مقالات و مضامین

مصطفیٰ کمال اتاترک اور جدید ترکی

مصطفیٰ کمال اتاترک جدید ترکیہ کے بانی اور معمار ہیں جنہوں نے اب سے پون صدی قبل جمہوریہ ترکیہ کی بنیاد رکھی اور ترکی اس کے بعد سے انہی کے متعین کردہ خطوط پر پوری سختی کے ساتھ گامزن ہے۔ انہوں نے ایک طرف یورپی ملکوں بالخصوص یونان کا مقابلہ کرتے ہوئے ترکی کی داخلی خودمختاری کی حفاظت کی اور بیرونی حملہ آوروں کو نکال کر ترکی کی وحدت کا تحفظ کیا جبکہ دوسری طرف خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کر کے ترکی کو عالم اسلام سے بھی الگ کر لیا۔ وہ ترک قوم پرستی کے علمبردار تھے اور انہوں نے اس بنیاد پر ترک قوم کو بیدار کرنے اور ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ نومبر ۱۹۹۹ء

خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ۔ عربوں کا برطانیہ کے ساتھ تعاون

برطانوی استعمار نے خلافت عثمانیہ کے خاتمہ اور عربوں کو خلافت سے بے زار کرنے کے لیے مختلف عرب گروپوں سے سازباز کی تھی اور نہ صرف لارنس آف عریبیہ بلکہ اس قسم کے بہت سے دیگر افراد و اشخاص کے ذریعہ عرب قومیت اور خود عربوں کے داخلی دائرہ میں مختلف علاقائی و طبقاتی عصبیتوں کو ابھارنے کے لیے ایک وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔ یہ اسی تگ و دو کا نتیجہ ہے کہ خلافت عثمانیہ کا صدیوں تک حصہ رہنے والی عرب دنیا آج چھوٹے چھوٹے بے حیثیت ممالک میں بٹ کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جنوری ۲۰۰۰ء

آج کے دور میں خلافت کے قیام کی عملی صورت

خلافت اسلامیہ کے احیاء اور قیام کے لیے محنت و جدوجہد الگ چیز ہے جبکہ خلافت کے نام پر شخصی ادعا کے ساتھ اپنے گرد لوگوں کو جمع کرنے کی کوشش اس سے بالکل مختلف عمل ہے۔ اول الذکر عمل دینی فریضہ اور اس کی ادائیگی کا خوبصورت احساس و جذبہ ہے جس کے ساتھ تعاون اور اس میں شرکت ہر مسلمان کی شرعی ذمہ داری ہے۔ جبکہ ثانی الذکر محنت پر ’’طالع آزمائی‘‘ کے سوا اور کوئی عنوان فٹ نہیں بیٹھتا۔ چنانچہ اسلام کے لیے کام کرنے والے رہنماؤں، کارکنوں اور حلقوں کو ان دونوں میں فرق کرنا ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اگست ۱۹۹۹ء

شیخ الہندؒ، طالبان اور اسامہ بن لادن

بعض دوستوں کا خیال ہے کہ اسامہ بن لادن کا قصہ محض ایک بہانہ ہے اور امریکہ کے نزدیک اصل مسئلہ طالبان کا ہے جنہیں وہ اسامہ کی آڑ میں نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ حتیٰ کہ برمنگھم کی بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس میں مولانا فضل الرحمٰن کی جمعیۃ کے ایک ذمہ دار عہدے دار نے یہ کہہ بھی دیا کہ اسامہ بن لادن کی بات تو صرف ڈرامہ ہے اصل قصہ طالبان کا ہے۔ مگر ہمیں اس موقف سے اتفاق نہیں ہے کیونکہ یہ موقف وہی شخص اختیار کر سکتا ہے جس کے سامنے تاریخ کا پس منظر نہیں ہے اور جو خلیج میں یہودیوں اور مغربی ممالک کے مفادات کی گہرائی اور گیرائی سے بے خبر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اگست ۱۹۹۹ء

مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ

مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ کے بارے میں یہ معلوم کر کے بھی ان کے ساتھ طبعی مناسبت محسوس ہوئی کہ وہ اپنے شیخ مکرم حضرت السید مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی طرح درس نظامی کے مروجہ نصاب کو مزید بہتر بنانے کے خواہاں تھے اور نصابی کتابوں کے انتخاب میں ’’خوب سے خوب تر کی تلاش‘‘ کا ذوق رکھتے تھے۔ حضرت بنوریؒ نے اس حوالہ سے جو کچھ لکھا ہے وہ پڑھ کر میرا ذوق بھی یہی چلا آرہا ہے کہ نصابی کتب کے انتخاب میں کسی ایک فہرست پر جمے رہنے کی بجائے ’’خوب سے خوب تر کی تلاش‘‘ کا عمل مسلسل جاری رہنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اکتوبر ۲۰۱۶ء

سنی شیعہ کشیدگی اور جناب ظفر حسین نقوی

نقوی صاحب نے اپنے مضمون میں فرمایا ہے کہ اہل تشیع قرآن پاک پر ایمان رکھتے ہیں، صحابہ کرامؓ کا احترام کرتے ہیں، سب اہل سنت کو مسلمان سمجھتے ہیں، اور اہل سنت کی مساجد کے تقدس کے قائل ہیں اس لیے انہیں اس بات کا ملزم گرداننا درست نہیں ہے کہ ان کے طرز عمل کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ نقوی صاحب محترم سے گزارش ہے کہ راقم الحروف نے اپنے مضمون میں ان میں سے کسی بات پر بھی بحث نہیں کی اور نہ ہی کسی پر دلائل دیے ہیں جس پر نقوی صاحب کو اپنی پوزیشن کی وضاحت اور اس کے لیے دلائل پیش کرنے کی ضرورت پیش آئی ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مئی ۱۹۹۹ء

مرزا طاہر احمد کی خوش فہمی

دستور پاکستان میں 1974ء کے دوران زبردست عوامی تحریک کے نتیجے میں ایک ترمیم کی گئی تھی جس کے تحت مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار دونوں گروہوں (قادیانی اور لاہوری) کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دے کر انہیں ملک کی دیگر غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ شمار کیا گیا تھا۔ کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبی ہونے کا دعویٰ کر کے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھی تھی جس کی بنیاد پر دنیا بھر کے تمام مسلم اداروں اور مکاتب فکر نے انہیں متفقہ طور پر دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا تھا۔ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ نومبر ۱۹۹۹ء

عوامی جمہوریہ چین کے حکمرانوں سے ایک گزارش

عوامی جمہوریہ چین ہمارا عظیم پڑوسی ملک ہے اور پاکستان کے ان دوستوں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ مگر گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران دو تین خبریں ایسی آئی ہیں جنہوں نے پاک چین تعلقات کے حوالہ سے محب وطن پاکستانیوں کو بے چینی سے دوچار کر دیا ہے۔ ایک خبر تو رائٹر کی جاری کردہ ہے جو لاہور سے شائع ہونے والے ایک قومی اخبار نے 12 اکتوبر کو شائع کی ہے کہ چین کے شورش زدہ صوبے ژنجیانگ (سنکیانگ) میں عدالت نے بم دھماکوں اور ڈکیتیوں کی منصوبہ بندی کرنے پر تین مسلمان علیحدگی پسندوں کو سزائے موت سنا دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اکتوبر ۱۹۹۹ء

انٹرنیٹ کے نقارخانے میں ’’الشریعہ‘‘ کی آواز

الشریعہ کا بنیادی مقصد ایک ہی ہے اور وہ ہے ’’اسلامائزیشن‘‘۔ کیونکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ انسانی معاشرہ وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کی پابندی قبول کیے بغیر امن و سکون اور فلاح و کامیابی کی منزل حاصل نہیں کر سکتا۔ جبکہ آسمانی تعلیمات کا مکمل اور محفوظ ایڈیشن صرف اسلام ہے ، اس لیے جلد یا بدیر انسانی سوسائٹی کو اسلامی تعلیمات و احکام کے نفاذ کی طرف آنا ہوگا کہ اس کے علاوہ نسل انسانی کے پاس کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں ہے۔ چنانچہ الشریعہ اسی حقیقت کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی جدوجہد میں مصروف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جنوری ۱۹۹۹ء

’’غیرت‘‘ کے خلاف مہم

لاہور ایم اے او کالج کے ایک سابق پروفیسر نے راقم الحروف کو بتایا کہ ان سے ایک شاگرد نے ’’غیرت‘‘ کا انگریزی ترجمہ دریافت کیا تو تلاش بسیار کے باوجود وہ انگریزی میں غیرت کا مفہوم ادا کرنے والا کوئی لفظ معلوم نہ کر سکے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے شاگرد کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ چونکہ مغرب کی سوسائٹی میں غیرت کا جذبہ سرے سے پایا ہی نہیں جاتا اس لیے ان کے ہاں کوئی لفظ بھی استعمال میں نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک کے لوگ جب کسی مسلمان کو غیرت کے حوالہ سے کوئی کام کرتا دیکھتے ہیں تو انہیں تعجب ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اگست ۱۹۹۹ء

مولانا مفتی محمودؒ کا طرز استدلال

اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو استدلال کی جو قوت و صلاحیت عطا فرمائی تھی اس کا اعتراف سب حلقوں میں کیا جاتا تھا۔ ہمارے ایک مرحوم و مخدوم بزرگ کہا کرتے تھے کہ مفتی صاحبؒ سامنے نظر آنے والے لکڑی کے ستون کو دلائل کے ساتھ سونے کا ستون ثابت کرنا چاہیں تو دیکھنے والا شخص ان کی بات ماننے پر مجبور ہو جائے گا۔ سیاسی، علمی، اور فکری سب قسم کے معاملات میں مفتی صاحبؒ کی اس خداداد صلاحیت کا ہم نے یکساں اظہار ہوتے دیکھا ہے۔ چنانچہ اس موقع پر خود ان کی زبان سے براہ راست سنی ہوئی بعض باتیں ذکر کرنا چاہ رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اکتوبر ۲۰۱۶ء

’’صائمہ کیس‘‘ ۔ ہائیکورٹ کے جج صاحبان کی خدمت میں گزارشات

بگرامی خدمت جناب عزت ماب جسٹس احسان الحق چودھری صاحب و عزت ماب جسٹس ملک محمد قیوم صاحب۔ لاہور ہائی کورٹ لاہور۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ مزاج گرامی؟ گزارش ہے کہ آپ کی عدالت میں زیر سماعت ’’صائمہ کیس‘‘ کے بارے میں شرعی نقطۂ نظر سے کچھ ضروری معروضات پیش کر رہا ہوں، قانوناً گنجائش ہو تو انہیں باضابطہ ریکارڈ میں شامل کر لیا جائے اور ضرورت پڑنے پر وضاحت کے لیے عدالت میں حاضری کے لیے بھی تیار ہوں، ورنہ ذاتی معاونت و مشاورت سمجھتے ہوئے ان گزارشات کا سنجیدگی کے ساتھ مطالعہ ضرور فرمایا جائے، بے حد شکریہ۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۷ء

شریعت بل کی دفعہ ۳ کے بارے میں علماء کرام کے ارشادات

کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے ’’شریعت بل‘‘ کے عنوان سے حال ہی میں ایک مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس کی دفعہ ۳ میں شریعت اسلامیہ کی بالادستی کو ان الفاظ کے ساتھ تسلیم کیا گیا ہے کہ ’’شریعت یعنی اسلام کے احکام جو قرآن و سنت میں بیان کیے گئے ہیں، پاکستان کا بالادست قانون (سپریم لاء) ہوں گے بشرطیکہ سیاسی نظام اور حکومت کی موجودہ شکل متاثر نہ ہو۔‘‘ وضاحت طلب امر یہ ہے کہ کیا کسی مسلم شخص یا ادارہ کے لیے شرعی احکام کی بالادستی کو مشروط طور پر قبول کرنے کی گنجائش ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۱۹۹۶ء

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں معاون یا رکاوٹ؟

ایرانی انقلاب کے بعد ’’تحریک نفاذ فقہ جعفریہ‘‘ کی بنیاد رکھ دی گئی اور مطالبہ یہ ہوا کہ پرسنل لاء میں نہیں بلکہ پورے قانونی نظام میں فقہ جعفریہ کو متوازی قانون کے طور پر نافذ کیا جائے۔ اس مطالبہ کے لیے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے دو گروپ کام کر رہے ہیں اور دونوں خود کو انقلاب ایران کا نمائندہ قرار دیتے ہیں۔ دونوں گروپوں نے اس بنیاد پر سینٹ میں زیر بحث ’’شریعت بل‘‘ کی مخالفت کی۔ اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے میدان عمل میں آنے کا منطقی اور نظریاتی نتیجہ یہ سامنے آیا کہ شریعت اسلامیہ کی بالادستی اور نفاذ کا مطالبہ فرقہ وارانہ مطالبہ قرار دے دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۱۹۹۰ء

ملی یکجہتی کونسل پاکستان کا سالانہ اجلاس

ملی یکجہتی کونسل کا قیام اب سے دو عشرے قبل عمل میں لایا گیا تھا۔ مولانا شاہ احمدؒ نورانیؒ، مولانا سمیع الحق، قاضی حسین احمدؒ ، ڈاکٹر اسرار احمدؒ ، اور دیگر زعماء اس میں سرگرم عمل تھے۔ یہ وہ دور تھا جب ملک میں سپاہ صحابہؓ اور تحریک جعفریہ آمنے سامنے تھیں، سنی شیعہ کشیدگی قتل و غارت کے عروج کے دور سے گزر رہی تھی اور دونوں طرف کی بہت سی قیمتی جانیں اس کی بھینٹ چڑھ چکی تھیں۔ اس پس منظر میں ملی یکجہتی کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ اس کشیدگی کو کنٹرول کیا جائے اور فرقہ وارانہ تصادم کو مزید آگے بڑھنے سے روکا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اکتوبر ۲۰۱۶ء

سالانہ ختم نبوت کانفرنس برطانیہ ۱۹۹۹ء

ہمارے نزدیک لارڈ نذیر احمد کے خطاب کا وہ حصہ سب سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے جس میں انہوں نے برطانیہ میں مسلمانوں کے جداگانہ پرسنل لاء کی بحالی کی تجویز پیش کی ہے اور کہا ہے کہ جس طرح برطانیہ نے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش پر تسلط کے دوران تمام شعبوں میں اپنے قوانین نافذ کرنے کے باوجود پرسنل لاز میں مسلمانوں کا جداگانہ حق تسلیم کیا تھا اور نکاح و طلاق و وراثت میں مسلمانوں کو اپنے مذہبی احکام اور قوانین پر عمل کا اس دور میں حق حاصل تھا، اسی طرح برطانیہ میں مسلمانوں کا پرسنل لاز میں جداگانہ تشخص بحال کرنے میں بھی کوئی اشکال نہیں ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۱۹۹۹ء

پاکستانی مہدی اور برطانوی ہوم آفس

برطانوی اخبار ’’نیوز آف دی ورلڈ‘‘ نے گزشتہ دنوں ایک پاکستانی شخص کے بارے میں رپورٹ شائع کی ہے جس نے مسیح ہونے کا دعوٰی کر کے لندن میں سیاسی پناہ حاصل کر رکھی ہے اور دوسرے پناہ گزینوں کی مدد بھی کرتا ہے۔ اخبار نے اس شخص کا نام نہیں لکھا البتہ یہ بتایا ہے کہ وہ پاکستان کے شہر گجرات سے تعلق رکھتا ہے اور ان دنوں ایسٹ لندن کےعلاقہ لیٹن سٹون میں رہائش پذیر ہے۔ اخبار نے اپنے ایک رپورٹر کے ذریعہ اس شخص کے بارے میں معلومات جمع کی ہیں جو عقیدت مند کے روپ میں اس کے پاس گیا اور اس سے بہت سی معلومات حاصل کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جولائی ۱۹۹۸ء

سعودی عرب میں امریکہ کی موجودگی ۔ خدشات و تاثرات

بعض احباب کا خیال ہے کہ سعودی عرب کا شاہی خاندان آل سعود اگر اقتدار سے محروم ہو جاتا ہے تو کوئی اور سیاسی قوت اس درجہ کی نہیں جو موجودہ سعودی عرب کو متحد رکھ سکے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ ملک تقسیم ہو جائے گا اور تیل سے مالا مال علاقوں پر مغربی اقوام کے مستقل تسلط کے علاوہ حجاز مقدس ایک الگ ریاست کی شکل میں سامنے آسکتا ہے جس کے پاس اپنے وسائل نہیں ہوں گے اور وہ ویٹی کن سٹی طرز کی ایک مذہبی اسٹیٹ بن کر رہ جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اکتوبر ۱۹۹۸ء

حضور اکرمؐ کی زندگی احادیث کے آئینے میں

محدثین کرامؒ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی اوصاف و کمالات اور معمولات کو علم حدیث کے ایک مستقل شعبے کی صورت میں مرتب کیا ہے جسے ’’شمائل نبویؐ‘‘ کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے۔ بعض محدثین نے اس پر الگ کتابیں لکھی ہیں اور باذوق اہل علم نے بڑی محبت و عقیدت کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا ہے۔ حضرات صحابہ کرامؓ کے حسن ذوق کی انتہا یہ ہے کہ انہوں نے آنحضرتؐ کی اجتماعی، معاشرتی، اور علمی و عملی زندگی کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ ذاتی زندگی کی جزئیات تک روایت کی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ فروری ۲۰۱۱ء

نبی اکرمؐ کے معمولاتِ زندگی

حضورؐ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ لوگ خیر کے معاملات سے غافل نہ ہو جائیں اور اس بات کا بھی اہتمام کرتے تھے کہ وہ اکتا نہ جائیں۔ ہر قسم کے معاملے کا آپ کے پاس حل تیار ہوتا تھا اور ہر صورتحال کے لیے مستعد ہوتے تھے۔ آپؐ حق بات کہنے سے نہیں کتراتے تھے اور ضرورت سے زیادہ بات نہیں کرتے تھے۔ لوگوں میں سے آپؐ سے زیادہ قریب وہی حضرات ہوتے تھے جو اچھے لوگ ہوتے تھے۔ جناب نبی اکرمؐ کے ہاں سب سے زیادہ قابل احترام وہی شخص ہوتا تھا جو لوگوں کے ساتھ نصیحت اور خیر خواہی کا جذبہ رکھتا ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ فروری ۲۰۱۲ء

سود کی حیثیت رسول اللہؐ کی نظر میں

سود کے بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں بحث جاری ہے اس مناسبت سے جناب نبی اکرمؐ کے چند ارشادات پیش کیے جا رہے ہیں۔ (۱) بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے کبیرہ گناہوں میں سات بڑے گناہوں کا ذکر فرمایا اور ان میں سود کا بھی ذکر کیا کہ سات بڑے گناہوں میں سود کا لین دین بھی شامل ہے۔ (۲) بخاری شریف میں حضرت عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہؐ نے فرمایا کہ سود کھانے والوں، دینے والوں، سودی کاروبار کے گواہوں، اور سود کا معاملہ لکھنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جون ۲۰۰۲ء

سنت نبویؐ اور رائے عامہ کا احترام

جناب رسول اللہؐ کو اس بات کا خیال رہتا تھا کہ ان کے کسی کام سے لوگوں میں بلاوجہ غلط فہمیاں نہ پھیلیں او رپبلک تاثر درست رہے۔ عوامی زندگی میں اپنے بارے میں لوگوں کے تاثرات کو درست رکھنا اور مختلف کاموں کے بارے میں لوگوں کے احساسات و جذبات کا جائزہ لیتے رہنا اور انہیں ملحوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے اور یہ سنت نبویؐ بھی ہے۔ اس بارے میں دو واقعات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ایک واقعہ بیت اللہ کی تعمیر کے سلسلہ میں ہے جسے امام بخاریؒ نے ام المومنین حضرت عائشہؓ کے حوالہ سے نقل کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ نومبر ۱۹۹۸ء

غازی ظہیر الدین بابر ، پارلیمنٹ کی سیڑھیوں پر

آج بھی اسباب و وسائل کا توازن ہمارے حق میں نہیں اور افرادی قوت میں بھی ہمارا پلڑا بھاری نہیں ہے، لیکن یہ توازن کبھی بھی ہمارے حق میں نہیں رہا، اس وقت بھی ہم اسی طرح تھے جب یہاں مغل سلطنت کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔ مگر فطرت کے تقاضوں کو سمجھنے اور انہیں پورا کرنے کا حوصلہ رکھنے والی قیادت موجود تھی اس لیے افرادی قوت اور اسباب و وسائل کی کمی ہماری راہ میں رکاوٹ نہ بن سکی۔ آئیے مولانا محمد حسین آزاد کی کتاب ’’قصص الہند‘‘ سے مغل سلطنت کے بانی غازی ظہیر الدین بابرؒ کے اس معرکہ کا مختصر حال پڑھ لیں جو مغل سلطنت کا نقطۂ آغاز بنا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اگست ۱۹۹۸ء

مشرقِ وسطیٰ کی تشویشناک صورتحال ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

اجلاس میں ان اقدامات کو دینی مدارس کے خلاف امتیازی اور جانبدارانہ پالیسی کا مظہر قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جب ملک بھر میں پرائیویٹ سیکٹر کے ہر شعبہ میں ہزاروں پرائیویٹ تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں اور انہیں تسلیم کیا جا رہا ہے تو صرف دینی مدارس کو پرائیویٹ سیکٹر سے نکال کر وزارت تعلیم کے انتظام میں دینے کی بات کیوں کی جا رہی ہے؟ اسی طرح ملک بھر کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے حسابات کی چیکنگ کا جو نظام موجود ہے اس سے ہٹ کر دینی مدارس کے معاملات کو خفیہ اداروں کے سپرد کردینے کا کیا جواز ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ ستمبر ۲۰۱۶ء

حضرت خواجہ خان محمدؒ

پہلی اور آخری ملاقات کے دوران نصف صدی کے لگ بھگ کا عرصہ ہے اور اس عرصہ میں حضرت خواجہ صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ ملاقاتوں کے وسیع سلسلہ کو اگر تین ہندسوں میں بھی بیان کروں تو شاید مبالغہ نہ ہو۔ پاکستان میں اور بیرون ملک ان کی خدمت میں حاضریوں اور ان کی دعاؤں و شفقتوں سے فیض یاب ہونے کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ وہ جمعیۃ علمائے اسلام کی مرکزی قیادت میں شامل تھے اور ایک عرصہ تک نائب امیر رہے۔ میں نے بھی کم و بیش ربع صدی کا عرصہ جمعیۃ علمائے اسلام میں ایک متحرک کارکن کے طور پر گزارا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ مئی ۲۰۱۰ء

قاری عبد الحلیمؒ

جامعہ بنوریہ کے مہتمم مولانا مفتی محمد نعیم صاحب ہمارے پرانے دوست اور ساتھی ہیں اور ان کی تعلیمی سرگرمیاں دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ گزشتہ دنوں ان کے والد محترم قاری عبد الحلیم صاحب کا انتقال ہوگیا تھا اور میں کراچی حاضری کے موقع پر ان کے پاس تعزیت کے لیے جانا چاہتا تھا۔ مولانا فداء الرحمان درخواستی سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی گزشتہ دنوں بنگلہ دیش کے سفر پر تھا اور ابھی تک جامعہ بنوریہ نہیں جا سکا اس لیے اکٹھے چلتے ہیں۔ چنانچہ مولانا فداء الرحمان درخواستی اور راقم الحروف اکٹھے جامعہ بنوریہ گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جنوری ۲۰۱۰ء

مولانا محمد عمر لدھیانویؒ

مولانا محمد عمر لدھیانویؒ رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ کے بھتیجے اور حضرت مولانا محمد یحییٰ لدھیانویؒ کے فرزند تھے۔ پاکستان بننے کے بعد حضرت مولانا محمد یحییٰ لدھیانویؒ پاکستان تشریف لائے اور فیصل آباد میں آباد ہوگئے۔ گورونانک پورہ فیصل آباد میں مدرسہ اشرف المدارس جو ایک دور میں ملک کے بڑے مدارس میں شمار ہوتا تھا، مولانا محمد یحییٰ لدھیانویؒ کا قائم کردہ ہے۔ مولانا محمد عمر لدھیانویؒ جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم راہ نماؤں میں سے تھے اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ، اور حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے معتمد رفقاء میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ دسمبر ۲۰۰۹ء

مولانا عبد المجید انورؒ، مولانا عبد الحقؒ، حاجی جمال دینؒ

آج کا کالم چند تعزیتوں کے حوالے سے ہے۔ حضرت مولانا عبد المجید انور ہمارے محترم بزرگ دوستوں میں سے تھے جن کا گزشتہ دنوں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ایک زمانے میں جامعہ رشیدیہ ساہیوال کو پاکستان میں دیوبندی مسلک کے رشیدی ذوق کے ترجمان ہونے کا شرف حاصل تھا۔ حضرت مولانا مفتی فقیر اللہ اور ان کے بعد حضرت مولانا محمد عبد اللہ اور حضرت مولانا فاضل حبیب اللہ رشیدی نے اس ذوق کی آبیاری کی اور ملک میں دیوبند مسلک کے تعارف اور ترجمانی کے لیے زندگی بھر محنت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جولائی ۲۰۰۸ء

حضرت مولانا قاضی عبد اللطیفؒ

میں گزشتہ روز امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے قاری محمد ہاشم صاحب کے گھر میں قیام پذیر تھا کہ انہوں نے انٹرنیٹ پر پاکستانی اخبارات کا مطالعہ کرایا۔ خبروں میں ایک تعزیتی بیان نے چونکا دیا جس میں مولانا قاضی عبد اللطیف آف کلاچیؒ کی وفات پر رنج و غم کا اظہار کیا گیا تھا۔ میرے لیے یہ خبر اچانک تھی، بہت صدمہ ہوا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ابھی چند روز قبل ان کے بھتیجے مولانا قاضی عبد الحلیم کا انتقال ہوا تھا تو میں بیرون ملک سفر کی تیاری میں تھا اور سوچ رہا تھا کہ واپسی پر رمضان المبارک کے بعد کلاچی حاضری دوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اگست ۲۰۱۰ء

مولانا میاں عبد الرحمٰنؒ، مولانا سید عبد المالک شاہؒ

آج کا کالم دو محترم دوستوں اور بزرگ علمائے کرام کے حوالے سے ہے جن کا گزشتہ دنوں انتقال ہوگیا ہے اور ہمارے دینی و علمی حلقوں میں ان کی جدائی کا صدمہ مسلسل محسوس کیا جا رہا ہے۔ مولانا میاں عبد الرحمٰن کا تعلق بالاکوٹ کے علاقے سے تھا۔ ان کے والد محترم حضرت مولانا محمد ابراہیم نے لاہور کے معروف بازار انارکلی میں ڈیرہ لگایا اور عمر بھر وہاں حق کی آواز بلند کرتے رہے۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ سے خصوصی تعلق رکھتے تھے اور جمعیۃ علمائے اسلام کے سرکردہ راہنماؤں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اکتوبر ۲۰۱۱ء

حضرت مولانا عبد الرحمٰنؒ اشرفی

حضرت مولانا عبد الرحمٰنؒ اشرفی کا وجود اس لحاظ سے بھی آج کے دور میں بسا غنیمت تھا کہ مختلف مسالک اور طبقات کے لوگ ان کے پاس بے تکلف آجایا کرتے تھے اور ان سے فیض یاب ہوتے تھے۔ وہ بھی بلا لحاظ مسلک و مشرب سب کو اپنی محبت و شفقت سے نوازتے تھے۔ المیہ یہ ہے کہ جوں جوں ہماری ’’قوت ہاضمہ‘‘ کمزور ہوتی جا رہی ہے، اس سطح کے بزرگوں کا دائرہ بھی سمٹ رہا ہے اور ہمارے حلقے میں اب ایسا کوئی بزرگ دور دور تک دکھائی نہیں دیتا جس کے پاس بلا لحاظ مسلک و مشرب او ربلا لحاظ طبقہ سب لوگ کسی حجاب کے بغیر آسکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جنوری ۲۰۱۱ء

دینی مدارس کے خلاف ایک نئے راؤنڈ کی تیاریاں

اگر حکومت خود بھی دینی تعلیم نہ دے اور جو ادارے یہ تعلیم دے رہے ہیں ان کے راستے میں بھی رکاوٹیں کھڑی کرتی رہے یا مداخلت کر کے ان میں اپنا مشکوک ایجنڈا شامل کرتی رہے تو اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں بنتا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ بتدریج دینی تعلیم کو ہی ختم کردینا چاہتی ہے۔ اور ماضی میں جامعہ عباسیہ بہاولپور اور جامعہ عثمانیہ طرز کے بیسیوں مدارس کے حوالے سے اس کی مثالیں موجود ہیں۔ چنانچہ دینی مدارس کے بارے میں اس قسم کی کوئی پالیسی جب بھی سامنے آتی ہے تو پہلا تاثر یہی ابھرتا ہے کہ یہ اقدامات دینی مدارس کے خلاف نہیں بلکہ دینی تعلیم کے خلاف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ ستمبر ۲۰۱۶ء

میسج ٹی وی عکاظ کے میلے میں

میسج ٹی وی کے دفتر میں حاضری ہوئی تو کامران رعد صاحب اپنی رفقاء بھائی فاروق صاحب، عبد المتین صاحب، ڈاکٹر محمد الیاس صاحب (اسلام آباد)، حافظ محمد بلال فاروقی، اور دیگر ٹیم کے ہمراہ موجود تھے۔ حج بیت اللہ کی میدان عرفات سے براہ راست نشریات کا سلسلہ جاری تھا اور امیر حج کا خطبہ شروع ہونے والا تھا جو گزشتہ تین عشروں سے سعودی عرب کے مفتی اعظم ارشاد فرما رہے ہیں۔ مگر اس دفعہ ان کی علالت کی وجہ سے امام حرمین فضیلۃ الشیخ عبد الرحمن السدیس حفظہ اللہ تعالیٰ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ ستمبر ۲۰۱۶ء

قادیانی اقلیت کے حقوق اور ان کی آبادی کا تناسب

قیام پاکستان کے وقت پنجاب کی سرحدی تقسیم کے موقع پر ضلع گورداس پور میں قادیانی حضرات نے اپنی آبادی کو خود ہی مسلمانوں سے الگ شمار کروایا تھا اس لیے انہیں اس بات پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے کہ ان کی آبادی کو الگ طور پر شمار کیا جائے۔ جبکہ یہ بات دستور پاکستان کے مطابق ان کے حقوق اور معاشرتی حیثیت کے صحیح طے ہونے کا ذریعہ بھی ہے۔ ہمیں قادیانیوں کے سیاسی، شہری، انسانی، اور معاشرتی حقوق سے کوئی انکار نہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دستور کو تسلیم کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ ستمبر ۲۰۱۶ء

امامِ اہلِ سنتؒ کی تحریکی و جماعتی زندگی

حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی تحریکی زندگی کا آغاز طالب علمی کے دور میں ہی ہوگیا تھا کہ وہ دور طالب علمی میں سالہا سال تک مجلس احرار اسلام کے رضاکار رہے اور تحریک آزادی میں اس پلیٹ فارم سے حصہ لیتے رہے۔ ان کی اس دور کی دو یادگاریں ہمارے گھر میں ایک عرصہ تک موجود رہی ہیں، ایک لوہے کا سرخ ٹوپ جو وہ پریڈ کے وقت پہنا کرتے تھے اور دوسری کلہاڑی۔ لوہے کا سرخ ٹوپ تو اب موجود نہیں ہے لیکن ان کی کلہاڑی اب بھی موجود ہے اور ان کے احراری ہونے کی یاد دلاتی رہتی ہے۔ اسی دوران وہ جمعیۃ علماء ہند کے کارکن بھی رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جون ۲۰۰۹ء

مولانا قاری سعید الرحمٰنؒ

مولانا قاری سعید الرحمٰن کو بھی اللہ تعالیٰ نے علمی، مسلکی اور تحریکی ذوق سے بہرہ ور فرمایا تھا اور راولپنڈی صدر میں کشمیر روڈ پر ان کے قائم کردہ تعلیمی ادارہ جامعہ اسلامیہ کو ان حوالوں سے مرکزیت کا مقام حاصل تھا۔ ایک دور میں شیخ الحدیثؒ حضرت مولانا عبد الحقؒ آف اکوڑہ خٹک راولپنڈی تشریف لانے پر ان کے ہاں قیام کیا کرتے تھے۔ جامعہ اسلامیہ کو مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی فرودگاہ ہونے کا شرف بھی حاصل تھا بلکہ حضرت بنوریؒ کی وفات راولپنڈی میں ہوئی تو ان کی پہلی نماز جنازہ جامعہ اسلامیہ میں ہی ادا کی گئی جس میں شرکت کی مجھے بھی سعادت حاصل ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جولائی ۲۰۰۹ء

مولانا سید امیر حسین شاہؒ گیلانی

مولانا سید امیر حسینؒ گیلانی اس وقت پاکستان میں موجود چند گنے چنے فضلائے دیوبند میں سے تھے اور ان کے ساتھ جماعتی زندگی میں میرا طویل رفاقت کا دور گزرا ہے۔ ان کا تعلق مہاجرین کشمیر سے تھا اور ان کے خاندان کے بہت سے افراد گوجرانوالہ میں رہتے تھے اس لیے ان کا گوجرانوالہ اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ انہوں نے جماعتی اور تحریکی زندگی کا آغاز 1953ء کی تحریک ختم نبوت سے کیا اور وہ ملاقاتوں میں اس دور کے حالات اور اپنی سرگرمیاں بتایا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ اپریل ۲۰۰۹ء

علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ

17 اگست کو صبح ڈیٹرائٹ کی مسجد بلال میں فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد واشنگٹن واپسی کے لیے ایئرپورٹ جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ مولانا قاری محمد الیاس نے اطلاع دی کہ علامہ علی شیر حیدریؒ کو شہید کر دیا گیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ مسجد میں آنے سے پہلے انٹرنیٹ پر جنگ اخبار دیکھ کر آئے تھے جس کی اس دن پہلی خبر یہی تھی۔ واشنگٹن پہنچ کر انٹرنیٹ کے ذریعہ ہی تفصیلات معلوم کیں، بے حد صدمہ ہوا۔ وہ تحفظ ناموس صحابہؓ اور اہل سنت کے عقائد و حقوق کے دفاع کے محاذ کے ایک اہم راہنما تھے جن کی پوری زندگی اسی مشن میں گزری ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اگست ۲۰۰۹ء

مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ

ہمیں خاندانی طور پر گزشتہ ہفتے کے دوران ایک بڑے صدمہ سے دوچار ہونا پڑا کہ میرے بہنوئی مولانا قاری خبیب احمد عمر کا انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے بزرگ اور مخدوم حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کے فرزند تھے اور حضرت کی وفات کے بعد گزشتہ گیارہ برس سے جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم کے مہتمم اور جامع مسجد گنبد والی کے خطیب کی حیثیت سے ان کی جانشینی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ میری چھوٹی بہن ان کی اہلیہ ہیں جو جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام للبنات جہلم میں گزشتہ ربع صدی سے تدریس کی خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مارچ ۲۰۰۹ء

مولانا محمد امین اورکزئیؒ اور ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمیؒ کی شہادت

میں ابھی تک اس گومگو کی کیفیت میں ہوں کہ مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ اور ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی شہیدؒ کے حوالے سے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کس کا ذکر پہلے کروں۔ اول الذکر پاک فوج کے جیٹ طیاروں کی بمباری سے شہید ہوئے ہیں اور ثانی الذکر کو ایک خودکش بمبار نے ان کی قیمتی جان سے محروم کر دیا ہے۔ دونوں کا تعلق دینی مدارس سے تھا اور دونوں دینی تعلیم کے ذریعہ ملک و ملت کی خدمت کر رہے تھے۔ مولانا محمد امین اورکزئی ہنگو میں جامعہ یوسفیہ کے استاذ تھے جبکہ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی لاہور میں جامعہ نعیمیہ کے مہتمم تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جون ۲۰۰۹ء

حضرت ابراہیمؑ اور مذاہب عالم

حضرت ابراہیمؑ کا بنیادی پیغام توحید ہی ہے لیکن ان کا یہ امتیاز بھی ہے کہ ان کی توحید صرف فکری اور قولی نہیں بلکہ عملی اور فعلی بھی تھی۔ اس لیے کہ انہوں نے بت پرستی کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ کھلم کھلا پوری قوم کو بت پرستی ترک کر کے ایک اللہ کی بندگی کرنے کی تلقین کی اور بت پرستی کے خلاف عملی کاروائی بھی کی۔ اور جہاں حضرت ابراہیمؑ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ تمام آسمانی مذاہب ان کی طرف اپنی نسبت کرنے پر فخر کرتے ہیں وہاں یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی ذات گرامی اور شخصیت کو اسلام کا راستہ روکنے کے لیے بطور شیلٹر بھی استعمال کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ دسمبر ۲۰۰۸ء

مولانا طارق جمیل کے مدرسے کا دورہ

مولانا طارق جمیل کو گزشتہ روز ایک نئے روپ میں دیکھا تو دل سے دعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس مشن اور پروگرام میں کامیابی اور ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں، آمین۔ مولانا موصوف کا تعلق تلمبہ خانیوال کے ایک کھاتے پیتے زمیندار گھرانے سے ہے۔ تبلیغی جماعت سے تعلق قائم ہوا تو اس میں اس رفتار سے آگے بڑھے کہ اسی کے ہو کر رہ گئے۔ مولانا دعوت و تبلیغ کے عمل سے وابستہ ہوئے تو تنہا تھے کہ خاندان میں کوئی اس کار خیر پر شاباش دینے والا نہیں تھا لیکن یہ ان کی استقامت اور جہد مسلسل کا ثمر ہے کہ اب پورا خاندان بلکہ پورا علاقہ اس نیک عمل میں ان کا دست و بازو ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جون ۲۰۰۳ء

حضرت مولانا محمد انظر شاہ کشمیریؒ

27 اپریل کو ہم مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی کی یاد میں تعزیتی جلسہ کی تیاریوں میں تھے کہ مجلس احرار اسلام پاکستان کے نومنتخب سیکرٹری جنرل عبد اللطیف خالد چیمہ نے فون پر اطلاع دی کہ خاتم المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے فرزند اور دارالعلوم (وقف) دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ صاحبؒ کا دہلی میں انتقال ہوگیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر ان سے تفصیلات معلوم کرنا چاہیں تو انہوں نے بتایا کہ سردست یہی خبر آئی ہے کہ حضرت شاہ صاحبؒ رحلت فرما گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مئی ۲۰۰۸ء

قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ مرحوم

قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گزشتہ روز ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان کے تازہ شمارے میں ان کی وفات کی خبر پڑھی تو دل سے رنج و صدمہ کی ایک لہر اٹھی اور ماضی کے بہت سے اوراق ایک ایک کر کے نگاہوں کے سامنے الٹتے چلے گئے۔ قاری صاحب مرحوم خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان اللہ شجاع آبادیؒ کے داماد تھے اور انہی کے تربیت یافتہ تھے۔ وہ ملتان کی سرگرم دینی اور سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے، وکالت کرتے تھے اور ملتان بار کے فعال ارکان میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جنوری ۲۰۰۶ء

حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی

مولانا ثناء اللہ چنیوٹی نے بتایا کہ جنازہ اور اس کے بعد چنیوٹ کے تعزیتی جلسہ میں میری غیر حاضری کو دوستوں نے بہت زیادہ محسوس کیا اور لوگ بار بار میرے بارے میں پوچھتے رہے۔ آج گوجرانوالہ کی ایک محفل میں بھی دوستوں نے اس بات کا بطور خاص تذکرہ کیا، جن حضرات کو مولانا چنیوٹیؒ کے ساتھ میرے ربط و تعلق کا علم تھا، ان کے لیے یہ بات مزید غم کا باعث بنی کہ ان کی وفات اور جنازہ کے موقع پر میں ہزاروں میل دور امریکہ میں تھا اور بے بسی کے عالم میں ان کی یادیں ذہن میں تازہ کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جون ۲۰۰۴ء

حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی وفات ۔ ہم سب کا مشترکہ صدمہ

والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی وفات پر تعزیت کا سلسلہ جاری ہے اور دنیا بھر سے فون آرہے ہیں۔ جن کو موقع ملتا ہے وہ زحمت فرما کر تشریف لاتے ہیں اور ہمارے ساتھ غم و صدمہ کا اظہار کرتے ہیں۔ میں اپنے سب بھائیوں اور بہنوں اور دیگر اہل خاندان کی طرف سے ان تمام دوستوں، احباب، بزرگوں، اور ہمدردوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے کسی بھی ذریعہ سے ہمارے ساتھ ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور حضرت والد محترمؒ کے لیے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ سب کو دنیا و آخرت میں اس کا اجر جزیل دیں، آمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ مئی ۲۰۰۹ء

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے

بھارت سے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا سہارنپوریؒ کے فرزند مولانا محمد طلحہ اور لکھنؤ سے مولانا سید سلمان ندوی اور مولانا یحییٰ نعمانی مدیر الفرقان کی طرف سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ جبکہ برطانیہ سے مولانا محمد عیسیٰ منصوری، مولانا محمد یعقوب القاسمی، مولانا اکرام الحق خیری، مولانا محمد قاسم، شیخ عبد الواحد، مولانا محمد اشرف قریشی، حافظ ضیاء المحسن طیب اور دیگر علماء نے فون پر تعزیت کی اور بتایا کہ مختلف شہروں میں مساجد و مدارس میں حضرت شیخ کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور دعائے مغفرت کا سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مئی ۲۰۰۹ء

والدِ محترم کے سفر آخرت کا احوال

حضرت والد صاحبؒ کی وفات کے روز ہم سب گکھڑ میں جمع ہوئے تو جنازے کے لیے موزوں وقت اور تدفین کے مقام کے بارے میں باہمی مشورہ ہوا۔ گکھڑ میں سب سے بڑا گراؤنڈ ڈی سی ہائی اسکول کا ہے، ہم نے صبح اسے ایک بار دیکھا تو اندازہ ہوا کہ اس میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد نماز جنازہ ادا کر سکیں گے۔ ہمارا خیال اسی کے لگ بھگ تھا مگر شام کو جنازے کے وقت دیکھا تو ہمارا اندازہ درست نہیں تھا کیونکہ گراؤنڈ اس قدر بھر گیا تھا کہ اندر مزید لوگوں کے آنے کی گنجائش نہیں رہی تھی۔ جبکہ باہر جی ٹی روڈ اور اس کے ساتھ ملحقہ دو سڑکوں پر عوام کا بے پناہ ہجوم تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مئی ۲۰۰۹ء

حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ گزشتہ آٹھ نو برس سے صاحب فراش تھے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کی یادداشت آخر وقت تک قائم رہی اور علمی دلچسپی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ نظر کمزور ہوگئی تھی اور کسی کو دیکھ کر نہیں پہچانتے تھے لیکن تعارف کرانے پر ساری باتیں ان کو یاد آجاتیں اور پھر وہ جزئیات تک دریافت کرتے تھے۔ مجھے جمعہ کے دن شام کو تھوڑی دیر کے لیے حاضری کا موقع ملتا، جب طبیعت کچھ بحال ہوتی تو کسی نہ کسی کتاب سے کچھ سنانے کی فرمائش کرتے اور احادیث کی کسی کتاب سے میں انہیں چند احادیث سنا دیتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مئی ۲۰۰۹ء

مولانا عبد الرحیم اشعرؒ

مولانا عبد الرحیم اشعرؒ کا تعلق عقیدۂ ختم نبوت کے محاذ پر قادیانیت کا مقابلہ کرنے والے سرفروش قافلے سے تھا جنہوں نے اس دور میں قادیانیت کو سرعام للکارا جب ملک میں فوج اور سول کے بہت سے کلیدی مناصب پر قادیانیوں کا تسلط تھا، قادیانیوں کے عقائد و کردار پر کسی جلسہ یا رسالے میں تنقید جرم تصور ہوتی تھی، قادیانیت کے ساتھ تعلق کے اظہار کو مختلف محکموں میں ترقی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، اور برسرعام ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگانے والوں کے سینے گولیوں سے چھلنی ہو جایا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جون ۲۰۰۳ء

Pages