جامعہ حفصہ ۔ مذاکرات کے بعد
جامعہ حفصہ کے المیہ کے بارے میں بہت کچھ لکھ چکا ہوں۔ اس قضیہ کے آغاز سے ہی میں نے اس کے حوالے سے اپنے تاثرات لکھنا شروع کر دیے تھے جو روزنامہ اسلام، روزنامہ پاکستان، ماہنامہ الشریعہ اور ماہنامہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ چنانچہ اس عنوان پر لکھے گئے میرے بیس مضامین کا مجموعہ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ نے ایک سو تیس صفحات پر مشتمل کتابچہ کی صورت میں شائع کر دیا ہے اور میرے خیال میں اس کے کسی پہلو پر مزید کچھ عرض کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی، البتہ ایک پہلو تشنہ رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قومی نظام تعلیم اور آغا خان تعلیمی بورڈ
’’آن لائن‘‘ کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک اخباری رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم جناب جاوید اشرف قاضی نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ’’فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن‘‘ کے بہترین اساتذہ میں انعامات کی تقسیم سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ دینی مدارس کے لیے چھ ارب روپے رکھے گئے تھے جن میں سے پانچ ارب روپے دیے جا چکے ہیں اور ایک ارب روپے اب بھی موجود ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ خبر ’’انکشاف‘‘ کا درجہ رکھتی ہے، اس لیے کہ یہ بات تو درست ہے کہ وفاقی حکومت نے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی طرف سے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وفاق المدارس العربیہ کا کنونشن
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیر اہتمام ۱۵ مئی ۲۰۰۵ء کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں منعقد ہونے والا دینی مدارس کنونشن اس حوالے سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے حالیہ اجلاس کے بعد دینی مدارس کے بارے میں حکومت کی نئی پالیسی اور حکمت عملی سامنے آگئی ہے۔ چنانچہ ۱۵ مئی کے مذکورہ کنونشن کی کارروائی اس لیے بھی ملک بھر کے عوام کی توجہ کا مرکز ہوگی کہ نئی حکومتی پالیسی کا ردعمل دینی مدارس کے اس سب سے قدیمی اور سب سے بڑے وفاق کی طرف سے کیا سامنے آتا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کے حوالے سے چار اہم خبریں
دینی مدارس کے حوالے سے اس ہفتے کے دوران کی چار اہم خبریں اس وقت ہمارے پیش نظر ہیں۔ پہلی خبر یہ ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دینی مدارس پر چھاپوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور دہشت گردوں کی تلاش میں اب شہروں میں بھی دینی مدارس پر چھاپے مارے جائیں گے۔ دوسری خبر یہ ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے دینی مدارس کی اسناد کے بارے میں تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے جس میں یہ بات واضح طور پر کہہ دی گئی ہے کہ چونکہ دینی مدارس کی اسناد کو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے صرف تعلیمی مقاصد ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کی اسناد اور فرقہ وارانہ تعلیم
دینی مدارس کی اسناد کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اور رجسٹریشن کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس بیک وقت سامنے آگئے ہیں اور دین کی تعلیم دینے والی درس گاہیں ایک بار پھر ملک بھر میں گفتگو اور تبصروں کا موضوع بن گئی ہیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس سے قبل عبوری فیصلے میں دینی مدارس کی اسناد رکھنے والوں کو بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی تھی مگر الیکشن کے پہلے مرحلے سے صرف دو روز قبل حتمی فیصلہ صادر کر کے یہ قرار دے دیا کہ دینی مدارس کے وفاقوں سے شہادۃ ثانیہ رکھنے والے افراد نے چونکہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحفظ نسواں بل اور دینی حلقے
سینیٹر مولانا سمیع الحق نے سینٹ آف پاکستان میں ’’تحفظ نسواں بل‘‘ میں دس ترامیم پیش کر کے ان اہم امور کی آن ریکارڈ نشاندہی کر دی ہے جو مذکورہ بل میں دینی نقطہ نظر سے متنازع ہیں اور جن کی موجودگی میں ملک بھر کے دینی حلقے اس بل کو قرآن و سنت کے منافی قرار دے کر اس کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ ’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کا جو مسودہ قومی اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی نے منظور کیا تھا، اس پر پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے سرکردہ علماء کرام سے رائے لی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاک فوج صومالیہ کے بعد اب عراق میں
عراق میں پاکستانی فوج بھیجنے کے حوالے سے اخبارات میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور جوں جوں عراق میں امریکی فوجیوں پر حملوں اور ان کی لاشوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، وہاں پاکستانی فوج بھیجنے کی ضرورت و اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ اور ہمارے حکمرانوں کے انداز سے لگتا ہے کہ صومالیہ کی طرح عراق میں بھی امریکی فوجیوں کی ڈھال کے طور پر پاک فوج کے جوانوں کو تعینات کرنے کا اصولی فیصلہ ہو چکا ہے اور اب صرف تفصیلات طے ہونے کا انتظار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ماضی کے عوامی مظاہروں کی چند جھلکیاں
جوں جوں ۲۷ اکتوبر قریب آ رہی ہے ’’آزادی مارچ‘‘ پر بحث و مباحثہ کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے اور مختلف نوع کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے یہ بڑا ہدف تو حاصل کر لیا ہے کہ پوری اپوزیشن کو اپنے ساتھ کھڑا کر کے حکومت کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کے بارے میں فیصلہ اس کے کھاتے میں ڈال دیا ہے۔ چنانچہ اب بات حکومت اور مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے کم، اور حکومت اور اپوزیشن کے عنوان سے زیادہ ہونے لگی ہے اور اپوزیشن کی ’’رہبر کمیٹی‘‘ کے موقف اور فیصلے پر مذاکرات کا دارومدار دکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاک بھارت تعلقات اور بین الاقوامی سیاست
جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل محمد عزیز خان نے گزشتہ دنوں راولاکوٹ کی ایک تقریب میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے، وہ قوم کے ہر باشعور شہری کے دل کی آواز ہے اور ہمیں ان باتوں پر اس لیے بھی زیادہ خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ کافی عرصہ کے بعد ’’ادھر سے‘‘ ٹھنڈی ہوا کا کوئی جھونکا آیا ہے جس سے تپش اور لو کے اس موسم میں وقتی طور پر ہی سہی، مگر کچھ سکون سا محسوس ہوا ہے۔ جنرل صاحب نے پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے یہ کہہ کر قوم کو گزشتہ ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ پر محیط ہندو مسلم کشمکش کی طرف توجہ دلائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مدرسہ آرڈیننس کے مضمرات
گزشتہ روز ملتان میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کے ایک ہنگامی اجلاس میں وفاق کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی خصوصی دعوت پر شرکت کا موقع ملا۔ اگرچہ وفاق میں شامل ایک تعلیمی ادارہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں کئی سالوں سے تدریس کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں، مگر وفاق المدارس کے کسی اجلاس میں حاضری کا پہلی بار اتفاق ہوا۔ وفاق کا قیام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا شمس الحق افغانی اور حضرت مولانا مفتی محمود رحمہم اللہ کی مساعی سے عمل میں آیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 166
- 167
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »