شریعت بل: جمعیت علماء اسلام کا نقطۂ نظر

قومی اسمبلی میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت کی طرف سے پیش کردہ شریعت بل کا مسودہ اخبارات کے ذریعے سامنے آنے کے بعد متحدہ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے قائم مقام امیر مولانا محمد اجمل خان نے اس مسودہ کا جائزہ لینے کے لیے (۱) مولانا میاں محمد اجمل قادری (۲) سینیٹر حافظ حسین احمد (۳) جناب عبد المتین چودھری ایڈووکیٹ آف ساہیوال اور (۴) راقم الحروف ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مئی ۱۹۹۱ء

ہفت روزہ نقاب گوجرانوالہ کا انٹرویو

مولانا زاہد الراشدی ۲۸ اکتوبر ۱۹۴۸ء کو گکھڑ ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا شمار ملک کے نامور علماء اور مصنفین میں ہوتا ہے۔ مولانا زاہد الراشدی کا پورا نام ’’محمد عبد المتین خان زاہد‘‘ ہے۔ یہ نام تاریخی ہے جس کا عدد حروف ابجد کے اعتبار سے ۱۳۶۷ بنتا ہے جو ہجری لحاظ سے ان کا سن پیدائش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جنوری ۱۹۹۶ء

قومی معیشت کی ’’اوورہالنگ‘‘ کی ضرورت

روزنامہ اوصاف لاہور ۲۹ دسمبر ۲۰۲۳ء کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کے علاقائی ڈائریکٹر ناجی بن حسائن نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں پاکستان کی معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا معاشی ماڈل ناکارہ ہو چکا ہے، پاکستان کو اپنی معیشت کی اوورہالنگ کرنے کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۲۴ء

احتساب اور اس کے تقاضے

صدر محترم جناب فاروق احمد خان لغاری نے قومی اسمبلی توڑ کر محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو رخصت کر دیا ہے اور جناب ملک معراج خالد کو نگران وزیر اعظم مقرر کر کے تین فروری ۱۹۹۷ء کو انتخاب کرانے کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات پر عام طور پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے اور کچھ حلقے ناخوش بھی ہیں۔ نگران وزیر اعظم ملک معراج خالد کا تعلق بھی حکمران پارٹی سے ہے اور وہ پیپلز پارٹی کے بانی ارکان میں سے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ نومبر ۱۹۹۶ء

افغان طالبان کا موقف

راقم الحروف کو آٹھ تا گیارہ جون تین چار یوم افغانستان کی تحریک طالبان اسلام کے مختلف حضرات کے ساتھ ملاقاتوں کا موقع ملا تو اس دوران کوئٹہ، قندھار اور افغانستان کے سرحدی قصبہ سپین بولدک میں طالبان کے متعدد ذمہ دار حضرات سے افغانستان کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں طالبان کا موقف اور مختلف مسائل کے حوالے سے ان کے خیالات ان سطور کی صورت میں قارئین کے سامنے پیش کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اکتوبر ۱۹۹۶ء

حضرت عمر فاروق اعظمؓ کا معیارِ حکمرانی

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسلام کے طرزِ حکمرانی کی بات مختصراً دو کالموں میں ہو چکی ہے۔ آج کے کالم میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت کے چند واقعات درج کیے جا رہے ہیں، جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام کا حکمرانی کا مزاج کیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے خلیفۂ دوم کی حیثیت سے زمامِ اقتدار سنبھالنے کے بعد صوبوں کے گورنروں اور دیگر عمّال کو جو ہدایات جاری کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اگست ۱۹۹۶ء

پہلے احتساب یا انتخاب؟

پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف نے قومی اسمبلی کے انتخابات بہرصورت تین فروری کو کرانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اسمبلی احتساب کے لیے نہیں بلکہ انتخاب کے لیے توڑی گئی ہے اس لیے احتساب کے نام پر انتخابات کو ملتوی کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس سے قبل صدر سردار فاروق احمد خان لغاری نے بھی اپنی نشری تقریر میں کہا تھا کہ وہ احتساب کے نام پر انتخاب کو ملتوی نہیں ہونے دیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ نومبر ۱۹۹۶ء

مذہب ہی خواہشات اور مفادات کا توازن قائم کر سکتا ہے

کابل پر طالبان کی حکومت کے قیام اور ان کی طرف سے افغانستان میں مکمل شرعی نظام کے نفاذ کے اعلان کے بعد اسلامی شریعت ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئی ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ علم و دانش کی محفلوں میں بھی شرعی قوانین کے مختلف پہلوؤں کا ذکر پہلے سے زیادہ ہونے لگا ہے، دنیا بھر کی اسلامی تحریکات کو طالبان کی اس کامیابی سے حوصلہ ملا ہے اور وہ شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ و غلبہ کی جدوجہد میں نئے جذبہ و ولولہ کے ساتھ پیشرفت کر رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ اکتوبر ۱۹۹۶ء

دینی مدارس کا آزادانہ کردار اور مغربی لابیاں

لاہور کے ایک قومی روزنامہ نے ۳ اگست ۱۹۹۶ء کو کے پی آئی کے حوالہ سے یہ خبر شائع کی ہے کہ پنجاب کے چیف سیکرٹری نے تمام ڈپٹی کمشنروں سے دینی مدارس کے بارے میں کوائف طلب کر لیے ہیں۔ خبر کے مطابق ان کوائف کے حصول کے بعد حکومت دینی مدارس کو تحویل میں لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ عوام کے رضا کارانہ تعاون اور چندے سے چلنے والے دینی مدارس ملک کے ہر علاقے میں موجود ہیں اور یہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں مکمل تحریر

۱۷ اگست ۱۹۹۶ء

اسلامی ریاست کی اصولی بنیادیں

آج یومِ پاکستان ہے جو اس تاریخی قرارداد کی یاد میں منایا جاتا ہے جو آج سے سات عشرے قبل لاہور کے اس میدان میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں منظور کی گئی، جہاں اس قرارداد کی یادگار کے طور پر مینارِ پاکستان تعمیر کیا گیا ہے۔ اس قرارداد میں کہا گیا کہ مسلمان ایک مستقل قوم کی حیثیت رکھتے ہیں اور دین و مذہب کے ساتھ ساتھ اپنی الگ تہذیب و ثقافت کا امتیاز انہیں حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مارچ ۲۰۱۴ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter