اقلیتوں کے حقوق: چند ضروری گزارشات

چرچ کے حوالے سے اس ہفتے تین خبریں سامنے آئیں۔ ایک یہ کہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نے مسیحی رہنماؤں کو مسجد میں آنے کی دعوت دی اور انہیں مسجد میں اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کا موقع فراہم کیا۔ دوسری خبر یہ کہ اسلام آباد کے ایک انٹرنیشنل چرچ میں اتوار کے روز عبادت میں مصروف افراد پر دستی بموں سے حملہ کیا گیا - - - مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۰۲ء

اقوام متحدہ کی طرف سے حدود آرڈیننس پر نظرثانی کا مطالبہ

امریکی ایوانِ نمائندگان کی طرف سے پاکستان میں قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے اور توہینِ رسالتؐ پر موت کی سزا کے قوانین کی منسوخی کے مطالبات پر ابھی دینی حلقوں کے ردعمل کا سلسلہ جاری تھا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے ’’حدود آرڈیننس‘‘ پر نظر ثانی کا مطالبہ بھی سامنے آ گیا ہے۔ مکمل تحریر

۲۰ مارچ ۲۰۰۲ء

صحرا میں اذان

’’حدود آرڈیننس’’ ایک بار پھر این جی اوز کی سرگرمیوں کا عنوان بن گیا ہے اور انسانی حقوق کے جن علمبرداروں کو افغانستان میں امریکہ کی وحشیانہ بمباری سے جاں بحق ہونے والے ہزاروں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر سانپ سونگھ گیا تھا، وہ کوہاٹ کی ایک خاتون کو سنگسار ہونے سے بچانے کے لیے لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اتر آئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مئی ۲۰۰۲ء

کیا عالمِ اسلام دنیا کی قیادت سنبھالنے کا اہل ہے؟

حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ تحریک آزادی کے سرگرم رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا، اور پاکستان بننے کے بعد سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہو کر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی تحریک کو منظم کرنے میں مگن ہو گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۰۲ء

مسلمان ریڈ انڈین نہیں ہیں

امریکہ اور عالم اسلام کے بارے میں ’’گیلپ انٹرنیشنل‘‘ کے ایک حالیہ سروے کی رپورٹ ان دنوں عام طور پر موضوع بحث ہے۔ سی این این کے مطابق اس سروے میں ایک طرف امریکی عوام سے یہ پوچھا گیا ہے کہ عالم اسلام میں امریکہ کے خلاف جذبات کیوں پائے جاتے ہیں؟ اور ان حالات میں مسلمان ممالک کو کیا کرنا چاہیے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۲۰۰۲ء

برطانیہ میں ہفتۂ بیدارئ اسلام اور وزیراعظم ٹونی بلیئر کے خیالات

برطانیہ میں گزشتہ دنوں ’’ہفتہ بیدارئ اسلام‘‘ منایا گیا۔ یہ ہفتہ ہر سال منایا جاتا ہے اور اس موقع پر مختلف تقریبات کے ذریعے اسلامی تعلیمات اور اسلامی تہذیب کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے بارے میں مسلمانوں کے طرز عمل اور اسلامی احکام کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک تقریب چار نومبر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوئی، جس کے لیے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے بھی پیغام ارسال کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۔

عراق پر حملے کیلئے برطانوی وزیراعظم کی ’’فردِ جرم‘‘

برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے گزشتہ دنوں عراق کے صدر صدام حسین کے خلاف الزامات کے ثبوت میں مبینہ دستاویزات پر مشتمل پچاس صفحات کی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اس سے عراق کے خلاف امریکہ کے متوقع حملوں کی مخالفت میں کمی واقع ہو گی اور ٹونی بلیئر کو اپنی پارٹی اور پارلیمان کے ارکان کی مزید حمایت حاصل ہو سکے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اکتوبر ۲۰۰۲ء

بل کلنٹن سے چند گزارشات

ایک قومی روزنامہ نے جدہ سے اے ایف پی کے حوالہ سے ۲۱ جنوری ۲۰۰۲ء کو خبر شائع کی ہے کہ امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے ’’جدہ اکنامک فورم‘‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ باہمی اختلافات کو برداشت کرنے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی سیاسی معاشرہ تشکیل دیا جائے، اور امریکہ اس مقصد کے لیے دنیا سے رابطہ کرے۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے تعلیمی نظام میں عقیدے کی تلقین ختم کر دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جنوری ۲۰۰۲ء

خلافت راشدہ: اہمیت و افادیت

۲۸ مارچ ۲۰۰۲ء کو ہمدرد سنٹر لاہور میں روزنامہ پاکستان/یلغار کے زیر اہتمام ’’خلافتِ راشدہ کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جس میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علمائے کرام اور دانشوروں نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں موجودہ دور میں خلافت کی اہمیت و ضرورت کے حوالے سے مقررین نے خیالات کا اظہار کیا اور کانفرنس کے اختتام پر موجودہ معروضی صورتحال میں پاکستان کے دینی حلقوں کے اصولی موقف کے طور پر ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ و ۱۵ اپریل ۲۰۰۲ء

انٹرنیٹ پر گفتگو کا پہلا تجربہ

الحاج عبدالرحمان باوا تحریکِ ختمِ نبوت کے پرانے کارکنوں میں سے ہیں۔ گجرات (انڈیا) کے میمن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی فیملی ایک عرصہ تک رنگون (برما) میں مقیم رہی ہے۔ پھر مشرقی پاکستان آ گئے اور چٹاگانگ میں کئی سال مقیم رہے۔ بنگلہ دیش بنا تو وہ پاکستان آئے اور کراچی میں ڈیرہ لگا لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اکتوبر ۲۰۰۱ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter