مقالات و مضامین

دینی حلقوں کی آزمائش اور ذمہ داری

پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس مشاورت کے ایک اہم اجلاس کی کارروائی ”نوائے قلم“ کے قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ پاکستان شریعت کونسل نے حکومت اور دینی حلقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کوئی خفیہ ہاتھ پاکستان میں فوج اور دینی حلقوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر کے ترکی اور الجزائر جیسے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مئی ۲۰۰۲ء

شیطانی قوتوں کے ذہنی و فکری حملے

جادو، کالا علم، رمل، جفر اور نجوم آج کل پھر سے عام ہو گئے ہیں جیسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل عام انسانی سوسائٹی میں عموماً اور عرب معاشرہ میں بالخصوص عام تھے اور جناب نبی اکرمؐ نے بڑی محنت اور تگ و دو سے لوگوں کو ان خرافات سے نجات دلائی تھی۔ جدھر دیکھیں نجومی اور کالے علم کے کسی نہ کسی ماہر کا بورڈ لگا ہوا نظر آتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ فروری ۲۰۰۲ء

اقلیتوں کے حقوق: چند ضروری گزارشات

چرچ کے حوالے سے اس ہفتے تین خبریں سامنے آئیں۔ ایک یہ کہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نے مسیحی رہنماؤں کو مسجد میں آنے کی دعوت دی اور انہیں مسجد میں اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کا موقع فراہم کیا۔ دوسری خبر یہ کہ اسلام آباد کے ایک انٹرنیشنل چرچ میں اتوار کے روز عبادت میں مصروف افراد پر دستی بموں سے حملہ کیا گیا - - - مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۰۲ء

اقوام متحدہ کی طرف سے حدود آرڈیننس پر نظرثانی کا مطالبہ

امریکی ایوانِ نمائندگان کی طرف سے پاکستان میں قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے اور توہینِ رسالتؐ پر موت کی سزا کے قوانین کی منسوخی کے مطالبات پر ابھی دینی حلقوں کے ردعمل کا سلسلہ جاری تھا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے ’’حدود آرڈیننس‘‘ پر نظر ثانی کا مطالبہ بھی سامنے آ گیا ہے۔ مکمل تحریر

۲۰ مارچ ۲۰۰۲ء

صحرا میں اذان

’’حدود آرڈیننس’’ ایک بار پھر این جی اوز کی سرگرمیوں کا عنوان بن گیا ہے اور انسانی حقوق کے جن علمبرداروں کو افغانستان میں امریکہ کی وحشیانہ بمباری سے جاں بحق ہونے والے ہزاروں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر سانپ سونگھ گیا تھا، وہ کوہاٹ کی ایک خاتون کو سنگسار ہونے سے بچانے کے لیے لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اتر آئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مئی ۲۰۰۲ء

کیا عالمِ اسلام دنیا کی قیادت سنبھالنے کا اہل ہے؟

حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ تحریک آزادی کے سرگرم رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا، اور پاکستان بننے کے بعد سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہو کر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی تحریک کو منظم کرنے میں مگن ہو گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۰۲ء

مسلمان ریڈ انڈین نہیں ہیں

امریکہ اور عالم اسلام کے بارے میں ’’گیلپ انٹرنیشنل‘‘ کے ایک حالیہ سروے کی رپورٹ ان دنوں عام طور پر موضوع بحث ہے۔ سی این این کے مطابق اس سروے میں ایک طرف امریکی عوام سے یہ پوچھا گیا ہے کہ عالم اسلام میں امریکہ کے خلاف جذبات کیوں پائے جاتے ہیں؟ اور ان حالات میں مسلمان ممالک کو کیا کرنا چاہیے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۲۰۰۲ء

برطانیہ میں ہفتۂ بیدارئ اسلام اور وزیراعظم ٹونی بلیئر کے خیالات

برطانیہ میں گزشتہ دنوں ’’ہفتہ بیدارئ اسلام‘‘ منایا گیا۔ یہ ہفتہ ہر سال منایا جاتا ہے اور اس موقع پر مختلف تقریبات کے ذریعے اسلامی تعلیمات اور اسلامی تہذیب کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے بارے میں مسلمانوں کے طرز عمل اور اسلامی احکام کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک تقریب چار نومبر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوئی، جس کے لیے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے بھی پیغام ارسال کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۔

عراق پر حملے کیلئے برطانوی وزیراعظم کی ’’فردِ جرم‘‘

برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے گزشتہ دنوں عراق کے صدر صدام حسین کے خلاف الزامات کے ثبوت میں مبینہ دستاویزات پر مشتمل پچاس صفحات کی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اس سے عراق کے خلاف امریکہ کے متوقع حملوں کی مخالفت میں کمی واقع ہو گی اور ٹونی بلیئر کو اپنی پارٹی اور پارلیمان کے ارکان کی مزید حمایت حاصل ہو سکے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اکتوبر ۲۰۰۲ء

بل کلنٹن سے چند گزارشات

ایک قومی روزنامہ نے جدہ سے اے ایف پی کے حوالہ سے ۲۱ جنوری ۲۰۰۲ء کو خبر شائع کی ہے کہ امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے ’’جدہ اکنامک فورم‘‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ باہمی اختلافات کو برداشت کرنے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی سیاسی معاشرہ تشکیل دیا جائے، اور امریکہ اس مقصد کے لیے دنیا سے رابطہ کرے۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے تعلیمی نظام میں عقیدے کی تلقین ختم کر دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جنوری ۲۰۰۲ء

خلافت راشدہ: اہمیت و افادیت

۲۸ مارچ ۲۰۰۲ء کو ہمدرد سنٹر لاہور میں روزنامہ پاکستان/یلغار کے زیر اہتمام ’’خلافتِ راشدہ کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جس میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علمائے کرام اور دانشوروں نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں موجودہ دور میں خلافت کی اہمیت و ضرورت کے حوالے سے مقررین نے خیالات کا اظہار کیا اور کانفرنس کے اختتام پر موجودہ معروضی صورتحال میں پاکستان کے دینی حلقوں کے اصولی موقف کے طور پر ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ و ۱۵ اپریل ۲۰۰۲ء

انٹرنیٹ پر گفتگو کا پہلا تجربہ

الحاج عبدالرحمان باوا تحریکِ ختمِ نبوت کے پرانے کارکنوں میں سے ہیں۔ گجرات (انڈیا) کے میمن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی فیملی ایک عرصہ تک رنگون (برما) میں مقیم رہی ہے۔ پھر مشرقی پاکستان آ گئے اور چٹاگانگ میں کئی سال مقیم رہے۔ بنگلہ دیش بنا تو وہ پاکستان آئے اور کراچی میں ڈیرہ لگا لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اکتوبر ۲۰۰۱ء

امیر المؤمنین سید احمد شہیدؒ اور جہادِ کشمیر

تحریکِ آزادئ کشمیر کے حوالے سے ایک اور ابہام کو دور کرنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ جہادِ کشمیر کے تاریخی پس منظر کے تذکرہ میں راقم الحروف نے لکھا ہے کہ ۱۸۴۶ء میں مہاراجہ گلاب سنگھ کا قبضہ ہونے کے بعد سے اس خطہ میں آزادی کی جنگ کسی نہ کسی صورت میں جاری چلی آ رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جولائی ۲۰۰۱ء

عام انتخابات اور فرقہ وارانہ کشیدگی: صدر مشرف سے چند گزارشات

۱۴ اگست کو یومِ آزادی کے موقع پر اعلان کے مطابق ضلعی حکومتوں کا آغاز ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی صدر جنرل پرویز مشرف نے اگلے سال اکتوبر کے دوران عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر دیا ہے۔ ضلعی حکومتوں کا دائرہ کار کیا ہو گا؟ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے ساتھ ان کے تعلقات کار کی نوعیت کیا ہوگی؟ اور ضلعی حکمرانوں کے اختیارات کی حد کہاں تک ہوگی؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ اگست ۲۰۰۱ء

شیر کی جبلت اور سنہری پنجرہ

اوصاف میں شجاعت علی کی داستان آپ نے بھی پڑھی ہو گی کہ کس طرح انہوں نے شیر کا پندرہ دن کا بچہ حاصل کیا اور اس کی گھر میں پرورش کی، اس کا نام عنزہ رکھا اور اسے اس طرح پالا کہ وہ ان کے خاندان کا فرد بن گیا۔ وہ ان کے ساتھ کھیلتا تھا، ان کے ساتھ سوتا تھا اور ان کے ساتھ گاڑی میں سیر سپاٹے کے لیے جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ اگست ۲۰۰۱ء

وفاقی وزیر داخلہ معین الدین حیدر کا شکریہ

وفاقی وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر کا شکریہ ادا کرنے کو جی چاہتا ہے کہ دینی جماعتوں اور علماء کے خلاف ان کی تلخ و تند زبان اور دھمکیاں رنگ لا رہی ہیں۔ اگرچہ یہ رنگ وہ نہیں ہے جو دھمکیاں دیتے ہوئے ان کے ذہن میں ہوتا ہے، مگر کسی بات کا الٹا اثر بھی تو آخر اثر ہی ہوتا ہے جس سے گفتگو کے رائیگاں جانے کا تاثر باقی نہیں رہتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جون ۲۰۰۱ء

قرآن کریم کی حفاظت کا تکوینی نظام

ماہِ ربیع الاول کے دوران ملکہ کوہسار مری میں دو سیرت کانفرنسوں میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ بارہ ربیع الاول کو جناب رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے یومِ ولادت کے موقع پر لارنس کالج کے شعبہ اسلامیات نے سیرت کانفرنس کا اہتمام کر رکھا تھا اور شعبہ کے صدر پروفیسر حافظ ظفر حیات صاحب کی دعوت پر مجھے اس میں کچھ گزارشات پیش کرنے کی سعادت نصیب ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جون ۲۰۰۱ء

دجالوں کا بھیانک چہرہ

احادیث میں جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی منقول ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ایک بندے سے پوچھیں گے کہ ایک روز میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہیں کھلایا اور ایک روز میں ننگا تھا تم نے مجھے لباس نہیں پہنایا۔ وہ بندہ حیرت اور تعجب سے سوال کرے گا کہ یا اللہ! کیا آپ بھوکے تھے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ مارچ ۲۰۰۱ء

مختلف طبقات سے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا خطاب

اٹھارہویں صدی عیسوی میں جب برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں صدیوں سے چلے آنے والے مسلم اقتدار کو شدید بیرونی و اندرونی خطرات سے سابقہ درپیش تھا، اور جہاں ایک طرف سات سمندر پار سے آنے والے برطانوی، فرانسیسی اور پرتگیزی استعماری گروہ اس خطہ پر تجارت کے عنوان سے تسلط جمانے کے لیے مسلسل پیش قدمی کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اگست ۲۰۰۱ء

حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور جہادِ کشمیر

قیامِ پاکستان کے بعد کشمیر کے علماء اور عوام نے ڈوگرہ سامراج کے ظالمانہ اور جابرانہ تسلط کے خلاف جہادِ آزادی کا پرچم بلند کیا تو پاکستان کے جن اکابر علماء نے اس کی حمایت میں سرگرم کردار ادا کیا ان میں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی شخصیت اور ذات گرامی نمایاں ہے۔ انہوں نے نہ صرف اس جنگ کو جہاد قرار دیا اور اس کی معاونت کے لیے لوگوں کو تیار کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جون ۲۰۰۱ء

جہادِ کشمیر کی شرعی حیثیت: علامہ عثمانیؒ اور مولانا یوسف کا نقطۂ نظر

جب سے جنرل پرویز مشرف کو بھارتی وزیر اعظم کی طرف سے دورۂ دہلی کی دعوت ملی ہے تب سے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے دونوں طرف سے سرکاری اور غیر سرکاری رابطوں کا سلسلہ بھی بڑھ گیا ہے، اور اس کے ساتھ ہی ایک مخصوص حلقہ لوگوں کے ذہنوں میں اس شک اور تردد کو پھر سے ابھارنے میں مصروف ہو گیا ہے کہ کشمیر کی جنگ شرعاً جہاد بھی ہے یا نہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۰۱ء

جہادِ کشمیر کی ایک تاریخی دستاویز

تحریکِ آزادئ کشمیر کے سلسلہ میں ایک گزشتہ کالم کے حوالے سے ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں جس کی طرف محترم سید بشیر حسین جعفری صاحب نے اپنے تفصیل خط میں توجہ دلائی ہے۔ اور بعد میں گزشتہ روز ایک ملاقات میں بھی انہوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ وہ یہ کہ ۱۹۴۷ء میں مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف بغاوت اور جہاد کے لیے حضرت مولانا سید مظفر حسین ندوی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جولائی ۲۰۰۱ء

جہادِ کشمیر اور شہدائے بالاکوٹ

جہادِ کشمیر کے بارے میں گزارشات پر محترم سید بشیر حسین جعفری صاحب نے قلم اٹھایا اور دو باتوں کو محلِ نظر ٹھہرایا ہے۔ ایک یہ کہ ۱۹۴۷ء کے جہادِ کشمیر میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خان کا کوئی سرگرم کردار رہا ہے۔ اور دوسری یہ کہ ۱۸۳۱ء میں مجاہدینِ بالاکوٹ اور راولاکوٹ کشمیر کے مجاہدین کی جدوجہد کا دور ایک ہونے کے باوجود ان کے درمیان کوئی رابطہ تھا یا نہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جون ۲۰۰۱ء

تحریکِ بالاکوٹ اور جہادِ کشمیر

’’تحریکِ بالاکوٹ اور جہادِ کشمیر‘‘ کے عنوان سے محترم سید زاہد حسین نعیمی صاحب نے بھی اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے جو راقم الحروف اور محترم سید بشیر حسین جعفری کے درمیان زیر بحث ہے۔ نعیمی صاحب نے جعفری صاحب کے اس موقف کی تائید کی ہے کہ مجاہدینِ بالاکوٹ اور مجاہدینِ کشمیر کے درمیان تعلق کا ثبوت ابھی تحقیق طلب ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اگست ۲۰۰۱ء

جہادِ کشمیر اور علماءِ کشمیر کا موقف

گزشتہ روز آزاد کشمیر کے سرحدی شہر عباس پور میں حرکۃ المجاہدین کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ’’جہادِ ہند کانفرنس‘‘ میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ کانفرنس عباس پور سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں عبد القیوم اور حامد رشید کی یاد میں منعقد ہوئی، جنہوں نے آزادئ کشمیر کی خاطر سرحد پار انڈین آرمی سے معرکہ آرائی میں جامِ شہادت نوش کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جون ۲۰۰۱ء

جہادِ کشمیر کی شرعی حیثیت کے بارے میں دو شبہات کا جائزہ

جہادِ کشمیر کی شرعی حیثیت کے بارے میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خان کے حوالے سے علماء کشمیر کا یہ موقف اس کالم میں عرض کیا جا چکا ہے کہ ان کے نزدیک انڈین آرمی کے خلاف مجاہدین کی یہ عسکری تگ و تاز شہدائے بالاکوٹ کے اس جہاد کا تسلسل ہے جس کا مقصد کشمیر کو آزاد کرا کے ایک اسلامی ریاست کی حیثیت دینا تھا، اور جب تک یہ مقصد پورا نہیں ہو جاتا جہاد کو بہرحال جاری رہنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جون ۲۰۰۱ء

تحریکِ آزادئ کشمیر کا ایک اہم باب

راولپنڈی سے شیخ تجمل الاسلام صاحب کی ادارت میں ’’استقلال‘‘ کے نام سے ایک ماہوار جریدہ طبع ہوتا ہے جس کا بنیادی موضوع کشمیر ہے اور آزادئ کشمیر کے حوالے سے معلوماتی اور مفید مضامین اس میں شائع ہوتے ہیں۔ اگست ۲۰۰۱ء کے شمارہ میں اس جریدہ کے مدیر محترم نے ۱۹۳۱ء کی تحریکِ کشمیر کو اپنے شذرات میں گفتگو کا موضوع بنایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اگست ۲۰۰۱ء

حضرت سلمان فارسیؓ کی مختصر سرگزشت

گزشتہ دنوں بخاری شریف کے درس میں ایک دلچسپ واقعہ نظر سے گزرا جو امام بخاریؒ نے بخاری شریف کی ’’کتاب الادب‘‘ میں بیان کیا ہے اور جس میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کا فطری اور خوبصورت توازن بیان کیا گیا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہ واقعہ قارئین کے سامنے بھی ذکر کر دیا جائے۔ حضرت سلمان فارسیؓ ایران کے رہنے والے تھے، مجوسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور آتش پرست تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ ستمبر ۲۰۰۱ء

اسلام میں خواتین کے حقوق اور مغربی پراپیگنڈا

عالمی سطح پر خواتین کا ہفتہ منایا جا چکا ہے اور ہمارے معروف کالم نگار جناب اسلم کھوکھر کی تصنیف ’’دنیا کی نامور خواتین‘‘ اس وقت میرے سامنے ہے جس میں انہوں نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے ڈیڑھ سو سے زائد نامور خواتین کے حالات اور کارناموں کا تذکرہ کیا ہے۔ اور ساڑھے چھ سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت اور معلوماتی کتاب فکشن ہاؤس ۱۸، مزنگ روڈ لاہور نے شائع کی ہے۔ کتاب کا آغاز ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ سے ہوا ہے اور ان کے بعد ام المومنین حضرت عائشہؓ کا تذکرہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مارچ ۲۰۰۱ء

مانچسٹر میں مسجد امدادیہ کی افتتاحی تقریب

الحاج ابراہیم باوا صاحب تبلیغی جماعت کے پرانے بزرگوں میں سے ہیں اور احکامِ شریعت کی پابندی کے اس قدر سختی کے ساتھ داعی ہیں کہ خود تبلیغی جماعت کی جن باتوں سے انہیں اتفاق نہیں ہوتا اور وہ انہیں شرعی دائرہ سے متجاوز سمجھتے ہیں، ان پر کھلے بندوں اعتراض و نکیر سے بھی نہیں چوکتے اور بعض مسائل پر تبلیغی جماعت کے بزرگوں سے ان کی آنکھ مچولی چلتی رہتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۲۰۰۱ء

سود کا خاتمہ: سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف یونائیٹڈ بینک کی اپیل

سود کے خاتمہ کے بارے میں دینی حلقوں کی طویل عدالتی جنگ منزل پر پہنچتے پہنچتے ایک بار پھر تعطل کا شکار ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اس لیے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بینچ نے تیس جون ۲۰۰۱ء تک ملک سے سودی نظام کے مکمل خاتمے کا ٹارگٹ دے کر حکومت کو غیر سودی نظام لانے کے لیے جو ہدایات جاری کی تھیں، انہیں یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کی طرف سے دوبارہ چیلنج کر دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۱ء

سیرتِ نبوی ﷺ پر جنرل مشرف کے خیالات اور سودی نظام

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف صاحب محترم نے گزشتہ روز وزارتِ مذہبی امور کے زیراہتمام منعقد ہونے والی ’’قومی سیرت کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے مختلف مسائل کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار فرمایا ہے اور ان کے بعض ارشادات کے حوالے سے قومی حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۰۱ء

حالاتِ حاضرہ پر پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

پاکستان شریعت کونسل نے ملک میں نفاذِ شریعت کی جدوجہد کو تیز کرنے، سودی نظام کے خاتمہ، بڑھتی ہوئی عریانی و فحاشی کی روک تھام، این جی اوز کی اسلام دشمن سرگرمیوں کے تعاقب، دستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ، افغانستان کی طالبان حکومت کی حمایت، مجاہدینِ کشمیر کی پشت پناہی، اور خلیج عرب سے امریکی افواج کی واپسی کے لیے مشترکہ جدوجہد کی راہ ہموار کرنے کی غرض سے ملک کے تمام مکاتبِ فکر کی دینی جماعتوں سے رابطے قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۔

جمعیت علماء اسلام کی پشاور کانفرنس

دارالعلوم دیوبند کی کم و بیش ڈیڑھ سو سالہ دینی، علمی و ملی خدمات کے حوالے سے پشاور میں کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر جمعیت علماء اسلام پاکستان کی قیادت مبارکباد کی مستحق ہے۔ جمعیت علماء اسلام کی دعوت پر ملک بھر سے لاکھوں علماء کرام، دینی کارکنوں اور دیندار عوام نے پشاور میں جمع ہو کر واضح کر دیا ہے کہ جنوبی ایشیا کے عوام کے ذہنوں میں اس تاریخی جدوجہد کا تسلسل بدستور موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اپریل ۲۰۰۱ء

یومِ دفاعِ پاکستان

چھ ستمبر کو ملک بھر میں ’’یومِ دفاع پاکستان‘‘ منایا گیا۔ ۱۹۶۵ء میں اس روز بھارتی افواج رات کی تاریکی میں بین الاقوامی سرحد عبور کر کے لاہور پر قبضہ کے لیے چڑھ دوڑی تھیں، مگر پاک فوج کے جیالوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر انڈین آرمی کا راستہ روکا، اور سترہ دن کی جنگ میں دنیا نے دیکھ لیا کہ پاکستان کی افواج اپنی سرحدوں کی حفاظت کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ دن ہر سال وطنِ عزیز کے دفاع میں پاکستانی فوج اور عوام کی قربانیوں اور جذبہ کی یاد تازہ رکھنے کے لیے منایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ ستمبر ۲۰۰۱ء

نظامِ خلافت اور عالمِ اسلام

ڈاکٹر میر معظم علی علوی پاکستان کے بزرگ دانشور ہیں اور تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن رہے ہیں۔ ایک عرصہ سے ملک میں نظامِ خلافت کے اَحیا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اسی عنوان پر ان کے خطبات کا ایک مجموعہ کتابی شکل میں شائع ہوا ہے جس کے پیش لفظ کے طور پر ان کی فرمائش پر یہ سطور تحریر کی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جولائی ۲۰۰۱ء

پاپائے روم اور ان کے معتقدین سے ایک گزارش

پاپائے روم جان پال دوم کی ہدایت پر جمعۃ الوداع کے روز مسیحی برادری نے مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے روزہ رکھا، اور اخباری اطلاعات کے مطابق بعض مقامات پر مسیحی دوستوں نے خود روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ مسلمان دوستوں کا روزہ بھی افطار کرایا۔ قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق روزہ پہلی امتوں پر بھی فرض تھا اور منتخب امتوں کے لیے روزوں کی تعداد اور روزے کا یومیہ دوران مختلف رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ دسمبر ۲۰۰۱ء

معاشرتی جرائم کی شرعی سزائیں اور بائیبل

پروفیسر گلزار وفا چوہدری کے حوالے سے گزشتہ کالم میں ہم یہ عرض کر چکے ہیں کہ شریعت کے احکام کی خلاف ورزی پر دنیا اور آخرت دونوں جگہ میں سزا اور عذاب کی جو بات مسلم علماء اور فقہاء کرتے ہیں وہ ان کی خود ساختہ نہیں ہے، بلکہ ان کی بنیاد ’’آسمانی تعلیمات‘‘ اور ’’پاک نوشتوں‘‘ پر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اگست ۲۰۰۱ء

پاپائے روم اور دمشق کی جامع مسجد اموی

پاپائے روم جان پال دوم نے گزشتہ ہفتے شام کے دارالحکومت دمشق میں جامع مسجد اموی کا دورہ کیا اور شام کے مفتی اعظم الشیخ احمد کفتارو سے ملاقات کے علاوہ مسجد کے ایک حصہ میں عبادت بھی کی۔ پاپائے روم مسیحیوں کے کیتھولک فرقہ کے سربراہ ہیں اور اس مسجد میں جانے والے پہلے پوپ ہیں۔ اخبارات میں الشیخ احمد کفتارو کے ساتھ ان کی فوٹو شائع ہوئی جس کے مطابق وہ مسجد میں مفتی اعظم شام کے ساتھ بیٹھے گفتگو کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ و ۱۷ مئی ۲۰۰۱ء

اسلامی نظریاتی کونسل اور ایک مسیحی شاعر

گزشتہ دنوں اسلامی نظریاتی کونسل نے سرکاری ملازمین کے لیے دفاتر میں نماز کی ادائیگی اور پابندی کے اہتمام کی سفارش کی تو ایک گونہ خوشی ہوئی کہ ملک میں عملاً نہ سہی، مگر سفارش اور تجویز کے درجہ میں تو ایک اسلامی ریاست کا تصور اعلیٰ حلقوں میں موجود ہے۔ کیونکہ نماز اسلام کے بنیادی فرائض میں سے ہے اور امیر المومنین حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں اپنے اہلکاروں کی کارکردگی کا جائزہ نماز کے حوالے سے لیا کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ اگست ۲۰۰۱ء

مولانا قاضی عبد اللطیف کے دورۂ قندھار کے تاثرات

قاضی صاحب نے بتایا کہ امیر المومنین ملا محمد عمر اور ان کے متعدد وزراء سے ان کی ملاقات ہوئی ہے اور بعض اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیالات ہوا ہے۔ قاضی صاحب کا کہنا ہے کہ امیر المومنین اور ان کی کابینہ پورے اعتماد اور حوصلے کے ساتھ موجودہ صورتحال اور بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اور کسی پریشانی اور گھبراہٹ کے بغیر وہ اپنے اس عزم پر قائم ہیں کہ عالمی دباؤ کے باوجود وہ افغانستان میں مکمل اسلامی نظام قائم کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جولائی ۲۰۰۱ء

افغان صدر حامد کرزئی کی خوش فہمی اور غلط فہمی

بون معاہدہ میں تشکیل پانے والی عبوری افغان حکومت کے سربراہ حامد کرزئی اپنے منصب کا حلف اٹھانے سے قبل افغانستان کے سابق بادشاہ ظاہر شاہ سے ملاقات کے لیے روم گئے اور وہاں سے واپسی پر عبوری افغان حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے حلف اٹھا چکے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق روم میں ایک گفتگو کے دوران انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ وہ کٹھ پتلی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ دسمبر ۲۰۰۱ء

اسامہ بن لادن اور افغان طالبان کے بارے میں جنرل مشرف کے خیالات

اخباری اطلاعات کے مطابق چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب کے نامناسب رویہ نے اسامہ بن لادن کو ہیرو بنا دیا ہے۔ عام مسلمان دیکھتا ہے کہ امریکہ سے یا ہالی وڈ کی غیر اخلاقی فلمیں آتی ہیں، یا پھر اسرائیل، بھارت اور روس کے لیے حمایت آتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ مارچ ۲۰۰۱ء

عام انتخابات میں دینی حلقوں کے کرنے کے کام

عام انتخابات سر پر آ گئے ہیں اور مختلف دینی و سیاسی جماعتیں ملک بھر میں الیکشن مہم میں مصروف دکھائی دے رہی ہیں۔ مگر تذبذب اور بے یقینی کی دھند بدستور ملک کے سیاسی افق پر چھائی ہوئی ہے، بلکہ بسا اوقات یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید آخر وقت تک تذبذب اور گومگو کا ماحول قائم رکھنا شاید کسی پلاننگ کا نتیجہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۲۴ء

دفاعِ پاکستان و افغانستان کونسل، ایک خوش آئند پیشرفت

۹ اگست کو اسلام آباد میں ’’دفاع افغانستان کونسل‘‘ کے اجلاس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے پاک افغان سرحد پر مانیٹرنگ ٹیموں کی تقرری کو پاکستان کی قومی خود مختاری کے منافی قرار دینے کا اعلان کیا تو اس موقع پر جنرل حمید گل نے اجلاس کے شرکاء سے کہا کہ یہ صرف افغانستان کا مسئلہ نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ ستمبر ۲۰۰۱ء

افغانستان میں این جی اوز کی ارتدادی سرگرمیاں

افغانستان میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی این جی اوز کے عیسائیت کی تبلیغ کرنے والے افراد کی گرفتاری اور طالبان حکومت کی طرف سے انہیں شریعت کے مطابق سزا دینے کے اعلان نے ایک بار پھر عالمی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے، اور بہت سے سفارتکار خفیہ اور اعلانیہ طور پر اس سلسلہ میں متحرک ہو گئے ہیں۔ طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ این جی اوز کے یہ افراد رفاہی کاموں کے حوالے سے افغانستان میں آئے تھے اور انہیں ایک معاہدہ کے تحت کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ و ۲۳ اگست ۲۰۰۱ء

اپنا اپنا ’’متحدہ محاذ‘‘ اور اپنی اپنی ’’آل پارٹیز کانفرنس‘‘

میاں محمد نواز شریف نے سابقہ دورِ اقتدار کی بات ہے کہ جب ان کی حکومت کو برطرف کر کے جناب بلخ شیر مزاری نے عبوری وزیر اعظم کا منصب سنبھالا اور نئے انتخابات کا اعلان کیا تو مختلف دینی جماعتوں کے سرکردہ حضرات لاہور میں مولانا عبد الرؤف ملک کی رہائشگاہ پر جمع ہوئے۔ ان میں مفتی غلام سرور قادری، میجر جنرل (ر) حافظ محمد حسین انصاری، حافظ صلاح الدین یوسف، مولانا عبدالمالک خان، مولانا عبد الرؤف ملک اور متعدد دیگر احباب کے علاوہ راقم الحروف بھی تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ مئی ۱۹۹۸ء

افغانستان پر پابندیاں اور امریکی حکمرانوں کی غلط فہمی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان کی طالبان حکومت کے خلاف عائد کردہ پابندیوں پر سختی کے ساتھ عمل کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور سرحدات پر مانیٹرنگ کے لیے اپنی ٹیمیں بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ جن کے بارے میں طالبان حکومت کے سربراہ ملا محمد عمر نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کے افراد کو دشمن تصور کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اگست ۲۰۰۱ء

بین الاقوامی اداروں کی شائع کردہ نصابی کتب کا ایک نمونہ

چند روز پہلے ضلع سیالکوٹ کے گاؤں اوٹھیاں میں ایک پرائیویٹ سکول کی تقریب میں شرکت کا موقع ملا، جو بچوں میں انعامات کی تقسیم کے سلسلہ میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر ایک استاد نے بتایا کہ بعض تعلیمی اداروں میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے شائع کردہ اردو کے کتابچے بچوں کو پڑھائے جا رہے ہیں جن میں ٹوپی اور دوپٹے کا مذاق اڑایا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اگست ۲۰۰۱ء

پاک چین دوستی اور امریکہ کو درپیش خدشات

ہمارے محترم مہمان اور عوامی جمہوریہ چین کے وزیر اعظم ژورانگ جی کے کامیاب دورہ پاکستان کے بعد جنوبی ایشیا کے بارے میں سیاسی تجزیوں اور قیاس آرائیوں نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے اور عالمی سطح پر صف بندی میں تبدیلیوں کے امکانات پر اظہارِ خیال کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ چین اور پاکستان کی روایتی دوستی اور امریکہ کے ساتھ بھارت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے مراسم کے پیش نظر یہ بات اربابِ فکر و نظر کے لیے غیر متوقع نہیں تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ مئی ۲۰۰۱ء

Pages