جج صاحبان کی بحالی اور عدلیہ سے قوم کی توقعات
چیف جسٹس آف پاکستان عزت مآب جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے منصب پر دوبارہ کام شروع کر دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کی عدالتی تاریخ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے ساتھ معزول کیے جانے والے دیگر معزز جج صاحبان کی بحالی کے لیے وکلاء اور قوم کے دیگر مختلف طبقات نے جس مضبوطی کے ساتھ آواز اٹھائی ہے اور اس کے لیے جہد مسلسل کی ہے وہ بلاشبہ پاکستان کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
افغانستان، پولینڈ اور اسرائیل
افغانستان میں روسی جارحیت کی شدت میں ابھی کمی نہیں ہوئی تھی کہ مشرقی یورپ کے ملک پولینڈ میں ’’کمیونسٹ مارشل لاء‘‘ کا نفاذ اور اسرائیل کی طرف سے جولان کی متنازعہ حیثیت کو ختم کرنے کی کاروائی نے عالمی سیاست کو ایک نیا رخ دے دیا ہے اور پوری دنیا اس نئی کشمکش کے نتائج پر سوچنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ افغانستان میں عالمی کمیونزم اپنے فروغ اور پولینڈ میں بقاء کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے لیکن افغانستان میں غیور افغان عوام اور پولینڈ میں آزاد مزدور تنظیم سالیڈیریٹی سوویت یونین کے ارادوں کی تکمیل میں حائل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
طلاق کا حق ۔ دین اسلام کیا کہتا ہے؟
اسلامی نظریاتی کونسل کی ایک حالیہ سفارش ملک کے علمی حلقوں میں زیر بحث ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ خلع کو عورت کا مساوی حقِ طلاق قرار دیا جائے اور یہ قانون بنا دیا جائے کہ اگر عورت خاوند سے طلاق کا تحریری مطالبہ کرے تو خاوند ۹۰ روز کے اندر اسے طلاق دینے کا پابند ہوگا، اور اگر وہ اس دوران طلاق نہ دے تو ۹۰ روز گزر جانے پر طلاق خودبخود واقع ہو جائے گی۔ ملک کے دینی حلقے عمومی طور پر اسے قرآن و سنت کے منافی قرار دے رہے ہیں جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل کے بعض ارکان اور ان کے ساتھ ملک کے بعض دانشور اس کا دفاع کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’مشرقِ وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک ۔۔۔ تلاشِ امن‘‘
گزشتہ ماہ کے آخری روز وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی دستور کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک جانے کا پروگرام بنا رہا تھا کہ وفاق کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے فون پر کہا کہ آپ کو اسی روز ۱۱ بجے اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار میں شریک ہونا ہے اور سیمینار کی نوعیت کے حوالے سے آپ کی شرکت بے حد ضروری ہے۔ وفاق المدارس کی دستور کمیٹی کا ظہر کے بعد اجلاس طے تھا جس میں مولانا انوار الحق حقانی (اکوڑہ)، مولانا مفتی کفایت اللہ ایم پی اے (مانسہرہ) اور مولانا عطاء اللہ شہاب (گلگت) شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت ریگولیشن کا نفاذ۔ ایک خوش آئند اقدام
مالاکنڈ ڈویژن اور اس کے بعض دیگر ملحقہ علاقوں میں نظامِ عدل ریگولیشن کے عنوان سے شرعی عدالتوں کے قیام سے جہاں اس خطہ کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کہ ان کا ایک دیرینہ مطالبہ ’’بعد از خرابیٔ بسیار‘‘ ہی سہی منظور ہوگیا ہے اور پاکستان بھر کے عوام اس پر اطمینان محسوس کر رہے ہیں کہ اس علاقہ میں امن کے قیام کی امید نظر آنے لگی ہے، وہاں قومی اور بین الاقوامی سطح پر ناراضگی اور جھنجھلاہٹ کے آثار بھی بعض حلقوں میں واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دہشت گردی کے خلاف جنگ اور غلط مغربی مفروضے
انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد نے، جو محترم پروفیسر خورشید احمد کا ادارہ ہے، ۳۰ دسمبر ۲۰۰۸ء کو قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے طلبہ اور طالبات کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کر رکھا تھا، محترمہ پروفیسر شبانہ فیاض کی نگرانی میں طلبہ اور طالبات کا ایک بھرپور گروپ شریک محفل تھا۔ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل جناب خالد رحمان اس نشست کو کنڈکٹ کر رہے تھے جبکہ مردان سے قومی اسمبلی کے سابق رکن مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمان جو رابطۃ المدارس العربیہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دہشت گردی کے خلاف جنگ پر بریفنگ
صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ۸ اکتوبر کو طلب کر لیا ہے جس میں حساس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان پارلیمنٹ کے ارکان کو بریفنگ دیں گے، اجلاس میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بحث کی جائے گی اور حکمتِ عملی وضع کی جائے گی۔ صدر اور وزیراعظم کا یہ اقدام موجودہ حالات میں یقیناً خوش آئند ہے، اس سے جہاں عوام کے منتخب نمائندوں کو حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کے بارے میں تفصیلات جاننے کا موقع ملے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
یہود و نصارٰی کے ساتھ دوستی!
گزشتہ چند ماہ سے قرآن کریم کی وہ آیاتِ مبارکہ خطباتِ جمعہ کا موضوع ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘‘ کے عنوان کے ساتھ اہلِ ایمان کو بطور خاص مخاطب کیا ہے۔ ماہِ رواں کے دو جمعۃ المبارک کے خطبوں میں سورۃ المائدہ کی آیت ۵۱ و ۵۲ پر گفتگو ہوئی جن میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے کہا ہے کہ ’’یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور اگر تم میں سے کسی نے ان سے دوستی کی تو اس کا شمار انہی کے ساتھ ہوگا۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وکلاء تحریک اور ہمارے مذہبی رہنما
لانگ مارچ میں ملک بھر سے وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے کارکن شریک ہوئے، ان کی تعداد لاکھوں میں بتائی جاتی ہے، اگرچہ پنجاب کے گورنر جناب سلمان تاثیر نے اسے ’’شارٹ مارچ‘‘ سے تعبیر کر کے اور اس کا نتیجہ ’’زیرو بٹا زیرو‘‘ بتا کر اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن سیاسی حلقے سمجھ رہے ہیں کہ وکلاء نے دستور کی بالادستی، عدلیہ کی خود مختاری اور پی سی او کے تحت معزول کیے جانے والے معزز ججوں کی بحالی کے لیے جو صبر آزما جدوجہد شروع کر رکھی ہے اس میں واضح پیش رفت نظر آرہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تعلیم اور دہشت گردی : حکومت کی ذمہ داری کیا ہے؟
جہاں تک تعلیم کے فروغ کے لیے سختی کرنے کی ضرورت ہے ہم وزیراعظم سے اتفاق کرتے ہیں اور اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان سے گزارش کرتے ہیں کہ تعلیم کے فروغ اور خواندگی کے تناسب میں اضافہ کے لیے حکومت کو سختی کے ساتھ سنجیدہ پیش رفت کرنی چاہیے۔ بلکہ وزیراعظم نے تو پرائمری کی سطح تک تعلیم کو لازمی کرنے کی بات کی ہے جبکہ ہم میٹرک تک تعلیم کو لازمی قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ اس بات کو بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ جس سطح تک تعلیم قانونی طور پر لازمی ہو وہاں تک تعلیم مفت بھی ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جدید دور میں عورت کے لیے زندگی کا حق
بلوچستان میں پانچ عورتوں کو زندہ دفن کر دیا گیا ہے اور اسے قبائلی روایات کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں اس کی شدید مذمت کی جا رہی ہے اور عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اس سلسلہ میں مسلسل متحرک ہیں۔ سینٹ آف پاکستان نے بھی مذمت کی قرارداد منظور کی ہے اور اس سانحہ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیلات تو انکوائری کی رپورٹ سامنے آنے پر ہی معلوم ہوں گی لیکن کسی انسان کی روح کو لرزا دینے کے لیے اتنی بات ہی کافی ہے کہ پانچ عورتوں کو ایک قبائلی رسم کی بھینٹ چڑھا کر زندگی کے حق سے محروم کر دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی احکام و قوانین کے دفاع کی جنگ لڑنا ہوگی
۳۰ اپریل کو لندن پہنچا ہوں، دو ہفتے قیام رہے گا ۱۳ مئی کو ورلڈ اسلامک فورم کا سالانہ اجلاس ہے اور ۱۵ مئی کو واپس گوجرانوالہ کے لیے روانہ ہو جاؤں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ مختلف طبقات کے احباب سے ملاقاتیں ہو رہی ہیں اور بہت سے مسائل گفتگو کا حصہ ہیں مگر جو دوست بھی ملتا ہے اس کا پہلا سوال جج صاحبان کی بحالی کے بارے میں ہوتا ہے، دوسرا جامعہ حفصہ کے بارے میں اور پھر اس کے بعد دوسرے مسائل کا تذکرہ شروع ہو جاتا ہے۔ عدلیہ کی خودمختاری اور معزز جج صاحبان کے بارے میں پاکستان کی طرح یہاں بھی پریشانی کی عمومی فضا پائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا صوفی محمد کی رہائی اور نفاذِ شریعت کی جدوجہد
صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہونے کے بعد ملک بھر کے عام لوگوں اور دینی کارکنوں کو توقع تھی کہ چونکہ متحدہ مجلس عمل کی طرح مولانا صوفی محمد بھی نفاذ شریعت کے علمبردار ہیں اس لیے ان کی رہائی اور سرگرمیوں کی بحالی کی کوئی صورت نکل آئے گی لیکن فریقین کے درمیان متعدد بار مذاکرات کے باوجود ایسا نہ ہو سکا اور یہ اعزاز جمعیۃ علماء اسلام کے وزیراعلیٰ محمد اکرم درانی کی بجائے عوامی نیشنل پارٹی کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر ہوتی کے حصے میں آیا کہ ان کے ساتھ مولانا صوفی محمد کے مذاکرات کامیاب رہے اور پھر وہ رہا بھی ہوگئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نئے وزیراعظم کو درپیش چیلنجز
جناب یوسف رضا گیلانی کے وزیراعظم منتخب ہونے کے ساتھ ہی ۱۸ فروری ۲۰۰۸ء کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں تبدیلیوں کا عملی آغاز ہوگیا ہے اور عدلیہ کے قابل صد احترام جج صاحبان کی رہائی کے حکم کے ساتھ یوسف رضا گیلانی نے اپنی حکومتی ترجیحات کا اظہار کر دیا ہے۔ اس سے عام شہریوں کو اطمینان حاصل ہوا ہے کہ ملک کے عوام نے ۱۸ فروری کو اپنے ووٹ کے ذریعے رائے عامہ کے اجتماعی رجحانات کی جو جھلک دنیا کے سامنے پیش کی ہے اسے احترام کا عملی درجہ حاصل ہونے والا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فلسطین کی آزادی اور مسجدِ اقصیٰ کی بازیابی
عالمِ اسلام میں ۱۴ اپریل کو سعودی عرب کے فرمانروا اور اسلامی کانفرنس کے چیئرمین شاہ خالد کی اپیل پر مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے خلاف یومِ احتجاج منایا گیا۔ اس روز پورے عالمِ اسلام میں کاروباری ادارے بند رہے، احتجاجی مظاہرے ہوئے، جلسوں کا اہتمام کیا گیا اور دنیائے اسلام نے بیت المقدس کی بازیابی اور فلسطین کی آزادی کے سلسلہ میں عرب بھائیوں کے ساتھ یکجہتی اور یگانگت کا اظہار کیا اور بیت المقدس میں گزشتہ دنوں نہتے نمازیوں پر یہودیوں کی وحشیانہ فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کو ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سائنس اور ٹیکنالوجی سے اسلام کا کوئی ٹکراؤ نہیں
سائنس میرا موضوع نہیں لیکن مجھے اس سے دلچسپی ضرور ہے، اس لیے جب بھی اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور بحث و مباحثے کا موقع ملتا ہے اپنی معلومات میں اضافے کی خاطر اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ضرور کرتا ہوں۔ چنانچہ ڈیڑھ سال قبل اگست ۲۰۰۷ء کے دوران امریکہ کے شہر ہیوسٹن جانا ہوا تو میں نے اپنے میزبانوں سے اصرار کر کے امریکہ کے خلائی تحقیقاتی مرکز ’’ناسا‘‘ کا دورہ کیا اور دیگر بہت سی چیزوں کے علاوہ وہ اپالو بھی دیکھا جو چاند پر گیا تھا بلکہ اس کے اندر جا کر اس کے کاک پٹ وغیرہ کا مشاہدہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ترکی: احادیث نبویؐ کی تعبیر و تشریح کا سرکاری منصوبہ
روزنامہ پاکستان میں ۲۸ فروری ۲۰۰۸ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق برادر مسلم ملک ترکی کی وزارتِ مذہبی امور نے انقرہ یونیورسٹی میں علماء کی ایک ٹیم کی خدمات حاصل کی ہیں جسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا ازسرنو جائزہ لینے کا کام سونپا گیا ہے۔ خبر کے مطابق ترکی حکومت کے خیال میں بہت سی احادیث متنازعہ ہیں اور ان سے معاشرے پر منفی اثر پڑ رہا ہے، ان احادیث سے اسلام کی اصل اقدار بھی دھندلا گئی ہیں اس لیے ان کی ازسرنو تشریح کرانے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قبلِ اسلام اور ظہورِ اسلام کے بعد ادائیگیٔ حج میں فرق
حج اسلام کے بنیادی ارکان و فرائض میں سے ایک اہم فریضہ ہے جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بھی ادا ہوتا تھا۔ بلکہ جب سے سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ تعمیر کیا ہے تب سے حج کا فریضہ اب تک مسلسل ادا ہو رہا ہے اور منیٰ میں حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کی یاد بھی ہر سال تازہ کی جا رہی ہے۔ اسلام نے اس فریضہ اور قربانی دونوں کو نہ صرف باقی رکھا بلکہ اسے اور زیادہ تقدس و حرمت سے نوازا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جنوبی ایشیا پر امریکی تسلط کی پالیسی اور اس کا سدباب!
مولانا فضل الرحمان صاحب کے ساتھ کافی عرصہ کے بعد ملاقات ہوئی، وہ گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں جمعیۃ علماء اسلام کے ضلعی امیر مولانا قاری عبد القدوس عابدؒ کی وفات پر تعزیت کے لیے تشریف لائے اور گکھڑ میں والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی بیمار پرسی کے لیے بھی گئے جو ہجری اعتبار سے ستانوے برس کے پیٹے میں ہیں اور کئی برس سے صاحبِ فراش ہیں مگر ضعف، بیماریوں کے ہجوم اور نقاہت کے باوجود بحمد اللہ یادداشت پوری طرح قائم ہے۔ قاری عبد القدوس عابدؒ ہمارے پرانے ساتھیوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانی مسئلہ: صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی وضاحت اور اس کے عملی تقاضے
مرکزی مجلس عمل ختم نبوت کی تشکیل اور کل جماعتی ختم نبوت کانفرنس کے انتظامات کے سلسلہ میں گفت و شنید اور اقدامات کا سلسلہ جاری تھا کہ ۱۶ نومبر کو کراچی میں مولانا ولی رازی کی تصنیف ’’ہادیٔ عالمؐ‘‘ کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق نے اپنے بارے میں بعض حلقوں کی طرف سے قادیانی ہونے کے پراپیگنڈے کا نوٹس لیا اور قادیانیت کے بارے میں اپنے جذبات و اعتقادات کا پہلی بار کھل کر اظہار کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
متحدہ علماء کونسل کا احیا
قوم کے اجتماعی مسائل پر ملک کے دینی حلقوں کا موقف ہمیشہ یکساں رہا ہے جس کا اظہار پاکستان کی گزشتہ ساٹھ سال کی تاریخ میں کئی بار ہوا ہے۔ ملک میں نفاذِ اسلام کا مسئلہ ہو، ختم نبوت کے تحفظ کی بات ہو، متفقہ دستوری نکات کا مرحلہ ہو، شریعت بل کی تحریک ہو، تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کا مسئلہ ہو، ملک کے نظریاتی اسلامی تشخص کی بات ہو، نظامِ مصطفٰیؐ کی تحریک ہو، جہاد افغانستان کا معاملہ ہو یا قومی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کا مسئلہ ہو، ہر بار ایسا ہوا ہے کہ ملی و قومی مسائل پر دینی جماعتوں نے متحد ہو کر اپنے موقف کا اعلان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مقاصد کے لیے جدید الیکٹرانک میڈیا کا استعمال
دینی مقاصد کے لیے ٹی وی چینل کی ضرورت ایک عرصے سے اس پس منظر میں محسوس کی جا رہی ہے کہ آج کے دور میں ٹی وی ابلاغ کا سب سے مؤثر اور وسیع ذریعہ ہے، بلکہ مسلمانوں اور مغرب کے درمیان نظریاتی اور تہذیبی کشمکش میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مسلسل استعمال ہونے والا سب سے زیادہ مؤثر اور خوفناک ہتھیار ہے، جس کے ذریعے اسلام کے عقائد و احکام کے خلاف نفرت انگیز مہم روز بروز وسیع ہوتی جا رہی ہے اور مسلمانوں بالخصوص دینی حلقوں کی کردار کشی کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بین الاقوامی حلال کانفرنس لاہور
مختلف ممالک میں حلال فوڈ پر تحقیقی کام ہو رہا ہے اور غیر مسلم ممالک میں بلکہ غیر مسلم سوسائٹیوں میں بھی حلال فوڈ کی طرف لوگوں کی توجہ اس حوالہ سے مبذول ہو رہی ہے کہ انسانی صحت کے لیے حلال فوڈ زیادہ مفید اور نفع بخش ہے، اس لیے غیر مسلموں کا ایک حلقہ حلال فوڈ میں دلچسپی لینے لگا ہے جس سے اس کی اہمیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اسی نسبت سے اس پر ریسرچ کی ضرورت ہر سطح پر بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ سیمینار پاکستانی فوڈ کے صنعتکاروں کو اس سلسلہ میں بریف کرنے کے لیے اور اس نئے رجحان سے استفادہ کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے انعقاد پذیر ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
۱۹۷۳ء کے آئین کی عملداری اور جمہوری عمل کی بحالی
(کراچی کے ایک ہفت روزہ کا مولانا زاہد الراشدی سے انٹرویو)۔ مولانا زاہد الراشدی جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ہیں اور مولانا مفتی محمود مرحوم کے دور سے ہی اس عہدہ پر فائز چلے آتے ہیں۔ آپ کا شمار مفتی صاحب مرحوم کے معتمد رفقاء میں ہوتا ہے اور پاکستان قومی اتحاد کی دستور کمیٹی، منشور کمیٹی اور پارلیمانی بورڈ میں جمعیۃ علماء اسلام کی نمائندگی کرنے کے علاوہ پنجاب قومی اتحاد کے سیکرٹری جنرل بھی رہے ہیں۔ مولانا راشدی کے والد محترم شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر برصغیر کے چند سرکردہ علماء میں سے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
محنت کش اور اسلامی نظام
محنت انسانی عظمت کا ایک ایسا عنوان اور اجتماعیت کا ایک ایسا محور ہے جس کے گرد انسانی معاشرہ کی چکی گھومتی ہے اور جس کے بغیر نوع انسانی کی معاشرت اور اجتماعیت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کائنات کے خالق و مالک نے انسانی معاشرہ کے لیے جو فطری نظامِ زندگی نازل فرمایا اس میں محنت کی عظمت کا نہ صرف اعتراف کیا گیا ہے بلکہ دینِ خداوندی کو پیش کرنے والے عظیم المرتبت انبیاء علیہم السلام کو ’’محنت کشوں‘‘ کی صف میں کھڑا کر کے خداوندِ عالم نے محنت کو پیغمبری وصف کا درجہ عطا فرمایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چند کتابوں اور ان کے مصنفین کا تعارف
آج کا کالم چند کتابوں اور ان کے مصنفین کے تعارف کی نذر ہے: حضرت مولانا مجاہد الحسینی صاحب تحریک آزادی اور تحریک ختم نبوت کے سرگرم کارکنوں اور امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے رفقاء میں سے ہیں، انہوں نے مختلف دینی و قومی مسائل پر کم و بیش پون صدی تک لکھا ہے اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس وقت ان کی ایک حالیہ تصنیف ’’رسول اللہ ﷺ کا نظام امن عالم‘‘ میرے سامنے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’پیغامِ پاکستان‘‘
۱۶ جنوری کو ایوانِ صدر اسلام آباد میں ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے اجراء کی تقریب میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی اور اکابرینِ امت کے ارشادات سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ کتاب ’’پیغام پاکستان‘‘ معروضی حالات میں اسلام، ریاست اور قوم کے حوالہ سے ایک اجتماعی قومی موقف کا اظہار ہے جو وقت کی اہم ضرورت تھا اور اس کے لیے جن اداروں، شخصیات اور حلقوں نے محنت کی ہے وہ تبریک و تشکر کے مستحق ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانیوں کے بارے میں نیا صدارتی حکم
صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک صدارتی حکم کے ذریعے ۱۹۷۳ء کے آئین سے ۳۳۴ دفعات کے حذف کیے جانے سے متعلق صدارتی آرڈیننس سے قادیانیوں کے متعلقہ دفعہ کو مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔ اور قائم مقام وفاقی وزیر قانون راجہ ظفر الحق نے وفاقی کونسل میں ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ اس نئے حکم کے ذریعے اس سلسلہ میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا ازالہ کر دیا گیا ہے اور اب ۱۹۷۳ء کے آئین کے تحت قادیانی بدستور غیر مسلم رہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
برطانیہ میں حافظ الحدیث سیمینار
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی ان دنوں برطانیہ میں ہیں اور مختلف شہروں میں منعقد ہونے والے دینی و روحانی اجتماعات میں شریک ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے لندن میں بنگلہ دیش کے بزرگ عالم دین شیخ الحدیث حضرت مولانا عزیز الحقؒ کی تعزیت کے لیے منعقدہ سیمینار میں شرکت کی جن کا گزشتہ دنوں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ بنگلہ دیش میں حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے شاگردوں اور معتقدین کا ایک وسیع حلقہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی ثقافت، جمہوریت، نجی ملکیت اور اجتہاد
سوال: کیا یہ درست ہے کہ اسلامک کلچر نام کی کوئی چیز سرے سے موجود نہیں ہے کیونکہ مسلمان جہاں بھی گئے انہوں نے وہیں کا کلچر اپنا لیا؟ جواب: اس سلسلہ میں سب سے پہلے غور طلب امر یہ ہے کہ کلچر کہتے کس کو ہیں؟ عام طور پر کلچر کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کلچر کسی قوم کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں رچ بس جانے والی ان روایات اور اعمال سے عبارت ہوتا ہے جن سے اس قوم کا تشخص اور امتیاز دوسری اقوام سے ظاہر ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کیا ریاست و حکومت کا قیام شرعی فریضہ نہیں ہے؟
قرآنِ کریم کا اسلوب کسی مسئلہ کے بارے میں سارے معاملات یکجا ذکر کرنے کا نہیں ہے بلکہ کسی ایک موضوع یا مسئلہ کے حوالہ سے مختلف مقامات پر متنوع لہجوں میں متفرق ارشادات ملتے ہیں۔ جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قرآن کریم مسلسل تئیس سال تک تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا رہا ہے اور موقع محل کے مطابق اس کے ارشادات میں اجمال و تفصیل اور اسالیب کا تنوع پایا جاتا ہے۔ اسی لیے تفسیرِ قرآن کریم میں ہمیں پہلا اصول یہ پڑھایا جاتا ہے ’’یفسر بعضہ بعضًا‘‘ کہ قران کریم کا ایک حصہ دوسرے حصے کی تفسیر و تشریح کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دورۂ کراچی اور چند تعزیتیں
یکم جنوری سے پانچ جنوری تک کراچی میں رہا اور ’’مجلس علمی‘‘ میں علماء کرام اور اساتذہ کے اجتماع میں ’’فکری مرعوبیت اور اس کے سدباب‘‘ کے حوالے سے گفتگو کے بعد سبیل مسجد (گورو مندر چورنگی) کے خطیب مولانا محمد طیب کشمیری سے ملاقات کی جو میرے طالب علمی کے دور کے ساتھی ہیں اور جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل ہیں۔ وہاں سے مولانا جمیل الرحمان فاروقی اور ڈاکٹر سید عزیز الرحمان کے ہمراہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر اور مسجد باب الرحمت میں حاضری دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انسانی اجتماعیت کے جدید تقاضے اور اسلام کا عادلانہ نظام
لاہور ہائی کورٹ کے شریعت بینچ میں ریٹائرڈ جسٹس جناب بدیع الزمان کیکاؤس کی طرف سے انتخاب و سیاست کے مروجہ قوانین کو چیلنج کیے جانے کے بعد سے علمی و فکری حلقوں میں اس بحث نے سنجیدگی اور شدت اختیار کر لی ہے کہ آج کے دور میں اسلام کے نظامِ عدل و انصاف کو نافذ کرنے کے لیے عملی اقدامات اور ترجیحات کی کیا صورت ہوگی؟ اور موجودہ دور نے انسان کی اجتماعی زندگی کے لیے جن تقاضوں اور ضروریات کو جنم دیا ہے اسلام کا دائرۂ توسعات انہیں کس حد تک اپنے اندر سمونے کے لیے تیار ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لاہور ہائیکورٹ کے شریعت بینچ میں مولانا زاہد الراشدی کی درخواست
بسم اللہ الرحمان الرحیم۔ بعدالت شریعت بینچ عدالت عالیہ پنجاب لاہور۔ بمقدمہ ریٹائرڈ جسٹس بدیع الزمان کیکاؤس۔ بنام سرکار بعنوان خلافِ اسلام قرار دیے جانے والے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ وغیرہ۔ جناب والا! درخواست دہندہ نے ۴ نومبر ۱۹۷۹ء کو شریعت بینچ میں جناب حافظ محمد یوسف ایڈووکیٹ کے ذریعے درخواست کی تھی کہ مذکورہ بالا مقدمہ کے سلسلہ میں قرآن و سنت کی روشنی میں درخواست دہندہ کچھ ضروری معروضات بینچ کے روبرو پیش کرنا چاہتا ہے۔ شریعت بینچ کی طرف سے درخواست دہندہ کو ہدایت کی گئی کہ یہ معروضات تحریری طور پر بینچ کے روبرو پیش کی جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریک ریشمی رومال اور گوجرانوالہ۔ ایک وضاحت
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی کی تحریک ریشمی رومال میں گوجرانوالہ کے کردار کے بارے میں گزشتہ ایک کالم میں کچھ معروضات پیش کر چکا ہوں۔ اس سلسلہ میں ہمارے اہل حدیث دوست مولانا حافظ ابرار احمد ظہیر نے ایک فروگزاشت کی طرف توجہ دلائی ہے جس پر ان کا شکر گزار ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس ’’قاضی کوٹ‘‘ کا ذکر اس تحریک کے سلسلہ میں ریکارڈ میں آتا ہے وہ گوجرانوالہ سے قلعہ دیدار سنگھ جاتے ہوئے راستہ میں آنے والا قاضی کوٹ نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آل پارٹیز دفاعِ پاکستان کانفرنس لاہور
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا قاری جمیل الرحمان اختر کے ہمراہ مجھے بھی ۱۸ دسمبر کو مینارِ پاکستان کے گراؤنڈ میں ’’دفاعِ پاکستان کونسل‘‘ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ’’دفاعِ پاکستان کانفرنس‘‘ میں شرکت کا موقع ملا۔ مولانا سمیع الحق کی سربراہی میں دفاع پاکستان کونسل اپنی تشکیل نو کے بعد کچھ عرصہ سے متحرک ہے اور مختلف شہروں میں اجتماعات منعقد مکمل تحریر
فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری / قصور کی معصوم بچی کا المیہ
بعض مضامین میں ہم نے ذکر کیا ہے کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد جب فلسطین پر برطانیہ نے قبضہ کر لیا تو اس نے یہودیوں کے ساتھ اپنے وعدہ ’’اعلان بالفور‘‘ کے مطابق دنیا بھر کے یہودیوں کو اجازت دے دی تھی کہ وہ فلسطین میں آکر زمینیں خرید سکتے ہیں اور آباد ہو سکتے ہیں۔ یہ اجازت خلافت عثمانیہ نے یہودیوں کے عالمی وفد کی باقاعدہ درخواست کے باوجود نہیں دی تھی جس کی پاداش میں خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے لیے یہودیوں نے یورپ کی مسیحی طاقتوں سے اتحاد کر لیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کراچی کے حالات اور مولانا مفتی تقی عثمانی
لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری سے فون پر رابطہ ہوا تو انہوں نے دریافت کیا کہ کیا مولانا مفتی تقی عثمانی کراچی سے ہجرت کر کے بیرون ملک چلے گئے ہیں؟ میں نے تعجب اور حیرت سے پوچھا کہ آپ کو کس نے کہا ہے؟ فرمانے لگے کہ ایک معروف کالم نویس نے اپنے کالم میں اس کا ذکر کیا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میرے لیے یہ خبر نئی ہے اور مجھے اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، تحقیق کر کے ہی بتا سکتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حرمین شریفین سے دارالعلوم دیوبند تک
حرمین شریفین کے امام محترم معالی الدکتور الشیخ عبد الرحمان السدیس حفظہ اللہ تعالیٰ ان دنوں بھارت کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے بہت سے دیگر پروگراموں میں شریک ہونے کے علاوہ جمعۃ المبارک کا خطبہ دارالعلوم دیوبند کی جامع مسجد الرشید میں دیا اور دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کی کانفرنس سے خطاب کیا۔ شیخ السدیس کو حرمین شریفین کا امام محترم ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی پرسوز تلاوت کے حوالے سے بھی پورے عالم اسلام میں محبوبیت کا مقام حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحفظِ ختم نبوت کی جدوجہد اور ’’احتسابِ قادیانیت‘‘
گزشتہ روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا نے جمعیۃ علماء اسلام (ف) پنجاب کے امیر مولانا رشید احمد لدھیانوی اور عالمی مجلس کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عزیز الرحمان ثانی کے ہمراہ غریب خانے پر قدم رنجہ فرمایا۔ وہ ان دنوں ۱۵ دسمبر کو اسلام آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کے سلسلہ میں رابطہ مہم پر ہیں اور مختلف دینی جماعتوں کے راہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا طارق جمیل ’’نائن زیرو‘‘ میں
مولانا طارق جمیل کو نائن زیرو میں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ میں آج صبح (۳۱ جولائی) نیویارک کے علاقہ لانگ آئی لینڈ میں مولانا عبد الرزاق عزیز کے ہاں تھا، وہ ایک عرصہ کراچی میں رہے ہیں، شیرشاہ کی جامع مسجد طور میں خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں اور جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم راہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ ناشتے کے بعد برونکس روانگی سے قبل انہوں نے مجھے کہا کہ جانے سے قبل ایک نظر خبروں پر ڈال لیتے ہیں۔ خبروں میں دیکھا کہ مولانا طارق جمیل ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پہنچے ہوئے ہیں اور کراچی والوں کو محبت کا پیغام دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانی گروہ کی عالمی سرگرمیاں اور ہمارا مطلوبہ لائحہ عمل
امریکہ میں قادیانی گروہ کی سرگرمیوں کے بارے میں گزشتہ کالم میں مختصرًا کچھ عرض کر چکا ہوں مگر اس پر قدرے تفصیل کے ساتھ غور و فکر اور سوچ بچار کی ضرورت ہے، اس لیے کہ نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں قادیانی سرگرمیوں کا دائرہ وسعت پکڑتا جا رہا ہے حتیٰ کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے مسلمان ملک انڈونیشیا میں بھی ان دنوں مسلم قادیانی کشمکش زوروں پر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جہلم اور راولپنڈی کا تعزیتی سفر
گزشتہ روز (۶ جنوری) راولپنڈی ڈویژن کے ایک تعزیتی سفر کا اتفاق ہوگیا، حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمی قدس اللہ سرہ العزیز کے برادر خورد اور میرے پرانے بزرگ دوست مولانا حکیم مختار احمد الحسینیؒ کا پچھلے دنوں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ایک دور میں متحرک فکری اور نظریاتی راہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور ان کے ساتھ میری پرجوش رفاقت رہی ہے۔ انہوں نے کچھ عرصہ جامعہ نصرۃ العلوم میں بھی تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کا نام آج کے نوجوان علماء اور کارکنوں کے لیے اجنبی ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جمعیۃ علماء اسلام کی رکن سازی کا خصوصی عشرہ: چند گزارشات
رکن سازی کا کام شروع ہوئے چار ماہ کے قریب عرصہ ہو چکا ہے اور گزشتہ سالوں کی بہ نسبت اس دفعہ رکن سازی کی رفتار اور اس سلسلہ میں ہونے والا کام بہت بہتر ہے۔ البتہ قومی سیاست میں قائد جمعیۃ مولانا مفتی محمود کے روشن کردار، تحریک نظامِ مصطفٰیؐ میں جمعیۃ علماء اسلام کے راہنماؤں اور کارکنوں کی بے مثال قربانیوں اور سیاسی امور میں جمعیۃ علماء اسلام کے متوازن اور متحرک کردار کے باعث جمعیۃ کے سیاسی وقار اور مقبولیت میں جو اضافہ ہوا ہے اس کے پیش نظر رکن سازی کے سلسلہ میں ہونے والا کام اور پیش رفت قطعاً غیر تسلی بخش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آسیہ مسیح کیس: سیکولر لابی کی دیدہ دلیری اور دینی قوتوں کا امتحان
آسیہ مسیح کا کیس توہینِ رسالت کے سابقہ درجنوں کیسوں سے مختلف نہیں ہے اور نہ ہی اس پر سیکولر حلقوں کا ردعمل اور ان کی سرگرمیاں غیر متوقع ہیں۔ البتہ دینی حلقوں کی بیداری اور ان کے ردعمل کی کیفیت بہرحال پہلے جیسی نہیں ہے اور اہل دین کے لیے اصل لمحۂ فکریہ یہی ہے۔ ایک مسیحی خاتون نے مبینہ طور پر توہینِ رسالتؐ کا ارتکاب کیا، اس کے خلاف مقدمہ درج ہوا، عدالت میں کیس چلا اور تمام ضروری عدالتی مراحل سے گزرنے کے بعد مجاز عدالت نے اسے موت کی سزا سنا دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پارٹی سسٹم کی بنیاد پر الیکشن کی تجویز
صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک غیر ملکی جریدہ ’’امپیکٹ انٹرنیشنل‘‘ کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں افراد کی بجائے جماعتوں کو ووٹ دینے کے سلسلہ میں اظہارِ خیال کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’وہ اس نظام کے حق میں ہیں لیکن جب انہوں نے یہ تجویز سیاستدانوں کو پیش کی تو ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے لگی۔‘‘ ہمارے خیال میں اس تجویز پر سیاستدانوں کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ خود سیاستدان بارہا پارٹی سسٹم کی بنیاد پر انتخابات کرانے کا مطالبہ کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے مل جل کر کام کرنا ہوگا
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی رکن سازی ملک بھر میں چار ماہ سے جاری ہے جو پروگرام کے مطابق آخر مارچ تک جاری رہے گی اور اس کے بعد عہدہ داروں کے مرحلہ وار انتخابات کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ گزشتہ ادوار کی بہ نسبت اس دفعہ جمعیۃ کی رکن سازی میں عوام کی دلچسپی بہت زیادہ اور حوصلہ افزا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ قومی سیاست میں قائد جمعیۃ مولانا مفتی محمود کا کردار، تحریک نظام مصطفٰیؐ میں جمعیۃ علماء اسلام کے راہنماؤں اور کارکنوں کی قربانیاں، اور جمعیۃ علماء اسلام کی متوازن اور متحرک سیاسی جدوجہد ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کا اجلاس
متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کے زیراہتمام ۸ جون کو دفتر احرار لاہور میں پیر جی سید عطاء المہیمن شاہ بخاری کی زیرصدارت مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور راہنماؤں کا مشترکہ اجلاس ہوا جو نمائندگی کے لحاظ سے بھرپور تھا اور اس میں لاہور میں قادیانی مراکز پر ہونے والے مسلح حملوں سے پیدا شدہ صورتحال کے ساتھ ساتھ میڈیا میں قادیانی مسئلہ کے بارے میں بحث و مباحثہ اور میاں نواز شریف کے حالیہ بیان سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا قاضی بشیر احمد کشمیریؒ، مولانا قاضی عبد الحلیم کلاچویؒ اور قاری سعید احمدؒ
حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ کی وفات کے بعد ایک محفل میں ذکر چل پڑا کہ اب ہمارے ملک میں اس کھیپ کے بزرگوں میں سے کون کون موجود ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میری معلومات کے مطابق مولانا محمد یوسف خان آف پلندری آزاد کشمیر اور حضرت مولانا قاضی عبد الکریم کلاچوی اس کھیپ کے آخری دو بزرگ ہیں جو ہمارے لیے برکات اور دعاؤں کا سہارا ہیں۔ ان کے ساتھ حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا عبید اللہ اشرفی، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر، حضرت مولانا صوفی محمد سرور اور حضرت مولانا قاضی عبد اللطیف آف کلاچی کو بھی میں اسی کھیپ کا حصہ سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا عبد القیوم حقانی اور جامعہ ابوہریرہؓ
بعض کام اس قدر اچانک اور غیر متوقع طور پر ہو جاتے ہیں کہ یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ اس میں ہمارے ارادے کا کوئی دخل نہیں تھا اور کسی نے طے شدہ منصوبے کے تحت وہ کام کروا دیا ہے۔ ۲۱ اکتوبر کو حسن ابدال میں پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس تھا، میرا پروگرام تھا کہ ۲۰ اکتوبر کو رات راولپنڈی یا ٹیکسلا میں گزاروں گا اور ۲۱ اکتوبر کو صبح اجلاس کے لیے مرکز حافظ الحدیث حسن ابدال پہنچ جاؤں گا۔ دو روز قبل نوشہرہ سے مولانا عبد القیوم حقانی کا فون آیا کہ آپ حسن ابدال آرہے ہیں تو رات کو ان کے مدرسے جامعہ ابوہریرہ آجائیں، صبح اکٹھے حسن ابدال چلیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر