سپریم کورٹ کا فیصلہ اور جنرل پرویز مشرف کیلئے مشورہ

سپریم کورٹ آف پاکستان کے ۱۲ ججوں نے ایک متفقہ فیصلہ کی رو سے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ء کے اقدام کو جائز قرار دیتے ہوئے انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ تین سال کے اندر انتخابات کرا کے اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے سپرد کر دیں۔ روزنامہ جنگ لاہور ۱۳ مئی ۲۰۰۰ء کی رپورٹ کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۰ء

دو ہزار سالہ مظالم پر پوپ جان پال دوم کا معافی نامہ

مسیحی ماہنامہ شاداب لاہور نے مارچ ۲۰۰۰ء کے شمارہ میں مسیحی امت کے کیتھولک فرقہ کے سربراہ پوپ جان پال دوم کے اس معافی نامہ کی کچھ تفصیلات شائع کی ہیں جو انہوں نے روم میں ایک تقریب کے دوران بیان کیا ہے۔ پوپ جان پال دوم نے اپنے بیس منٹ کے خطاب میں گزشتہ دو ہزار سال کے دوران مسلمانوں، یہودیوں اور دیگر گروہوں کے خلاف ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۰ء

دینی مدارس اور جنرل پرویز مشرف کے عزائم

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ روز مصر کے دورہ کے موقع پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان کے دینی مدارس کی اصلاح کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۹ اپریل ۲۰۰۰ء کے مطابق جنرل پرویز نے کہا ہے کہ وہ ملک کے دینی مدارس کو اجتماعی دھارے میں شامل کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ضروری اقدامات کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۰ء

این جی اوز کا دھندا اور جناب عبد الستار ایدھی

روزنامہ جنگ لاہور ۱۷ مارچ ۲۰۰۰ء کے مطابق ممتاز سماجی کارکن جناب عبد الستار ایدھی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان میں این جی اوز اس وقت کمائی کا سب سے بڑا دھندا ہے، جسے کوئی کام نہیں ملتا وہ این جی او بنا لیتا ہے، تاہم صرف دس فیصد این جی اوز حقیقت میں سماجی خدمات سرانجام دے رہی ہیں باقی نوے فیصد فراڈ ہیں اور ’’مال پانی‘‘ بنا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۰ء

ثقافت کے نام پر شرمناک سرگرمیاں

روزنامہ اوصاف اسلام آباد نے ۱۶ مارچ ۲۰۰۰ء کو ساہیوال کی ایک رقاصہ فہمیدہ کا تفصیلی انٹرویو شائع کیا ہے جس میں اس نے بتایا کہ پاکستان سے مختلف ممالک میں رقاصاؤں کے جو ثقافتی طائفے جاتے ہیں ان سے رقص و سرود کی محفلیں سجانے کے علاوہ جسم فروشی کا مکروہ دھندہ بھی کرایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۰ء

قراردادِ مقاصد اور سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ سید نسیم حسن شاہ

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۳ مارچ ۲۰۰۰ء کی ایک رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس جناب سید نسیم حسن شاہ نے لاہور میں ’’قراردادِ مقاصد‘‘ کے عنوان پر ایک خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ پر زور دیا ہے کہ وہ جوڈیشل ایکٹیوازم کے تحت قراردادِ مقاصد کو من و عن نافذ کر دے تاکہ اسلامی معاشرے کا قیام ممکن ہو سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۰ء

آلیج محمد کے جانشین لوئیس فرخان کے قبولِ اسلام کی خبر

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۷ جنوری ۲۰۰۰ء کے مطابق جامعہ ازہر قاہرہ کے سرکردہ علماء کرام نے مصر کے صدر حسنی مبارک کے نام ایک خط میں ان سے کہا ہے کہ وہ مصر کی قومی اسمبلی میں گزشتہ دنوں پیش ہونے والے اس بل پر بحث کو تین ماہ کے لیے مؤخر کر دیں جس کے ذریعے عورتوں کو یہ حق دیا جا رہا ہے کہ وہ خاوندوں کے ساتھ تنازعہ کی صورت میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۰ء

خواتین کو طلاق کا حق اور جامعہ ازہر

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۷ جنوری ۲۰۰۰ء کے مطابق جامعہ ازہر قاہرہ کے سرکردہ علماء کرام نے مصر کے صدر حسنی مبارک کے نام ایک خط میں ان سے کہا ہے کہ وہ مصر کی قومی اسمبلی میں گزشتہ دنوں پیش ہونے والے اس بل پر بحث کو تین ماہ کے لیے مؤخر کر دیں جس کے ذریعے عورتوں کو یہ حق دیا جا رہا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۰ء

مسلمانوں کا قتل عام اور عالمی عدالت

روزنامہ جنگ لاہور ۱۶ جنوری ۲۰۰۰ء کے مطابق ہیگ کی بین الاقوامی عدالت کے جنگی ٹربیونل نے بوسنیا کے پانچ کروٹ باشندوں کو مسلمانوں کے قتلِ عام کا مجرم قرار دے دیا ہے۔ ان پانچ کروٹ باشندوں نے ۱۹۹۳ء میں بوسنیا کے ایک وسطی گاؤں میں ایک سو مسلمانوں کا قتلِ عام کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۰ء

وفاقی شرعی عدالت اور اس کے بعض فیصلے

وفاقی شرعی عدالت کا قیام دستورِ پاکستان کے تحت اس لیے عمل میں لایا گیا تھا کہ ملک میں رائج جو قوانین اور ضابطے قرآن و سنت کے منافی ہیں ان کا تعین کر کے انہیں اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالا جائے۔ اور وفاقی شرعی عدالت نے اس سلسلہ میں اب تک بہت سے اہم فیصلے صادر کیے ہیں جن میں سودی قوانین کو خلافِ اسلام قرار دینے کا تاریخی فیصلہ بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۰ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter