خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس کے اہم پہلو
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیراہتمام تین روزہ ’’خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس‘‘ پشاور میں ’’مجلس تنسیق الاسلامی‘‘ کے قیام کے اعلان اور امارت اسلامی افغانستان کے خلاف عائد پابندیاں ختم کرنے کے مطالبہ کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی ہے۔ اس کانفرنس میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا مرغوب الرحمان کی قیادت میں اساتذہ دارالعلوم کا ایک بھرپور وفد شریک ہوا، جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا اسعد مدنی نے شرکت کی اور ان کے علاوہ مختلف ممالک کے سینکڑوں مندوبین کانفرنس میں شرکت کے لیے تشریف لائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس: مولانا فضل الرحمان اور مولانا سمیع الحق کا اظہارِ یکجہتی
مولانا فضل الرحمان اور مولانا سمیع الحق نے قومی مسائل پر یکجہتی کا اظہار کر کے ملک بھر کے دینی کارکنوں کے لیے مزید اطمینان کا سامان فراہم کر دیا ہے اور اس سے ۹، ۱۰، ۱۱ اپریل کو پشاور میں منعقد ہونے والی ’’خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس‘‘ کے لیے دیوبندی جماعتوں اور کارکنوں کے جوش و خروش میں اضافہ ہوا ہے۔ کچھ عرصہ قبل جمعیۃ علماء پاکستان کے نورانی اور نیازی گروپوں میں اتحاد کا اعلان ہوا اور مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا عبد الستار خان نیازی متحدہ جمعیۃ کے پلیٹ فارم پر پھر سے یکجا ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
۳۳ دن کی اسیری اور فوجی عدالت میں مولانا محمد اجمل خان کا نعرۂ حق
۵ مئی کو راقم الحروف قومی اتحاد کے صوبائی صدر جناب حمزہ اور جناب رانا نذر الرحمان کے ہمراہ راولپنڈی میں ڈویژن کے دورہ پر تھا کہ گجرات میں چودھری ظہور الٰہی صاحب کی قیام گاہ پر مقامی راہنماؤں سے گفتگو کے دوران اچانک روزنامہ وفاق کی اس خبر پر نظر پڑی کہ قومی اتحاد کی مرکزی کونسل کا اجلاس اسی روز ۲ بجے مسلم لیگ ہاؤس لاہور میں منعقد ہو رہا ہے۔ دورہ مختصر کر کے ہم بھاگم بھاگ لاہور پہنچےمسلم لیگ ہاؤس پہنچنے سے پہلے حمزہ صاحب اور رانا صاحب تھوڑی دیر کے لیے ایمبسڈر ہوٹل رکے اور راقم الحروف ان سے چند منٹ پہلے مسلم لیگ ہاؤس پہنچ گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خانہ جنگی کی سازش؟
پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب ذوالفقار علی بھٹو نے ۱۴ اپریل کو لاہور گورنر ہاؤس میں پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ان سے جو کچھ کہا اس کا نتیجہ سامنے آنے میں کچھ زیادہ دیر نہیں لگی۔ اسی روز گورنر ہاؤس سے نکل کر پی پی پی ورکرز نے جلوس نکالا، مختلف بازاروں میں گھوم کر دوکانیں بند کرانے کی ناکام کوشش کی اور پھر داتا دربار کا رخ کیا جہاں سے قومی اتحاد کا عظیم الشان جلوس مارچ کرنے والا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جمعیۃ طلباء اسلام کی ذمہ داریاں: مولانا عبید اللہ انور کے ارشادات
جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے امیر حضرت مولانا عبید اللہ انور مدظلہ العالی نے جمعیۃ طلباء اسلام کی مرکزی مجلس عمومی کے انتخابی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے طلبہ پر زور دیا کہ وہ علم کے حصول کے ساتھ ساتھ دینی و اخلاقی تربیت بھی حاصل کریں کیونکہ عمل و تربیت کے بغیر محض علم گمراہی کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اسلام علم کا مذہب ہے، قرآن کرم کی سب سے پہلی آیات کریمہ جو نازل ہوئی تھیں یہ تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کراچی کے احباب کا مخلصانہ تعاون
راقم الحروف کو یکم نومبر سے ۴ نومبر تک اور ۸ دسمبر سے ۱۵ دسمبر تک کراچی کے مختلف علاقوں کا تنظیمی دورہ کرنے اور جمعیۃ علماء اسلام کی تنظیمی صورتحال کا جائزہ لینے کا موقع ملا۔ اس دوران لیاقت آباد، فیڈرل بی ایریا، ناظم آباد، شیر شاہ کالونی، مہاجر کیمپ، بلدیہ ٹاؤن، بہاری کالونی، کلری، کیماڑی، کورنگی، لانڈھی، مظفر آباد کالونی، فیوچر کالونی، ڈرگ کالونی، نیو ٹاؤن، دہلی مرکنٹائل سوسائٹی، اختر کالونی، محمود آباد، کھوکھرا پار، کھڈہ اور دیگر علاقوں میں جماعتی رہنماؤں اور کارکنوں سے تفصیل کے ساتھ جماعتی امور پر تبادلۂ خیالات ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انٹرنیشنل خلافت کانفرنس لاہور میں حاضری
گزشتہ اتوار کو ایوان اقبال لاہور میں محترم ڈاکٹر اسرار احمد کی ’’تحریک خلافت پاکستان‘‘ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ’’انٹرنیشنل خلافت کانفرنس‘‘ میں شرکت کا موقع ملا اور مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور زعماء ملت کے خیالات سے آگاہی ہوئی۔ کانفرنس سے خطاب کی مجھے بھی دعوت تھی بلکہ شام چار بجے شروع ہونے والی دوسری نشست میں میرے خطاب کا پروگرام شائع ہو چکا تھا مگر کانفرنس کے ابتدائی دعوت نامہ میں دوسری نشست کی صراحت نہیں تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے آبائی گاؤں میں حاضری
گزشتہ روز برصغیر کے نامور انقلابی مفکر حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے آبائی گاؤں ’’چیانوالی‘‘ میں ایک دینی درسگاہ کے سالانہ جلسہ کے لیے جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ گاؤں ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ میں ستراہ اور بڈھا گورایہ کے درمیان سڑک پر واقع ہے اور اس گاؤں میں ۱۰ مارچ ۱۸۷۲ء کو ایک سکھ گھرانے میں جنم لینے والا بچہ دنیا میں برصغیر پاک و ہند کی تحریک آزادی کے عظیم لیڈر اور مفکر امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے نام سے متعارف ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کراچی میں سود پر ایک سیمینار
۲۵ اپریل ۱۹۹۹ء کو جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نارتھ کراچی میں پاکستان شریعت کونسل کے زیراہتمام منعقد ہونے والا سیمینار اگرچہ سود کے موضوع پر تھا لیکن میری طرح اور بہت سے دوستوں کے لیے اس لحاظ سے خوشی کا عنوان بن گیا کہ اس میں جمعیۃ علماء اسلام کے دونوں دھڑوں اور پاکستان شریعت کونسل کے سرکردہ حضرات شریک ہوئے۔ گویا پندرہ بیس برس پہلے کی متحدہ جمعیۃ علماء اسلام کے احباب ایک جگہ جمع ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
زیڈ اے سلہری صاحب! اپوزیشن ناکام نہیں ہے!
معروف صحافی جناب زیڈ اے سلہری کا ایک مضمون ’’اپوزیشن ناکام کیوں ہے؟‘‘ کے زیرعنوان روزنامہ جنگ راولپنڈی ۱۸ اپریل ۱۹۷۶ء کے شمارہ میں شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے اپوزیشن کو ناکام قرار دیتے ہوئے اس کی ناکامی کے اسباب و عوامل کا تجزیہ فرمایا ہے۔ اس سلسلہ میں چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی قارئین کے سامنے آسکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیۃ علماء اسلام کے درمیان مخاصمت پیدا کرنے کی کوشش
گزشتہ ماہ چنیوٹ میں مجلس تحفظ ختم ختم نبوت پاکستان کے زیراہتمام سالانہ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملک کے تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں نے شرکت فرمائی۔ اس کانفرنس کے بارے میں لاہور کے ایک روزنامہ نے مندرجہ ذیل شرانگیز خبر شائع کی ہے: ’’یہ امر قابل ذکر ہے کہ تحفظ ختم نبوت کے جلسہ کو جمعیۃ علماء اسلام مفتی محمود کے کارکنوں نے متعدد بار ناکام بنانے کی کوشش کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
طالبان کے ساتھ دینی جماعتوں کا اظہارِ یکجہتی
مولانا سمیع الحق مبارکباد کے مستحق ہیں کہ امارات اسلامی افغانستان کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے پابندیوں کے اعلان کے بعد انہوں نے دینی حلقوں کی قیادت کو جمع کرنے کی ضرورت محسوس کی اور اس کا بروقت اہتمام کیا۔ گزشتہ سال جب افغانستان پر امریکی حملہ کے خطرات نظر آنے لگے تو مولانا فضل الرحمان نے عوامی بیداری کی مہم شروع کر کے امریکہ پر واضح کر دیا تھا کہ افغانستان پر حملہ اس قدر آسان نہیں ہے اور ایسا کرنا پاکستان کے عوام کے غیظ و غضب کو بھڑکانے کے مترادف ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مغرب میں انسانی حقوق کی تاریخ اور جواہر لال نہرو کے خطوط
۱۰ دسمبر کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن منایا جاتا ہے۔ ۱۹۴۸ء میں اس روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا ۳۰ نکاتی اعلامیہ منظور کیا تھا جسے آج کی دنیا میں انسانی حقوق کا عالمی معیار قرار دے کر تمام اقوام و ممالک پر اس کے احترام اور پابندی کے لیے مسلسل زور دیا جا رہا ہے۔ چنانچہ جنرل اسمبلی کی طرف سے اس منشور کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’’جنرل اسمبلی اعلان کرتی ہے کہ انسانی حقوق کا یہ عالمی منشور تمام اقوام کے واسطے حصول مقصد کا مشترک معیار ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی مذہبی سرگرمیاں / لاہور میں ایک چرچ کا انہدام
عید الاضحیٰ اور کرسمس دونوں گزر گئی ہیں، مسلمان اور مسیحی دنیا بھر میں اپنی اپنی عید سے فارغ ہو کر معمول کی مصروفیات میں مگن ہو گئے ہیں البتہ پاکستان کے مسلمانوں کو عید الاضحیٰ پر جانوروں کی قربانی کے بعد ایک بہت بڑی انسانی قربانی کا سامنا بھی کرنا پڑ گیا ہے جو محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے جاں نثاروں کی المناک موت کی صورت میں پوری قوم کو سوگوار کر گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جمعیۃ علماء اسلام کے اتحاد کا بنیادی تقاضہ
ماہِ رواں کی چار تاریخ کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کے دوران ایک اخبار نویس دوست نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے دوبارہ متحد ہونے کا کوئی امکان ہے؟ میں نے اس کے جواب میں عرض کیا کہ جمعیۃ میں تفریق ایم آر ڈی میں شرکت کے سوال پر ہوئی ہے کیونکہ اسلامی نظام اور دینی مقاصد کی بالادستی کی شرط کے بغیر کسی سیاسی اتحاد میں شمولیت ہماری روایات، دینی تشخص اور ولی اللہی مشن کے منافی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت طلیحہ بن خویلد اسدیؓ، قادیانیت کے لیے ایک سبق
قادیانی جماعت نے مرزا غلام احمد قادیانی کی وفات کے ایک سو سال مکمل ہونے پر ۲۲ مئی کو چناب نگر میں صد سالہ تقریبات کا اہتمام کیا اور دنیا بھر میں قادیانی جماعت اس نوعیت کی تقریبات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اہلِ اسلام کی مختلف جماعتوں نے بھی اس موقع پر اپنے جذبات کے اظہار کے لیے ’’جوابِ آں غزل‘‘ کے طور پر جلسے کیے ہیں اور تمام بڑے مکاتب فکر نے اس کی ضرورت محسوس کی ہے، چنانچہ مرکزی جمعیۃ اہل حدیث نے ۲۲ مئی کو چنیوٹ میں خاتم النبیینؐ کے نام سے اجتماع کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نظامِ شریعت کنونشن اور ہماری ذمہ داریاں، کارکن توجہ فرمائیں!
ملک کی موجودہ صورتحال جو منظر پیش کر رہی ہے اور ہواؤں کا رخ مستقبل کے بارے میں جن خدشات و توقعات کی نشاندہی کر رہا ہے اس کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ علماء حق سستی اور تساہل کو خیرباد کہتے ہوئے آنکھیں کھولیں، گرد و پیش کا جائزہ لیں، آنے والے وقت کی ضروریات اور تقاضوں کا احساس کریں، اپنی توانائیوں، وسائل اور صلاحیتوں کو مجتمع کریں، نئی صف بندی میں اپنے مقام کا تعین کریں اور پھر اس کے حصول کے لیے اپنی استعداد اور قوتوں کو منظم طریقہ کے ساتھ استعمال میں لائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس: درپیش چیلنجز اور موزوں حکمت عملی
انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد میں دعوہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے تعاون سے دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے ’’دینی مدارس: تشخص اور ادارتی نشوونما‘‘ کے عنوان سے دس روزہ تربیتی پروگرام چل رہا ہے، اس کا آغاز ۱۱ مارچ کو ہوا اور ۲۰ مارچ تک جاری رہے گا۔ مختلف مکاتب فکر کے دینی مدارس کے اساتذہ اس میں شریک ہیں اور ممتاز ارباب فکر و دانش انہیں اپنے تجربات اور افکار سے آگاہ کر رہے ہیں۔ مجھے بھی اس میں اساتذہ کے سامنے کچھ گزارشات پیش کرنے کی دعوت دی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جمعیۃ راولپنڈی کا اجلاس ‒ اکابر کی عیادت ‒ دینی مدارس کے منتظمین سے
۸ جولائی کو دارالعلوم عثمانیہ ورکشاپی راولپنڈی میں راولپنڈی ڈویژن کے جماعتی امراء و نظماء اور کارکنوں کا اجلاس منعقد ہوا، جمعیۃ کے صوبائی نائب امیر حضرت مولانا قاری عبد السمیع صاحب سرگودھوی نے اجلاس کی صدارت فرمائی اور اپنے زریں ارشادات سے شرکاء اجلاس کو محظوظ کیا۔ مولانا نے جماعتی احباب پر زور دیا کہ اپنی صفوں کو منظم کرنے اور جمعیۃ علماء اسلام کے حلقۂ اثر کو وسیع بنانے کے لیے پوری محنت اور تندہی کے ساتھ جدوجہد کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نظامِ شریعت کنونشن کی تیاروں کا آغاز ‒ لائل پور میں شعبہ نشر و اشاعت کا قیام
مرکزی مجلس شوریٰ جمعیۃ علماء اسلام نے ملتان کے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ کل پاکستان نظامِ شریعت کنونشن ۱۸ و ۱۹ اکتوبر کو گوجرانوالہ میں ہوگا۔ حضرت مولانا عبید اللہ انور دامت برکاتہم کو مجلس استقبالیہ کا صدر منتخب کر کے باقی عہدہ داروں اور ارکان کا تعین گوجرانوالہ جمعیۃ کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ چنانچہ کنونشن کی تیاریوں کے آغاز او رمجلس استقبالیہ کے باقاعدہ قیام کے سلسلہ میں ۳۰ جون کو مکی مسجد بخاری روڈ گوجرانوالہ میں جمعیۃ علماء اسلام ضلع گوجرانوالہ کی مجلس عمومی کا اجلاس منعقد ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شعبہ نشریات اور انصار الاسلام ۔ چند اہم فیصلے
۱۵ مئی کو مرکزی دفتر جمعیۃ علماء اسلام لاہور میں مرکزی نائب امیر حضرت مولانا محمد شریف صاحب وٹو، سالارِ اعظم انصار الاسلام حاجی کرامت اللہ صاحب، سالارِ اعلیٰ انصار الاسلام پنجاب خواجہ عبد الرؤف صاحب، ناظم نشر و اشاعت راقم الحروف، ناظم جمعیۃ علماء اسلام ملتان شیخ محمد یعقوب اور سالار انصار الاسلام ضلع گوجرانوالہ مولانا گل محمد توحیدی نے ایک غیر رسمی مشاورت میں اہم تنظیمی امور پر غور و خوض کے بعد تنظیمی تعطل کو دور کرنے کے لیے چند تجاویز مرتب کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نظامِ شریعت کنونشن کے سلسلہ میں چند اہم گزارشات
کل پاکستان جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ کے فیصلہ کے مطابق آل پاکستان نظامِ شریعت کنونشن ۱۸ و ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۵ء بروز ہفتہ و اتوار گوجرانوالہ میں ان شاء اللہ پروگرام کے مطابق منعقد ہو رہا ہے۔ تمام صوبوں اور اضلاع کی جمعیتوں کو کنونشن کی تفصیلات سے بذریعہ سرکلر آگاہ کر دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علامہ محمد اقبالؒ اور تجدد پسندی ۔ ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ صاحب کے خیالات
روزنامہ نوائے وقت کی ۱۸ و ۱۹ نومبر کی اشاعت میں ’’جدید اسلامی ریاست میں تعبیرِ شریعت کا اختیار‘‘ کے عنوان سے محترم ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ کا مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے علامہ محمد اقبالؒ کے حوالہ سے اس عنوان پر بحث کی ہے کہ بدلتے ہوئے حالات میں ایک اسلامی ریاست کی تشکیل کے لیے قانون سازی اور تعبیر شریعت کا دائرہ کار اور دائرہ اختیار کیا ہونا چاہیے۔ یہ مضمون اس لحاظ سے قابلِ قدر ہے کہ اس کے ذریعے اس قومی بحث کو ایک واضح رخ دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مرکزی مجلس عمل کے صدر کا انتخاب کیوں نہ ہو سکا؟
۱۱ دسمبر ۱۹۸۳ء کو مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں منعقدہ اجلاس میں کل جماعتی مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے سربراہ کا باقاعدہ انتخاب نہیں ہو سکا تھا اور مولانا محمد شریف جالندھری کو سیکرٹری اور راقم الحروف کو رابطہ سیکرٹری منتخب کر کے باقی کام آئندہ پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہ ایک معمول کی کاروائی تھی جسے روزنامہ جنگ کے لاہور کے ڈائری نویس نے ۲۴ دسمبر ۱۹۸۳ء کے جنگ میں شائع ہونے والی لاہور کی ڈائری میں تجسس اور سنسنی خیزی کا رنگ دے کر شکوک و شبہات اور بے اعتمادی کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دورۂ بھارت: مولانا قاضی حمید اللہ خان کے تاثرات
۱۲ اگست ۲۰۰۳ء کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں عصر کی نماز کے بعد پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے علماء کرام اور دینی کارکنوں کی ایک نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں مولانا قاضی حمید اللہ خان ایم این اے نے اپنے حالیہ دورۂ بھارت کے تاثرات بیان کیے۔ نشست کی صدارت جمعیۃ علماء اسلام کے رہنما مولانا سید عبد المالک شاہ نے کی اور اس میں علماء کرام، طلبہ اور دینی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کیوبا سے رہائی پانے والے ایک مجاہد کی داستان
بحمد اللہ تعالیٰ گزشتہ چونتیس برس سے گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد میں خطابت و امامت کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں۔ جمعہ کی نماز کے بعد ایک عام سی روایت بن گئی ہے کہ کچھ دوست ملاقات کرتے ہیں اور تھوڑی دیر میرے دفتر میں بیٹھتے ہیں، کسی نے کوئی مسئلہ پوچھنا ہوتا ہے، کوئی کسی معاملہ میں مشورہ کے خواہاں ہوتے ہیں اور کوئی ویسے ہی ملاقات اور گپ شپ کے لیے بیٹھ جاتے ہیں۔ ایسا عام طور پر مساجد میں دینی جلسوں کے بعد بھی ہوتا ہے، خطاب اور دعا کے بعد کچھ حضرات کی خواہش ہوتی ہے کہ مصافحہ کریں ملاقات ہو اور تھوڑی بہت گفتگو بھی ہو جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذ اسلام کی کوششیں اور قومی خودمختاری کا مسئلہ
گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ نے سرحد اسمبلی کے منظور کردہ ’’حسبہ ایکٹ‘‘ کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے واپس کر دیا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ گورنر کی طرف سے حسبہ ایکٹ پر سات اعتراضات کیے گئے ہیں جن میں آئین سے تجاوز اور عدالتوں کو نظر انداز کرنے کے دو اعتراض بھی شامل ہیں۔ جبکہ صوبائی وزارت قانون نے چھ صفحات پر مشتمل جواب میں ان اعتراضات کو غلط فہمی پر مبنی قرار دیا ہے۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ حسبہ ایکٹ ممتاز آئینی اور قانونی ماہرین کی مشاورت سے بنایا گیا ہے اور اس میں جو طریق کار اختیار کیا گیا ہے اس کی آئین میں گنجائش موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فلسطینی وزیراعظم محمود عباس اور بہائی فرقہ
فلسطین کی آزادی اور فلسطینیوں کے لیے الگ ریاست کے قیام کے لیے کم و بیش پینتیس برس سے مسلسل جدوجہد کرنے والے لیڈر یاسر عرفات کو منظر سے ہٹا کر محمود عباس کو سامنے لایا گیا ہے اور اب امریکہ اور اسرائیل فلسطین کے مستقبل کے حوالہ سے کم و بیش سارے معاملات محمود عباس سے طے کر رہے ہیں۔ قارئین کو یہ بات یاد ہوگی کہ یاسر عرفات کو پس منظر میں لے جانے اور محمود عباس کو فلسطینی اتھارٹی کا وزیراعظم بنوانے میں سب سے زیادہ دلچسپی امریکہ نے لی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شیعہ سنی فسادات کون کرانا چاہتا ہے؟
جدید ڈپلومیسی کی ایک تکنیک یہ بھی ہے کہ جو غلط کام خود کرنا چاہو اسے اپنے مخالف کی طرف منسوب کر کے اس قدر پراپیگنڈا کرو کہ عوام کی نظروں میں اس کارِ بد کی ذمہ داری سے خود بچ سکو اور مخالفین کو بدنام کرنے کا ایک بڑا بہانہ ہاتھ آئے۔ حکمران گروہ دراصل اسی تکنیک کو اختیار کر کے اپوزیشن رہنماؤں کی مسلسل کردار کشی میں مصروف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جونیجو فضل الرحمان ملاقات ۔ قومی سیاست میں نئی صف بندی کا آغاز
۱۷ مارچ کو پاکستان کے وزیراعظم جناب محمد خاں جونیجو جلسہ عام سے خطاب کرنے کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے تو اس موقع پر انہوں نے ایم آر ڈی کے راہنما مولانا فضل الرحمان سے بھی ان کی رہائش گاہ پر عبدل الخیل میں ملاقات کی جو تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی۔ اس ملاقات کا پروگرام پہلے سے طے شدہ تھا جس کا اعلان قومی اخبارات میں آچکا تھا اور متعدد وفاقی وزراء اس ملاقات کا انتظام کرنے کے لیے کافی دنوں سے متحرک تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نوابزادہ نصر اللہ خان، ایم آر ڈی اور مجلس تحفظ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت کے ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کے ادوار میں اس مقدس مشن کے ساتھ نوابزادہ موصوف کی پرجوش وابستگی اور خدمات کے باعث تحریک ختم نبوت کے راہنما اور کارکن ان کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ لیکن اس ضمن میں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ تحریک ختم نبوت کے ساتھ نوابزادہ نصر اللہ خان کی ذاتی وابستگی اور شخصی خدمات کے سہارے ایم آر ڈی کو مرکزی مجلس عمل کا پلیٹ فارم اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جہاد کی فرضیت اور افرادی قوت کا تناسب
جہاد کے بارے میں سورۃ الانفال کی آیت ۶۵ و ۶۶ میں اللہ تعالیٰ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اہل ایمان کو لڑائی پر ابھاریں اور اس کے ساتھ یہ وعدہ فرمایا ہے کہ اگر دس کافروں کے مقابلہ میں ایک مسلمان ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا حکم بھی ساتھ شامل ہوگا تو دس کے مقابلہ میں ایک مسلمان کو غلبہ نصیب ہوگا۔ یہ ابتدائی حکم تھا جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تخفیف فرما دی کہ دو کے مقابلہ میں ایک مسلمان کو غلبہ ملے گا اگر اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا حکم اور حکمت شامل ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فیصل آباد کا شہباز احمد ۔ امام مہدی ہونے کا ایک اور دعویدار
فیصل آباد میں شہباز احمد نامی ایک نئے مہدی کے ظہور نے امام مہدی کی آمد کے بارے میں بحث و گفتگو کا بازار ایک بار پھر گرم کر دیا ہے اور ملک بھر میں دینی محافل میں اس کا تذکرہ پھر سے ہونے لگا ہے۔ جہاں تک قیامت سے پہلے نسل انسانی کے آخری دور میں کسی مصلح شخصیت کے ظہور کا تعلق ہے یہ انتظار کم و بیش ہر مذہب کے پیروکاروں کو ہے البتہ اس کے عنوانات مختلف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اہم فیصلے
حضرت امیر مرکزیہ مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم، قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمود مدظلہ، حضرت مولانا عبید اللہ انور مدظلہ، حضرت مولانا خان محمد مدظلہ آف کندیاں شریف اور حضرت مولانا سید نیاز احمد شاہ گیلانی پر مشتمل وفد بہت جلد مندرجہ ذیل شہروں کا دورہ کر کے کارکنوں کے علاقائی اجتماعات سے خطاب کرے گا۔ کراچی، حیدر آباد، سکھر، رحیم یار خان، ملتان، لاہور، گوجرانوالہ، لائل پور، سرگودھا، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، جھنگ، سیالکوٹ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اقوام متحدہ کے منشور پر نظرثانی کی ضرورت
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی نے کچھ عرصہ قبل اسلامی جمہوریہ ایران کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں ایرانی حکومت سے متعدد قوانین اور پالیسیوں کی تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ قرارداد ۵۲ کے مقابلہ میں ۷۱ ووٹوں سے منظور ہوئی ہے۔ قرارداد کے خلاف ووٹ دینے والوں میں اکثریت مسلم ممالک اور سابق کمیونسٹ ملکوں کی ہے جبکہ ۴۱ ممالک رائے شماری سے غیر حاضر رہے جن میں زیادہ افریقی ممالک ہیں۔ اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنرل اسمبلی اگلے ماہ اس قرارداد کی حتمی منظوری دے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
رسول اللہؐ کی محبت اور مسلمانوں کے جذبات
سرورِ کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسلمانوں کی محبت و احترام کا معاملہ ایسا ہے کہ اس کی اور کوئی مثال نہیں دی جا سکتی۔ اور یہ جناب رسول اللہؐ کا اعجاز ہے کہ جس کا ان کے ساتھ ایمان و عقیدت کا تعلق قائم ہوگیا اس کے لیے دنیا کی ہر چیز ہیچ ہوگئی اور باقی سب رشتوں اور تعلقات کی کشش ثانوی حیثیت اختیار کر گئی۔ اس میں نیک اور گنہگار کا کوئی فرق نہیں، جو نیکی اور تقویٰ میں سب سے آگے ہے اس کی محبت اور عقیدت کا بھی وہی عالم ہے اور اس محبت اور عقیدت میں فاسق و فاجر بھی کسی سے کم نہیں رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
استنبول اعلامیہ، متحدہ مجلس عمل اور دفاع پاکستان کونسل
گزشتہ ہفتہ کی تین اہم خبروں کے حوالہ سے آج کچھ گزارشات پیش کرنا چاہ رہا ہوں۔ پہلی خبر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے استنبول میں ہونے والے سربراہی اجلاس کی ہے جس میں امریکہ کا سفارت خانہ بیت المقدس میں منتقل کرنے کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا گیا ہے کہ ’’القدس‘‘ فلسطین کا دارالحکومت ہے اور امریکی صدر کا یہ اعلان غیر قانونی اور قابلِ مذمت ہے۔ کانفرنس کے اعلامیہ میں عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ مشرقی بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سنی شیعہ کشیدگی کے اسباب پر ایک نظر
سنی شیعہ کشیدگی اور باہمی قتل و قتال کی افسوسناک صورتحال کے اسباب و عوامل کا جائزہ لینے کے لیے تنظیم اسلامی پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی سربراہی میں علماء کمیٹی نے کام شروع کر دیا ہے اور اس کے پہلے باضابطہ اجلاس کے بعد ابتدائی سفارشات کی جو شکل سامنے آئی ہے اس ے اندازہ ہوتا ہے کہ نہ صرف کمیٹی اپنے کام میں سنجیدہ ہے بلکہ کمیٹی قائم کرنے والے حضرات بھی اس سلسلہ میں کوئی عملی پیش رفت چاہتے ہیں۔ یہ کمیٹی وزیراعظم پاکستان نے قائم کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عوامی سفر اور مجاز اتھارٹی
روزنامہ اوصاف کے صفحۂ اول پر ایک بس کی تصویر دیکھ کر گزشتہ ہفتے کے ایک سفر کی یاد پھر سے ذہن میں تازہ ہوگئی ہے۔ تصویر کا منظر یہ ہے کہ بس میں بڑے مزے سے بکرے سیٹوں پر براجمان ہیں اور کھڑکیوں سے باہر سر نکالے ماحول کا نظارہ کر رہے ہیں۔ جبکہ تصویر کے نیچے لکھا ہے کہ زیرنظر تصویر تیسری دنیا کے انسانوں کے بے وقعت ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے، مسافر بسوں میں جانوروں کی طرح سفر کرتے ہیں جبکہ قربانی کے قیمتی جانوروں کو سیٹوں پر بٹھا کر بڑے آرام اور احتیاط سے لایا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سپاہ صحابہ کا موقف اور انصاف کے معروف تقاضے
ماہِ رواں کے آغاز میں سپاہ صحابہؓ کے کارکنوں نے اسلام آباد میں جو مظاہرہ کیا اس کے حوالہ سے خبر آئی تھی کہ وزیراعلیٰ پنجاب وفاقی وزیرداخلہ کی موجودگی میں سپاہ صحابہؓ کے رہنماؤں سے مذاکرات کریں گے اور اس کے لیے تاریخ کا اعلان بھی ہوگیا تھا۔ وہ تاریخ گزرے ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے مگر ابھی تک مذاکرات کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے جبکہ اس کے بعد سپاہ صحابہؓ پاکستان کے سربراہ مولانا علی شیر حیدری کو تین سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے اور سپاہ صحابہؓ کی قیادت نئے سرے سے مظاہروں کے پروگرام بنا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چکوال پولیس، مدنی مسجد اور جنرل (ر) عبد المجید ملک
گزشتہ دنوں دارالعلوم حنفیہ چکوال میں سلسلہ نقشبندیہ حبیبیہ کے سالانہ روحانی اجتماع میں پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی کے ہمراہ شرکت کا موقع ملا تو اس موقع پر تھوڑی دیر کے لیے ہم مدنی مسجد میں بھی گئے جو ان دنوں چکوال پولیس کے ایک آپریشن کی وجہ سے خاصی شہرت اختیار کر گئی ہے۔ اسلام آباد کے علماء مولانا عبد الخالق، مولانا قاری میاں محمد نقشبندی اور مولانا محمد رمضان علوی بھی ہمارے ساتھ تھے۔ ہم نے مدنی مسجد میں عشاء کی نماز ادا کی، چکوال پولیس کی ’’فتوحات‘‘ کا معائنہ کیا اور وہاں موجود احباب سے حالات معلوم کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پرائیویٹ شریعت بل کو ترامیم کے بعد نئی شکل دےدی گئی
سینٹ میں زیر بحث پرائیویٹ شریعت بل میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور مختلف مکاتب فکر کے اعتراضات کی روشنی میں ضروری ترامیم کے بعد اسے نئی شکل دے دی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں لاہور میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ رہنماؤں کی ایک مشترکہ کمیٹی نے شریعت بل کے متن پر نظر ثانی کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لندن کی بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس ۔ تحریک ختم نبوت کے تقاضوں کی روشنی میں
تحریک ختم نبوت کی تازہ صورتحال یہ ہے کہ آئینی طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوانے اور اسلام کے نام پر قادیانیوں کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے صدارتی آرڈیننس کے اجراء کے بعد مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اب ان آئینی اور قانونی فیصلوں پر عملدرآمد کرانے اور باقی مطالبات کی منظوری کے لیے جدوجہد میں مصروف ہے۔ اس وقت تحریک ختم نبوت کو جن مسائل کا سامنا ہے ان کی تفصیل کچھ یوں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پرائیویٹ شریعت بل کی بجائے سرکاری مسودہ!
شریعت بل کے سرکاری مسودہ میں قرار دیا گیا ہے کہ عدالتیں حسب سابق مروجہ قوانین کے مطابق ہی فیصلے کرتی رہیں گی البتہ اگر کسی قانون کے خلافِ شریعت ہونے کی شکایت ہوگی تو معاملہ وفاقی شرعی عدالت کے حوالے کر دیا جائے گا۔ جبکہ غیر سرکاری مسودے میں یہ بات اس طرح ہے کہ عدالتوں کو شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند بنایا جائے جس کا مطلب یہ ہے کہ عدالتیں موجودہ قوانین کی بجائے شرعی قوانین کی بنیاد پر مقدمات کی سماعت کریں گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علامہ محمد اقبالؒ کا اسلام
جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا زاہد الراشدی نے مساوات پارٹی کے سربراہ جناب محمد حنیف رامے کے اس بیان کو گمراہ کن قرار دیا ہے کہ ہمیں ملّا کا اسلام نہیں بلکہ اقبالؒ کا اسلام چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر رامے نے اس بیان کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ علامہ اقبالؒ چودہ سو سال سے چلے آنے والے مسلمہ اسلام کی بجائے کسی جدید اسلام کے داعی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جنوبی افریقہ کی غیر مسلم عدالت کا فیصلہ
مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ قادیانیوں کو مسلمان قرار دینے کے بارے میں جنوبی افریقہ کی غیر مسلم عدالت کے حالیہ فیصلہ کی کوئی دینی یا اخلاقی حیثیت نہیں ہے کیونکہ کسی شخص یا گروہ کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنا خالصتاً مسلم علماء کا کام ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دیوبندی بریلوی اتحاد کے بارے میں مولانا عبد الستار خان نیازی کے فارمولا کا خیرمقدم
گکھڑ منڈی (نامہ نگار) کالعدم جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا زاہد الراشدی نے مولانا عبد الستار خان نیازی کی طرف سے بریلوی اور دیوبندی مکتبہ فکر کے مابین مفاہمت اور اتحاد کی تجاویز کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ان تجاویز پر عمل ہو جائے تو یہ دین اور ملک کی بہت بڑی خدمت ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’شریعت بل‘‘ پر اعتراضات ایک نظر میں
سینٹ آف پاکستان میں مولانا قاضی عبد اللطیف اور مولانا سمیع الحق کا پیش کردہ پرائیویٹ شریعت بل اس وقت قومی حلقوں میں زیربحث ہے اور اخبارات و جرائد میں اس کی حمایت اور مخالفت میں مسلسل مضامین شائع ہو رہے ہیں۔ زیربحث مضمون میں ان اہم اعتراضات پر ایک نظر ڈالنا مقصود ہے جو اس وقت تک شریعت بل سے اختلاف کے ضمن میں سامنے آئے ہیں۔ ان اعتراضات کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک حصہ ان اعتراضات پر مشتمل ہے جو سیاسی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں اور ان کے پس منظر میں سیاسی اختلافات کارفرما ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دستور کی اسلامی دفعات اور ’’سیاسی اسلام‘‘
ربع صدی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ گکھڑ میں حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی مسجد میں دینی جلسہ تھا، اس دور کے ایک معروف خطیب بیان فرما رہے تھے، موضوعِ گفتگو دارالعلوم دیوبند کی خدمات و امتیازات تھا۔ جوشِ خطابت میں انہوں نے یہ فرما دیا کہ دارالعلوم دیوبند نے شاہ اسماعیل شہیدؒ جیسے سپوت پیدا کیے۔ جلسہ کے بعد دسترخوان پر ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ حضرت! دارالعلوم دیوبند کا آغاز 1866ء میں ہوا تھا جبکہ شاہ اسماعیل شہیدؒ اس سے تقریباً پینتیس سال قبل بالاکوٹ میں شہید ہوگئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
گوجرانوالہ بچاؤ تحریک: چند گزارشات
چند ماہ قبل کچھ دوست گوجرانوالہ کے شہریوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے جناب ایس اے حمید کی رہائش گاہ پر جمع ہوئے تو اس بات پر مشورہ ہوا کہ شہریوں کی مشکلات اور مسائل کے حل کے لیے ایک ایسا فورم تشکیل دیاجائے جو سیاسی گروہ بندی، برادری ازم اور انتخابی جھمیلوں سے الگ تھلک رہتے ہوئے خالصتاً شہری بنیادوں پر لوگوں کی مشکلات و مسائل کے حل کے لیے کوشش کر سکے۔ اس کا ذکر اس کالم میں اس سے قبل بھی کرچکاہوں۔ اس موقع پر یہ طے ہو گیا کہ یہ فورم سیاسی گروہ بندیوں، فرقہ وارانہ ترجیحات، انتخابی کشمکش اور برادری ازم سے ہٹ کر ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر