میں فرق

حضرت شاہ ولی اللہؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے درمیان دو صدیوں کا فاصلہ ہے۔ شاہ ولی اللہؒ کا دور وہ ہے جب اورنگزیب عالمگیرؒ کی نصف صدی کی حکمرانی کے بعد مغل اقتدار کے دورِ زوال کا آغاز ہوگیا تھا اور شاہ ولی اللہؒ کو دکھائی دے رہا تھا کہ ایک طرف برطانوی استعمار اس خطہ میں پیش قدمی کر رہا ہے اور دوسری طرف جنوبی ہند کی مرہٹہ قوت دہلی کے تخت کی طرف بڑھنے لگی ہے۔ جبکہ علامہ اقبالؒ کو اس دور کا سامنا تھا جب انگریزوں کی غلامی کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد برصغیر کے باشندے اس سے آزادی کی جدوجہد میں مصروف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم دسمبر ۲۰۱۲ء

علم الکلام اور اس کے جدید مباحث

علم العقائد اور علم الکلام کے حوالے سے اس وقت جو مواد ہمارے ہاں درس نظامی کے نصاب میں پڑھایا جاتا ہے، وہ اس بحث و مباحثہ کی ایک ارتقائی صورت ہے جس کا صحابہ کرامؓ کے ہاں عمومی طور پر کوئی وجود نہیں تھا اور اس کا آغاز اس وقت ہوا جب اسلام کا دائرہ مختلف جہات میں پھیلنے کے ساتھ ساتھ ایرانی، یونانی، قبطی اور ہندی فلسفوں سے مسلمانوں کا تعارف شروع ہوا اور ان فلسفوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے شکوک و سوالات نے مسلمان علماء کو معقولات کی طرف متوجہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ و ۲۲ مئی ۲۰۰۸ء

مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ

حضرت مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ طویل علالت کے بعد گزشتہ دنوں انتقال کر گئے ہیں اور اپنے ہزاروں سامعین، دوستوں اور عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ قاری صاحب محترمؒ اپنے وقت کے ایک بڑے خطیب حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے چھوٹے بھائی تھے اور خود بھی ایک بڑے خطیب تھے۔ ان دونوں بھائیوں نے کم و بیش نصف صدی تک پاکستان میں اپنی خطابت کا سکہ جمایا ہے اور صرف سامعین میں اپنا وسیع حلقہ قائم نہیں کیا بلکہ خطیب گر کے طور پر بیسیوں خطباء کو بھی اپنی لائن پر چلایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ فروری ۲۰۱۳ء

جہادی تحریکات، سی ٹی بی ٹی اور قرآن کا حکم

ایک قومی اخبار کے لاہور ایڈیشن کی رپورٹ کے مطابق چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے امریکی سینٹروں کے ساتھ ملاقات کے دوران ان پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان جہادی تنظیموں پر پابندی نہیں لگا سکتا اور نہ ہی مسلمانوں کو جہاد سے روکا جا سکتا ہے جیسے روس کے خلاف جہاد کو نہیں روکا جا سکا تھا۔ مذکورہ رپورٹ میں اعلیٰ عسکری ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے امریکی سینٹروں کو بتا دیا ہے کہ جہاد مسلمانوں کا مذہبی فریضہ اور اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے اور دنیا میں مسلمان جہاں بھی جہاد کرتے ہیں وہ دراصل اپنا مذہبی فریضہ نبھاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جنوری ۲۰۰۰ء

دینی مدارس میں عصری علوم

دینی مدارس کے نصاب و نظام میں عصری علوم کو شامل کرنے کے حوالہ سے مختلف اصحابِ دانش نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور اس مفید مباحثہ کے نتیجے میں بہت سے نئے پہلو سامنے آرہے ہیں جن پر غور و خوض یقیناً اس بحث کو مثبت طور پر آگے بڑھانے کا باعث ہوگا۔ اس سلسلہ میں جامعہ دارالعلوم کراچی کے ایک طالب علم محمد افضل کاسی آف کوئٹہ کا خط پیش خدمت ہے، راقم الحروف کے نام اس خط میں انہوں نے اس مسئلہ پر ایک طالب علم کے طور پر اپنے جذبات و تاثرات پیش کیے ہیں جو یقیناًقابل توجہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۳ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter