برطانیہ میں مسلمانوں کی دینی تعلیم کا مربوط سلسلہ

برطانیہ کا اس سال کا گرم ترین ویک اینڈ میں نے بہت مصروف گزارا۔ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی پیشگوئی کر دی تھی کہ ۱۹ جون کا اتوار اس موسم کا گرم ترین دن ہو گا۔ چنانچہ اس روز لندن کا درجہ حرارت ۳۳ سینٹی گریڈ تھا، مگر گرمی کے آثار ایک دو روز پہلے ہی شروع ہو گئے تھے۔ لیسٹر کے مولانا محمد فاروق مُلا نے مجھے پابند کر رکھا تھا کہ ۱۸ جون کو ہفتہ کا دن ان کے ساتھ گزاروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جون ۲۰۰۵ء

برصغیر میں ماضی قریب کی دینی جدوجہد پر ایک نظر

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ نو آبادیاتی دور میں عیسائی ممالک نے دنیا کے مختلف حصوں پر قبضے جمائے اور مسلمان ممالک میں سے کوئی فرانس کے تسلط میں چلا گیا، کوئی برطانیہ، کوئی ہالینڈ، کوئی پرتگال اور کوئی اٹلی کے قبضے میں چلا گیا۔ مجموعی طور پر تقریباً ایک صدی ایسی گزری ہے کہ مسلم ممالک کی اکثریت غیر مسلم مسیحی قوتوں کے تسلط میں تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ فروری ۲۰۱۶ء

اسلام آباد میں ’’امریکہ اور عالمِ اسلام‘‘ سیمینار

پاکستان شریعت کو نسل کے زیر اہتمام علماء کرام اور دانشوروں کے ایک بھرپور سیمینار میں خلیج عرب میں امریکی افواج کی مسلسل موجودگی کو حرمین شریفین کے تقدس اور تحفظ کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے دنیا بھر کی مسلمان حکومتوں اور بین الاقوامی مسلم تنظیموں سے اپیل کی گئی ہے کہ خلیج سے امریکی فوجوں کی واپسی کے لیے منظم اور مربوط جدوجہد کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ ستمبر ۱۹۹۶ء

قرآن حکیم اور ہماری زندگی

قرآن کریم کا ہماری عملی زندگی سے کیا تعلق ہے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پیشتر یہ بات جاننا ضروری ہے کہ قرآن حکیم اور ہماری زندگی کی انفرادی طور پر حقیقت کیا ہے اور پھر ان دونوں کے حقائق کے درمیان تعلق کس نوعیت کا ہے؟ اگر ان دونوں کے حقائق لازم ملزوم ہیں تو قرآن حکیم ہماری زندگی کے لیے ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۱۹۶۷ء

پیر محسن الدین احمدؒ اور فرائضی تحریک

چند روز قبل لندن سے شائع ہونے والے اردو روزنامہ میں ایک چھوٹی سی خبر تھی کہ بنگلہ دیش کے معروف روحانی پیشوا پیر محسن الدین احمد ضلع فرید پور میں انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ پیر صاحبؒ ہمارے محترم بزرگ تھے جو ایک عرصہ تک جمعیت علماء اسلام مشرقی پاکستان کے امیر رہے ہیں، وہ متحدہ پاکستان کی آخری قومی اسمبلی کے رکن تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ ستمبر ۱۹۹۷ء

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے میجر جنرل (ر) ظہیر الاسلام عباسی کی اپیل

گزشتہ دنوں اخبارات میں ایک مختصر سی خبر شائع ہوئی کہ میجر جنرل (ر) ظہیر الاسلام عباسی نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو ہری پور سنٹرل جیل سے ایک اپیل بھجوائی ہے جس میں ان سے ان فوجی افسروں کے کیس کا ازسرنو جائزہ لینے کی درخواست کی گئی ہے جنہیں گزشتہ سال ملک کے خلاف سازش کے الزام میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی طرف سے سزائیں سنائی گئی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اپریل ۱۹۹۷ء

چودھواں آئینی ترمیمی بل اور سیاسی جماعتوں کا داخلی نظام

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے دستور میں ترمیم کا چودھواں بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت اسمبلیوں کے ارکان کی ’’فلور کراسنگ‘‘ پر پابندی لگا دی گئی ہے، اور اب اگر کسی رکن اسمبلی نے اس سیاسی جماعت سے علیحدگی اختیار کی یا اس کے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی جس کے ٹکٹ پر وہ منتخب ہوا ہے یا جس میں اس نے باضابطہ شمولیت اختیار کی ہے، تو وہ اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہو جائے گا۔ اس بل کے بارے میں عام طور پر مکمل تحریر

۱۴ جولائی ۱۹۹۷ء

لیڈی ڈیانا کی یاد میں

پرنسس آف ویلز شہزادی ڈیانا کی حادثاتی موت پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور مسلسل لکھا جا رہا ہے۔ اصحابِ قلم اپنے اپنے ذوق اور زاویۂ نگاہ سے شہزادی کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کر رہے ہیں اور اربابِ دانش لیڈی ڈیانا کو حادثاتی موت کے بعد عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی کے اسباب تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اکتوبر ۱۹۹۷ء

تبدیلی کا مجددی راستہ اور مولانا فضل الرحمٰن

جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا یہ اعلان نظر سے گزرا کہ جمعیت نے انتخابی سیاست سے کنارہ کشی کا فیصلہ کر لیا ہے اور اب جمعیت الیکشن میں حصہ لینے کی بجائے اپنے مقاصد کے لیے عوامی جدوجہد کو منظم کرنے کا راستہ اختیار کرے گی۔ انہوں نے موجودہ انتخابی سسٹم پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نظام میں اچھے افراد کا آگے آنا اور اسلامی نظام کا نافذ ہونا ممکن نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جولائی ۱۹۹۷ء

دو دن طالبان کے کابل میں

گزشتہ ماہ کے آخر میں دو روز کے لیے کابل جانے کا موقع ملا۔ اس سے قبل اس دور میں کابل جانا ہوا تھا جب نجیب حکومت کے خاتمہ کے بعد پروفیسر صبغۃ اللہ مجددی مجاہدین کی عبوری حکومت کے سربراہ تھے، احمد شاہ مسعود وزیر دفاع کی حیثیت سے عسکری معاملات کو کنٹرول کر رہے تھے، افغانستان کی سابق حکمران پارٹی کا ہیڈ کوارٹر مولوی محمد نبی محمدی کی حرکتِ انقلاب اسلامی کے قبضہ میں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ مارچ ۱۹۹۷ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter