اسلام اور مغرب میں مذاکرات کا ایجنڈا

روزنامہ خبریں ۱۱ اکتوبر ۱۹۹۸ء میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ مسٹر رابن کک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلام اور مغرب میں غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے یورپی یونین اور اسلامک آرگنائزیشن کے درمیان بہت جلد مذاکرات ہوں گے، ہم میں بہت سی غلط فہمیاں اور دوریاں ہیں اور ہم مزید انہیں بڑھنے نہیں دیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۱۹۹۸ء

قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کا حکومتی اختیار

قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لا قرار دینے کے لیے آئین میں پندرہویں ترمیم کا بل قومی اسمبلی نے منظور کر لیا ہے اور اب یہ بل سینٹ میں جا چکا ہے۔ جس کے بارے میں حکومتی حلقے اس توقع کا مسلسل اظہار کر رہے ہیں کہ ایوانِ بالا میں حکومت کو مطلوبہ اکثریت حاصل نہ ہونے کے باوجود وہ اسے سینٹ میں منظور کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۱۹۹۸ء

نفاذِ شریعت کی راہ میں اصل رکاوٹ

ان دنوں پارلیمنٹ میں حکومت کی طرف سے پیش کردہ مجوزہ ’’پندرہویں آئینی ترمیم‘‘ پر بحث جاری ہے اور قومی اسمبلی اس سرکاری بل پر غور کر رہی ہے جس کے تحت قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لا قرار دیا جا رہا ہے۔ اس بل میں ’’امر بالمعروف‘‘ کا نظام قائم کرنے اور آئینی ترمیم کا طریق کار آسان بنانے کے ساتھ ساتھ حکومت کو بعض ایسے اختیارات دینے کی شقیں بھی شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۸ء

ایرانی راہنما مولانا عبد العزیزؒ کے فرزند ڈاکٹر عبد الرحیم سے ملاقات

گزشتہ دنوں لندن میں مقیم ایران کے سنی راہنما ڈاکٹر عبد الرحیم راقم الحروف سے ملاقات کے لیے ابوبکرؓ اسلامک سنٹر ساؤتھال براڈوے میں تشریف لائے اور ان سے ایران کے برادرانِ اہلِ سنت کے مسائل و حالات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ڈاکٹر عبد الرحیم ایرانی بلوچستان کے صدر مقام زاہدان سے تعلق رکھنے والے بزرگ عالمِ دین حضرت مولانا عبد العزیزؒ کے چھوٹے بھائی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۸ء

مغرب کو تیسرے نظام کی تلاش

روزنامہ جنگ لندن ۲۲ اگست ۱۹۹۸ء کی اشاعت میں جناب آصف جیلانی نے ’’مغرب تیسری راہ کی کھوج میں‘‘ کے عنوان سے اپنے مضمون میں بتایا ہے کہ مغرب طویل سرد جنگ کے ذریعے مارکسی سوشلزم کا نظام ناکام ثابت کرنے، اور پھر مارگریٹ تھیچر کی آزاد معیشت کے نتائج میں سخت مایوسی کے سامنے کے بعد اب ایک تیسری راہ کا متلاشی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۸ء

کنٹربری کی عالمی کانفرنس میں بشپ صاحبان کا ناروا مطالبہ

روزنامہ جنگ لندن نے ۸ اگست ۱۹۹۸ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ کنٹربری میں منعقد ہونے والی مسیحی بشپ صاحبان کی عالی کانفرنس میں ایک قرارداد کے ذریعے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں توہینِ مذہب پر سزا کا قانون ۲۹۵بی اور ۲۹۵سی ختم کر دیا جائے۔ خبر کے مطابق اس کانفرنس میں دنیا بھر کے ایک سو ساٹھ ملکوں کے ساڑھے سات سو بشپ صاحبان شریک ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۱۹۹۸ء

برطانیہ کی ڈرگز پالیسی اور چرچ آف انگلینڈ

لندن سے شائع ہونے والے ایک اردو روزنامہ ’’السلام علیکم پاکستان‘‘ نے ۱۵ جون ۱۹۹۸ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ چرچ آف انگلینڈ نے اپنی نئی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ ہیروئن جیسے خطرناک ڈرگ کو ’’ڈی کریمینلائز‘‘ کر دیا جائے یعنی اسے جرم قرار دینے کی پالیسی ترک کر کے جائز تسلیم کر لیا جائے۔ رپورٹ میں حکومتِ برطانیہ کی ۱۹۶۰ء سے اب تک کی ڈرگز پالیسی پر شدید تنقید کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۱۹۹۸ء

مغربی معاشرہ اور اخلاق باختگی کا سمندر

روزنامہ جنگ لندن نے ۲۵ جون ۱۹۹۸ء کو رائٹر کے حوالے سے خبر شائع کی ہے کہ ترکی کی دستوری عدالت نے ملک میں نافذ ضابطۂ تعزیرات کی دفعہ ۲۴۰ کو ختم کر دیا ہے جس میں زنا کی مرتکب عورت کی تین سال قید کی سزا رکھی گئی تھی۔ ترکی کے قانون میں مرد کے لیے زنا کی کوئی سزا نہیں ہے جبکہ عورت کو زنا کا مرتکب قرار پانے پر تین سال قید کی سزا دی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۱۹۹۸ء

انسانی حقوق پر مغربی فلسفہ کی اجارہ داری

روزنامہ جنگ لندن ۳۰ جون ۱۹۹۸ء کے مطابق امریکہ کے صدر بل کلنٹن نے حالیہ دورۂ چین کے موقع پر بیجنگ یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کسی بھی ملک پر اپنے نظریات نہیں ٹھونسنا چاہتا، البتہ کئی حق ایسے ہیں جن کا بین الاقوامی سطح پر احترام کیا جانا چاہیے، ہر ملک میں لوگوں کو عزت سے رہنے، اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۱۹۹۸ء

’’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی‘‘

روزنامہ نیشن لندن نے ۴ جون ۱۹۹۸ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ ۲۸ مئی کو جب پاکستان ایٹمی دھماکوں کے مراحل سے گزر رہا تھا، ایک پاکستانی نوجوان نے کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ کے جی ایچ کیو پینٹاگون کا انٹرنیٹ سسٹم جام کر دیا، اور انٹرنیٹ پر امریکی حکام کو پیغام دیا کہ وہ اسلامی ممالک بالخصوص پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت بند کر دیں ورنہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۱۹۹۸ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter