شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ اور مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کی جدوجہد کے دو اہم پہلو
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی یاد میں ۳۰ اکتوبر کو خانیوال میں سیمینار منعقد ہو رہا ہے جس میں مولانا فضل الرحمان مہمان خصوصی ہوں گے اور مختلف ارباب فکر و دانش حضرت شیخ الہندؒ اور حضرت مفتی صاحبؒ کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ اس سیمینار کا اہتمام جناب اکرام القادری اور ان کے رفقاء کی طرف سے کیا جا رہا ہے جو ہمارے پرانے دوستوں میں سے ہیں اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے دور میں جمعیۃ علماء اسلام کے آرگن ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے سالہا سال تک مدیر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ایک اور ’’دینِ الٰہی‘‘؟
روزنامہ جنگ لاہور ۲۰ جولائی ۱۹۹۰ء کی رپورٹ کے مطابق حکمران پارٹی کی سربراہ بیگم بے نظیر بھٹو نے لاہور ایئرپورٹ پر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے شریعت بل کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ: ’’ہم ایسا اسلام چاہتے ہیں جو واقعی اللہ کی ہدایات کے مطابق ہو۔ پوری دنیا اللہ کی ہے۔ عوام اللہ کے نمائندے ہیں۔ منتخب پارلیمنٹ اللہ کی امانت ہوتی ہے۔ ہم پارلیمنٹ کی بالادستی قائم رکھیں گے۔ ہم انسانوں کے کان یا ہاتھ کاٹنے کو مناسب نہیں سمجھتے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ایران کے اہل سنت علماء کی حالت زار
روزنامہ نوائے وقت لاہور ۷ مارچ ۱۹۹۶ء کے مطابق ایران کے دو سُنی علماء مولانا عبد المالک اور مولانا عبد الناصر، جو کراچی میں گزشتہ آٹھ برس سے جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، قتل کر دیے گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے قاتلوں کا پتہ نہیں چل سکا اور ان کی لاشیں تدفین کے لیے ایران روانہ کر دی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
گلگت بلتستان صوبہ ۔ چند سنجیدہ خدشات و تحفظات
بلتستان کے مطالعاتی دورے کے بارے میں کچھ گزارشات ایک گزشتہ کالم میں پیش کر چکا ہوں۔ یہ علاقہ سنی شیعہ کشیدگی کے حوالے سے بہت حساس ہے۔ گلگت بلتستان کے جس خطے کو ایک الگ صوبائی یونٹ کی حیثیت دی گئی ہے اس میں اہل سنت کی مجموعی آبادی ۲۷ فیصد بیان کی جاتی ہے، ان میں اکثریت علماء دیوبند سے متعلق ہے، کچھ اہل حدیث حضرات بھی ہیں اور اب خال خال لوگ بریلوی مکتب فکر کے مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے بھی پائے جاتے ہیں، جبکہ اہل تشیع میں اثنا عشریوں کے علاوہ اسماعیلیوں اور نور بخشیوں کی بڑی تعداد موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
موجودہ حالات اور تحفظ ختم نبوت کا محاذ
ماہِ رواں کی پانچ تاریخ کو مجلسِ احرار اسلام پاکستان کے مرکزی دفتر لاہور میں مختلف دینی جماعتوں کے سرکردہ حضرات کا ایک مشترکہ اجلاس متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کی دعوت پر امیر احرار پیر جی سید عطاء المہیمن شاہ بخاری کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں جمعیۃ علماء اسلام، جماعت اسلامی، مرکزی جمعیۃ اہل حدیث، پاکستان شریعت کونسل، خاکسار تحریک، مجلس احرار اسلام، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ، ملت اسلامیہ پاکستان اور دیگر جماعتوں کے ذمہ دار حضرات نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نیدرلینڈز کے گستاخانہ خاکے، اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم
سینٹ آف پاکستان نے ناموس رسالتؐ کے حوالہ سے ہالینڈ (نیدرلینڈز) میں دس نومبر کو منعقد کی جانے والی گستاخانہ خاکوں کی مجوزہ نمائش کی مذمت کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے اور وزیر اعظم عمران خان نے اس موقع پر ایوانِ بالا میں خطاب کرتے ہوئے گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کو ناقابل برداشت قرار دیا ہے اور معاملہ کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مغربی ذہنیت کو جانتا ہوں، وہاں کے عوام کو اس بات کی سمجھ نہیں آتی، عوام کی بڑی تعداد کو اندازہ ہی نہیں کہ ہمارے دلوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتنا پیار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی قوانین ۔ غیر انسانی؟
روزنامہ جنگ لاہور نے پی پی آئی کے حوالہ سے ۷ نومبر ۱۹۸۹ء کے شمارہ میں یہ خبر شائع کی ہے کہ: ’’پاکستان ویمن لیگل رائٹس کمیٹی نے حکومت سے زنا حدود آرڈیننس فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اسے غیر اسلامی، غیر جمہوری اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔ کمیٹی نے اپنے حالیہ اجلاس میں کہا ہے کہ یہ آرڈیننس کسی بھی طرح خواتین کے ساتھ زنا اور اغوا جیسے جرائم کو روکنے میں مددگار ثابت نہیں ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
گلگت کو صوبہ بنانے کا منصوبہ
ہم اس سے قبل ان کالموں میں گلگت اور دیگر شمالی علاقہ جات کو نیا صوبہ بنانے کا منصوبہ پر اظہار خیال کر چکے ہیں اور ہمارے نقطۂ نظر سے پاکستان، چین، بھارت، روس اور افغانستان کی سرحدوں کے درمیان اس نازک اور حساس خطہ کو الگ صوبہ کی حیثیت دینا کسی طرح بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی ۔ پروگرام اور عزائم
گوجرانوالہ میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے نام سے پرائیویٹ اسلامی یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ جو کچھ عرصہ پہلے تک محض ایک خواب نظر آتا تھا اب جمعیۃ اہل السنۃ کے باہمت راہنماؤں کی مسلسل محنت اور تگ و دو کے نتیجہ میں زندہ حقیقت کا روپ اختیار کر رہا ہے اور ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کے لیے نہ صرف جی ٹی روڈ پر گوجرانوالہ سے لاہور کی جانب اٹاوہ کے پاس دو سو ساٹھ کنال جگہ حاصل کر لی گئی ہے بلکہ اس پر تعمیر کا کام بھی شروع ہو چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شریعت بل اور شریعت کورٹ ۔ قومی اسمبلی کی نازک ترین ذمہ داری
سینٹ آف پاکستان نے مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف کا پیش کردہ ’’شریعت بل‘‘ کم و بیش پانچ سال کی بحث و تمحیص کے بعد بالآخر متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ شریعت بل ۱۹۸۵ء میں پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا کے سامنے رکھا گیا تھا، اسے عوامی رائے کے لیے مشتہر کرنے کے علاوہ سینٹ کی مختلف کمیٹیوں نے اس پر طویل غور و خوض کیا اور اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھی اسے بھجوایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلیج کا آتش فشاں
کویت پر عراق کے جارحانہ قبضہ اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات میں امریکی افواج کی آمد سے یہ خطہ ایک ایسے آتش فشاں کا روپ اختیار کر چکا ہے جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے اور خلیج میں پیدا ہو جانے والی خوفناک کشیدگی کے حوالہ سے دنیا پر تیسری عالمگیر جنگ کے خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس اور قربانی کی کھالیں ۔ دو اہم تجویزیں
عید الاضحٰی کے موقع پر دینی مدارس کے لیے قربانی کی کھالوں کا مسئلہ اس سال بھی خاصی گہماگہمی کا میدان بنا رہا اور مختلف مقامات پر گرفتاریوں، مقدمات اور چھاپوں کا سلسلہ رہا۔ جبکہ کھالیں جمع کرنے کی اجازت کے بارے میں انتظامیہ کا رویہ بھی حوصلہ افزا اور آبرومندانہ نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس اور مغربی لابیاں
روزنامہ جنگ لاہور نے ۱۴ اپریل ۱۹۹۶ء کی اشاعت میں ایک جرمن اخبار میں پاکستان کے دینی مدارس کے بارے میں شائع شدہ سروے رپورٹ کے بعض مندرجات کا حوالہ دیا ہے جس میں دینی مدارس کو دہشت گردی سکھانے والے اڈے قرار دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان دینی مدارس میں لاکھوں طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ترکی پر امریکہ کا معاشی حملہ اور عہدِ نبویؐ کی چند جھلکیاں
ترکی کے خلاف امریکہ کی اقتصادی جنگ سے ایک نئی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جو دلچسپ انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔ امریکہ کو ترکی سے یہ شکایت ہے کہ وہ پون صدی تک مغرب کی ہاں میں ہاں ملانے اور اس کے ایجنڈے کے ساتھ چلتے رہنے کے بعد اب کچھ فیصلے آزادانہ بھی کرنے لگا ہے، جس سے امریکہ اور یورپی یونین کو صرف ترکی یا یورپ کی حد تک نہیں بلکہ پورے عالم اسلام میں اس بغاوت کے اثرات وسیع ہوتے چلے جانے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مدینہ منورہ طرز کی فلاحی ریاست
وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب عمران خان کی پہلی نشری تقریر کو ملک بھر میں پوری توجہ کے ساتھ سنا گیا ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے جو ظاہر ہے کہ کافی دیر تک چلتا رہے گا۔ مجھ سے بعض دوستوں نے تقریر کے بارے میں پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ تقریر کے طور پر تو بہت اچھی تقریر ہے اور جناب وزیر اعظم نے اس تقریر میں جن خواہشات کا اظہار کیا ہے اگر ان کے دس فیصد پر بھی وہ عمل کر پائے تو میں اسے ان کی کامیابی سمجھوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی بیداری کی لہر اور مسلم ممالک
روزنامہ جنگ لاہور نے ۲۰ فروری ۱۹۹۰ء کی اشاعت میں ہانگ کانگ کی ڈیٹ لائن سے ’’ایشیا ویک‘‘ کی ایک رپورٹ کا خلاصہ خبر کے طور پر شائع کیا ہے جس میں مغربی ممالک میں مسلمانوں کی آبادی اور ان کے مذہبی رجحانات میں روز افزوں اضافہ کو ’’مغرب میں اسلام کی خوفناک پیش قدمی‘‘ کے عنوان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی نظریاتی کونسل کی رجعتِ قہقری
اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان ایک آئینی ادارہ ہے جس کے قیام کی گنجائش ۱۹۷۳ء کے دستور میں اس مقصد کے لیے رکھی گئی تھی کہ پاکستان میں مروجہ قوانین کا شرعی نقطۂ نظر سے جائزہ لے کر خلافِ اسلام قوانین کو اسلام کے سانچے میں ڈھالا جائے اور قانون سازی کے اسلامی تقاضوں کے سلسلہ میں قانون ساز اداروں کی راہنمائی کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فضیلۃ الشیخ مولانا محمد مکی حجازی کی تشریف آوری اور شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کا افتتاح
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی (اٹاوہ، جی ٹی روڈ، گوجرانوالہ) کے ابتدائی بلاک کی تعمیر مکمل ہوگئی ہے۔ یہ بلاک جو عارضی طور پر تعمیر کیا گیا ہے یونیورسٹی کے سائٹ آفس کے علاوہ تعمیری ضرورت کے اسٹورز پر مشتمل ہے اور اس میں پانچ کمرے اور ایک برامدہ شامل ہے، جبکہ پہلے تعلیمی بلاک کی بنیادوں کی کھدائی شروع کر دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کا نظام: خدمات، تقاضے اور ضروریات
دینی مدارس کے موجودہ نظام کی بنیاد امدادِ باہمی اور عوامی تعاون کے ایک مسلسل عمل پر ہے جس کا آغاز ۱۸۵۷ء کے جہادِ آزادی میں مسلمانوں کی ناکامی کے بعد اس جذبہ کے ساتھ ہوا تھا کہ اس معرکۂ حریت کو مکمل طور پر کچل کر فتح کی سرمستی سے دوچار ہوجانے والی فرنگی حکومت سیاسی، ثقافتی، نظریاتی اور تعلیمی محاذوں پر جو یلغار کرنے والی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسلم سربراہ کانفرنس ۔ وقت کا اہم تقاضہ
گزشتہ ہفتے سعودی مملکت کے فرمانروا شاہ فہد کے ساتھ حکومت پاکستان کے ایک وفد کی ملاقات کے حوالے سے یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی ہے کہ شاہ فہد مسئلہ کشمیر پر اسلامی سربراہ کانفرنس بلانے والے ہیں۔ معلوم نہیں اس خبر کی حقیقت کیا ہے لیکن جہاں تک اسلامی سربراہی کانفرنس کا اجلاس طلب کرنے کی ضرورت ہے اس سے انکار یا صرفِ نظر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد اور علماء کرام کی ذمہ داریاں
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام ۱۹۴۷ء میں ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کے اجتماعی ورد کی فضا میں اس مقصد کے لیے عمل میں آیا تھا کہ اس خطہ کے مسلمان الگ قوم کی حیثیت سے اپنے دینی، تہذیبی اور فکری اثاثہ کی بنیاد پر ایک نظریاتی اسلامی ریاست قائم کر سکیں۔ لیکن تینتالیس سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود دستور میں ریاست کو ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کا نام دینے اور چند جزوی اقدامات کے سوا اس مقصد کی طرف کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مرزا طاہر احمد کی دعوت مباہلہ اور حسن محمود عودہ کا قبول اسلام
مرزا طاہر احمد کے دور میں قادیانی قیادت کی یہ ذہنی الجھن اپنے عروج کو پہنچ گئی ہے کہ دلائل و براہین اور منطق و استدلال کے تمام مصنوعی حربوں کی مکمل ناکامی کے بعد جھوٹی نبوت کے خاندان کے ساتھ قادیانی افراد کی ذہنی وابستگی کو نفسیاتی چالوں کے ذریعے برقرار رکھنا حقیقت شناسی کے اس دور میں زیادہ دیر تک ممکن نہیں رہا۔ یہ الجھن خود مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی درپیش تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جہادِ افغانستان کے خلاف امریکی سازش
امریکی سینیٹر مسٹر سٹیفن سولارز ان دنوں پاکستان آئے ہوئے ہیں اور اپنے ساتھ افغانستان کے مسئلہ پر ایک فارمولا لائے ہیں جس کا بنیادی نکتہ افغانستان کے سابق بادشاہ ظاہر شاہ کو افغانستان میں کوئی کردار سونپنا بیان کیا جاتا ہے۔ سٹیفن سولارز وہی صاحب ہیں جو امریکہ کی رائے عامہ کو پاکستان اور اسلامی قوتوں کے خلاف منظم کرنے کی مہم کے سرخیل بنے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حجیّتِ حدیث اور ختمِ نبوت کے موضوع پر شکاگو میں عالمی کانفرنس
شکاگو کا شمار ریاستہائے متحدہ امریکہ کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے جو دنیا کی پانچ بڑی جھیلوں کے سلسلہ میں مشی گن نامی بڑی جھیل کے کنارے آباد ہے۔ دنیا میں میٹھے پانی کی یہ سب سے بڑی جھیل کہنے کو جھیل ہے لیکن ایک سمندر کا نقشہ پیش کرتی ہے جو سینکڑوں میل کے علاقہ کو احاطہ میں لیے ہوئے ہے، میٹھے پانی کے اس سمندر کی وجہ سے شکاگو کا پورا علاقہ انتہائی سرسبز و شاداب ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عالمِ اسلام میں جہاد کی نئی لہر
جہاد افغانستان کے منطقی اثرات رفتہ رفتہ ظاہر ہو رہے ہیں کہ نہ صرف مشرقی یورپ نے روس کی بالادستی کا طوق گلے سے اتار پھینکا ہے بلکہ وسطی ایشیا کی ریاستیں بھی اپنی آزادی اور تشخص کی بحالی کے لیے قربانی اور جدوجہد کی شاہراہ پر گامزن ہو چکی ہیں اور فلسطین، کشمیر اور آذربائیجان کے حریت پسند مسلمان جذبۂ جہاد سے سرشار ہو کر ظلم و استبداد کی قوتوں کے خلاف صف آرا ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا فضل الرحمان اور نئی سیاسی صورتحال
چیچہ وطنی کے ڈاکٹر محمد اعظم چیمہ ہمارے پرانے جماعتی، مسلکی اور نظریاتی ساتھیوں میں سے ہیں، حالات کے اتار چڑھاؤ پر نظر رکھتے ہیں اور مختلف حوالوں سے اپنے جذبات کا متعلقہ حضرات کے سامنے اظہار کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ روز ان کے ساتھ اسلام آباد کا سفر ہوا اور مولانا فضل الرحمان سے تفصیلی ملاقات ہوگئی۔ ڈاکٹر صاحب کو مولانا کی سیاسی پالیسیوں کے حوالہ سے کچھ تحفظات تھے اور میں موجودہ حالات کے بارے میں بہت سی باتیں معلوم ہونے کے باوجود انہیں مولانا فضل الرحمان سے ان کے لہجے میں سننا چاہتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دستوری ترامیم کی بحث اور دینی جماعتوں کا مطلوبہ کردار
دستور پاکستان میں جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور اقتدار میں کی جانے والی سترہویں ترمیم پر نظر ثانی کے لیے پارلیمنٹ کی قائم کردہ کمیٹی اپنے کام میں مصروف ہے اور اس کے بارے میں مختلف اطراف سے اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض دانشوروں کا کہنا ہے کہ یہ پارلیمانی کمیٹی صرف سترہویں ترمیم کے خاتمہ کا طریق کار طے کرنے تک محدود نہیں ہے جس سے اس کی ذمہ داری پورے دستور کی ’’اوورہالنگ‘‘ تک پھیلی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سوات کی صورتحال اور علماء کا اجلاس
والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے آخری ایام میں انہیں سب سے زیادہ پریشانی سوات کی صورتحال کے بارے میں تھی، میں جب بھی حاضر ہوتا وہ سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے حالات کے بارے میں دریافت کرتے اور دیگر حضرات سے بھی پوچھتے رہتے۔ میں نے کئی بار انہیں سوات اور اس خطہ کے حالات سن کر روتے دیکھا، مجاہدین کے ساتھ انہیں ہمدردی تھی لیکن ملکی صورتحال اور وطن عزیز کو درپیش مشکلات بھی ان کے لیے بے چینی کا باعث تھیں۔ چند ہفتے قبل انہوں نے مولانا سمیع الحق کو پیغام بھیج کر بلوایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذِ شریعت کی جدوجہد کا تسلسل اور طریقہ کار
گزشتہ منگل سے برطانیہ میں ہوں اور وطن عزیز کے حوالہ سے اب تک تین چار اچھی خبریں سن چکا ہوں۔ پہلی خبر سوات کے معاہدۂ امن کی قومی اسمبلی سے توثیق کے حوالہ سے تھی، دوسری خبر نظام عدل ریگولیشن کے دائرہ کار کی مالاکنڈ ڈویژن اور ضلع کوہستان تک توسیع کے بارے میں تھی، تیسری خبر مولانا عبد العزیز کی رہائی اور لال مسجد میں ان کے خطبۂ جمعہ کی ہے، اور چوتھی خبر میں اس کو قرار دے رہا ہوں کہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران سوات کے معاہدۂ امن کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
۱۴ اگست ۔ تجدیدِ عہد اور احتساب کا دن
تاریخ اور سماجیات کے ایک طالب علم کے طور پر جب قیام پاکستان کے پس منظر کا جائزہ لیتا ہوں تو مجھے اس کے سوا اس کی کوئی اور تعبیر نہیں سوجھتی کہ یہ اسلام کی حقانیت اور اعجاز کا اظہار تھا جو اس دور میں رونما ہوا کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے صرف دو عشرے بعد اسلام کے نام پر ایک نئی ریاست پاکستان وجود میں آگئی جبکہ خلافت عثمانیہ کم و بیش پانچ صدیاں اسلام کے عنوان سے شرعی قوانین کے نفاذ کے ساتھ گزار کر دنیا کے نقشے سے غائب ہوگئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
معزول جج صاحبان کی بحالی اور کچھ پرانی یادیں
چیف جسٹس جناب محمد افتخار چودھری اور دیگر معزز جج صاحبان کی بحالی سے صرف عدلیہ نہیں بلکہ ملک کی قومی تاریخ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے اور اس کے اثرات تادیر محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ اس سے جہاں ملک کی جمہوری اور عوامی قوتوں کو حوصلہ ہوا ہے کہ کوئی ڈکٹیٹر کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو عوامی قوت کے ساتھ اس کے اقدامات کو رد کیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ختم نبوت کے محاذ پر بیداری کے آثار
مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ نے قادیانیت کو یہودیت کا چربہ قرار دیا تھا اور ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے کہا تھا کہ قادیانی پاکستان میں وہی مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں جو امریکہ میں یہودیوں کو حاصل ہے کہ ملک کی کوئی پالیسی ان کی مرضی کے بغیر طے نہ ہو۔ اسی طرح اقبالؒ نے قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا کام اللہ تعالیٰ نے بھٹو مرحوم سے لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شرعی نظامِ عدل کا خوش آئند نفاذ
قومی اسمبلی سے سوات کے معاہدۂ امن کی منظوری کی خوش کن خبر مجھے لندن پہنچنے پر ملی۔ ۱۴ اپریل کو صبح ساڑھے چھ بجے کے لگ بھگ ہیتھرو ایئرپورٹ پر اترا تو سفر شروع کیے مجھے تقریباً بائیس گھنٹے گزر چکے تھے۔ سعودیہ ایئر لائن کی فلائٹ تھی، ۱۳ اپریل کو ساڑھے بارہ بجے دن لاہور سے پرواز کی اور ریاض سے ہوتے ہوئے جدہ پہنچا۔ رات کو ڈیڑھ بجے دوسری پرواز سے روانہ ہوئے اور لندن کے وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے جبکہ پاکستان میں ساڑھے دس بجے کا وقت تھا ہم لندن پہنچے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس کیپ ٹاؤن
میں اس وقت جنوبی افریقہ کے ساحلی شہر کیپ ٹاؤن میں ہوں جو جنوب میں دنیا کا آخری شہر کہلاتا ہے، سٹی کے کنارے پر ایک ہوٹل میں ہمارا قیام ہے اور نماز فجر کی ادائیگی کے بعد حسب معمول چائے کا کپ پی کر قلم کاغذ سنبھالے یہ سطور تحریر کر رہا ہوں۔ میں پاکستان سے علماء کرام کے ایک وفد کے ساتھ عالمی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے جمعرات کو جوہانسبرگ حاضر ہوا تھا جہاں سے جمعہ کی صبح ہم کیپ ٹاؤن پہنچے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریک ختم نبوت کا بڑھتا ہوا جوش و خروش
گزشتہ روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سرگودھا کی مرکزی عیدگاہ میں منعقد ہونے والی ’’ختم نبوت کانفرنس‘‘ میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی مگر اس کی تفصیل عرض کرنے سے پہلے اپنے گزشتہ روز شائع ہونے والے کالم کے حوالہ سے ایک وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔ اس کالم میں ۱۹ اکتوبر کو تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں دفتر احرار لاہور میں منعقدہ مختلف جماعتوں کے راہنماؤں کے مشترکہ اجلاس کی رپورٹ پیش کی گئی تھی جس میں اجلاس کے اعلامیہ کی دو تین سطریں شائع ہونے سے رہ گئیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس اور این جی اوز کے بارے میں دوہرا حکومتی طرز عمل
روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۱۳ جولائی ۲۰۱۸ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’بیرونی امداد کی تفصیل نہ بھجوانے والی ضلع بھر کی ۱۰۵ این جی اوز کو شوکاز جاری ہوئے مگر سماجی تنظیموں کے سربراہان نے ڈیٹا نہ بھجوا کر احکامات کو ہوا میں اڑا دیا، ذرائع کے مطابق عام انتخابات کی مصروفیت کے باعث سماجی تنظیموں کے خلاف کاروائی نہ ہونے کا امکان ہے، جس سے ساری تنظیموں کے حوصلے بڑھ گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی احکام و مسائل اور آج کی دنیا
اس دفعہ سہ ماہی امتحان کی تعطیلات کے موقع پر تین دن کے لیے کراچی حاضری کا پروگرام بنا تو میں نے یہ سوچ کر کہ کبھی کبھار کراچی آنے کا موقع ملتا ہے بہت ٹائٹ قسم کا شیڈول بنا لیا، بہت سے دوستوں کے تقاضے جمع تھے، میں نے سب کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کی لیکن پہلی بار اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ’’من بعد قوۃ ضعفاً و شیبۃ‘‘ کی عملی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ کہنے کو تو میں نے وہ شیڈول جیسے کیسے بنا لیا لیکن واپسی پر خود کو پہلی کیفیت پر واپس لانے میں ایک ہفتہ لگ گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
صدر باراک حسین اوباما کے لیے اصل چیلنج
فتح مکہ کے موقع پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بیت اللہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان دینے کا حکم دیا تو مکہ میں کہرام مچ گیا۔ حضرت بلالؓ نے اسی مکہ مکرمہ میں غلامی کی حیثیت سے زندگی بسر کی تھی، انہیں اسی سرزمین میں سنگریزوں پر گھسیٹا گیا تھا، وہ قریشی نہیں بلکہ حبشی تھے اور ان کا رنگ بھی کالا تھا۔ حرم مکہ میں قریش کے بڑے بڑے لوگ جمع تھے، ابو سفیان بن الحرب، حارث بن ہشام اور عتاب بن اسید اکٹھے بیٹھے صورتحال پر تبصرہ کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
صدر باراک حسین اوباما اور امریکی پالیسیاں
باراک حسین اوباما نے امریکہ کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے جس سے امریکہ کی قومی تاریخ میں ایک نیا باب شروع ہو گیا ہے۔ وہ سیاہ فام آبادی جسے آج سے پون صدی پہلے تک امریکہ میں ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا اس کا نمائندہ آج امریکہ کے وائٹ ہاؤس میں بیٹھا ہے اور محاورہ کی زبان میں امریکہ کے سیاہ و سفید کا مالک کہلاتا ہے۔ باراک حسین اوباما کا باپ حسین ہے جو مسلمان تھا اور کینیا سے تعلق رکھتا تھا جبکہ اس کی ماں مسیحی خاتون تھی۔ ماں اور باپ کی علیحدگی کے بعد باراک حسین ماں کے ساتھ رہا اور اسی کے مذہب پر اس کی پرورش ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مجوزہ نجی شرعی عدالتیں ۔ اہمیت اور امکانات
پرائیویٹ سطح پر شرعی عدالتوں کے قیام کی ضرورت اور اس کے لیے اس سے قبل کی جانے والی مساعی کے بارے میں چند معروضات گزشتہ کالموں میں پیش کر چکا ہوں۔ اور آج اس حوالے سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آج کے عالمی اور قومی تناظر میں اس کی اہمیت و ضرورت اور امکانات کی کیا صورتحال ہے اور اگر ہم آج کے ماحول میں اس کارِ خیر کی شروعات کرنا چاہیں تو وہ کس طرح کی جا سکتی ہے؟ پہلے ان مساعی پر ایک سرسری نظر پھر سے ڈال لینا مناسب معلوم ہوتا ہے جو اس سے قبل اس سلسلہ میں سامنے آچکی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شرعی عدالتوں کا قیام
۱۹۷۵ء کے دوران جمعیۃ علماء اسلام کی طرف سے ملک بھر میں شرعی عدالتوں کے قیام کا اعلان اور اس کی اصولی وضاحت کے حوالہ سے حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کے ایک مضمون کے اقتباسات گزشتہ کالم میں پیش کر چکا ہوں۔ آج اس سلسلہ میں ۲۸ و ۲۹ مارچ ۱۹۷۶ء کو مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں منعقد ہونے والے دو روزہ کنونشن کی رپورٹ پیش کی جا رہی ہے جو ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے ۹ اپریل ۱۹۷۶ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پرائیویٹ شرعی عدالتوں کے قیام کی کوششوں کا پس منظر
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے ۱۹۷۵ء میں نفاذ شریعت کے سلسلہ میں حکومتی رویے سے مایوس ہو کر ملک بھر میں پرائیویٹ شرعی عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا تھا اور طے کیا تھا کہ جو مقدمات اور تنازعات قابل دست اندازیٔ پولیس نہیں ہیں اور جن میں لوگ اپنی مرضی کے مطابق تحکیم، پنچایت اور ثالثی کے ذریعے اپنے تنازعات کا فیصلہ کرا سکتے ہیں، ان میں عام مسلمانوں کو اپنے مقدمات کے فیصلے شرعی قوانین کی روشنی میں کرانے کے لیے سہولت اور نظام فراہم کیا جائے۔ میں نے اپنے ایک دو گزشتہ کالموں میں اس کا ذکر کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مالاکنڈ ڈویژن میں ’’نظامِ عدل ریگولیشن‘‘ کا نفاذ اور اس پر مختلف حلقوں کا ردعمل
مالاکنڈ ڈویژن میں ’’نظامِ عدل ریگولیشن‘‘ کے نفاذ کا اعلان ہوگیا ہے اور صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ جناب امیر حیدر ہوتی نے مالاکنڈ ڈویژن کی تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد اور ان کے رفقاء کے ساتھ مذاکرات کے بعد یہ اعلان کیا ہے کہ تحریک کے مطالبات منظور کر لیے گئے ہیں جن کے تحت سوات سمیت مالاکنڈ ڈویژن اور ہزارہ کے ضلع کوہستان میں شرعی عدالتیں قائم کی جائیں گی جو لوگوں کے مقدمات کے فیصلے قرآن و سنت کے مطابق کریں گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کا ایک اہم پہلو
عید الاضحٰی کی تعطیلات کے دوران مجھے ایک روز کے لیے صوابی جانے کا موقع ملا، صوابی کے علماء کرام ہر سال عید الاضحٰی کے بعد علاقائی سطح پر علماء کا اجتماع کرتے ہیں، اس سے قبل مجھے اس اجتماع میں ضلع صوابی کے مقام باجہ میں شرکت کا موقع حاصل ہوا تھا، جبکہ اس سال یہ اجتماع صوابی سے آگے ضلع بونیر کے مقام طوطالئی کے مدرسہ حقانیہ میں منعقد ہوا جس سے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ دامت برکاتہم نے بھی خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
موجودہ ملکی صورتحال میں پاکستان شریعت کونسل کا موقف
عام انتخابات کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی نے مرکزی مجلس شورٰی کا اجلاس ۲ اگست کو مسجد امن باغبانپورہ لاہور میں طلب کیا جس میں بعض دیگر ہم خیال دینی راہنماؤں کو بھی خاص طور پر دعوت دی گئی تاکہ ان کی رائے اور مشاورت سے استفادہ کیا جا سکے۔ ان میں سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا اور مولانا عزیز الرحمان ثانی، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی، اور مجلس احرار اسلام کے راہنما قاری محمد قاسم احرار نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
گوجرانوالہ میڈیکل کالج میں سیرۃ النبیؐ کی تقریب
گزشتہ روز گوجرانوالہ میڈیکل کالج میں کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا، ڈاکٹر فضل الرحمان ہمارے محترم دوست ہیں اور جامعہ نصرۃ العلوم کی انتظامیہ سے تعلق رکھتے ہیں، والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے خصوصی متعلقین بلکہ خدام میں سے ہیں۔ ان کی دعوت پر کالج میں منعقدہ ایک پروگرام میں شرکت ہوئی جس میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر مختلف کالجوں کے طلبہ اور طالبات کے درمیان تقریری مقابلہ کی نشست بھی تھی اور اس میں مجھے جج بنایا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی جدوجہد کے مشترکہ فورم کی ضرورت
گزشتہ دنوں لاہور میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور دینی راہنماؤں کے دو اجتماعات ہوئے جن سے کچھ امید ہونے لگی ہے کہ ملی و دینی مسائل میں دینی حلقوں کے موقف کے اجتماعی اظہار کی کوئی مناسب صورت بن جائے گی۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ اکثر و بیشتر قومی و ملی امور پر تمام دینی حلقوں کا موقف کم و بیش یکساں ہوتا ہے جس کا اپنی اپنی جگہ وہ اظہار بھی کرتے ہیں لیکن کوئی مستقل فورم ایسا نہیں ہے جس پر وہ اس موقف کا اجتماعی طور پر اظہار کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
افغانستان کا مسئلہ ۔ پارلیمنٹ کے اجلاس سے توقعات
افغانستان میں برطانوی افواج کے کمانڈر بریگیڈیئر مازک اسمتھ نے سنڈے ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں جنگ جیتنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے اس لیے طالبان کے ساتھ سیاسی مذاکرات کی کوئی صورت اختیار کرنا ہوگی۔ ادھر عراق میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل پیٹریوس نے بغداد میں غیر ملکی میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردوں سے نمٹنے اور بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور پاکستان کے بعض علاقوں میں طالبان کا کنٹرول ختم کرنا انتہائی مشکل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’ہنگ پارلیمنٹ‘‘
الیکشن گزر چکے ہیں، وفاق اور صوبوں میں حکومت سازی کی سرگرمیاں جاری ہیں، متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انتخابات کے نتائج کو مسترد کر دیتے ہوئے حلف برداری کی تقریب کے بائیکاٹ اور احتجاجی مہم کی کال دے رکھی ہے، الیکشن کمیشن دھاندلیوں کے وسیع تر اور سنگین الزامات کی زد میں ہے، اور مختلف اطراف سے بیان بازی زور و شور کے ساتھ ہو رہی ہے۔ مگر اس ساری فضا میں ہمارا دکھ قدرے مختلف ہے کہ سب متعلقہ حلقے موجودہ صورتحال کو حالیہ انتخابات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان کے عام انتخابات / امریکی وزارت خارجہ کی مذہبی کانفرنس
عام انتخابات کے نتائج سے پیدا شدہ صورتحال پر اس سرسری تبصرہ کے بعد آج کے کالم میں ایک اور اہم مسئلہ پر کچھ عرض کرنا ضروری اور بروقت معلوم ہوتا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ مذہبی آزادی کے عنوان سے بین الاقوامی سطح پر ایک بڑی کانفرنس منعقد کر رہی ہے جس کا آغاز ۲۹ جولائی کو واشنگٹن میں ہوگا اور وہ مسلسل تین روز تک جاری رہے گی۔ امریکی وزیر خارجہ جناب مائیک پومپیو کے اعلان کے مطابق چالیس سے زائد ممالک کے وزرائے خارجہ، مذہبی راہنما، دانشور، این جی اوز اور انسانی حقوق کے وکلاء اس میں شریک ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر