پاکستان میں کرپشن کی حکمرانی

ہفت روزہ ’’پاکستان پوسٹ‘‘ (ہیوسٹن، امریکہ) نے ۱۴ جولائی ۲۰۱۱ء کے شمارے میں یہ خبر شائع کی ہے کہ عالمی ادارہ ’’ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل‘‘ نے ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ تین سال کے دوران کرپشن میں چار سو گنا اضافہ ہوا ہے اور اس سے قومی خزانہ کو تین ہزار ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے حکومتی اداروں میں کرپشن اپنے عروج پر ہے اور وزراء اور اعلیٰ سیاسی شخصیات کی کرپشن کی کہانیاں زبان زد عوام ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۱ء

امریکی سفارت خانے میں ہم جنس پرستوں کی تقریب

۲۶ جون ۲۰۱۱ء کو اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں منعقد ہونے والی پاکستانی ہم جنس پرستوں کی تقریب کے حوالے سے ملک کے مذہبی حلقوں کا احتجاج جاری ہے اور اس سلسلہ میں عوامی مظاہروں کے ساتھ ساتھ احتجاجی بیانات کے ذریعہ بھی پاکستانی عوام کے جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے لیکن امریکی سفارت خانے یا امریکی حکومت کی طرف سے اس سلسلہ میں کسی ندامت یا افسوس کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۱ء

سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کی ۹۷ ارب ڈالر کی رقم

روزنامہ پاکستان لاہور (۱۹ ستمبر ۲۰۱۱ء) کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ: ’’سوئس بینک کے ایک ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ سوئس بینکوں میں پاکستان کی ۹۷ ارب ڈالر کی رقم پڑی ہے، پاکستانی غریب ہیں لیکن پاکستان غریب نہیں ہے کیونکہ پاکستان کے ۹۷ ارب ڈالر کی رقم سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں ڈیپازٹ ہیں۔ اگر اس رقم کو استعمال کیا جائے تو پاکستان جیسا ملک اس رقم سے ۳۰ سال تک ٹیکس فری بجٹ بنا سکتا ہے، تمام پاکستانیوں کو چھ کروڑ ملازمتیں دی جا سکتی ہیں، کسی بھی دیہات سے اسلام آباد تک دو رویہ سڑکیں تعمیر کی جا سکتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۱ء

کرپشن کے خلاف مہم اور اصل ضرورت

گزشتہ روز (۲۱ ستمبر ۲۰۱۱ء ) گوجرانوالہ کے مختلف طبقات کے سرکردہ لوگوں نے کرپشن کے خلاف ایک ’’واک‘‘ کا اہتمام کیا جس میں سرکردہ سیاستدان حضرات، تاجر راہنماؤں، وکلاء، ڈاکٹر صاحبان، علماء کرام و تعلیمی اداروں کے سربراہوں، سرکاری افسران، صحافیوں، اساتذہ، خواتین، طلبہ اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس واک کا اہتمام گوجرانوالہ تھنکرز فورم نے ڈی آئی جی پولیس (ویلفیئر) ذوالفقار احمد چیمہ کی سرکردگی میں کیا اور یہ حضرات پیدل مارچ کرتے ہوئے جنرل بس اسٹینڈ سے ماڈل ٹاؤن کی مکرم مسجد تک گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۱ء

دیوبندیت! ایک عالمی فکری تحریک

روزنامہ اسلام لاہور (۱۰ ستمبر ۲۰۱۱ء) کی ایک خبر کے مطابق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ’’عالمگیر دیوبندیت اور تبلیغی جماعت‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد ہوا، معروف جرمن اسکالر اور کراس روڈ ایشیا پروجیکٹ (زنیٹرم ماڈرنر اورینٹ) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈائرچ ریٹز نے سیمینار کے موضوع کے حوالہ سے خطاب کیا۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر ممتاز احمد، نائب صدر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری، ڈائریکٹر جنرل دعوۃ اکیڈمی صاحبزادہ ساجد الرحمن سمیت اساتذہ، انتظامی افسران، ملازمین اور طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۱ء

کراچی کا سفر اور جامعہ دارالعلوم میں حاضری

۶ تا ۱۰ اپریل پانچ روز کراچی میں قیام رہا اور مختلف دینی اداروں میں حاضری کے علاوہ معہد الخلیل الاسلامی کے زیر اہتمام ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کے حوالہ سے سات کے لگ بھگ محاضرات میں گفتگو کا موقع ملا جن کا عنوان اگرچہ دروس کا تھا مگر وہ زیادہ تر حجۃ اللہ البالغۃ کے بعض مضامین کے بارے میں میرے تاثرات و محسوسات اور تعبیرات پر مشتمل تھے۔ مولانا محمد یحیٰی مدنی اور مولانا محمد مدنی کی توجہ اور محنت سے علماء کرام اور اساتذہ کی بڑی تعداد شریک تھی اور انہوں نے بہت دلچسپی کے ساتھ میری گزارشات کو سنا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ اپریل ۲۰۱۹ء

’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ پر چند تعارفی دروس

معہد الخلیل الاسلامی بہادر آباد کراچی کے رئیس مولانا محمد الیاس مدنی کا ارشاد تھا کہ حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کی معرکۃ الآراء کتاب ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ پر ان کے ہاں کچھ تعارفی دروس کا اہتمام ہو جائے، ملک کے مختلف علاقوں کے دیگر متعدد احباب کی طرف سے بھی ایک عرصہ سے یہ فرمائش جاری ہے۔ خود میرا حال یہ ہے کہ، کسی تکلف کے بغیر، خود کو اس کا پوری طرح اہل نہیں سمجھتا اور بہت سے امور میں تشنگی محسوس کرتا ہوں۔ لیکن اس کی دن بدن بڑھتی ہوئی ضرورت و اہمیت کے باوجود اس سلسلہ میں ایسے عمومی دائرے میں اس کی تکمیل کا کوئی ماحول دکھائی نہیں دیتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اپریل ۲۰۱۹ء

جے یو آئی کے مرکزی ناظم نشر و اشاعت سے انٹرویو

مولانا زاہد الراشدی جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے مرکزی ناظم نشر و اشاعت، پاکستان قومی اتحاد پنجاب کے جنرل سیکرٹری، اور جمعیۃ کی مرکزی ٹیم کے جواں سال و فعال رہنما ہیں۔ یوں تو آپ گزشتہ کئی سالوں سے جمعیۃ علماء اسلام کو ملک کی ایک منظم و منضبط جماعت بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں لیکن گزشتہ تین سالوں میں آپ نے جماعت کی تنظیم نو کے سلسلہ میں بڑی تیزی سے ملک کو کھنگال کر رکھ دیا، ملک کے بڑے بڑے شہروں سے لے کر دیہاتوں کے ابتدائی یونٹ تک کے جماعتی کارکنوں سے فردًا فردًا رابطہ قائم کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مئی ۱۹۷۹ء

شریعت سے ہم آہنگ معاشی نظام

روزنامہ پاکستان لاہور میں شائع شدہ ۲۴ جون ۲۰۱۱ء کی ایک خبر کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر جناب یاسمین انور نے کہا ہے کہ پاکستان میں کاروباری خطرات سے نمٹنے کے لیے شریعت سے ہم آہنگ ٹھوس نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے جس سے اسلامی بینک اور ان کے صارفین دونوں حقیقی کاروباری خطرات کم کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔ گزشتہ روز کراچی میں ’’اسلامی مالیات میں پیش بندی اور پیش بندی کا معاہدہ‘‘ کے موضوع پر ایک ورکشاپ کا آغاز ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۱ء

اسلامی نظام اور پاکستانی عوام کے جذبات

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی نے ۵ جون ۲۰۱۱ء کے شمارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق انٹرنیشنل سروے ایجنسی ’’گیلپ انٹرنیشنل‘‘ نے حال ہی میں اسلامی نظام کے بارے میں پاکستانی عوام کے خیالات و جذبات معلوم کرنے کے لیے سروے کا اہتمام کیا جس کے نتیجہ میں پاکستان کے ۶۷ فیصد عوام نے ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کی خواہش کی ہے، ۲۰ فیصد لوگوں نے کسی رائے کا اظہار نہیں کیا، جبکہ ۱۳ فیصد کی رائے یہ ہے کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۷ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter