برطانیہ میں غیر سودی سرمایہ کاری کا منصوبہ

چند ہفتے قبل برطانیہ میں لنکاشائر کے شہر برنلے کی مسجد فاروق اعظمؓ کے سیکرٹری حاجی عزت خان صاحب کے ہاں نماز جمعہ کے بعد کھانے کے لیے بیٹھے تھے کہ ایک انگریز نوجوان بریف کیس ہاتھ میں پکڑے وارد ہوا، اس کے ساتھ ایک مسلمان بھائی تھے۔ ہم کھانے سے فارغ ہو کر چائے پینے کی تیاری کر رہے تھے، انہیں بھی چائے میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی اور اس کے ساتھ ہی گفتگو کا آغاز ہو گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم ستمبر ۱۹۹۷ء

الجزائر کے انتخابات اور افسوسناک داخلی صورتحال

برادر مسلم ملک الجزائر میں عام انتخابات پانچ جون کو ہوئے اور جوں جوں انتخابات کی تاریخ قریب آ رہی تھی، الجزائر میں قتل و غارت کی خبروں میں اضافہ ہو رہا تھا۔ لندن کے بعض اخبارات نے ریڈیو نشریات کے حوالے سے یہ خبر شائع کی ہے کہ گزشتہ پیر کے روز الجزائر کے سکیورٹی فورسز نے قومی انتخابات سے قبل کی جانے والی کارروائی کے تحت ایک سو تیس راسخ العقیدہ مسلمانوں کو ہلاک کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جون ۱۹۹۷ء

ترکی میں اسلامی اقدار کے اَحیا کی جدوجہد

ترکی کے وزیر اعظم جناب نجم الدین اربکان کے خلاف قومی اسمبلی میں مخالف پارٹیوں کی طرف سے پیش کی جانے والی تحریکِ مذمت گزشتہ دنوں سات ووٹوں سے ناکام ہو گئی۔ بی بی سی کے ایک نشریہ کے مطابق یہ تحریک فوج کے دباؤ کے تحت پیش کی گئی تھی لیکن اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۱۹۹۷ء

چین کے صوبہ سنکیانگ کے مسلمانوں کی صورتحال

عوامی جمہوریہ چین کے سرحدی صوبہ سنکیانگ میں ترک مسلمانوں اور چینی نسل کے لوگوں کے درمیان فسادات کی خبریں کچھ دنوں سے پھر منظر عام پر آرہی ہیں، اور ’’نیوز ویک‘‘ نے اپنی حالیہ اشاعت میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان فسادات کے حوالے سے سنکیانگ کے مسلمانوں کے خلاف چینی حکومت کے اقدامات عالمِ اسلام کے ساتھ چین کے تعلقات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مارچ ۱۹۹۷ء

بھارتی پارلیمنٹ میں یکساں سول کوڈ کا بل

بھارتی پارلیمنٹ میں ان دنوں ملک بھر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے لیے ایک پرائیویٹ بل پر بحث جاری ہے، یہ بل جنتا پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ شنکررادت نے پیش کر رکھا ہے اور اسے بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیوسینا کی حمایت حاصل ہے جو بھارت میں انتہا پسند ہندو تنظیمیں شمار کی جاتی ہیں، جبکہ کانگریس اور جنتادل نے اس بل کی مخالفت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ جون ۱۹۹۷ء

سرحد میں نظامِ صلوٰۃ کے قیام کے اعلان پر منفی تبصرے کیوں؟

ایک کہاوت مختلف حوالوں سے بیان ہوتی آ رہی ہے کہ کسی صاحب کو اپنے بازو پر شیر کی تصویر بنوانے کا شوق چرایا تو انہوں نے ایک گودنے والے کی خدمات حاصل کیں، جو سوئی سے جسم پر نقشے کے مطابق سوراخ کر کے ان میں رنگ بھرتا اور جلد پر تصویر نقش ہو جاتی۔ گودنے والے نے سوئی سنبھالی اور ان صاحب کا ہاتھ پکڑ کر اپنا کام شروع کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جولائی ۲۰۰۴ء

’’دینی مدارس میں تحقیق و صحافت: موجودہ صورتحال اور آئندہ کا لائحہ عمل‘‘

انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد ملک کے محبِ وطن اسلامی حلقوں کی طرف سے تبریک و شکریہ کا مستحق ہے کہ تحقیق اور ریسرچ کے شعبہ میں وہ ایک بڑے خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور اپنے قیام کے بعد سے پندرہ سال کے عرصہ میں خاصا کام کر چکا ہے۔ مطالعہ و تحقیق، تجزیہ اور ریسرچ کے ادارے زندہ قوموں کی ضرورت اور علامت ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جولائی ۲۰۰۴ء

لندن میں میڈیا پر ایک سیمینار

گزشتہ اتوار کو ہمبرسمتھ لندن کے آئرش سنٹر ہال میں ورلڈ اسلامک فورم کا چوتھا سالانہ میڈیا سیمینار منعقد ہوا جس کی صدارت فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے کی اور اس میں میڈیا کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین شریک ہوئے۔ ورلڈ اسلامک فورم اس سے قبل لندن میں تین سالانہ سیمینار کر چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اگست ۱۹۹۷ء

ایک نومسلم آئرش بزرگ حاجی عبدالرحمٰن سے ملاقات

جامعہ الہدیٰ نوٹنگھم میں اگر کبھی دو تین روز قیام کا موقع ملے تو میزبانی میں ایک سفید ریش بزرگ پیش پیش نظر آئیں گے۔ سرخی مائل سفید رنگت، کرتہ شلوار اور سفید عمامے کے ساتھ واسکٹ پہنے ہوئے پہلی نظر میں کوئی افغان عالم دین محسوس ہوتے ہیں لیکن وہ افغان نہیں آئرش ہیں۔ ان کا نام حاجی عبدالرحمٰن ہے اور جنوبی آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اگست ۱۹۹۷ء

میثاقِ مدینہ یا خلافتِ راشدہ؟

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل صاحب نے اپنی قائم کردہ ’تحریکِ اتحادِ پاکستان‘‘ کے مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے ایک حالیہ مضمون میں اس بات پر زور دیا ہے کہ آج کے دور میں اسلامی ریاست کی تشکیل کے لیے ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کو بنیاد بنانے کی ضرورت ہے۔ میثاقِ مدینہ کے بارے میں ان کے علاوہ بھی بہت سے دانشور کچھ عرصے سے یہ بات کہتے آ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جولائی ۱۹۹۷ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter