مقالات و مضامین

حضرت درخواستیؒ کی پون صدی کی جدوجہد اور اہداف

مجھے 1960ء میں حضرت درخواستیؒ کو قرآن کریم حفظ کا آخری سبق سنا کر ان کے حلقۂ ارادت میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا اور پھر ان کی وفات تک عقیدت و محبت اور وفاداری کا سلسلہ قائم رہا۔ ان کے ساتھ سفر و حضر اور جلوت و خلوت کی رفاقت کے اس طویل سلسلہ کی بے شمار یادیں ہیں جن کا تذکرہ شروع کردوں تو کسی ایک پہلو کا بھی اس محفل میں شاید احاطہ نہ ہو سکے۔ چنانچہ ان میں سے صرف ایک پہلو پر کچھ گزارشات پیش کرنے کا ارادہ ہے، اور چونکہ میں خود اس مورچے اور محاذ کا آدمی ہوں اس لیے طبعی طور پر اسی پہلو کو گفتگو کے لیے ترجیح دینا زیادہ پسند کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اکتوبر ۲۰۰۰ء

آہ! رخصت ہوا شیخ درخواستیؒ

مجھے شعر و شاعری کے ساتھ ایک سامع اور قاری کی حیثیت سے زیادہ کبھی دلچسپی نہیں رہی اور نہ ہی عروض و قافیہ کے فن سے آشنا ہوں۔ تاہم شاید یہ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے ساتھ عقیدت و محبت کا کرشمہ ہے کہ گزشتہ روز گلاسگو میں ان کی وفات کی خبر ملی تو طبیعت بہت بے چین رہی۔ گلاسگو سے لندن واپس آتے ہوئے دورانِ سفر جذباتِ غم مندرجہ ذیل اشعار کی صورت اختیار کر گئے جو میری زندگی کی پہلی کاوش ہے۔ اہلِ فن سے معذرت کے ساتھ یہ منظوم جذباتِ غم پیش خدمت ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۴ء

حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی

میں 20 جون کو واشنگٹن پہنچا تھا، اس سے ایک دو دن بعد کی بات ہے کہ نماز فجر کے بعد درس دے کر دارالہدٰی کی لائبریری میں سوگیا۔ خواب میں دیکھا کہ پاکستان میں ہوں اور اچانک اطلاع آئی ہے کہ حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی کا انتقال ہوگیا ہے، گوجرانوالہ سے روانہ ہو کر ویگن کے ذریعے چنیوٹ پہنچا اور دیکھا کہ مولانا کی میت چارپائی پر ہے اور چاروں طرف سوگوار حضرات بیٹھے ہیں۔ میں ان کے صاحبزادوں میں سے کسی کو نظروں نظروں میں تلاش کر رہا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جون ۲۰۰۴ء

مولانا علی احمد جامیؒ

مولانا علی احمد جامیؒ کھیالی گوجرانوالہ کے رہائشی تھے اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے طالب علمی کے دور سے میرے ساتھی تھے۔ انہوں نے ساری زندگی دینی جدوجہد میں گزاری، جمعیۃ علمائے اسلام (س) کے ضلعی امیر تھے، اور اب صاحبزادہ پیر عبد الرحیم نقشبندی نے صوبائی امارت کے لیے ان کا انتخاب کیا تھا مگر مسلسل علالت کی وجہ سے وہ کسی عملی ذمہ داری کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ متحدہ مجلس عمل ضلع گوجرانوالہ کے صدر رہے اور تحریک ختم نبوت میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۰۶ء

ڈاکٹر غلام محمد مرحوم

مجھے یاد ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک سو روپے ماہانہ وظیفے پر مبلغ کی حیثیت سے کام شروع کیا اور غالباً ایک سو روپے کی مالیت کا ایک سیکنڈ ہینڈ سائیکل خرید کر انہیں دیا گیا جس پر انہوں نے ضلع بھر میں گاؤں گاؤں گھوم کر جمعیۃ کو منظم کیا۔ پھر انہیں جمعیۃ کا ضلعی سیکرٹری جنرل چن لیا گیا اور ایک مدت تک وہ اس حیثیت سے سرگرم عمل رہے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم شہر میں ہوتے تو میرا دفتر ہی ان کا دفتر ہوتا تھا۔ اور اکثر ایسا ہوتا کہ ان کی جیب میں خرچ کے لیے پیسے نہ ہوتے تو میں اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتا جتنے پیسے نکلتے ہم آدھے آدھے تقسیم کر لیتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۰۶ء

مولانا حافظ عبد الرشید ارشد مرحوم

مولانا حافظ عبد الرشید ارشد کا تعلق میاں چنوں سے تھا۔ جامعہ رشیدیہ ساہیوال سے فیض یافتہ تھے اور حضرت مولانا فاضل حبیب اللہ رشیدی کے رفقاء میں سے تھے۔ پاکستان میں علماء دیوبند کے مسلک اور تعارف کو فروغ دینے میں جامعہ رشیدیہ اور اس کے دورِ اول کے بزرگوں کا جو کردار رہا ہے وہ بجائے خود دینی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے۔ مولانا حافظ عبد الرشید ارشدؒ کو اللہ تعالیٰ نے لکھنے پڑھنے اور طباعت و اشاعت کا خصوصی ذوق عطا کیا تھا، دینی لٹریچر کی عمدہ طباعت و اشاعت میں خاص دلچسپی رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۰۶ء

حافظ محمد صادق مرحوم

1967ء سے 1970ء تک جمعیۃ علمائے اسلام کا جو دور گزرا اور جس میں جمعیۃ قومی سیاست میں ایک باشعور اور حوصلہ مند سیاسی قوت کے طور پر متعارف ہوئی اس دور کے ملک بھر کے چند گنے چنے کارکنوں میں حافظ صاحب مرحوم کا شمار ہوتا ہے۔ حضرت درخواستیؒ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ جیسے بزرگوں کے ساتھ انہوں نے کام کیا اور ان کی خدمت میں رہنے کی سعادت حاصل کی۔ حافظ محمد صادق مرحوم اپنا کاروبار کرتے تھے اور جمعیۃ کا کام بھی کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۴ء

مولانا مفتی محمد ضیاء الحقؒ

مولانا مفتی محمد ضیاء الحقؒ حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ کے داماد تھے اور ان کی جگہ مرکزی جامع مسجد کچہری بازار فیصل آباد میں خطابت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ بنیادی طور پر تبلیغی جماعت سے تعلق تھا اور دعوت و تبلیغ کی سرگرمیوں میں ہمہ تن منہمک رہتے تھے لیکن حضرت مفتی زین العابدینؒ کی طرح سیاسی اور تحریکی ذوق سے بھی بہرہ ور تھے۔ کچہری بازار کی مرکزی جامع مسجد فیصل آباد میں دینی و سیاسی تحریکات کا مرکز رہی ہے اور اب بھی ہے۔ مفتی ضیاء الحق صاحبؒ اس کے تقاضوں سے بے خبر نہیں تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ دسمبر ۲۰۰۴ء

حاجی غلام دستگیر مرحوم

ڈاکٹر حاجی غلام دستگیر مرحوم شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجرؒ مدنی کے خلفاء میں سے تھے۔ انارکلی لاہور سے باہر مسلم مسجد کے نیچے ’’لاہور میڈیسن‘‘ کے نام سے ان کی دکان ہوا کرتی تھی جس میں ان کے ساتھی ان کے بھائی حاجی غلام سبحانی صاحب تھے جو کچھ عرصہ قبل حجازِ مقدس منتقل ہوگئے ہیں۔ لوئر مال روڈ پر ایم اے او کالج کے قریب حاجی غلام دستگیر مرحوم کی رہائش تھی جو ایک زمانے میں قومی سیاست کا مرکز رہی ہے۔ حاجی صاحب کا گھر حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا مہمان خانہ ہوا کرتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۰۶ء

الرشید ٹرسٹ ۔ حکومت سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ قبول کرے

سندھ ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے ’’الرشید ٹرسٹ‘‘ کے فنڈز منجمد کرنے کے بارے میں اسٹیٹ بینک کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور ملک بھر میں اسے انصاف کی فتح قرار دیتے ہوئے اس پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ الرشید ٹرسٹ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے سانحہ کے بعد اس وقت امریکی دباؤ کی زد میں آگیا تھا جب امریکہ نے عالم اسلام کی جہادی تحریکوں کو دہشت گرد قرار دے کر انہیں کچلنے کا اعلان کیا تھا اور اس کے ساتھ ہی مسلم دنیا کے سینکڑوں رفاہی ادارے صرف اس لیے اس دباؤ کے دائرے میں آگئے تھے کہ ان کی رفاہی سرگرمیاں اسلام اور دینی تعلیمات کے حوالے سے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اگست ۲۰۰۳ء

امریکہ میں پاکستانیوں کی سرگرمیاں

نیویارک کے علاقہ بروکلین میں مقیم پاکستانی ان دنوں پاکستان سوسائٹی کے سالانہ انتخابات کی گہماگہمی میں مصروف ہیں۔ ایک طرف جناب عبد الشکور کا گروپ ہے اور دوسری طرف جناب محمد الیاس اور ان کے رفقاء سرگرم عمل ہیں۔ جناب عبد الشکور پنجاب یونیورسٹی کے سابق طالب علم راہنما کی حیثیت سے پاکستان میں معروف ہیں اور یہاں حلقہ اسلامی شمالی امریکہ کے امیر کے منصب پر فائز اپنے مشن کے لیے مصروفِ کار ہیں، سرگرم، پرجوش اور مرنجان مرنج شخصیت کے حامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ ستمبر ۱۹۸۷ء

حضرت مولانا حافظ نذیر احمد

گزشتہ دنوں ملک کے معروف دینی ادارہ جامعہ ربانیہ پھلور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی سالانہ تقریب میں حاضری کا موقع ملا اور شیخ الحدیث حضرت مولانا حافظ نذیر احمد مدظلہ کی زیارت و ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت مولانا حافظ نذیر احمد میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے دورۂ حدیث کے ساتھیوں میں سے ہیں اور تقریباً ساٹھ سال سے پھلور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقہ میں دینی و تعلیمی خدمات میں مصروف ہیں۔ نابینا ہیں لیکن قرآن و حدیث کے علوم پر اس قدر دسترس رکھتے ہیں جو بڑے بڑے اساتذہ کے لیے قابل رشک ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اگست ۲۰۰۴ء

حضرت مولانا سید ابوذر بخاریؒ

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے فرزند و جانشین اور مجلس احرار اسلام کے قائد حضرت مولانا سید ابوذر عطاء المنعم شاہ بخاریؒ طویل علالت کے بعد گزشتہ دنوں ملتان میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم حضرت امیر شریعتؒ کے علمی و فکری جانشین تھے اور بلند پایہ عالم دین، دانشور، صاحب قلم اور منجھے ہوئے خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے عظیم باپ کی وضعداری، فقر و استغناء اور حق گوئی کی روایات کے بھی امین تھے جو کہ کساد بازاری کے اس دور میں جنس نایاب ہوتی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۱۹۹۵ء

حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ

مولانا غلام اللہ خانؒ شیخ العلماء حضرت مولانا حسین علیؒ اور خاتم المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے جنہوں نے تمام عمر توحید کے پرچار میں صرف کر دی۔ انتہائی جری، بے باک اور معاملہ فہم راہنما تھے، قومی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، مجلس احرارِ اسلام کے پلیٹ فارم پر تحریکِ آزادی میں حصہ لیا، تحریک ختم نبوت کے دونوں ادوار میں سرگرم کردار ادا کیا، اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد اور تحریک نظام مصطفٰیؐ میں بھی علماء و عوام کی جرأت مندانہ رہنمائی کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نا معلوم

مولانا سعید الرحمان علویؒ

مولانا محمد سعید الرحمان علویؒ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے پرانے فضلاء میں سے تھے۔ ہم نے کئی سال مدرسہ میں اکٹھے گزارے، وہ عمر میں چند ماہ بڑے تھے اور دورۂ حدیث بھی مجھ سے ایک یا دو سال پہلے کیا مگر تعلیمی دور میں اور پھر اس کے بعد عملی زندگی میں طویل عرصہ رفاقت رہی۔ ان کے بڑے بھائی مولانا حافظ عزیز الرحمان خورشید بھی ہمارے ساتھ تھے جو آج کل ملکوال ضلع منڈی بہاء الدین کی جامع مسجد فاروقیہ کے خطیب ہیں۔ مولانا سعید الرحمان علویؒ اور میرا لکھنے پڑھنے کا ذوق مشترک تھا، لائبریریاں تلاش کرنا، کتب و رسائل مہیا کرنا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جنوری ۲۰۰۵ء

خان غلام سرور خان مرحوم

15 اپریل کو صبح نمازِ فجر کے بعد سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور بنوں کے جماعتی سفر کے لیے پایۂ رکاب تھا کہ فون کے ذریعہ یہ روح فرسا خبر ملی کہ جمعیۃ علماء اسلام بہاولپور کے امیر خان غلام سرور خان انتقال کر گئے ہیں اور دس بجے دن بہاولپور میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے رہی ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ نمازِ جنازہ کے لیے بہاولپور پہنچنا ممکن نہیں تھا اس لیے دکھی دل کے ساتھ طے شدہ سفر پر روانہ ہوگیا۔ غلام سرور خان مرحوم ایک عرصہ سے بیمار تھے، فالج کے ساتھ دل کا عارضہ بھی لاحق تھا اور تحریک نظام مصطفٰیؐ کے دوران پولیس کے وحشیانہ تشدد سے ان کا بازو بھی ٹوٹ گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مئی ۱۹۸۶ء

علامہ محمد احمد لدھیانویؒ

علامہ صاحب کے ساتھ میری جماعتی اور تحریکی رفاقت کا دورانیہ کم و بیش اڑتیس سال کے عرصہ کو محیط ہے اور کم و بیش ربع صدی تک ضلع گوجرانوالہ کی دینی اور قومی سیاست میں علامہ محمد احمد لدھیانوی، مولانا احمد سعید ہزاروی، ڈاکٹر غلام محمد مرحوم، مولانا علی احمد جامیؒ اور راقم الحروف جمعیۃ علمائے اسلام اور دیوبندی مسلک کی نمائندگی کرتے رہے۔ ہم مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی ٹیم شمار ہوتے تھے اور یہ ٹیم ان کی سرپرستی اور قیادت میں دینی و قومی سیاست میں ضلع کی سطح پر ایک بھرپور کردار کی حامل رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ مئی ۲۰۰۶ء

ایک تعزیتی سفر اور علماء سے ملاقاتیں

عید الفطر سے ایک روز قبل ہمارے ایک پرانے بزرگ مولانا روشن دین صاحب ٹیکسلا میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے دور میں جمعیۃ علمائے اسلام ضلع راولپنڈی کے سیکرٹری جنرل اور پھر امیر رہے۔ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ سے بیعت کا تعلق تھا ۔۔۔۔ اس سے دو روز قبل ستائیسویں شب کو ہمارے ایک اور پرانے جماعتی ساتھی مولوی عبد الکریم کا مریدکے میں انتقال ہوا مگر بے حد خواہش کے باوجود ان کے جنازہ میں بھی حاضری نہ ہو سکی۔ مولوی عبد الکریم صاحب جمعیۃ علمائے اسلام کے پرانے کارکنوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ نومبر ۲۰۰۶ء

الشیخ عبد اللہ عزام شہیدؒ

ڈاکٹر عبد اللہ عزام شہیدؒ سعودی عرب کے رہنے والے تھے، یونیورسٹی کے پروفیسر تھے، جہادِ افغانستان کے آغاز کے ساتھ ہی جذبۂ جہاد سے سرشار ہو کر ملازمت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے محاذِ جنگ پر آگئے۔ مختلف محاذوں پر جنگ میں حصہ لیا، افغان مجاہدین کی حمایت و امداد کے لیے ادارہ قائم کیا، جہادِ افغانستان پر مقالات اور کتابیں لکھیں، ’’الجہاد‘‘ کے نام سے ایک معیاری عربی جریدے کی اشاعت کا اہتمام کیا اور ان جذبۂ جہاد سے سرشار عرب نوجوانوں کی راہنمائی اور قیادت کی جو مختلف ممالک سے جہادِ افغانستان میں شرکت کے لیے محاذوں پر پہنچے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۸۹ء

ضلعی حکومتیں اور عالمی بینک

گزشتہ دنوں آزادکشمیر کے دو اضلاع باغ اور سدھنوتی کے مختلف مقامات پر جانے کا اتفاق ہوا تو اس دوران خاص طور پر یہ منظر دیکھ کر حیرت اور تعجب میں اضافہ ہوا کہ قدم قدم پر عالمی بینک کے تعاون سے مکمل کیے جانے والے آب رسانی کے منصوبوں کی تفصیلات کے بورڈ نصب ہیں۔ ان علاقوں میں لوگوں نے ورلڈ بینک کے تعاون سے پینے کے پانی کے حصول اور گھروں تک اسے پہنچانے کے بہت سے منصوبے مکمل کیے ہیں جن کے لیے بتایا جاتا ہے کہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور چشموں سے آبادی اور گھروں تک پہنچانےکے لیے پانی کے پائپ ورلڈ بینک نے مہیا کیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اگست ۲۰۰۰ء

الحاج سیٹھی محمد یوسف مرحوم

سیٹھی صاحب مرحوم نے قرآن کریم کے مدارس کے قیام کو اپنی زندگی کا مشن قرار دے رکھا تھا۔ اس مقصد کے لیے تعلیم القرآن ٹرسٹ قائم تھا اور اس کے ذریعہ انہوں نے پاکستان کے مختلف حصوں میں مذکورہ بالا ترغیب کے ساتھ حفظ قرآن کریم کے مدارس کے قیام کی مہم چلائی۔ بعد میں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں آنے سے قبل مجھے گتہ مل کالونی کی مسجد میں کم و بیش ڈیڑھ دو سال خطابت کے فرائض سرانجام دینے کا موقع ملا تو اس کام سے زیادہ واقفیت حاصل ہوئی اور معلوم ہوا کہ تعلیم القرآن ٹرسٹ کے تحت ملک بھر میں کم و بیش گیارہ سو مدارس کی امداد کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ نومبر ۲۰۰۴ء

الحاج مولانا محمد زکریاؒ

مولانا محمد زکریا مرحوم کے ساتھ میرے روابط اور مراسم کا سلسلہ بہت پرانا تھا۔ وہ جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کے ان پرجوش، متحرک اور بے لوث ارکا ن میں شامل رہے جنہوں نے ایوبی مارشل لاء کے بعد جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کو ایک متحرک سیاسی قوت بنانے کے لیے دن رات ایک کر دیے، اور وسائل کی کمی بلکہ فقدان کے باوجود اپنی جدوجہد کے تسلسل میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔ مجھے ان کے ساتھ ان گنت اجتماعات میں شرکت کا موقع ملا، وہ بحث میں پرجوش حصہ لینے اور دوٹوک رائے دے کر اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے کے عادی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اگست ۱۹۸۸ء

حضرت مولانا جمیل احمد میواتی دہلویؒ

حضرت مولانا جمیل احمد میواتی دہلویؒ بھی اسی قافلہ کے فرد تھے، اس لیے انہوں نے بھی اپنی تگ و تاز کے لیے کسی ایک شعبے پر قناعت نہیں کی بلکہ تصوف و سلوک کو اپنی جولانگاہ بنانے کے ساتھ ساتھ نفاذِ اسلام کی جدوجہد، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی تحریک، دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تدریس کے شعبوں میں بھی فکر و عمل کا حصہ ڈالا۔ ان کا تعلق میوات سے تھا لیکن تقسیم ہند کے وقت ان کے والدین دہلی میں آباد تھے۔ 1947ء میں دہلی سے ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ حضرت مولانا کا روحانی تعلق پہلے شیخ الاسلام حضرت حسین احمدؒ مدنی سے تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ نومبر ۲۰۰۴ء

حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ

حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ پاکستان میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے آخری خلفاء میں سے تھے اور ان کے بعد ہمارے علم کے مطابق پاکستان میں اب ایسے کوئی بزرگ باقی نہیں رہے جنہیں حضرت مدنی نے اپنے روحانی سلسلہ میں خلافت سے نوازا ہو۔ بنگلہ دیش میں دو تین بزرگ ابھی موجود ہیں جن میں سے ایک بزرگ حضرت مولانا عبد الحق صاحب آف درگاپور ضلع سونام گنج کا میں ایک کالم میں تذکرہ کر چکا ہوں۔ حضرت مولانا قاضی مظہر حسین 1914ء کے دوران ضلع چکوال کے گاؤں بھیس میں پیدا ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم فروری ۲۰۰۴ء

حضرت مولوی محمد نبی محمدیؒ

گزشتہ روز ایک قومی اخبار کے آخری صفحہ پر چھوٹے سے چوکھٹے میں یہ خبر نظر سے گزری کہ افغانستان کے بزرگ عالم دین مولوی محمد نبی محمدیؒ انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اسے نیرنکئی زمانہ کا کرشمہ کہیے یا گردشِ حالات کا نتیجہ کہ مولوی محمد نبی محمدیؒ جیسے بزرگ عالم دین کی وفات پر چند سطروں کی ایک خبر کے بعد قومی پریس میں مکمل خاموشی کی کیفیت طاری ہے۔ ورنہ اگر یہی بات اچھے دنوں میں ہوتی تو نہ صرف افغانستان میں قومی سطح پر ان کا سوگ منایا جاتا بلکہ پاکستان میں بھی کئی دنوں تک ان کی خدمات اور قربانیوں کا تذکرہ رہتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ مئی ۲۰۰۲ء

حضرت مولانا محمد رمضان علویؒ

گزشتہ دنوں راولپنڈی کے ایک بزرگ عالم دین حضرت مولانا محمد رمضان علویؒ ٹریفک کے حادثہ میں زخمی ہونے کے بعد انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا علویؒ بھیرہ کے رہنے والے تھے، دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے۔ باپ دادا سے قرآن کریم کی خدمت کا ذوق ورثہ میں ملا تھا۔ ایک عرصہ سے راولپنڈی میں قیام پذیر تھے۔ امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھ خصوصی تعلق تھا۔ مجلس احرارِ اسلام میں طویل عرصہ رہے اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ساتھ بھی کچھ عرصہ وابستگی رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۱۹۹۰ء

مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ

مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ کے ساتھ میرا تعلق 1974ء سے تھا جب وہ مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ میں زیر تعلیم تھے اور تحریک ختم نبوت کے کارکنوں میں شامل تھے۔ تحریک ختم نبوت کے لیے گوجرانوالہ میں جو کل جماعتی مجلس عمل تشکیل دی گئی مجھے اس میں سیکرٹری کی ذمہ داریاں سونپی گئیں اور چونکہ مرکزی جامع مسجد شہر اور ضلع کے لیے تحریک کا ہیڈکوارٹر تھی اس لیے علماء کرام اور کارکنوں کے ساتھ رابطہ زیادہ تر میرا ہی رہتا تھا۔ اس دوران مجھے جن نوجوانوں کا بطور خاص تعاون حاصل رہا ان میں مدرسہ اشرف العلوم کے ہونہار طالب علم محمد جمیل خان نمایاں تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اکتوبر ۲۰۰۴ء

مولانا اعظم طارق شہیدؒ

مولانا اعظم طارقؒ بھی اپنے پیشرو رہنماؤں مولانا حق نواز جھنگویؒ، مولانا ضیاء الرحمانؒ فاروقی، اور مولانا ایثار الحق القاسمیؒ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سفاک قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میں نے یہ افسوسناک خبر امریکہ کے شہر بفیلو میں سنی جہاں 6 اکتوبر کو مولانا عبد الحمید اصغر کے ہمراہ دارالعلوم مدنیہ کی ختم بخاری شریف کی تقریب میں شرکت کے لیے عصر کے وقت پہنچا۔ اس تقریب سے حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی نے خطاب کرنا تھا اور مجھے بھی کچھ معروضات پیش کرنے کے لیے حضرت مولانا ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن نے حکم دیا تھا جو دارالعلوم مدنیہ بفیلو کے سربراہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اکتوبر ۲۰۰۳ء

مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ

راقم الحروف اس روز شورکوٹ میں تھا، ظہر کے بعد جامعہ مدنیہ شورکوٹ کینٹ میں سالانہ جلسہ سے خطاب کیا اور حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ کے ہمراہ مغرب کی نماز جامعہ عثمانیہ شورکوٹ شہر میں ادا کی۔ نماز کے بعد جامعہ عثمانیہ کے مہتمم مولانا بشیر احمد خاکی کے ساتھ ان کے دفتر میں بیٹھے تھے کہ مولانا حق نواز جھنگویؒ کا فون آیا۔ مولانا خاکی کے علاوہ انہوں نے علامہ صاحب اور راقم الحروف سے بھی بات کی۔ کم و بیش سات بجے کا وقت تھا، یہ ہماری آخری گفتگو تھی جو فون پر ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۱۹۹۰ء

حضرت مولانا محمد عبد اللہ رائے پوریؒ

غالباً ستائیسواں روزہ تھا کہ معمول کے مطابق صبح نو بجے کے قریب اخبار ہاتھ میں لیا تو اس کے دوسرے صفحہ پر ایک کالمی ایک سطری سرخی کے ساتھ کسی سیاہ حاشیہ کے بغیر چند سطری خبر تھی کہ جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہؒ انتقال کر گئے۔ زبان پر بے ساختہ انا للہ وانا الیہ راجعون جاری ہوا اور دل دوہرے رنج و غم میں ڈوب گیا۔ ایک صدمہ مولانا مرحوم کی وفات پر اور دوسرا قومی پریس کی بے خبری، سطحیت، ظاہر بینی یا بے حسی پر کہ ایک قومی اخبار کے نامہ نگار یا ایڈیٹر کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہو سکا کہ جس شخص کی وفات کی خبر کو وہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جولائی ۱۹۸۵ء

مولانا حافظ شفیق الرحمانؒ

شہر کی بزرگ دینی شخصیت مولانا حافظ شفیق الرحمان 19 جون کو اچانک انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حافظ صاحب مرحوم کا شمار گوجرانوالہ کی ممتاز شخصیات میں ہوتا تھا اور وہ معروف دینی درسگاہ مدرسہ نصرۃ العلوم کی مجلس انتظامیہ کے صدر تھے۔ ان کی نماز جنازہ شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے پڑھائی جس میں علماء، طلباء اور شہریوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی اور اس کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ مولانا حافظ شفیق الرحمان 1929ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جولائی ۱۹۸۹ء

مولانا حکیم عبد الرحمان آزادؒ

مولانا حکیم عبد الرحمان آزادؒ کی وفات کی خبر مجھے سیالکوٹ سے ظفروال جاتے ہوئے فون پر ملی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ایک عرصہ سے علیل اور صاحبِ فراش تھے۔ جنازے میں تو شرکت نہ ہو سکی مگر ان کی یاد جب بھی ذہن میں آتی ہے دل سے بے ساختہ ان کے لیے دعا نکلتی ہے۔ ان کا تعلق اہل حدیث مکتبہ فکر سے تھا اور وہ حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ کے رفقاء میں سے تھے۔ البتہ تمام زندگی مجلس احرار اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ گزری اور وہ تحفظِ ختم نبوت کے محاذ پر ہمیشہ سرگرم عمل رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ مارچ ۲۰۰۴ء

مولانا جالندھری پر اکابر کا اعتماد

مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی مبینہ الزامات و اعتراضات سے برأت اور اکابر کی طرف سے ان پر اعتماد کے اظہار سے ملک بھر کے سنجیدہ علمی، مسلکی اور دینی حلقوں نے اطمینان کا سانس لیا ہے کہ بحمد اللہ تعالیٰ وہ مہم دم توڑ گئی ہے جو قاری صاحب محترم کے خلاف نہیں بلکہ وفاق المدارس کے خلاف تھی اور اس کی ڈوریاں خداجانے کہاں کہاں سے ہلائی جا رہی تھیں۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان ملک بھر کے دیوبندی حلقوں، مراکز، مدارس اور شخصیات کی نمائندگی کرتا ہے اور ان کی وحدت و مرکزیت کی علامت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جنوری ۲۰۱۷ء

حکیم محمد سعید شہیدؒ

خدا غارت کرے ان سفاک قاتلوں کو جنہوں نے اس شریف النفس انسان کے خون سے ہاتھ رنگے، اور قہر نازل کرے ان منصوبہ سازوں پر جو علم و اخلاق کے اس سفیر کے قتل کی شرمناک سازش کے مرتکب ہوئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حکیم صاحب کے ساتھ میرا براہ راست تعارف نہیں تھا اور کوئی ایسی مجلس یاد نہیں جس میں ان سے آمنا سامنا ہوا ہو۔ مگر ان کی فکر، سوچ، جدوجہد اور تگ و دو سے ہمیشہ شناسائی رہی اور وقتاً فوقتاً خط و کتابت کا رابطہ بھی قائم رہا۔ حکیم صاحب طب کی دنیا کی ایک نامور شخصیت تھے لیکن اس سے کہیں زیادہ ان کا تعارف علم و دانش کی دنیا میں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اکتوبر ۱۹۹۸ء

مرزا غلام نبی جانباز مرحوم

خبر لگانے والے نیوز ایڈیٹر غریب کو کیا معلوم کہ جانباز مرزا کون تھا اور اس ملک و قوم کے لیے اس کی خدمات کیا تھیں؟ یہ خبر کسی آزادی و حریت کے قدردان ملک کے اخبار میں چھپتی تو اس کا انداز یہ نہ ہوتا۔ مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ آزادی کی باگ ڈور جن طبقات کے ہاتھ میں آئی انہیں اس کے لیے کچھ کرنا نہیں پڑا۔ آزادی کے لیے دو سو سال تک قربانیاں اور طبقوں نے دیں اور آزادی کے ثمرات سمیٹنے کے لیے دوسرے طبقات کو آگے بڑھا دیا گیا اس لیے انہیں کیسے خبر ہو سکتی ہے کہ آزادی کیا ہے اور اس کے لیے قوم کو کیا قیمت ادا کرنی پڑی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۳ء

تحریک واگزاریٔ مسجد نور گوجرانوالہ اور نوید انور نوید ایڈووکیٹ مرحوم

نوید انور نوید مرحوم اس تحریک میں ہمارے سربراہ تھے۔ ان کا دماغ، زبان، قلم اور جسم اس تحریک کے لیے مسلسل حرکت میں رہے اور ان کے جنون نے ہمیں بھی مسلسل حرکت میں رکھا۔ نوید انور نوید مرحوم کے ساتھ ہمارا بہت اچھا وقت گزرا۔ وہ دوستوں کے دوست اور دشمنوں کے کھرے دشمن تھے۔ انہوں نے ختم نبوت کے تحفظ کی تحریک میں بھی بطور کارکن اور پھر بطور وکیل ہمیشہ سرگرم کردار ادا کیا اور بے لوث خدمات سرانجام دیں۔ ان کی جدوجہد اور تگ و تاز کی بہت سی یادیں ذہن کے گوشوں میں محفوظ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اکتوبر ۲۰۰۵ء

دارالعلوم کبیر والا کی وفیات

شورکوٹ سے کبیر والا کا سفر ہوا اور دارالعلوم عیدگاہ میں حاضری دی جسے اس خطے میں ’’ام المدارس‘‘ کا مقام حاصل ہے۔ مولانا محمد انورؒ میرے دوستوں میں سے تھے اور بے تکلف ساتھی تھے۔ ان کے والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا علی محمدؒ اس دور میں جمعیۃ علمائے اسلام کے سرپرستوں اور دعاگو بزرگوں میں شمار ہوتے تھے جب میں جمعیۃ میں ایک متحرک کردار کے طور پر سرگرم ہوا کرتا تھا۔ دارالعلوم عیدگاہ کبیر والا کی کوکھ سے سینکڑوں دینی اداروں نے جنم لیا، ہزاروں علماء کرام نے تعلیم و تربیت حاصل کی، ہزاروں دینی کارکنوں کی ذہن سازی اور فکری تربیت اس ادارہ میں ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۰۵ء

مولانا بشیر احمد خاکیؒ

مولانا بشیر احمد خاکی 1967ء میں شورکوٹ کی ایک مسجد میں امام و خطیب کی حیثیت سے آئے اور 1969ء میں جامعہ عثمانیہ کے نام سے درسگاہ کی بنیاد رکھی جو آج علاقہ کے دینی اور سیاسی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے دینی تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ لوگوں کے عقائد کی اصلاح اور انہیں جاگیرداروں کے جبر سے نجات دلانے کو بھی اپنا مشن بنا لیا۔ ایک غریب اور مسافر مولوی جب سیاست کے میدان میں اترا اور الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ مولوی الیکشن نہ جیت سکا تو بھی علاقے کی انتخابی سیاست میں اتنی اہمیت ضرور حاصل کر لے گا کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۰۵ء

مولانا منظور احمد الحسینیؒ

سیالکوٹ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کے حوالہ سے ایک احتجاجی جلسہ میں شریک تھا، مولانا اللہ وسایا صاحب نے یہ خبر دی کہ مولانا منظور احمد الحسینی کا سعودی عرب میں گزشتہ روز انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے حجاز مقدس آئےہوئے تھے کہ بلاوا آگیا اور وہ اپنی زندگی کی سانسیں پوری کر کے خالق حقیقی کے حضور پیش ہوگئے۔ حرم پاک میں نماز جمعۃ المبارک کے بعد ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور پھر انہیں بے شمار صالحین کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۰۵ء

مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ

مولانا مفتی نظام الدین شامزئی کی عمر کچھ زیادہ نہ تھی، باون برس کی عمر میں عروس شہادت سے ہمکنار ہوئے۔ مگر اس مختصر عمر میں انہوں نے جو خدمات سرانجام دیں اور علمی و دینی حلقوں میں جو مقام حاصل کیا وہ بلاشبہ قابل رشک ہے۔ ان کی تیز رفتاری کی وجہ اب سمجھ میں آتی ہے کہ وقت تھوڑا اور کام زیادہ تھا اور جسے تھوڑے وقت میں زیادہ کام کرنے کی ڈیوٹی سونپ دی جائے اس کی رفتار یہی ہوتی ہے۔ مفتی صاحبؒ سے پہلی ملاقات مجھے یاد نہیں کہ کب ہوئی تھی مگر آخری ملاقات تبلیغی اجتماع کے رائے ونڈ کے گزشتہ سال کے سالانہ اجتماع میں ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۰۴ء

پاک امریکہ تعلقات ۔ جبر و مکر کی داستان

پاکستان کے پہلے وزیرخارجہ چودھری ظفر اللہ خان اس خارجہ پالیسی کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ جبکہ وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان مرحوم کو اس مہارت کے ساتھ اس ’’دام ہمرنگ زمین‘‘ میں پھنسایا گیا کہ ان کے تمام تر خلوص و دیانت کے باوجود ایک تلخ سوال ان کی سیاسی بصیرت و فراست کے اس باب کا ہمیشہ کے لیے عنوان بن گیا ہے۔ وہ یہ کہ جب انہیں امریکہ اور روس دونوں کی طرف سے دورے کی دعوت ملی تھی تو انہوں نے یہ دونوں دعوتیں قبول کر کے توازن قائم رکھنے کی بجائے صرف امریکہ کی دعوت قبول کر کے اپنے ملک کو امریکی کیمپ کے ساتھ وابستہ کیوں کر لیا تھا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ دسمبر ۲۰۱۶ء

’’مقام حضرت معاویہؓ‘‘

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان جلیل القدر صحابہ کرامؓ میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کی طویل عرصہ تک خدمت کا موقع عنایت فرمایا۔ ان کا شمار امت کے بڑے لوگوں میں ہوتا ہے اور وہ عرب کے ممتاز دانشوروں اور مدبرین میں سے ہیں جن پر اسلام اور عرب کی تاریخ کئی حوالوں سے فخر کرتی ہے۔ وہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے برادر نسبتی تھے اور سلطنت اسلامیہ کے باب میں انہیں امیر المؤمنین حضرت عمرؓ اور امیر المؤمنین حضرت عثمانؓ جیسے بزرگوں کا اعتماد حاصل تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۷ء

این جی اوز کے مثبت اور منفی پہلو

وفاقی وزیرداخلہ جناب معین الدین حیدر نے گزشتہ دنوں ’’فاطمید فاؤنڈیشن‘‘ کی ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے این جی اوز کے بارے میں کہا ہے کہ ساری این جی اوز ایک جیسی نہیں ہیں اور ان میں کچھ فاطمید جیسی اچھا کام کرنے والی این جی اوز بھی ہیں اس لیے سب این جی اوز کی مخالفت کرنا درست نہیں ہے۔ اس سے قبل حکمران کیمپ کے بعض دیگر حضرات بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں لیکن دوسری طرف دینی جماعتیں بالخصوص مولانا فضل الرحمان نے این جی اوز کی مخالفت میں دن رات ایک کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ اکتوبر ۲۰۰۰ء

حضرت مولانا حافظ محمد عابدؒ، مولانا حافظ محمد نعیم الحق نعیمؒ

خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی کے سجادہ نشین حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ کے رفیق خاص حضرت مولانا حافظ محمد عابدؒ گزشتہ ہفتے انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔ معروف اہل حدیث عالم دین اور ہفت روزہ الاعتصام لاہور کے مدیر مولانا حافظ محمد نعیم الحق نعیمؒ گزشتہ روز ریل کے ایک حادثہ میں جاں بحق ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ فروری ۱۹۹۹ء

’’سیدنا معاویہؓ ۔ گمراہ کن غلط فہمیوں کا ازالہ‘‘

امیر المؤمنین حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما تاریخ اسلام کی ان عظیم شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے اسلامی ریاست کی توسیع و ترقی اور دنیا میں اسلام کے غلبہ و استحکام کے لیے شاندار خدمات سرانجام دی ہیں۔ اور ان کا بیس سالہ دور خلافت جہاں ملت اسلامیہ کی وحدت کی علامت ہے وہاں اسلام کی دعوت اور دائرۂ اثر کو دنیا کے مختلف اطراف میں پھیلانے کا ذریعہ بھی ہے۔ وہ صحابی رسولؓ ہیں، کاتب وحی ہیں، جناب نبی اکرمؐ کے برادر نسبتی ہیں اور ان کا شمار دنیائے عرب کے ممتاز دانشوروں اور سیاستدانوں میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۶ء

صاحبزادہ شمس الدین آف موسیٰ زئی

موسیٰ زئی شریف ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی معروف خانقاہ احمدیہ سعیدیہ کے بزرگ اور پاکستان شریعت کونسل صوبہ سرحد کے امیر حضرت صاحبزادہ شمس الدینؒ گزشتہ ہفتے انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا شمار علاقہ کے سرکردہ دینی و سماجی راہنماؤں میں ہوتا تھا۔ گزشتہ ماہ وہ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی اور سیکرٹری جنرل (راقم الحروف) کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے دو روزہ دورہ کے موقع پر ہمارے ساتھ شریک رہے اور موسیٰ زئی شریف میں ہماری اعزاز میں پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا مگر اس کے چند روز بعد وہ اس دارِ فانی سے رحلت کر گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۹۹ء

یہ بھی امریکی ایجنڈے کا حصہ ہے!

دہشت گردی کی موجودہ لہر کے بارے میں وفاقی وزیرداخلہ کے اس بیان کے بعد صورتحال کچھ کچھ واضح ہوتی جا رہی ہے کہ یہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اور دیگر بین الاقوامی ایجنسیوں کی کارستانی ہے جس کا مقصد پاکستان کے داخلی امن کو تباہ کر کے جنوبی ایشیا کی معروضی صورتحال میں اس کی مشکلات میں اضافہ کرنا ہے۔ اس دہشت گردی میں بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں، خود ہمارے شہرے گوجرانوالہ میں تحریک جعفریہ کے ڈویژنل صدر اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر اعجاز حسین رسول نگری کا قتل ایک شریف شہری اور امن پسند راہنما کا قتل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ اکتوبر ۱۹۹۹ء

وراثت کے مسائل اور وفاقی شرعی عدالت

گزشتہ کالم میں وفاقی شرعی عدالت کے دو فیصلوں کے بارے میں مختصرًا کچھ گزارشات پیش کی تھیں، آج کی صحبت میں انہی میں سے ایک فیصلہ کے ایک اور حصہ کے بارے میں چند معروضات پیش کی جا رہی ہیں۔ ۶ جنوری ۲۰۰۰ء کے اخبارات میں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس میاں محبوب احمد، جسٹس اعجاز یوسف اور جسٹس فدا محمد پر مشتمل فل بینچ کے جس فیصلے کی خبر شائع ہوئی ہے اس میں یتیم پوتے کو دادا کی وراثت میں شریک کرنے کا حکم بھی شامل ہے۔ خبر کے مطابق فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’’یتیم پوتے کو جائیداد میں حصہ دیا جائے چاہے دادا نے وصیت کی ہو یا نہ کی ہو۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جنوری ۲۰۰۰ء

عمر شیخ کے بارے میں برطانوی اخبار کا تبصرہ

بہت سے دوستوں نے مجھے مشورہ دیا کہ ابھی لندن کا سفر نہ کروں اور کچھ دن مزید انتظار کر لوں مگر اپنے شیڈول میں اس کی گنجائش نہ پا کر اللہ توکل چل پڑا اور ۲۲ ستمبر کو صبح ۹ بجے پی آئی اے کی لاہور سے لندن کی پرواز کے ذریعے ۳ بجے تک لندن پہنچ گیا۔ مفتی محمد جمیل خان کے تجربہ کے پیش نظر ذہن میں کسی حد تک خدشہ تھا کہ کہیں سوال و جواب کے لمبے چکر میں نہ ڈال دیا جاؤں لیکن ایسا نہیں ہوا اور ایئرپورٹ کے امیگریشن کاؤنٹر پر خاتون آفیسر نے صرف یہ سوال کیا کہ کتنا عرصہ رہوں گا اور اس جواب کے بعد انٹری کی مہر لگا دی کہ سات آٹھ ہفتے رہنے کا ارادہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اکتوبر ۲۰۰۱ء

Pages