قادیانی مسئلہ ایک نئے موڑ پر
گزشتہ سال امریکی وزارتِ خارجہ نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں اپنی سالانہ رپورٹ میں قادیانیوں کا بطور خاص ذکر کیا تو قادیانی مسئلہ کا ادراک رکھنے والوں کو بخوبی اندازہ ہوگیا تھا کہ حالات کا رخ اب کدھر کو ہے اور امریکہ بہادر اس حوالہ سے ہم سے کیا چاہتا ہے۔ پاکستان میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دینا اور انہیں اسلام کا نام اور مسلمانوں کی مخصوص مذہبی علامات و اصطلاحات استعمال کرنے سے قانوناً روکنا امریکہ اور دیگر مغربی لابیوں کے نزدیک انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام اور خواتین کے حقوق
انسانی نسل کی بقا اور معاشرت کی گاڑی جن دو پہیوں پر رواں دواں ہے ان میں ایک عورت ہے جس کا نسلِ انسانی کی نشوونما اور ترقی میں اتنا ہی عمل دخل ہے جتنا مرد کا ہے۔ اس لیے اسلام نے عورت کے وجود کو نہ صرف تقدس اور احترام بخشا بلکہ اس کی اہمیت و افادیت کا بھرپور اعتراف کیا ہے اور اسے ان تمام حقوق اور تحفظات سے نوازا ہے جو مرد اور عورت کے فطری فرائض کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل عورت کو انسانی معاشرہ میں ایک آزاد اور خودمختار وجود کی حیثیت حاصل نہ تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بین الاقوامی لابیاں، قادیانی گروہ اور بعض پاکستانی دانشور
روزنامہ نوائے وقت میں ’’اور پاکستان بدنام ہو رہا ہے‘‘ کے عنوان سے اصغر علی گھرال کے مضمون کی تین قسطیں نظر سے گزریں جس میں انہوں نے پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف درج مقدمات اور ان کے حوالہ سے عالمی سطح پر قادیانیوں کی طرف سے پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم کا ذکر کیا ہے اور قادیانیوں کو یہ تسلی دینے کی کوشش کی ہے کہ ان کے خلاف شوروغوغا صرف تنگ نظر ملاؤں نے بپا کر رکھا ہے ورنہ عام مسلمانوں کو ان سے کوئی شکایت نہیں ہے اور نہ ہی ملک کی عام آبادی قادیانیوں کے خلاف کسی قسم کی مہم میں شریک ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
محترمہ بے نظیر بھٹو! معاملات کو گڈمڈ نہ کریں
قائد حزب اختلاف محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک حالیہ مضمون میں موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت آرڈیننس اور سی ٹی بی ٹی پر دستخط کے معاملات پر بھی بحث کی ہے۔ محترمہ کا موقف ہے کہ پاکستان کو سی ٹی بی ٹی پر دستخط کر دینا چاہئیں بلکہ یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ جبکہ ہماری معلومات کے مطابق خود حکومت پاکستان نے بھی سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے اور اس کے لیے حالات کو سازگار بنانے پر کام کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’الشریعہ‘‘ کا دورِ نو
ہم نے پہلے دن سے جو اہداف طے کر رکھے ہیں بحمد اللہ تعالیٰ آج بھی ان پر قائم ہیں کہ اسلام کی دعوت و تبلیغ اور غلبہ و نفاذ، اسلام دشمن عناصر اور لابیوں کے تعاقب، اسلامی تحریکات کے درمیان مفاہمت کے فروغ، دینی حلقوں کی بریفنگ اور ذہن سازی اور اسلامی نظام کے بارے میں مختلف حلقوں کے پیدا کردہ شکوک و شبہات کے ازالہ کے لیے علمی اور فکری محاذ پر اپنی بساط کے مطابق سرگرم عمل رہیں گے، اور گروہی مخاصمتوں اور لابیوں کی ترجیحات سے بالاتر رہتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسٹر رابن کک! یہ ایجنڈا ادھورا ہے
لاہور کے ایک اردو روزنامے میں برطانوی وزیرخارجہ مسٹر رابن کک کا یہ بیان نظر سے گزرا ہے کہ اسلام اور مغرب کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے یورپی یونین اور اسلامی تنظیم (او آئی سی) کے درمیان مذاکرات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ایک اسلامک سنٹر میں اپنی کسی تقریر کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں انہوں نے ’’اسلام اور مغرب کے اشتراک‘‘ پر اظہارِ خیال کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ اس حوالہ سے یورپی یونین اور او آئی سی میں بہت جلد مذاکرات شروع ہونے والے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چند بزرگوں اور دوستوں کی یاد میں
پرانے رفقاء میں سے کسی بزرگ یا دوست کی وفات ہوتی ہے تو جی چاہتا ہے کہ جنازہ یا تعزیت کے لیے خود حاضری دوں اور معمولات کے دائرے میں ایک حد تک اس کی کوشش بھی کرتا ہوں مگر متنوع مصروفیات کے ہجوم میں صحت و عمر کے تقاضوں کے باعث ایسا کرنا عام طور پر بس میں نہیں رہتا۔ گزشتہ دنوں چند انتہائی محترم بزرگ اور دوست جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اجتماعی اجتہاد کی ضرورت اور اس کے تقاضے
شاہ صاحب موصوف گزشتہ دنوں فقہی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے اپنے معزز رفقاء کے ہمراہ گوجرانوالہ تشریف لائے تو ان کے پاس کانفرنس میں پیش کیے جانے والے مضامین و مقالات کے مجوزہ عنوانات کی فہرست میں سے ایک عنوان کا میں نے خود انتخاب کیا جو فہرست کے مطابق یوں تھا: ’’تقلید و اجتہاد کی حدود کا تعین اور اجتماعی اجتہاد کے تصور کا علمی جائزہ‘‘۔ لیکن جب قلم و کاغذ سنبھالے خیالات کو مجتمع کرنا چاہا تو محسوس ہوا کہ یہ ایک نہیں دو الگ الگ عنوان ہیں اور ہر عنوان اپنی جگہ مستقل گفتگو کا متقاضی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حکومت اور دینی مدارس کی کشمکش کا ایک جائزہ
’’دینی مدارس، انسانی حقوق اور مغربی لابیاں‘‘ کے عنوان سے ’’الشریعہ‘‘ کی خصوصی اشاعت آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ ہم نے اس شمارے میں شامل کرنے کے لیے مضامین کے انتخاب میں اس ضرورت کو پیش نظر رکھا ہے کہ دینی مدارس کے خلاف مغربی لابیوں اور میڈیا کی موجودہ مہم کے پس منظر اور مقاصد کو آشکارا کرنے کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے تقاضوں کے حوالہ سے دینی مدارس کے نصاب و نظام میں ناگزیر تبدیلیوں اور تعلیم کے جدید ذرائع اور مواقع سے دینی تعلیم کے لیے استفادہ کے امکانات کا جائزہ بھی قارئین کے سامنے آجائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ورلڈ اسلامک فورم کا قیام
پاکستان سے میری طویل غیر حاضری اور لندن میں قیام کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد کی طرف بحمد اللہ تعالیٰ پیش رفت ہوئی ہے اور چند اصحاب فکر نے راقم الحروف کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کے نام سے ایک نیا فکری حلقہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ’’الشریعہ‘‘ کے قارئین گواہ ہیں کہ راقم الحروف نے علمائے کرام اور دینی تحریکات کے قائدین کی خدمت میں ہمیشہ یہ عرض کیا ہے کہ اسلام کے غلبہ و نفاذ کی جدوجہد میں مؤثر پیش قدمی کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کے حوالہ سے مغربی فلسفہ کا مکمل ادراک حاصل کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ورلڈ اسلامک فورم کے پہلے باضابطہ اجلاس کا دعوت نامہ
باسمہ سبحانہ۔ بگرامی خدمت، زید لطفکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ گزارش ہے کہ کافی عرصہ سے اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مغربی میڈیا اور اسلام دشمن لابیوں کے معاندانہ پراپیگنڈا کا سائنٹیفک انداز میں جائزہ لیا جائے اور اس کے توڑ کے لیے منظم کام کیا جائے۔ نیز یورپ میں مقیم مسلمانوں بالخصوص مشرقی یورپ کے کمیونزم سے آزاد ہونے والے ممالک کی مسلم اقلیتوں کی دینی ضروریات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے کر اس کے مطابق ضروری لٹریچر کی اشاعت و تقسیم کا اہتمام کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جناب حمزہ اور چند سیاسی یادیں
سینٹ آف پاکستان کے انتخابات کا عمل جاری ہے اور چند روز میں سینٹ کا نیا ایوان اپنا کام شروع کر دے گا۔ پنجاب سے سینٹ کے بارہ ارکان حسب سابق متفقہ طور پر منتخب ہوئے ہیں جو ایک خوش آئند روایت اور سیاست میں افہام و تفہیم کی علامت ہے۔ مگر میرے لیے اس میں سب سے زیادہ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ہمارے بزرگ دوست حمزہ صاحب بھی اس انتخابات کے ذریعے ایک بار پھر پارلیمنٹ کے ایوان میں آگئے ہیں اور ایوان میں ان کی کھری کھری باتیں ایک بار پھر گونجا کریں گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذِ اسلام اور ہمارا نظامِ تعلیم
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام ایک صحت مند اور مثالی معاشرہ کی تشکیل کے لیے عمل میں لایا گیا تھا اور اس سلسلہ میں قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم سمیت بانیان پاکستان کے واضح اعلانات تاریخ کا انمٹ حصہ ہیں جن میں اسلام کے مکمل عادلانہ نظام کے نفاذ اور قرآن و سنت کی بالادستی کو پاکستان کی حقیقی منزل قرار دیا گیا ہے۔ لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ دنیا کے نقشے پر اس نظریاتی ملک کو نمودار ہوئے نصف صدی کا عرصہ گزرنے کو ہے مگر ابھی تک ہم اسلامی نظام کی منزل سے بہت دور ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سماجی ارتقا اور آسمانی تعلیمات
انسانی سماج لمحہ بہ لمحہ تغیر پذیر ہے اور اس میں ہر پیش رفت کو ارتقا سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ تغیر اور پیش رفت سوسائٹی کے مشاہدات و تجربات کی بنیاد پر ہوتی ہے اس لیے ہر آنے والے دور کو پہلے سے بہتر قرار دے کر اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوجانے کو ضروری سمجھا جاتا ہے اور اسے نظرانداز کرنے کو قدامت پرستی اور معاشرتی جمود کا عنوان دے دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے آج کی مروجہ عالمی تہذیب و قوانین کو ’’اینڈ آف ہسٹری‘‘ کے عنوان سے انسانی سماج کی سب سے بہتر صورت اور آئیڈیل تہذیب کے ٹائٹل کے ساتھ پوری نسل انسانی کے لیے ناگزیر تصور کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
درخواستی خاندان کی اسلام کے لیے خدمات
حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ پاکستان کی دینی و سیاسی تاریخ کی ایک اہم شخصیت تھے جن کا اوڑھنا بچھونا تعلیم و تدریس اور ذکر و اذکار تھا۔ وہ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان جیسی معروف دینی و سیاسی جماعت کے تین عشروں تک امیر رہے اور ان کی امارت میں کام کرنے والے سرکردہ رہنماؤں میں مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا عبید اللہ انورؒ، مولانا پیر محسن الدین احمدؒ، مولانا شمس الحق افغانیؒ اور مولانا سید محمد یوسف بنوری شامل رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
توہین رسالت کا قانون اور امریکی موقف
امریکی صدر باراک اوباما نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بدنام زمانہ امریکی فلم کی مذمت کی ہے جس میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں کی جانے والی توہین پر پورا عالمِ اسلام سراپا احتجاج ہے اور بہت سے مقامات پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں تشدد کے باعث خاصا جانی و مالی نقصان بھی سامنے آیا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے پرتشدد مظاہروں میں لیبیا میں امریکی سفیر اور دیگر امریکی شہریوں کے قتل کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ان پرتشدد مظاہروں کا کوئی جواز نہیں ہے اور ان سے بین الاقوامی قوانین کی توہین ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تسخیرِ کائنات اور قرآنِ کریم
مریخ تک رسائی بلاشبہ انسانی تاریخ کا اہم واقعہ اور سائنس کی غیر معمولی پیش رفت ہے جس پر امریکی سائنسدان مبارکباد کے مستحق ہیں۔ مجھے ہیوسٹن میں واقع ناسا ہیڈکوارٹر میں عام وزیٹر کے طور پر ایک سے زیادہ مرتبہ جانے کا اتفاق ہوا ہے اور چاند پر اترنے والی خلائی گاڑی اپالو میں بیٹھنے کا موقع بھی ملا ہے جو عام نمائش کے لیے وہاں رکھی ہوئی ہے۔ جبکہ ناسا ہیڈکوارٹر کے مین گیٹ کے سامنے گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے قاری مطیع الرحمان مرحوم کے قائم کردہ حفظ قرآن کریم کے مدرسہ میں بھی حاضری ہوئی جو پہلے کرائے کی ایک بلڈنگ میں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
رمضان المبارک، تربیت کا مہینہ
رمضان المبارک قرآن کریم اور روزوں کا مہینہ ہے، برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے، مغفرت اور نجات کا مہینہ ہے، جو اپنی بہاریں دکھا کر چند دنوں میں رخصت ہونے والا ہے۔ مبارکباد کے مستحق ہیں وہ سعادت مند جنہوں نے ان مبارک ساعات سے فیض حاصل کیا اور اپنے ذخیرۂ آخرت میں اضافہ کر لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک صبر و مواخاۃ کا مہینہ بھی ہے کہ اس ماہ میں مسلمانوں کو بھوک پیاس پر صبر کر کے اپنے بھوکے پیاسے بھائیوں کی تکالیف کا احساس ہوتا ہے اور یہ احساس ان میں بھوکوں پیاسوں کے لیے ہمدردی اور غم خواری کے جذبات کو ابھارتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خطابت کی دنیا اور نئے دور کا نیا اسلوب
چند برسوں سے ’’میڈیا کورس‘‘ کے عنوان سے ذرائع ابلاغ کے استعمال کی ضرورت کا احساس دلانے کے علاوہ ان کی تربیت دینے کے حوالے سے بعض مقامات پر پروگرام شروع ہوگئے ہیں جو بہت خوش آئند ہیں اور ان سے دینی مدارس کے طلبہ اور اساتذہ میں اس کا احساس اور شعور بیدار ہو رہا ہے کہ آج کے دور میں میڈیا کی اہمیت کیا ہے، اس کا دائرہ کار اور طریق کار کیا ہے اور دینی مقاصد کے لیے اس کی ضرورت کیا ہے؟ اس حوالہ سے گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران تین مختلف کورسز میں حاضری اور کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذ اسلام کی تحریکیں اور مسلم ممالک کی حکومتیں
مسلم ممالک میں نفاذ اسلام کی تحریکوں کو ایک عرصہ سے اس صورتحال کا سامنا ہے کہ جو تحریکیں عسکری انداز میں ہتھیار اٹھا کر نفاذ شریعت کا پروگرام رکھتی ہیں انہیں نہ صرف اپنے ملک کی فوجی قوت کا سامنا ہے بلکہ عالمی سطح پر انہیں دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف کردار کشی کی مہم چلائی جاتی ہے اور ایک طرح سے پوری دنیا ان کے خلاف یک آواز ہو جاتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف وہ تحریکیں ہیں جو سیاسی انداز میں نفاذ اسلام کے مقصد کی طرف آگے بڑھتی ہیں، جمہوری راستہ اختیار کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ایوننگ کورٹس کی تجویز اور شرعی عدالتوں کی افادیت
پاکستان بار کونسل نے وفاقی حکومت کی طرف سے پیش کی جانے والی یہ تجویز مسترد کر دی ہے کہ ملک بھر کی عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار کا بوجھ کم کرنے اور عوام کو جلد انصاف مہیا کرنے کے لیے شام کی عدالتیں (ایوننگ کورٹس) قائم کی جائیں۔ ایک خبر کے مطابق وفاقی وزارت قانون اس سلسلہ میں ایک عرصہ سے کام کر رہی ہے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں وفاقی وزیر قانون جناب فاروق ایچ نائیک کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے قانون اور سیکرٹریز قانون نے بھی شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کوڑوں کی سزا اور آسمانی تعلیمات
سوات میں ایک نوجوان لڑکی کو کوڑے مارنے کے مبینہ واقعہ کی ویڈیو فلم نے ملکی اور عالمی سطح پر کوڑوں کی سزا کے حوالے سے ایک بار پھر ارتعاش پیدا کر دیا ہے اور ہر سطح پر اس کے بارے میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ جہاں تک اس ویڈیو فلم کا تعلق ہے وہ ابھی تک مشکوک و متنازعہ ہے اور سپریم کورٹ میں اس کے بارے میں کوئی حتمی رپورٹ پیش کیے جانے اور عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے تک یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ یہ فلم فی الواقع کسی واقعہ کی فلم ہے یا جعلی طور پر بنائی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور سرکاری طرز عمل
ملی یکجہتی کونسل پاکستان ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو قابو میں لانے اور قومی مسائل پر تمام مکاتب فکر کے متفقہ موقف اور کردار کے اہتمام کے لیے قائم ہوئی تھی اور اس میں مولانا شاہ احمد نورانیؒ اور قاضی حسین احمدؒ کے ساتھ ساتھ مختلف اوقات میں مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمان، پروفیسر ساجد میر، مولانا ضیاء القاسمیؒ، علامہ ساجد نقوی اور دیگر زعما کا متحرک کردار کونسل کی تاریخ کا حصہ ہے۔ اب یہ فورم اپنے دورِ ثانی میں صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر اور جناب لیاقت بلوچ کی قیادت میں سرگرم عمل ہے اور ان کے ساتھ مختلف دینی حلقوں کے سرکردہ حضرات شریک کار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’خود ہی مدعی، خود ہی گواہ اور خود ہی جج‘‘
پروفیسر حافظ محمد سعید اور مولانا عبد الرحمان مکی کے سروں کی قیمت مقرر کر کے امریکہ اور بھارت نے اپنے تئیں یہ سمجھ لیا ہوگا کہ انہوں نے مبینہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں کوئی پیش رفت کی ہے اور اس سے انہیں اس جنگ میں کوئی فائدہ مل سکتا ہے۔ لیکن اس کے مضمرات اور نتائج پر غور کرنے کی زحمت نہ اس کا فیصلہ کرنے والے امریکی دانشوروں نے گوارا کی ہے اور نہ ہی اس کا خیرمقدم کرنے والے بھارتی دانشوروں کو اس کی توفیق ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
افغان طالبان کا مختصر پسِ منظر
طویل عرصہ سے اس خبر کا انتظار تھا جو آج پڑھنے کو ملی کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے افغان طالبان قطر میں اپنا سیاسی دفتر قائم کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے ان کے نمائندے قطر پہنچ چکے ہیں۔ امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر فوج کشی کے بعد جب طالبان حکومت کا جبر کے ذریعے خاتمہ کر دیا تھا تو لندن سے ہمارے ایک مخدوم و محترم بزرگ حضرت مولانا عتیق الرحمان سنبھلی نے اپنے درد بھرے مضمون میں دکھ کا اظہار فرمایا تھا کہ سب کچھ ختم ہوگیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلافتِ راشدہ اور عمران خان
عمران خان آج کل اپنی زندگی کی سب سے بڑی اور سب سے مشکل اننگز کھیل رہے ہیں اور ابھی تک بظاہر کامیاب جا رہے ہیں۔ بلا ہاتھ میں ہوتا ہے تو چوکے چھکے لگاتے چلے جاتے ہیں اور گیند پکڑتے ہیں تو وکٹیں اڑانے کی رفتار بھی ویسی ہی ہوتی ہے۔ نوجوانوں کو ورلڈ کپ جیتنے والا عمران خان ایک بار پھر فارم میں دکھائی دے رہے ہے اور مجھ جیسے بوڑھے کبھی آنکھیں ملتے اور کبھی عینک کے شیشے صاف کرتے ہوئے اس قدر نئے منظر کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لوڈشیڈنگ اور عوام
لوڈشیڈنگ کے عذاب سے تنگ عوام بار بار سڑکوں پر آکر اپنے غصے اور جذبات کا اظہار کر رہے ہیں مگر منصوبہ سازوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ نائن الیون کے بعد پاکستان کو پتھر کے دور میں واپس لے جانے کی جو دھمکی دی گئی تھی، شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کے ہاتھوں اس پر عمل کرایا جا رہا ہے۔ لوڈشیڈنگ تو غریب عوام کے لیے اس شدید گرمی اور تپش میں عذاب بنی ہوئی ہے لیکن اس کے ردعمل میں جگہ جگہ ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے بھی مستقل پریشانی کی صورت اختیار کر لی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جامعہ ملیہ اسلامیہ لاہور اور حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ
۱۸ فروری کو جامعہ ملیہ اسلامیہ لاہور کی سالانہ تقریب میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ یہ جامعہ مفکرِ اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب نے شاہدرہ لاہور میں امامیہ کالونی سے گزر کر عمرؓ چوک کے بائیں جانب محمود کالونی میں قائم کر رکھا ہے۔ علامہ صاحب خود تو مانچسٹر برطانیہ میں قیام رکھتے ہیں جبکہ ان کی نگرانی میں مفتی عزیر الحسن صاحب اور ان کے رفقا کی ٹیم اس ادارہ کو چلا رہی ہے۔ حضرت علامہ صاحب سال میں ایک بار تشریف لا کر چند ہفتے لاہور میں قیام کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
طلاق، انتہائی ناپسندیدہ فعل
روزنامہ پاکستان میں ۲۲ اکتوبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں طلاق کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے اور معاشرتی ناہمواری، غیر ملکی ثقافتی یلغار اور ذہنی ہم آہنگی کے فقدان کو اس کی اہم وجوہات شمار کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دس سال کے دوران پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں صرف طلاق کے ایک لاکھ سے زائد دعوے دائر ہوئے ہیں اور مجموعی طور پر بیس ہزار سے زائد خواتین کو طلاق کی ڈگریاں جاری کی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس اور ٹونی بلیئر کی غلط فہمی
روزنامہ پاکستان نے ۳۰ ستمبر ۲۰۱۱ء کو نئی دہلی کی ڈیٹ لائن سے آن لائن کے حوالہ سے ایک خبر شائع کی ہے جس کے مطابق برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ: مکمل تحریر
ملی مجلس شرعی کی قراردادیں
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس میں ملک کی سیاسی، مذہبی اور عسکری قیادت نے امریکی الزامات کو بیک آواز مسترد کرتے ہوئے امریکہ کی طرف سے ڈومور کے مطالبے کو قبول نہ کرنے کا اعلان کیا ہے جو ملک بھر کے عوام کے دلوں کی آواز ہے۔ اس طرح رائے عامہ کے رجحانات و جذبات نے ایک متفقہ قومی موقف کی حیثیت اختیار کر لی ہے جس پر آل پارٹیز کانفرنس طلب کرنے والے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور کانفرنس کے تمام شرکا مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’خبرِ واحد‘‘ اور اس کی حفاظت کا اہتمام
گزشتہ روز ایک نوجوان نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’خبرِ واحد‘‘ کی حفاظت کا اہتمام کیا تھا؟ میں نے پوچھا کہ بیٹا آپ کی تعلیم کیا ہے؟ بتایا کہ تھرڈ ایئر کا سٹوڈنٹ ہوں۔ پھر پوچھا کہ دینی تعلیم کہاں تک حاصل کی ہے؟ جواب دیا کہ ایک مکتب میں ناظرہ قرآن کریم اور نماز وغیرہ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ میں نے دریافت کیا کہ علمِ حدیث کی کوئی کتاب اردو میں مطالعہ کی ہے؟ جواب دیا کہ نہیں۔ میں نے سوال کیا کہ بیٹا خبرِ واحد کے بارے میں آپ کو کس نے بتایا ہے کہ یہ کیا ہوتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
میاں اسماعیل ضیاء مرحوم
سابق ایم پی اے گوجرانوالہ میاں اسماعیل ضیاء مرحوم میرے محترم دوستوں میں سے تھے۔ سیاسی راستے الگ الگ ہونے کے باوجود ہمارے درمیان بہت سے معاملات میں مفاہمت اور ہم آہنگی رہی ہے۔ وہ مسلکاً اہل حدیث تھے اور سیاسی طور پر معروف معنوں میں بائیں بازو کے سیاسی دانشوروں اور کارکنوں میں شمار ہوتے تھے۔ جبکہ میں دیوبندی مسلک کے پیروکاروں میں شمار ہوتا ہوں اور میرا سیاسی تعلق ہمیشہ جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ رہا ہے۔ ہماری باہمی دوستی اور تعلق کے پس منظر میں تین چار شخصیات کا بڑا حصہ اور کردار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا سید ابوذر بخاریؒ
جانشین امیر شریعت حضرت مولانا سید ابوذر بخاریؒ کا نام تو سن رکھا تھا کہ ’’شاہ جی‘‘ امیر شریعتؒ کے بڑے بیٹے ہیں اور بہت بڑے عالم ہیں لیکن دیکھنے کا موقع اس وقت ملا جب ایوب خان مرحوم نے ۱۹۶۲ء میں مارشل لاء ختم کر کے ملک میں سیاسی سرگرمیاں بحال کیں اور مجلس احرار اسلام نے ملک کے مختلف شہروں میں جلسے منعقد کر کے جماعتی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ انہی دنوں گوجرانوالہ کے شیرانوالہ باغ میں مجلس احرار اسلام کا جلسہ تھا اور مولانا سید ابوذر بخاریؒ اس جلسہ کے مرکزی مقرر تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسئلہ قادیانیت اور دستور سے انحراف
۷ ستمبر کا دن ملک بھر کے دینی حلقوں میں ’’یومِ ختم نبوت‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے، اس لیے کہ اس روز ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی قیادت میں قادیانیوں کا ۹۰ سالہ مسئلہ حل کرتے ہوئے رائے عامہ اور دینی حلقوں کا یہ متفقہ موقف دستوری طور پر تسلیم کر لیا تھا کہ قادیانی گروہ ایک نئے نبی کا پیروکار ہونے کی وجہ سے امت مسلمہ کا حصہ نہیں رہا، اس لیے اسے مسلمانوں کا حصہ سمجھنے کی بجائے ملک کی غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ شمار کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ملی مجلس شرعی کا احسن اقدام
مختلف مذہبی مکاتب فکر کے درمیان مشترکہ اہداف و مقاصد کے لیے وقتاً فوقتاً متحدہ فورم ہمیشہ سامنے آتے رہے ہیں اور باہمی اختلافات کے باوجود مذہبی مکاتب فکر نے ملی و قومی مقاصد کے لیے اتحاد و اشتراک کے مظاہرے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔ ۳۱ اکابر علماء کرام کے ۲۲ متفقہ دستوری نکات، تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفیٰ، تحریک تحفظ ناموس رسالت اور متحدہ مجلس عمل اس کے تاریخی شواہد ہیں۔ لیکن اس بات کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی تھی کہ وقتی ضروریات اور سیاسی ایجنڈے سے ہٹ کر ایک ایسا فورم بھی قومی منظر پر موجود رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اصل دہشت گرد کون؟
مئی کے پہلے ہفتے میں عام طور پر دو حریت پسندوں کو یاد کیا جاتا ہے۔ ایک سلطان ٹیپو شہیدؒ جس نے مشرقی ہند پر انگریزوں کی یلغار کا مسلسل مقابلہ کیا، بالآخر ۴ مئی ۱۷۹۹ء کو سرنگاپٹم کے محاصرے کے دوران جام شہادت نوش کیا اور اس کی شہادت کے بعد اس کی لاش پر کھڑے ہو کر انگریزی فوجوں کے کمانڈر نے کہا تھا کہ ’’آج سے ہندوستان ہمارا ہے‘‘۔ دوسرا تذکرہ مئی کے پہلے ہفتے کے حوالے سے تاریخ میں شہدائے بالاکوٹ کا کیا جاتا ہے کہ سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ جب اپنے جہادی مرکز کو کشمیر منتقل کرنے کے ارادے سے ہزارہ کے راستے کشمیر کی طرف سفر کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جوڈیشری سسٹم کو اسلامی شریعت کے مطابق چلانے کی ضرورت
اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا ایک شعبہ ’’شریعہ اکیڈمی‘‘ کے نام سے کام کر رہا ہے لیکن ہماری ’’الشریعہ اکادمی‘‘ گوجرانوالہ میں اور اس میں دو تین فرق ہیں: (۱) ایک فرق تو ’’الف لام‘‘ کا ہے جو دونوں کے نام میں واضح ہے۔ (۲) دوسرا یہ کہ وہ بڑا اور سرکاری ادارہ ہے اور ہم چھوٹے سے غیر سرکاری ادارے کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ (۳) تیسرا فرق طریقِ کار کا سمجھ لیں کہ وہ ادارہ سرکاری حدود کے دائرے میں اپنا کام کر رہا ہے اور ہم قدرے آزاد ماحول میں اس خدمت کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قومی سیاست کی چند یادیں
پاکستان قومی اتحاد میں چوہدری ظہور الٰہی مرحوم کے ساتھ کچھ عرصہ کام کرنے کا موقع ملا تھا، گجرات کے ظہور الٰہی پیلس میں ہمارا آنا جانا رہتا تھا۔ حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے ہمراہ بھی جانا ہوا اور ویسے بھی چودھری صاحب مرحوم کے ساتھ پاکستان قومی اتحاد کی مختلف مجالس میں ملاقات ہوتی تھی۔ ایک مرحلہ پر وہ قومی اتحاد کے پارلیمانی بورڈ کے چیئرمین تھے اور مجھے پارلیمانی بورڈ میں جمعیۃ علماء اسلام کی نمائندگی کرنا ہوتی تھی۔ آج ان کی یاد پاکستان مسلم لیگ (ق) کی پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ اقتدار میں شراکت کے لیے ہونے والے مذاکرات ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ملی مجلسِ شرعی کا پسِ منظر اور تعارف
جنوری ۲۰۱۰ء کو لاہور میں ’’ملی مجلس شرعی‘‘ کے زیراہتمام مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور سول سوسائٹی کے مختلف طبقات کے رہنماؤں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس کا مقصد ملک کی خودمختاری کی بحالی کے لیے جدوجہد کو منظم کرنا ہے۔ اس موقع پر ملی مجلس شرعی کا تعارف اور پس منظر پیش خدمت ہے۔ ۳ اگست ۲۰۰۷ء کو تحریک اصلاحِ تعلیم ٹرسٹ کے زیر اہتمام گلبرگ شان اسلام ارقم سکول میں دینی مدارس کے علماء کرام کی ایک ورکشاپ میں یہ خیال سامنے آیا کہ ایک علمی مجلس ایسی ہونی چاہیے جس میں تمام مکاتب فکر کے ثقہ علماء شریک ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دہشت گردی کے خلاف فتویٰ ۔ تمام پہلوؤں پر نظر رکھنے کی ضرورت
حکومتی حلقوں کی خواہش ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کی پالیسیوں کے حوالے سے علماء کرام کی طرف سے بھرپور حمایت کی جائے اور خودکش حملوں کے حرام ہونے کا اجتماعی فتویٰ دیا جائے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں یہ بات بہت مشکل ہے کہ علماء کرام حکومت کی پالیسیوں کی آنکھیں بند کر کے حمایت کریں اور نہ ہی حکومت کو اس کی توقع کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ جو بات جس حد تک درست ہوگی اس کی ضرور حمایت کی جائے گی لیکن جو بات درست نہیں ہوگی اس کی حمایت نہیں کی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
معاشی نظام اور معاشرتی رویے میں انقلابی تبدیلی کی ضرورت
مساجد و مدارس کے ملازمین کو تنخواہیں اور دیگر مراعات آج کے معاشرتی ماحول میں بہت کم ملتی ہیں اور ان کی بنیادی ضروریات کے حوالے سے تو یہ بہت ہی کم ہیں۔ یہ ایک معروضی حقیقت ہے جس کا چند بڑے اور معیاری اداروں کو چھوڑ کر، جن کا تناسب مجموعی طور پر شاید پانچ فیصد بھی نہ ہو، ملک میں ہر جگہ مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن امام، خطیب، مدرس، مفتی، حافظ، قاری اور مؤذن قسم کے لوگ اپنی تربیت کے لحاظ سے تنخواہ اور معاشی مفادات کے لیے احتجاج، ہڑتال، جلوس، مظاہرہ اور بائیکاٹ وغیرہ کے عادی نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ضلع گوجرانوالہ کی دلچسپ تاریخ
شبیر احمد میواتی گزشتہ دنوں آئے تو مجلس میں حافظ محمد عمار خان ناصر، ڈاکٹر انوار احمد اور پروفیسر میاں انعام الرحمان موجود تھے۔ ان کے ہاتھ میں حسب معمول کتابوں کی زنبیل دیکھ کر پہلے تو میاں انعام الرحمان کا جی للچایا پھر میں نے بھی نقاب کشائی کا تقاضا کر دیا۔ ہمیشہ کی طرح کئی نئی کتابیں دیکھنے کو ملیں جن میں ’’گوجرانوالہ کے ضلع کا جغرافیہ‘‘ کے نام سے ایک چھوٹی سی پرانی کتاب بھی تھی جو میں نے رکھ لی۔ آج اس کتاب کے مطالعہ میں قارئین کو اپنے ساتھ شریک کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اٹھارہویں آئینی ترمیم ۔ چند گزارشات
قومی اسمبلی نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے قبل صدر آصف علی زرداری نے اس کے حوالے سے پارلیمنٹ میں خطاب بھی فرما دیا ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیمی بل کے اس مسودہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ۱۹۷۳ء کے دستوری اتفاق کے بعد یہ دوسرا قومی اتفاق ہے جس پر کم و بیش سب سیاسی حلقوں نے اطمینان کا سانس لیا ہے اور کہا ہے کہ اس اتفاق کے بعد قوم ایک بڑے بحران سے نکل آئی ہے۔ بادی النظر میں ایسا ہی دکھائی دیتا ہے اور ہماری خواہش اور دعا ہے کہ خدا کرے ایسا ہی ہو، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قرآن و سنت کی عملداری، کس کی ذمہ داری؟
محترم غلام جیلانی خان نے قرآن کریم کے حوالے سے بہت اہم پہلو کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ملا صاحبان اپنے بیانات اور خطبات میں سورہ الانعام کی آیت ۱۵۱ تا ۱۵۳ کے بارے میں بیان کرتے ہیں تو صرف برتھ کنٹرول سے متعلقہ حکم کا تذکرہ کرتے ہیں مگر وہ ۹ احکام جو ان آیات میں بیان کیے گئے ہیں انہیں بیان نہیں کرتے۔ یہ احکام (۱) شرک (۲) ماں باپ کی فرمانبرداری (۳) فاقہ کے ڈر سے اولاد کے قتل سے ممانعت (۴) بے حیائی سے بچنے کی تلقین (۵) کسی انسان کے ناحق قتل کی حرمت (۶) یتیم کے مال کے قریب نہ جانا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان ۔ نعمت کی ناقدری اور ناشکری
گزشتہ شب جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور گزشتہ سال انتقال کرنے والے ان کے چھوٹے بھائی حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی کی یاد میں ’’شیخین سیمینار‘‘ کے عنوان سے تعزیتی اجتماع تھا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے ان کے تلامذہ اور عقیدت مندوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی اور متعدد سرکردہ علماء کرام نے دونوں بزرگوں کی علمی و دینی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا جن میں جسٹس (ر) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اور شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ بطور خاص قابل ذکر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قیامت کی پیشگوئیاں
روزنامہ پاکستان میں ۲۹ مارچ ۲۰۱۱ء کو آن لائن کے حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ریاست کیلی فورنیا کے علاقے آکلینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ پادری نے، جو اپنی عمر کے ۸۹ ویں سال میں ہیں، پیشگوئی کی ہے کہ ۲۱ مئی ۲۰۱۱ء دنیا کا آخری دن ہوگا اور اس دن قیامت آجائے گی جس کے بعد دو فیصد آبادی سیدھی جنت میں چلی جائے گی۔ ہارولڈ کیمبنگ نامی ان پادری صاحب کا کہنا ہے کہ دنیا آخری مراحل میں ہے اور انہوں نے ۷۰ سال تک بائبل اسٹڈی کرنے کے بعد یہ حساب لگایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحفظِ ناموسِ رسالتؐ: حکومت کا مستحسن موقف
پاکستان پیپلز پارٹی ایک بار پھر بازی لیتی دکھائی دے رہی ہے اور ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی روح دوبارہ اپنی پارٹی کے قلب و دماغ کو متوجہ کرتی نظر آرہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سے تمام تر اختلافات کے باوجود ان کا یہ کریڈٹ ہمیشہ غیر متنازعہ رہا ہے کہ انہوں نے ۱۹۷۳ء کے دستور میں پاکستان کی اسلامی نظریاتی شناخت کو قائم رکھا، قوم سے نفاذِ اسلام کا دستوری عہد کیا، عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کا دیرینہ مسئلہ حل کیا، اسلامی سربراہ کانفرنس کا اہتمام کر کے عالم اسلام کو وحدت اور یکجہتی کا پیغام دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانیوں کے متعلق دستوری فیصلے کو ری اوپن کرنے کی کوشش
سانحہ لاہور کے بعد میڈیا پر مختلف اطراف سے قادیانیت کے حوالہ سے ہونے والی بحث کے نئے راؤنڈ نے ملک بھر کے دینی حلقوں کو چونکا دیا ہے اور میاں محمد نواز شریف کے ایک بیان نے انہیں مزید حیرت سے دوچار کر دیا ہے۔ اگر یہ بحث و مباحثہ سانحہ لاہور اور قادیانی مراکز پر مسلح حملوں کے سیاق و سباق تک محدود رہتا اور ان حملوں کے اسباب و عوامل اور محرکات و نتائج کے حوالے سے گفتگو آگے بڑھتی تو شاید یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے حوالے سے ایک سوال
آج کا کالم ایک طالب علمانہ سوال کی نذر ہے کہ کیا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے ذریعے کفر کے فتوے کی اتھارٹی اب حکومت و عدالت کو منتقل ہوگئی ہے؟ اور اگر ایسا ہوگیا ہے تو مفتیان کرام کا اس میں کیا کردار باقی رہ گیا ہے؟ اس سلسلہ میں اپنا ذاتی نقطہ نظر پیش کر رہا ہوں جسے من و عن قبول کرنا ضروری نہیں ہے البتہ اس کے بارے میں اہل علم و دانش سے سنجیدہ توجہ اور غور و خوض کی درخواست ضرور کروں گا۔ یہ سوال اس سے قبل ہمارے سامنے اس وقت بھی آیا تھا جب بنگلہ دیش کی قومی اسمبلی میں یہ تحریک پیش کی گئی تھی کہ بنگلہ دیش میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر