مغربی یلغار اور اسلامی تحریکیں

پاکستان میں شریعتِ اسلامیہ کی بالادستی کی جنگ اسلام آباد میں نہیں بلکہ واشنگٹن، نیویارک، جنیوا اور لندن میں لڑی جا رہی ہے اور مغربی لابیاں اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کی قراردادوں کی آڑ میں ’’انسانی حقوق‘‘ کے ہتھیاروں کے ساتھ اسلامی نظامِ حیات پر حملہ آور ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۴ء

نفاذِ اسلام کی جدوجہد کی معروضی صورتحال پر ایک نظر

قیامِ پاکستان کے وقت جو نظام ہمیں ورثے میں ملا تھا وہ قطعی طور پر ناکام ہو گیا ہے اور ہمارے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید الجھتے جا رہے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ نظام کی تبدیلی کے لیے سنجیدگی کے ساتھ محنت کی جائے۔ نظام کی تبدیلی کی بات ملک کے تمام سیاسی حلقے کر تے ہیں اور اس پر تمام حلقوں کا اتفاق پایا جاتا ہے کہ موجودہ نظام ناکام ہو گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جون ۲۰۲۲ء

برصغیر پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے معاشی تسلط کی ایک جھلک

جنوبی ایشیا میں ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ نے اپنے تسلط کا بنیادی ذریعہ معیشت میں دخل اندازی کو بنایا تھا جو دھیرے دھیرے کنٹرول کی صورت اختیار کر گئی اور پھر پورا برصغیر بتدریج ایسٹ انڈیا کمپنی کی غلامی میں چلا گیا۔ اس کی ایک جھلک پنجاب یونیورسٹی کے ’’دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ نے مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی مرحوم کے تذکرہ میں اس طرح پیش کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جون ۲۰۲۲ء

دستور کی نظرِثانی ۔ پاکستان کے دینی و سیاسی راہنماؤں کے نام ایک اہم مراسلہ

بگرامی خدمت، زید مجدکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ مزاج گرامی؟ گزارش ہے کہ روزنامہ جنگ لندن ۲۴ اگست ۱۹۹۴ء کی ایک خبر کے مطابق پاکستان کی قومی اسمبلی نے ملک کے دستور پر نظرثانی کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں آنجناب کی توجہ اس پہلو کی طرف مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۴ء

انسانی اقدار اور مغربی اقدار

جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ِطیبہ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے اور انسانی معاشرہ بالآخر رسول اکرمؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی امن و فلاح کی منزل حاصل کرے گا۔ محبتِ رسولؐ پر مسلمانوں کے ایمان کی بنیاد ہے، جس کے بغیر کوئی شخص مومن کہلانے کا حقدار نہیں ہو سکتا۔ لیکن محبتِ رسولؐ کی بنیاد اطاعت اور اتباع ہے کیونکہ محبوب کے احکام کی تعمیل کے بغیر مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۴ء

علومِ دینیہ کی ترویج میں خواتین کا کردار

بعد الحمد والصلوٰۃ! یہ مدرسہ ہمارے محترم دوست اور بزرگ ساتھی حضرت مولانا حافظ مہر محمد صاحبؒ کی یادگار اور ان کا صدقہ جاریہ ہے۔ ہم جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں کئی برس اکٹھے پڑھتے رہے ہیں، وہ مجھ سے سینئر تھے اور دو تین سال پہلے فارغ ہوئے تھے، البتہ ترجمہ قرآن کریم کی کلاس میں شریک رہے ہیں۔ فاضل اور محقق عالم تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۲۰۲۲ء

سودی نظام سے نجات کی جدوجہد: پس منظر اور لائحہ عمل

سودی نظام کے خاتمہ کے لیے وفاقی شرعی عدالت نے رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں جو فیصلہ دیا ہے اس کا تمام دینی حلقوں میں خیر مقدم کیا جا رہا ہے اور اس پر عملدرآمد کا ہر طرف سے مطالبہ ہو رہا ہے۔ اس فیصلہ کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے واضح اعلان کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جون ۲۰۲۲ء

سلامتی کونسل اور امارتِ اسلامی افغانستان

ایک قومی اخبار نے ۲۶ مئی ۲۰۲۲ء کو یہ خبر شائع کی ہے: ’’اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان میں طالبان حکومت سے کہا ہے کہ وہ خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق اور ان کی آزادی کو سلب نہ کرے۔ سلامتی کونسل نے افغانستان میں خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم، ملازمت، شخصی آزادی - - - مکمل تحریر

۲۸ مئی ۲۰۲۲ء

سودی نظام کے بارے میں عدالتی فیصلہ اور دینی جماعتوں کی سرگرمیاں

سودی نظام کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کے تاریخی فیصلہ کے حوالے سے جوں جوں آگاہی بڑھ رہی ہے دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ دیگر طبقات بالخصوص ماہرینِ معیشت اور تاجر برادری میں بھی بیداری کا ماحول پیدا ہو رہا ہے اور دوسری جماعتوں کے ساتھ ساتھ تحریکِ انسداد سود اور پاکستان شریعت کونسل کی سرگرمیوں میں تسلسل کی فضا بن رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ مئی ۲۰۲۲ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter