مقالات و مضامین

مولانا طارق جمیل ’’نائن زیرو‘‘ میں

مولانا طارق جمیل کو نائن زیرو میں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ میں آج صبح (۳۱ جولائی) نیویارک کے علاقہ لانگ آئی لینڈ میں مولانا عبد الرزاق عزیز کے ہاں تھا، وہ ایک عرصہ کراچی میں رہے ہیں، شیرشاہ کی جامع مسجد طور میں خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں اور جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم راہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ ناشتے کے بعد برونکس روانگی سے قبل انہوں نے مجھے کہا کہ جانے سے قبل ایک نظر خبروں پر ڈال لیتے ہیں۔ خبروں میں دیکھا کہ مولانا طارق جمیل ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پہنچے ہوئے ہیں اور کراچی والوں کو محبت کا پیغام دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اگست ۲۰۱۱ء

قادیانی گروہ کی عالمی سرگرمیاں اور ہمارا مطلوبہ لائحہ عمل

امریکہ میں قادیانی گروہ کی سرگرمیوں کے بارے میں گزشتہ کالم میں مختصرًا کچھ عرض کر چکا ہوں مگر اس پر قدرے تفصیل کے ساتھ غور و فکر اور سوچ بچار کی ضرورت ہے، اس لیے کہ نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں قادیانی سرگرمیوں کا دائرہ وسعت پکڑتا جا رہا ہے حتیٰ کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے مسلمان ملک انڈونیشیا میں بھی ان دنوں مسلم قادیانی کشمکش زوروں پر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۲۰۱۱ء

جہلم اور راولپنڈی کا تعزیتی سفر

گزشتہ روز (۶ جنوری) راولپنڈی ڈویژن کے ایک تعزیتی سفر کا اتفاق ہوگیا، حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمی قدس اللہ سرہ العزیز کے برادر خورد اور میرے پرانے بزرگ دوست مولانا حکیم مختار احمد الحسینیؒ کا پچھلے دنوں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ایک دور میں متحرک فکری اور نظریاتی راہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور ان کے ساتھ میری پرجوش رفاقت رہی ہے۔ انہوں نے کچھ عرصہ جامعہ نصرۃ العلوم میں بھی تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کا نام آج کے نوجوان علماء اور کارکنوں کے لیے اجنبی ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جنوری ۲۰۱۸ء

جمعیۃ علماء اسلام کی رکن سازی کا خصوصی عشرہ: چند گزارشات

رکن سازی کا کام شروع ہوئے چار ماہ کے قریب عرصہ ہو چکا ہے اور گزشتہ سالوں کی بہ نسبت اس دفعہ رکن سازی کی رفتار اور اس سلسلہ میں ہونے والا کام بہت بہتر ہے۔ البتہ قومی سیاست میں قائد جمعیۃ مولانا مفتی محمود کے روشن کردار، تحریک نظامِ مصطفٰیؐ میں جمعیۃ علماء اسلام کے راہنماؤں اور کارکنوں کی بے مثال قربانیوں اور سیاسی امور میں جمعیۃ علماء اسلام کے متوازن اور متحرک کردار کے باعث جمعیۃ کے سیاسی وقار اور مقبولیت میں جو اضافہ ہوا ہے اس کے پیش نظر رکن سازی کے سلسلہ میں ہونے والا کام اور پیش رفت قطعاً غیر تسلی بخش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ مارچ ۱۹۷۹ء

آسیہ مسیح کیس: سیکولر لابی کی دیدہ دلیری اور دینی قوتوں کا امتحان

آسیہ مسیح کا کیس توہینِ رسالت کے سابقہ درجنوں کیسوں سے مختلف نہیں ہے اور نہ ہی اس پر سیکولر حلقوں کا ردعمل اور ان کی سرگرمیاں غیر متوقع ہیں۔ البتہ دینی حلقوں کی بیداری اور ان کے ردعمل کی کیفیت بہرحال پہلے جیسی نہیں ہے اور اہل دین کے لیے اصل لمحۂ فکریہ یہی ہے۔ ایک مسیحی خاتون نے مبینہ طور پر توہینِ رسالتؐ کا ارتکاب کیا، اس کے خلاف مقدمہ درج ہوا، عدالت میں کیس چلا اور تمام ضروری عدالتی مراحل سے گزرنے کے بعد مجاز عدالت نے اسے موت کی سزا سنا دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ نومبر ۲۰۱۰ء

پارٹی سسٹم کی بنیاد پر الیکشن کی تجویز

صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک غیر ملکی جریدہ ’’امپیکٹ انٹرنیشنل‘‘ کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں افراد کی بجائے جماعتوں کو ووٹ دینے کے سلسلہ میں اظہارِ خیال کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’وہ اس نظام کے حق میں ہیں لیکن جب انہوں نے یہ تجویز سیاستدانوں کو پیش کی تو ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے لگی۔‘‘ ہمارے خیال میں اس تجویز پر سیاستدانوں کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ خود سیاستدان بارہا پارٹی سسٹم کی بنیاد پر انتخابات کرانے کا مطالبہ کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جنوری ۱۹۷۹ء

اسلامی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے مل جل کر کام کرنا ہوگا

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی رکن سازی ملک بھر میں چار ماہ سے جاری ہے جو پروگرام کے مطابق آخر مارچ تک جاری رہے گی اور اس کے بعد عہدہ داروں کے مرحلہ وار انتخابات کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ گزشتہ ادوار کی بہ نسبت اس دفعہ جمعیۃ کی رکن سازی میں عوام کی دلچسپی بہت زیادہ اور حوصلہ افزا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ قومی سیاست میں قائد جمعیۃ مولانا مفتی محمود کا کردار، تحریک نظام مصطفٰیؐ میں جمعیۃ علماء اسلام کے راہنماؤں اور کارکنوں کی قربانیاں، اور جمعیۃ علماء اسلام کی متوازن اور متحرک سیاسی جدوجہد ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ مارچ ۱۹۷۹ء

تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کا اجلاس

متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کے زیراہتمام ۸ جون کو دفتر احرار لاہور میں پیر جی سید عطاء المہیمن شاہ بخاری کی زیرصدارت مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور راہنماؤں کا مشترکہ اجلاس ہوا جو نمائندگی کے لحاظ سے بھرپور تھا اور اس میں لاہور میں قادیانی مراکز پر ہونے والے مسلح حملوں سے پیدا شدہ صورتحال کے ساتھ ساتھ میڈیا میں قادیانی مسئلہ کے بارے میں بحث و مباحثہ اور میاں نواز شریف کے حالیہ بیان سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جون ۲۰۱۰ء

مولانا قاضی بشیر احمد کشمیریؒ، مولانا قاضی عبد الحلیم کلاچویؒ اور قاری سعید احمدؒ

حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ کی وفات کے بعد ایک محفل میں ذکر چل پڑا کہ اب ہمارے ملک میں اس کھیپ کے بزرگوں میں سے کون کون موجود ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میری معلومات کے مطابق مولانا محمد یوسف خان آف پلندری آزاد کشمیر اور حضرت مولانا قاضی عبد الکریم کلاچوی اس کھیپ کے آخری دو بزرگ ہیں جو ہمارے لیے برکات اور دعاؤں کا سہارا ہیں۔ ان کے ساتھ حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا عبید اللہ اشرفی، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر، حضرت مولانا صوفی محمد سرور اور حضرت مولانا قاضی عبد اللطیف آف کلاچی کو بھی میں اسی کھیپ کا حصہ سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۲۰۱۰ء

مولانا عبد القیوم حقانی اور جامعہ ابوہریرہؓ

بعض کام اس قدر اچانک اور غیر متوقع طور پر ہو جاتے ہیں کہ یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ اس میں ہمارے ارادے کا کوئی دخل نہیں تھا اور کسی نے طے شدہ منصوبے کے تحت وہ کام کروا دیا ہے۔ ۲۱ اکتوبر کو حسن ابدال میں پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس تھا، میرا پروگرام تھا کہ ۲۰ اکتوبر کو رات راولپنڈی یا ٹیکسلا میں گزاروں گا اور ۲۱ اکتوبر کو صبح اجلاس کے لیے مرکز حافظ الحدیث حسن ابدال پہنچ جاؤں گا۔ دو روز قبل نوشہرہ سے مولانا عبد القیوم حقانی کا فون آیا کہ آپ حسن ابدال آرہے ہیں تو رات کو ان کے مدرسے جامعہ ابوہریرہ آجائیں، صبح اکٹھے حسن ابدال چلیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم نومبر ۲۰۱۰ء

نظامِ مصطفٰیؐ کا نفاذ اور ہماری ذمہ داریاں

کم و بیش دو صدیوں پر محیط مسلسل جدوجہد اور ملتِ اسلامیہ کی پشت ہا پشت کی طویل قربانیوں کے بعد جب امسال ۱۲ ربیع الاول کو صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ملک میں چند اسلامی قوانین کے نفاذ کا اعلان کیا تو ہر محبِ وطن شہری نے اطمینان کا سانس لیا کہ بدیر سہی لیکن بالآخر ہم نے اپنا رخ صحیح منزل کی طرف کر لیا ہے، اب اگر ہم سست روی سے چلے تب بھی کم از کم یہ اطمینان تو ہوگا کہ قوم کی اجتماعی گاڑی کا رخ اس کی اصل منزل کی طرف ہے اور اسے دوسری طرف پھیرا نہیں جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جولائی ۱۹۷۹ء

دورِ حاضر کی اہم دینی ضروریات: ایک بیٹی کا خط

میں آپ کا کالم روزنامہ اسلام میں بہت شوق سے پڑھتی ہوں، اللہ پاک نے آپ کو وسیع الظرفی، حقیقت پسندی، جدید حالات کا فہم، مغربی ذہنیت کا ادراک، قدیم مسائل کو جدید حالات پر منطبق کرنا، بے تکلف قوتِ تحریر، طبعیت میں اکابر والی سادگی، سلف صالحین کے اصل مزاج کو باقی رکھتے ہوئے جدید حالات کے تقاضوں کو پورا کرنے کی لگن، جدید طبقات سے قریبی روابط، مغربی دنیا کو بار بار قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کے مواقع، معاصر اہل علم کا اعتماد، تفسیرِ قرآن و علومِ حدیث سے طبعی مناسبت عطا فرمائی ہے۔ اللہم زد فزد ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ مئی ۲۰۱۰ء

کچھ نسبتوں کے بارے میں

ان دنوں ملک کے بہت سے دیگر دینی مدارس کی طرح جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں بھی ششماہی امتحان کی تعطیلات ہیں۔ میرا معمول سالہا سال سے یہ تعطیلات برطانیہ میں گزارنے کا رہا ہے لیکن اس بار ویزا کے حصول میں تاخیر کے باعث یہ سفر نہ ہو سکا اور میں اس وقت کراچی میں بیٹھا ہوں۔ اتوار کا دن اسلام آباد میں گزرا، اڈل ٹاؤن ہمک میں ہمارے ایک عزیز فاضل مولانا سید علی محی الدین اپنے بزرگوں کی دینی و روحانی میراث سنبھالے بیٹھے ہیں اور ذوق و حوصلہ کے ساتھ خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اپریل ۲۰۱۰ء

صدر ٹرمپ کا بیان اور امریکی قیادت کی نفسیات

صدر ٹرمپ کے بیان پر پاکستانی قوم نے جس متفقہ موقف اور ردعمل کا اظہار کیا ہے وہ قومی وقار اور حمیت کا ناگزیر تقاضہ ہے اور امریکہ کے لیے واضح پیغام ہے کہ بس! اب بہت ہو چکی ہے اور اس سے آگے کوئی بات قابل برداشت نہیں ہوگی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو ان کے بقول گزشتہ پندرہ سال کے دوران تینتیس ارب ڈالر دیے ہیں لیکن پاکستان نے دوغلے پن سے کام لیا ہے اور امریکہ کی توقعات کو پورا کرنے کی بجائے جھوٹ اور فریب کا مظاہرہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جنوری ۲۰۱۸ء

لاہور کا اجتماع اور علماء دیوبند کا مشترکہ موقف

ایک مدت کے بعد دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے سرکردہ علماء کرام کا ایک نمائندہ اجتماع جامعہ اشرفیہ لاہور میں ۱۵ اپریل جمعرات کو منعقد ہوا جس کی صدارت وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سربراہ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم نے فرمائی اور ملک بھر سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ علماء کرام نے شرکت کی۔ اس سے قبل پندرہ بیس کے لگ بھگ سرکردہ اہل علم نے جامعہ اشرفیہ میں ہی مسلسل مشاورت کی جو دو روز تک جاری رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اپریل ۲۰۱۰ء

تبلیغی جماعت کے اہداف: بانیٔ جماعت کے ملفوظات کی روشنی میں

تبلیغی جماعت کی جدوجہد اصولی طور پر مسلمانوں کو دین کے عملی ماحول کی طرف واپس لانے، مسجدوں کو آباد کرنے اور عام مسلمانوں میں دین کی تعلیم اور دینی اعمال پر عمل کا ذوق بیدار کرنے کی تحریک ہے۔ تبلیغی جماعت کے اہل دانش کا کہنا ہے کہ جب عام مسلمانوں میں دین پر عمل کا ماحول عام ہوگا، مسجدیں آباد ہوں گی، قرآن و سنت کی تعلیم کا فروغ ہوگا اور امت مسلمہ مجموعی طور پر دینی ماحول کی طرف واپس آجائے گی تو اس سے دو بڑے فائدے ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ نومبر ۲۰۱۱ء

علماء کرام کا تاریخ ساز سہ روزہ اجتماع

گزشتہ ہفتے کے دوران جامعہ اشرفیہ لاہور میں منعقد ہونے والے اکابر علماء کرام کے سہ روزہ اجتماع کے بارے میں مجموعی طور پر بہت اچھے تاثرات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ملک بھر میں دیوبندی علماء اور کارکنوں کو اس بات سے حوصلہ ملا ہے کہ ہمارے بزرگ مل بیٹھے ہیں، پیش آمدہ مسائل پر انہوں نے کھلے دل کے ساتھ باہمی گفتگو کی ہے، گلے شکوے بھی ہوئے ہیں، بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا ہے اور مل جل کر چلنے کے عزم کے اظہار کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً اس قسم کی اجتماعی مشاورت جاری رکھنے کا اعلان ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اپریل ۲۰۱۰ء

رائے ونڈ کا تبلیغی اجتماع ۲۰۰۸ء

رائے ونڈ کے عالمی تبلیغی اجتماع کے حوالہ سے میرا معمول یہ چلا آرہا ہے کہ اجتماع کے دوسرے روز یعنی ہفتہ کے دن حاضری دیتا ہوں اس طور پر کہ صبح گوجرانوالہ سے روانہ ہوتا ہوں اور مغرب رائے ونڈ میں پڑھ کر واپسی کرتا ہوں۔ مگر اس سال یہ معمول تبدیل کرنا پڑا اس لیے کہ گوجرانوالہ میں جمعیۃ علماء اسلام سے قدیمی تعلق رکھنے والے ایک خاندان میں اس روز ایک نوجوان کی شادی تھی اور ان کا اصرار تھا کہ نکاح بہرحال میں ہی پڑھاؤں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ اکتوبر ۲۰۰۸ء

مسجد حرام میں شیخ عبد الرحمان السدیس کا فکر انگیز خطبہ

۱۷ ستمبر ۲۰۰۴ء کو جمعۃ المبارک کی نماز مسجد حرام میں ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی، جدہ میں مقیم میرے ہم زلف قاری محمد اسلم شہزاد بھی ہمراہ تھے۔ ہم ساڑھے گیارہ بجے کے لگ بھگ مسجد میں داخل ہوئے تو نمازیوں کے ہجوم کے باعث مسجد اپنی تمام تر وسعت کے باوجود تنگ دامنی کی شکایت کر رہی تھی۔ ہر طرف سے لوگ امڈے چلے آرہے تھے حالانکہ نہ حج کا موقع تھا اور نہ ہی رمضان المبارک کا۔ یعنی معروف معنوں میں سیزن نہیں تھا مگر اس کے باوجود نمازیوں کا ہجوم دیدنی تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ ستمبر ۲۰۰۴ء

ختم نبوت کانفرنس کیپ ٹاؤن پر ایک نظر

جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن کے سٹی کونسل ہال میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ اور جنوبی افریقہ کی مسلم جوڈیشیل کونسل کے زیراہتمام منعقد ہونے والی تین روزہ ’’سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس‘‘ بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔ یہ کانفرنس ۳۱ اکتوبر تا ۲ نومبر منعقد ہوئی اور اس میں جنوبی افریقہ اور دیگر افریقی ممالک سے شریک ہونے والے سینکڑوں علماء کرام اور دینی راہنماؤں نے براعظم افریقہ میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے عقیدۂ ختم نبوت اور نئی نسل کے ایمان و عقیدہ کے تحفظ کے لیے جدوجہد کو نئے عزم کے ساتھ منظم کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ نومبر ۲۰۰۸ء

وفاق المدارس کی مجلس عاملہ کا اجلاس

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس ۱۲ نومبر بدھ کو صبح گیارہ بجے دفتر وفاق ملتان میں صدر وفاق شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم کی زیرصدارت منعقد ہوا جو نماز اور کھانے کے وقفے کے ساتھ رات سات بجے تک جاری رہا۔ جبکہ اجلاس کی ایک نشست کی صدارت نائب صدر وفاق حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر دامت برکاتہم نے فرمائی۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں دینی مدارس کے عمومی معاملات کے ساتھ ساتھ نصابات اور امتحانات کے حوالہ سے مختلف امور کا جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کیے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ نومبر ۲۰۰۸ء

دارالعلوم کراچی کا تدوینِ حدیث منصوبہ / عصرِ حاضر کے چیلنج اور ہماری ذمہ داریاں

۸ دسمبر کو دو روز کے لیے کراچی حاضری کا اتفاق ہوا، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے ایک سیمینار کے لیے بطور خاص دعوت دی جو ’’عصرِ حاضر کے چیلنج اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر آواری ٹاورز میں منعقد ہو رہا تھا۔ اس سیمینار کا اہتمام انٹرنیشنل اسلامک سنٹر جوہر ٹاؤن لاہور نے دارالعلم والتحقیق برائے اعلیٰ تعلیم و ٹیکنالوجی کراچی کے تعاون سے کیا۔ یہ سیمینار ۸ اور ۹ دسمبر دو دن جاری رہا۔ انٹرنیشنل اسلامک سنٹر کے نام سے جامعہ خیر المدارس ملتان نے جوہر ٹاؤن لاہور میں ایک ادارہ قائم کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ دسمبر ۲۰۰۷ء

خصوصی اشاعت ماہنامہ الشریعہ ’’بیاد امام اہل سنتؒ‘‘ کی تقریب رونمائی

اکتوبر ۲۰۰۹ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ماہنامہ الشریعہ کی خصوصی اشاعت بیاد امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی جس میں نقابت کے فرائض اکادمی کے شعبہ تصنیف و تالیف کے رکن مولانا حافظ محمد یوسف نے انجام دیے جبکہ مختلف اہل علم نے اپنے تاثرات و احساسات کا اظہار کیا۔ الشریعہ اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور خصوصی اشاعت کے مرتب محمد عمار خان ناصر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ حضرت کی ذات سے اور ان کی خدمات سے جو فیضان دنیا میں پھیلا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اکتوبر ۲۰۰۹ء

گوجرانوالہ: تعمیراتی کام اور لوگوں کے تحفظات

گوجرانوالہ شہر میں مین روڈ پر اقبال ہائی اسکول سے شیرانوالہ باغ تک اوورہیڈ برج کی تعمیر کے مجوزہ منصوبے پر کام کے آغاز کی تیاری ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی عوامی حلقوں میں اس منصوبے کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر بحث و مباحثے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ آج کے اخبارات میں منصوبے کے بارے میں ڈی سی او جناب محمد امین چودھری کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس کے فیصلوں کی کچھ تفصیلات شائع ہوئی ہیں اور اس پر بعض تاجر رہنماؤں کی طرف سے ہنگامی پریس کانفرنس میں بیان کیے گئے ردعمل کا تذکرہ بھی خبروں میں موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ ستمبر ۲۰۱۲ء

بنوں میں ایک دن

طویل عرصہ کے بعد ۲۵ مارچ کو ایک دن کے لیے بنوں جانے کا موقع ملا۔ ایک دور میں بنوں کافی آنا جانا رہا ہے، حضرت مولانا صدر الشہیدؒ بنوں سے قومی اسمبلی کے رکن تھے اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے قریبی رفقاء میں ان کا شمار ہوتا تھا، میری بھی ان سے نیاز مندی رہی ہے اور ان کے ہاں مدرسہ معراج العلوم میں کئی بار حاضری ہوئی مگر بنوں میں میرا اصل ٹھکانہ منڈی نیل گراں کی مسجد حق نواز خان تھی جہاں ہمارے پرانے دوست اور جماعتی ساتھی مولانا قاری حضرت گلؒ امام و خطیب تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اپریل ۲۰۱۰ء

سید نور بخش اور ان کی تعلیمات

چند ہفتے قبل بلتستان کے سفر کے حوالہ سے کچھ مشاہدات و تاثرات ایک دو کالموں میں پیش کر چکا ہوں، ان کے ساتھ میں نے وعدہ کیا تھا کہ نور بخشیہ فرقہ کے بارے میں معروضات کسی مستقل کالم میں پیش کروں گا، اس پس منظر میں یہ سطور سپردِ قلم کر رہا ہوں۔ اس فرقہ کے بانی سید نور بخش قہستانی بتائے جاتے ہیں جو نویں صدی ہجری میں گزرے ہیں اور ان کا سن وفات ان کی اپنی کتاب ’’الفقہ الاحوط‘‘ کے مترجم جناب محمد بشیر نے ۸۴۹ھ لکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ نومبر ۲۰۰۹ء

بین المذاہب مکالمہ کی ضرورت / مسلم مسیحی کشمکش کا نقطۂ آغاز

انٹرفیتھ ڈائیلاگ یعنی بین المذاہب مکالمہ اس وقت کے اہم عالمی موضوعات میں سے ہے جس پر دنیا کے مختلف اداروں اور فورموں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ ہر جگہ اس کے مقاصد مختلف ہیں لیکن مذاہب کے مابین مشترکات تلاش کرنے اور مذہب کے معاشرتی کردار کی حدود طے کرنے کا معاملہ کسی حد تک قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتا ہے اور ہر سطح پر اربابِ فکر و دانش اس سلسلہ میں اظہارِ خیال کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اپریل ۲۰۱۰ء

مذہب کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر

مطالعۂ مذاہب کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے ہمیں سب سے پہلے اس بات کو دیکھنا ہے کہ ہم جس ماحول اور تناظر میں بات کر رہے ہیں اس میں مذہب اور دین کے بارے میں کیا سمجھا جا رہا ہے اور اس کے حوالہ سے لوگوں کے نظریات و افکار کیا ہیں؟ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کا اولین خطاب چونکہ عرب سوسائٹی سے تھا اور ان مذاہب و ادیان کے ساتھ ان کا مکالمہ تھا جس سے اسے سابقہ درپیش تھا اس لیے قرآن کریم نے عام طور پر یہود و نصاریٰ، مشرکین اور صابئین وغیرہ کو سامنے رکھ کر عقائد میں مجادلہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اپریل ۲۰۱۰ء

پاکستان نعت کونسل کے زیر اہتمام ’’نعت کانفرنس‘‘ میں شرکت

سورج اور چاند دونوں اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور ہمارے لیے بڑی نعمتیں ہیں جن سے ہم باقی بہت سے فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دنوں اور اوقات کا حساب بھی طے کرتے ہیں۔ شریعتِ اسلامیہ کے احکام میں دونوں کا اعتبار کیا جاتا ہے چنانچہ رمضان المبارک، عیدین، لیلۃ القدر، یوم عرفہ اور دیگر ایام کا تعین چاند کے حساب سے ہوتا ہے جبکہ نماز، روزہ اور مناسکِ حج کے اوقات سورج کی گردش کے حساب سے طے پاتے ہیں۔ شمسی سال کا موجودہ حساب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے شروع ہوتا ہے اور ’’عیسوی‘‘ اور ’’میلادی‘‘ کہلاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جنوری ۲۰۱۸ء

شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں ٹی ہاؤس کا قیام

شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور کی بارہ دری دوبارہ تعمیر کی جا رہی ہے اور اس سلسلہ میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریٹر قلعہ دیدار سنگھ محمد اسلم قمر کے حوالے سے یہ خبر مقامی اخبارات کی زینت بنی ہے کہ بارہ دری کو اصلی حالت میں دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے محکمہ آثار قدیمہ سے قدیمی نقشہ منگوا لیا گیا ہے۔ شیرانوالہ باغ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن قلعہ دیدار سنگھ کی حدود میں واقع ہے اور یہ بارہ دری بھی اس میں شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جون ۲۰۱۲ء

فتح مباہلہ کانفرنس

میں جب ’’فتح مباہلہ کانفرنس‘‘ میں شرکت کے لیے ایوانِ اقبال کے ہال میں داخل ہوا تو سابق صدر پاکستان محترم جناب محمد رفیق تارڑ کانفرنس سے خطاب جبکہ انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سربراہ مولانا عبد الحفیظ مکی صدارت کر رہے تھے، ان کے ساتھ مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج، مولانا محمد زاہد قاسمی، مولانا محمد یوسف قریشی، مولانا محمد الیاس چنیوٹی اور دیگر حضرات اسٹیج پر موجود تھے۔ فتح مباہلہ کانفرنس کے عنوان سے یہ کانفرنس ہر سال ۲۶ فروری کو چنیوٹ میں ہوا کرتی ہے اور کم و بیش ہر سال مجھے اس میں شرکت کا موقع ملتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مارچ ۲۰۱۲ء

جنوبی افریقہ میں چند روز

جنوبی افریقہ میں کیپ ٹاؤن کی عالمی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان سے جانے والے حضرات میں (۱) علامہ ڈاکٹر خالد محمود (۲) مولانا محمد الیاس چنیوٹی (۳) مولانا محمد احمد لدھیانوی (۴) صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی (۵) مولانا مفتی شاہد محمود (۶) مولانا راشد فاروقی اور (۷) راقم الحروف شامل تھے۔ راشد فاروقی تو لیٹ ہوجانے کی وجہ سے کراچی سے فلائٹ نہ پکڑ سکے اور اگلے روز پہنچے جبکہ باقی ہم چھ حضرات ۳۰ اکتوبر کو کراچی سے امارات ایئرلائنز کے ذریعے دبئی اور پھر وہاں سے کم و بیش آٹھ گھنٹے کا فضائی سفر کرتے ہوئے اسی ایئرلائن سے جوہانسبرگ پہنچے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ تا ۲۱ نومبر ۲۰۰۸ء

سیلاب کی تباہ کاری اور بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی کی تشویش

دینی مدارس میں شعبان اور رمضان المبارک کے دوران تعطیلات ہوتی ہیں اور میرے پاس اسی دوران بیرونی سفر کی گنجائش ہوتی ہے۔ بیرون ملک بھی سرگرمیاں وہی ہوتی ہیں جو ملک میں باقی سارا سال رہتی ہیں۔ دینی مدارس کے پروگراموں میں حاضری، تعلیمی مشاورت کی مجالس میں شرکت اور مساجد میں جمعۃ المبارک کے خطبات اور دروس وغیرہ۔ البتہ حاضری کا دائرہ کچھ وسیع ہو جاتا ہے کہ پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ انڈیا اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے وہ حضرات بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں جو اردو بولتے اور سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اگست ۲۰۱۰ء

اہلِ سنت کے مقدسات اور جناب آیت اللہ خامنہ ای کا فتویٰ

محرم الحرام سن قمری و ہجری کا پہلا مہینہ ہے جس کے ساتھ اہل اسلام کی بہت سی یادیں وابستہ ہیں اور یوم عاشورہ یعنی دس محرم الحرام کے بارے میں فضیلت و اہمیت کی متعدد روایات احادیث نبویہؐ کے ذخیرہ میں موجود ہیں لیکن نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ اور ان کے خانوادے کی محترم شخصیات و افراد کی المناک شہادت کا تذکرہ ان دنوں پورے عالم اسلام میں سب سے زیادہ کیا جاتا ہے جو بلاشبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر امتی کے لیے رنج و صدمے کا باعث ہے اور دنیا بھر میں مسلمان اپنے اپنے انداز میں ہر جگہ اس کا اظہار کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ دسمبر ۲۰۱۰ء

بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت: مسلم اور مسیحی رہنماؤں کے درمیان ایک مکالمہ

مولانا قاری محمد حنیف جالندھری باذوق اور باہمت آدمی ہیں، دینی جدوجہد کے محاذ پر ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں، ملک میں دینی مدارس کے سب سے بڑے نیٹ ورک وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ اور اہم دینی درسگاہ جامعہ خیر المدارس ملتان کے مہتمم کی حیثیت سے ہمہ وقت مصروف زندگی میں سے بین المذاہب ہم آہنگی اور مختلف مذاہب کے دینی رہنماؤں کے درمیان رابطہ و مفاہمت کے فروغ کے لیے بھی وقت نکال لیتے ہیں اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر کوئی نہ کوئی سلسلہ چلائے رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ دسمبر ۲۰۱۰ء

بوسیدہ مصاحف و اوراق کو بے حرمتی سے بچانے کی عملی صورتیں

قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق اور شہید ہو جانے والے نسخوں کا مسئلہ ہر دور میں زیربحث رہا ہے۔ ان بوسیدہ مصاحف اور اوراق کو بے حرمتی سے بچانے کی مختلف عملی صورتیں سامنے آتی رہی ہیں جن میں انہیں نذرِ آتش کر کے راکھ کو کسی محفوظ جگہ دفن کر دینے، کسی پرانے کنویں میں ڈال دینے یا الگ تھلگ زمین میں دفن کر دینے کے طریقے ہمارے ہاں قابل استعمال رہے ہیں۔ جبکہ نذرِ آتش کر دینے کے طریقے پر بحث بھی ہوتی رہی ہے کہ کیا یہ بجائے خود بے حرمتی کے زمرے میں تو شمار نہیں ہوتا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اپریل ۲۰۱۱ء

نیویارک کی امیگریشن / قرآن کریم کا مقصدِ نزول

۲۲ جولائی کو نیویارک پہنچا تھا اور کم و بیش چار پانچ دن مصروف رہنے کے بعد اب بالٹیمور میں ہوں۔ جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ پر ہمارے جیسے لوگوں کے لیے امیگریشن کا مرحلہ بہت سخت ہوتا ہے جس سے کم و بیش ہر دفعہ گزرنا پڑتا ہے، اس سال بھی اس آزمائشی مرحلہ سے گزرنا پڑا۔ گزشتہ سال اہلیہ بھی ساتھ تھیں اور امیگریشن کے عملے نے ہم دونوں کو جہاز سے اترتے ہی قابو کر لیا تھا، میں اس صورتحال کا عادی تھا مگر اہلیہ کے لیے یہ پہلا موقع تھا وہ بہت گھبرائیں مگر میں نے تسلی دی کہ پریشان نہ ہونا دو تین گھنٹے کی پوچھ گچھ کے سوا کچھ نہیں ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اگست ۲۰۱۰ء

اسلام کا متوازن فلسفۂ حقوق اور اقوام متحدہ کا منشور

اس سال ’’شریعہ بورڈ نیویارک‘‘ نے مسجد حمزہ میں میری حاضری پر ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا جس کا موضوع ’’انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات‘‘ تھا۔ اس پروگرام میں علماء کرام اور دینی ذوق رکھنے والے حضرات کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔ ایک نشست مغرب تک ہوئی جس میں اسلام کے فلسفۂ حقوق پر گفتگو ہوئی اور دوسری نشست مغرب سے عشاء تک تھی جس میں حقوق انسانی کے حوالے سے اقوام متحدہ کے چارٹر کے بارے میں کچھ تحفظات کا ذکر کیا گیا۔ دونوں نشستوں میں کم و بیش دو گھنٹے کی مفصل گفتگو کے چند اہم نکات نذرِ قارئین ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اگست ۲۰۱۰ء

’’دشمن مرے تے خوشی نہ کریے، سجناں وی مرجانا ہو‘‘

میں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں اپنے معمول کے کاموں میں مصروف تھا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما جناب عثمان عمر ہاشمی نے فون پر اطلاع دی کہ ٹی وی چینلز پر بریکنگ نیوز کے عنوان سے پٹی چل رہی ہے کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو اسلام آباد میں ان کے اپنے ہی ایک محافظ نے قتل کر دیا ہے۔ میں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور خبر کی تفصیلات معلوم کرنے میں مصروف ہوگیا۔ اگلے روز صبح جامعہ نصرۃ العلوم میں ترجمہ قرآن کریم کی کلاس کے بعد طلبہ نے گورنر پنجاب کے قتل پر میرا تاثر معلوم کرنا چاہا تو میں نے پنجابی کا ایک مصرعہ پڑھنے پر اکتفا کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جنوری ۲۰۱۱ء

امدادی قافلے پر اسرائیلی حملہ: گوجرانوالہ میں مذمتی اجلاس

سانحہ لاہور کے پس منظر میں گزشتہ ایک صدی کے دوران تحریک ختم نبوت کے حوالے سے مسلمانوں کے موقف اور جذبات کی ترجمانی کرنے والے سرکردہ اساطین امت میں سے چند نام میں نے گزشتہ کالم میں ذکر کیے تھے جس کا مقصد اس سلسلہ میں امتِ مسلمہ کی اجتماعیت کا اظہار تھا۔ اس فہرست میں سینکڑوں رہنماؤں کو شامل کیا جا سکتا ہے جنہوں نےمختلف مراحل میں تحریک ختم نبوت میں رہنمائی کا کردار ادا کیا مگر تین چار نام ایسے ہیں جن کا اس فہرست میں تذکرہ بہرحال ضروری تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جون ۲۰۱۰ء

قادیانی عبادت گاہوں پر حملے اور گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاجی ریلیاں

۲۸ مئی کو گوجرانوالہ کے عوام، دینی حلقوں اور تاجر برادری نے حرمتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مسئلہ پر جس یکجہتی کا اظہار کیا اس کے بارے میں کچھ عرض کرنے سے پہلے اسی روز لاہور میں جو افسوسناک واقعات ہوئے پہلے ان کے حوالے سے کچھ گزارش کرنا زیادہ ضروری سمجھتا ہوں۔ لاہور میں جمعہ کے روز قادیانیوں کی عبادت گاہوں پر مسلح حملوں اور اس کے نتیجے میں مبینہ طور پر ایک سو افراد کے جاں بحق ہونے پر ملک کے ہر باشعور شہری نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ یہ کام جس نے بھی کیا ہے ملک، قوم اور دین تینوں کو نقصان پہنچایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۲۰۱۰ء

عامر عبد الرحمان شہیدؒ کی یاد میں ایک کانفرنس

۲۷ مئی جمعرات کو چند گھنٹے فیصل آباد کی نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی میں گزارنے کا موقع ملا اور جناب نبی اکرمؐ کی حرمت و ناموس پر جان کا نذرانہ پیش کرنے والے قوم کے قابل فخر سپوت عامر عبد الرحمان شہیدؒ کی یاد میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ عامر چیمہ شہید نے اسی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں ڈگری کے حصول کے بعد مزید تعلیم کے لیے جرمنی میں مقیم تھا کہ جناب رسالت مآبؐ کی شان اقدس میں گستاخانہ خاکوں کی صورت میں سامنے آنے والی توہین و بے حرمتی پر بے چین ہوگیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ مئی ۲۰۱۰ء

قادیانیوں کے لیے نجات اور فلاح کا راستہ

۱۲ ربیع الاول کی شب چنیوٹ اور چناب نگر (سابقہ ربوہ) کے دو اہم اجتماعات میں شرکت کا موقع ملا۔ اب سے نصف صدی قبل سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی نے قادیانی امت کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود کو دعوت مباہلہ دی جس کے لیے اس وقت کی چار دینی جماعتوں جمعیۃ علماء اسلام، مجلس تحفظ ختم نبوت، تنظیم اہل سنت اور جمعیۃ اشاعت التوحید والسنہ نے انہیں اپنا نمائندہ قرار دے کر اعلان کیا کہ مباہلے میں مولانا چنیوٹی کی شکست ان کی شکست ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مارچ ۲۰۱۰ء

دورِ جدید اور علماء کرام۔ تین غور طلب باتیں

میں نے گزشتہ عشرہ سعودی عرب میں گزارا۔ ۱۲ جولائی کو جدہ پہنچا تھا اور ۲۲ جولائی کو جدہ سے سفر کر کے ایک روز قبل نیویارک آگیا ہوں۔ اس دوران بیت اللہ شریف کی حاضری، عمرہ اور روضۂ اطہر پر صلوٰۃ و سلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنے کے علاوہ مختلف تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ میرے چھوٹے بھائی قاری عزیز الرحمان خان شاہد، میرے ایک برادر نسبتی حافظ عبد العزیز اور میرے ہم زلف قاری محمد اسلم شہزاد جدہ میں مقیم ہیں۔ قاری شاہد خان کے بچے ارسلان خان نے قرآن کریم حفظ مکمل کیا ہے جبکہ حافظ عبد العزیز کی بچی کا نکاح تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اگست ۲۰۱۰ء

جنرل باجوہ اپنے آبائی شہر کے باسیوں کے درمیان

آرمی چیف محترم جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ اتوار کو گوجرانوالہ کینٹ میں اپنے آبائی شہر گکھڑ کے چند سرکردہ شہریوں کے ساتھ محفل جمائی۔ گکھڑ سے تعلق اور اس سے بڑھ کر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا فرزند ہونے کے حوالہ سے مجھے بھی شریک محفل کیا گیا اور جنرل صاحب محترم نے عزت افزائی سے نوازا ، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ جنرل صاحب سے یہ میری پہلی ملاقات تھی اور ان کے بے ساختہ پن اور بے تکلفانہ انداز نے بہت متاثر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ دسمبر ۲۰۱۷ء

سوات کی صورتحال پر لندن میں ایک فکری نشست

ورلڈ اسلامک فورم کے زیراہتمام ایک فکری نشست ۲۴ اپریل ۲۰۰۹ء کو ابراہیم کمیونٹی کالج وائٹ چیپل لندن میں فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس سے مولانا محمد عیسیٰ منصوری، مولانا مفتی برکت اللہ، جناب کامران رعد اور راقم الحروف نے خطاب کیا اور لندن کے مختلف علاقوں سے علماء کرام اور ارباب دانش کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ آج کی عالمی تہذیبی کشمکش میں علماء کرام کو اپنی ذمہ داری پورے ادراک اور شعور کے ساتھ پوری کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ و ۶ مئی ۲۰۰۹ء

سوات کی صورتحال اور یورپ میں مقیم مسلمانوں کا اضطراب

حسب توقع اس سارے سفر میں سوات کی صورتحال اور پاکستان کے حالات ہی باہمی ملاقاتوں میں زیادہ تر زیربحث رہے اور کم و بیش ایک بات سب جگہ مشترک پائی کہ سوات اور مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی عدالتوں کا قیام وہاں کے لوگوں کی خواہش اور مطالبے کے حوالے سے بھی اور امن عامہ کے قیام اور بحالی کے پس منظر میں بھی بہت خوش کن بات ہے۔ لیکن اس پہلو پر تشویش کے اظہار کے ساتھ یہ خواہش بھی ہر جگہ موجود ہے کہ نفاذ شریعت کی جدوجہد کرنے والوں بالخصوص مولانا صوفی محمد کو ایسی باتوں اور ایسے کاموں سے گریز کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اپریل ۲۰۰۹ء

عید میلاد المسیحؑ اور اسلام

ہر سال ۲۵ دسمبر کو مسیحی مذہب کے پیروکار کرسمس مناتے ہیں جو ان میں سے اکثر کے بقول سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یومِ ولادت ہے۔ چنانچہ مسیحیوں کے مذہبی حلقے اسے ’’عید میلاد المسیح‘‘ کا نام دیتے ہیں جبکہ عمومی مسیحی حلقے اسے ایک قومی دن کے طور پر پوری دنیا میں جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ دن بھرپور انداز میں منایا جاتا ہے اور مسیحی مذہب کے پیروکار مختلف تقریبات اور پروگراموں کے ذریعے حضرت عیسٰیؑ کے ساتھ اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ و ۵ جنوری ۲۰۰۸ء

جنوبی افریقہ: مسلم جوڈیشیل کونسل اور ختم نبوت کانفرنس

گزشتہ روز جنوبی افریقہ کے ایک ہفتے کے سفر سے واپس پہنچا ہوں اور ابھی کراچی میں ہوں۔ یہ سفر جنوبی افریقہ کی مسلم جوڈیشیل کونسل کی دعوت پر ۳۱ اکتوبر سے کیپ ٹاؤن کے سٹی کونسل ہال میں منعقد ہونے والی تین روزہ سالانہ بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے ہوا جس کا اہتمام انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ نے جنوبی افریقہ کی مسلم جوڈیشیل کونسل کے اہتمام سے کیا تھا۔ کانفرنس میں جنوبی افریقہ کے سرکردہ علماء کرام کے علاوہ سعودی عرب، برطانیہ، بھارت، پاکستان، آسٹریلیا اور دیگر ممالک سے بھی علماء کرام اور دینی رہنماؤں نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ نومبر ۲۰۰۸ء

علماء کشمیر اور دارالعلوم دیوبند: پروفیسر محمد یعقوب شاہق کی ’’فیض الغنی‘‘

گزشتہ اتوار کو جماعت اسلامی کے دفتر واقع لٹن روڈ لاہور کی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ تقریب آزاد کشمیر کے مجاہد عالم دین حضرت مولانا عبد الغنی مرحوم کے سوانحی حالات اور علماء کشمیر کی جدوجہد پر پروفیسر محمد یعقوب شاہق صاحب کی ضخیم تصنیف ’’فیض الغنی‘‘ کی رونمائی کے لیے ادارہ ’’بازگشت‘‘ نے منعقد کی تھی۔ پروفیسر نصیر الدین ہمایوں اس تقریب کے صدر تھے جبکہ مجھے بطور مہمان مقرر اظہار خیال کی دعوت دی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اپریل ۲۰۰۱ء

Pages