حضرت مولانا شاہ احمدؒ نورانی
مولانا شاہ احمد نورانی بھی ہم سے رخصت ہو گئے،انا ﷲ و انا الیہ راجعون۔نواب زادہ نصراﷲ خان مرحوم کی وفات کے بعد یہ دوسرا بڑا صدمہ ہے جو سال رواں کی آخری سہ ماہی میں قومی سیاست کو برداشت کرنا پڑا۔ وہ دینی جماعتوں کے مشترکہ محاذ ’’متحدہ مجلس عمل‘‘کے صدر اور جمعیۃ علماء پاکستان کے سربراہ تھے۔ ایک سینئر پالیمنٹیرین، بزرگ عالم دین، تجربہ کار سیاستدان اور بااصول رہنما کے طور پر ان کا احترام تمام دینی و سیاسی حلقوں میں یکساں طور پر پایا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے تمام طبقات اور سیاسی و دینی حلقوں میں ان کی اچانک وفات کا غم شدت کے ساتھ محسوس کیا جارہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عامر چیمہ شہیدؒ
عامر چیمہ شہید کو اس کے آبائی گاؤں ساروکی چیمہ تحصیل وزیر آباد میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ جنازے کے وقت کو آخر تک ابہام میں رکھا گیا اور پوری کوشش کی گئی کہ عوام کو نماز جنازہ کے پروگرام کی کوئی کنفرم اطلاع نہ مل سکے، اس کے باوجود عوام کے جم غفیر نے شہید کے جنازے میں شرکت کی۔ میری خواہش بھی جنازے میں شرکت کی تھی مگر اطلاعات متضاد تھیں، بعض اخبارات اور ایک ٹی وی چینل نے شام ۴ بجے کی خبر دی تھی مگر فون پر ساروکی سے اطلاع ملی کہ نماز جنازہ دس بجے کے لگ بھگ ادا کی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ
حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کا نام پہلی بار طالب علمی کے دور میں سنا جب ان کی خطابت کا ہر طرف شہرہ تھا اور توحید و سنت کے پرچار کے ساتھ ساتھ شرک و بدعات کے تعاقب میں وہ پورے جوش و خروش کے ساتھ خطابت کے محاذ پر سرگرم تھے۔ ہم طالب علم تھے گوجرانوالہ شہر اور گرد و نواح میں جہاں بھی ان کی تقریر ہوتی ہم جتھہ بن کر جاتے اور ان کے پرجوش خطابت کا حظ اٹھاتے۔ یہ ان کی خطابت کے عروج کا دور تھا، وہ پورے جوش و جذبہ کے ساتھ دو دو تین تین گھنٹے بولتے اور پرجوش خطابت کے ساتھ ترنم کا جوڑ ملا کر عجیب سماں باندھ دیتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، ایک بذلہ سنج شخصیت
۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفیؐ کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جو مذاکرات ہوئے، ان میں حکومتی ٹیم وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم، مولانا کوثر نیازی مرحوم، اور جناب عبد الحفیظ پیرزادہ پر مشتمل تھی۔ جبکہ اپوزیشن یعنی پاکستان قومی اتحاد کی طرف سے مولانا مفتی محمودؒ ، نواب زادہ نصر اللہ خانؒ اور پروفیسر عبد الغفورؒ مذاکرات کی میز پر بیٹھے تھے۔ ان میں سے پیرزادہ صاحب کے علاوہ سب وفات پا چکے ہیں، اللہ تعالیٰ سب کی مغفرت فرمائیں اور پیر زادہ صاحب محترم کو صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی
مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی، چنیوٹ کے رہنے والے تھے اور دینی تعلیم کے حصول کے بعد چنیوٹ ہی ان کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ وہ بیک وقت دینی جدوجہد، سماجی خدمت اور سیاسی تگ ودو کے میدان کے آدمی تھے اور تینوں شعبوں میں انہوں نے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی کا سب سے بڑا مشن عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ اور قادیانیوں کا تعاقب تھا۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد انہوں نے چنیوٹ میں دینی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
الشیخ عبد اللہ بن احمد الناخبیؒ
الشیخ عبد اللہ بن احمد الناخبیؒ کی وفات کی خبر مجھے پاکستان ہی میں مل گئی تھی اور میرے سعودی عرب کے سفر کے پروگرام میں ان کے تلامذہ سے ملاقات بھی شامل تھی۔ شیخ ناخبیؒ میرے حدیث کے شیوخِ اجازت میں سے ہیں اور اپنے دور کے امت کے بڑے محدثین میں شمار ہوتے تھے۔ تین سال قبل جدہ کے ایک سفر کے موقع پر ان کی خدمت میں حاضری ہوئی تھی اور انہوں نے حدیث مسلسل بالاولیۃ سنا کر اپنی اسناد کے ساتھ روایت حدیث کی اجازت اور اس کے ساتھ اہم نصائح سے نوازا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا سید اسعد مدنیؒ
شیخ الاسلا م حضرت مولانا حسین احمدؒ مدنی کے جانشین اور جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ حضر ت مولا نا سید اسعدؒ مدنی گزشتہ رو ز انتقال کر گئے ہیں، اناللہ وانا الیہ راجعون۔ وہ گزشتہ تین ماہ سے کومہ میں تھے اور کافی عرصہ بستر علالت پر رہنے کے بعد کم وبیش ۸۰ برس کی عمر میں اس دنیا سے رحلت فرماگئے ہیں۔ حضرت مولا نا سید حسین احمدؒ مدنی برصغیر پاک وہند بنگلہ دیش کی ممتاز شخصیات میں سے تھے جنہیں برطانوی استعمار کے خلاف اس خطہ کے عوا م کی تحریک حریت میں علامت کی حیثیت حاصل ہے اور جن کے تذکرہ کے بغیر جدوجہد آزادی کا کوئی باب مکمل نہیں ہوسکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا حکیم عبد الرحیم اشرفؒ
حضرت مولانا حکیم عبد الرحیم اشرفؒ کے ساتھ غائبانہ تعارف تو بچپن ہی سے تھا۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں طالب علمی کے زمانے میں (۱۹۶۲ء تا ۱۹۷۰ء) میرا معمول یہ تھا کہ شہر میں جہاں کہیں کسی لائبریری یا دارالمطالعہ کا پتہ چلتا وہاں تک رسائی کی کوشش کرتا اور اخبارات و رسائل کے مطالعہ کے لیے کچھ نہ کچھ وقت روزانہ صرف ہوجاتا۔ انہی میں سے ایک دارالمطالعہ چوک نیائیں میں اہل حدیث دوستوں کا بھی تھا۔ سالہا سال تک یہ سلسلہ جاری رہا کہ روزانہ یا کم از کم ہفتہ میں دوبارہ وہاں ضرور جاتا اور کچھ وقت مطالعہ میں گزارتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ
عید الفطر کی رات جن چند دوستوں کو عید مبارک کہنے اور حال احوال معلوم کرنے کے لیے فون کیا ان میں برادرم مولانا سعید یوسف خان بھی تھے، انہیں فون کرنے کا ایک مقصد حضرت الشیخ مولانا محمد یوسف خان کی خیریت دریافت کرنا تھا جو پاکستان اور آزاد کشمیر میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے باقی ماندہ چند گنے چنے شاگردوں میں سے تھے اور والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے دورۂ حدیث کے ساتھی تھے۔ مولانا سعید نے بتایا کہ حضرت کی صحت معمول کے مطابق ہے، وہ بخیریت ہیں اور انہوں نے رمضان المبارک کے روزے بھی سارے رکھے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا شفیق الرحمان درخواستیؒ
حضرت مولانا شفیق الرحمان درخواستیؒ کا شمار حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے نامور اساتذہ میں ہوتا ہے، انہوں نے حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی نور اللہ مرقدہ کے زیرسایہ تعلیم و تربیت حاصل کی اور پھر ان کی سرپرستی میں ان کی مسند پر بیٹھ کر سالہا سال تک قرآن و حدیث کا درس دیا۔ وہ حضرت درخواستیؒ کے نواسے تھے، ان کے شاگرد و تربیت یافتہ تھے اور ان کی علمی روایات کے امین تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حاجی محمد زمان خان اچکزئی مرحوم
جمعرات ۲۸ جون کے اخبارات میں یہ خبر نظروں سے گزری کہ سابق وفاقی وزیر حاجی محمد زمان اچکزئی کا کراچی میں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حاجی صاحب ہمارے پرانے جماعتی رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی معیت میں کام کیا اور دینی سیاست کے محاذ پر اہم خدمات سرانجام دیں۔ میرا ان سے تعارف سب سے پہلے حضرت مولانا سید شمس الدین شہیدؒ کے ذریعے ہوا جو میرے دورۂ حدیث کے ساتھی تھے، ۱۹۷۰ء میں ہم دونوں نے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورٔ حدیث کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا محمد طیبؒ ہارونی
مولانا محمد طیبؒ ہارونی ہارون آباد کے علاقہ سے تعلق رکھتے تھے اور جمعیۃ علماء اسلام کے پرانے اور نظریاتی ساتھیوں میں سے تھے۔ ۱۹۸۰ء کے عشرہ میں جن علماء کرام اور کارکنوں نے جمعیۃ کے پلیٹ فارم پر شبانہ روز کام کیا اور اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں ملک میں نفاذِ شریعت کی جدوجہد کے لیے صرف کر دیں ان میں ایک اہم نام مولانا طیبؒ ہارونی کا بھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا عبد الرؤفؒ
مولانا عبد الرؤف آزاد کشمیر میں بیس بگلہ کے مقام پر دارالعلوم فیض القرآن کے مہتمم تھے اور جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل تھے۔ ان کے والد محترم مولانا عبد الغنیؒ کا شمار آزاد کشمیر کے بڑے علماء کرام میں ہوتا تھا اور میرے والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے ابتدائی شاگردوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا حافظ نذیر احمدؒ
شیخ الحدیث مولانا حافظ نذیر احمدؒ ہمارے بزرگوں میں سے تھے، ملک کے معروف مدرسہ جامعہ ربانیہ اڈہ پھلور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک تعلیم و تدریس کے فرائض سرانجام دینے کے بعد گزشتہ دنوں اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آنکھوں سے نابینا تھے لیکن ان کے دل کی بینائی نے پورے علاقے کو حق کی راہ پر لگا دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا مفتی محمودؒ کے تفسیری افادات
مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو اللہ رب العزت نے بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا، وہ بیک وقت ایک کامیاب سیاستدان ہونے کے ساتھ محدث، فقیہ، خطیب، پارلیمنٹیرین، شب زندہ دار اور عارف باللہ تھے۔ اور انہیں اللہ تعالیٰ نے یہ امتیاز عطا فرمایا تھا کہ وہ جس مسند پر بھی بیٹھے اپنے معاصرین سے ممتاز نظر آئے۔ انہوں نے مدت العمر جامعہ قاسم العلوم ملتان میں حدیث و فقہ اور منقولات و معقولات کے متنوع علوم کی تدریس کی اور مسند افتاء پر ہزاروں فتاویٰ جاری کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولوی محمد یونس خالصؒ
مولوی محمد یونس خالصؒ کی وفات کی خبر قومی اخبارات میں نظر سے گزری، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ حالات کے اتار چڑھاؤ کا کرشمہ ہے کہ ان کی وفات کی یہ خبر پاکستان کے بہت سے قومی اخبارات کے ایک کونے میں جگہ پا سکی۔ ورنہ اگر زمانہ ناقدری کا خوگر نہ ہوتا اور لوگوں میں محسن کشی اور احسان ناشناسی اس قدر غلبہ نہ پا چکی ہوتی تو نہ صرف یہ کہ پاکستان کے قومی اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ میں مولوی محمد یونس خالص کا تذکرہ پاکستان کے ایک محسن کے طور پر کیا جاتا بلکہ امریکہ اور مغرب کا میڈیا بھی ان کا تذکرہ اس طور پر کرتا کہ افغانستان کا وہ عظیم رہنما دنیا سے رخصت ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا مفتی عبد الستارؒ
حضرت مولانا مفتی عبد الستارؒ سمندری، فیصل آباد کے قریب ایک گاؤں کے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دل میں علم دین کے حصول کا شوق ڈالا تو خاندانی ماحول اور روایات کے علی الرغم گھر سے دینی تعلیم کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ ذہانت اللہ تعالیٰ نے ودیعت فرما رکھی تھی اس کے ساتھ شوق اور محنت کا جوڑ ہوا تو توفیقِ خداوندی نے چند سالوں میں رسمی اور دینی تعلیم کے حصول کے مراحل طے کرا کے جامعہ خیر المدارس ملتان کے دارالافتاء تک پہنچا دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا عزیر گلؒ
آزادیٔ ہند کے عظیم مجاہد مولانا عزیر گلؒ کی یاد میں شیر گڑھ مردان میں منعقد ہونے والا آج کا سیمینار اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ نئی نسل کو ان عظیم اسلاف کی جدوجہد اور قربانیوں سے واقف کرانے کی ایک کوشش ہے جنہوں نے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش پر برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف مسلسل جنگ لڑی اور جن کی جہد مسلسل کا ثمرہ ہے کہ آج یہ خطہ اسلامی روایات اور دینی حمیت کے امین کی حیثیت سے پورے عالم اسلام میں نمایاں نظر آرہا ہے اور جسے پوری دنیا میں اسلامی بنیاد پرستی کا سب سے بڑا گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ
مولانا محمد یوسف خانؒ کی ولادت ۱۹۱۹ء / ۱۹۲۰ء کی ہے۔ کشمیر کے علاقہ ’’منگ‘‘ کے ایک اچھے بااثر خاندان سے تعلق تھا۔ انہوں نے دینی تعلیم حاصل کی اور ۱۹۴۰ء / ۱۹۴۱ء میں دارالعلوم دیوبند سے دورۂ حدیث کیا۔ حضرت والد صاحبؒ نے بھی اسی زمانے میں دورۂ حدیث کیا تھا۔ آپ مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے ممتاز تلامذہ میں سے تھے۔ مولانا محمد یوسفؒ کو اللہ تعالیٰ نے حق گوئی و بے باکی عطا فرمائی تھی۔ جب وہ دورۂ حدیث سے فراغت کے بعد واپس اپنے علاقے میں پہنچے تو اس وقت اہل کشمیر پر بڑی آزمائش کا دور تھا،ڈوگرہ فوج نے لوگوں پر مظالم کی انتہا کر دی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ
چند ماہ قبل فیصل آباد حاضری کے موقع پر حضرت مفتی صاحبؒ کے فرزند اکبر مولانا محمد یوسف اول کے ہمراہ زیارت کے لیے ان کے گھر گیا، تھوڑی دیر ان کی خدمت میں بیٹھا، باتیں سنیں اور دعا کی درخواست کی۔ نسیان کے مسلسل مرض کی وجہ سے پہچان نہیں پا رہے تھے، مگر گفتگو میں شفقت ونصیحت کا پہلو بدستور غالب تھا۔ یہ میری ان سے آخری ملاقات تھی، اس کے بعد ان کی زیارت کے لیے حاضری کا اتفاق نہ ہو سکا۔مجھے یاد نہیں کہ حضرت مفتی صاحبؒ کو پہلی بار کب دیکھا مگر یہ یاد ہے کہ بہت دیکھا اور بار بار دیکھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بھٹو مرحوم ۔ مخالفین کا خراجِ عقیدت
گزشتہ روز ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی سالگرہ منائی گئی اور قوم کے مختلف طبقات اور جماعتوں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کی قومی خدمات کو سراہنے والوں میں ان کے سیاسی کارکن اور ساتھی بھی تھے اور ان حضرات نے بھی اس سلسلے میں بخل سے کام نہیں لیا جو ان کی زندگی میں ان کے مخالف سیاسی کیمپ میں رہے ہیں بلکہ انہیں اقتدار سے ہٹانے کی تحریک میں پیش پیش تھے۔ بھٹو مرحوم کے دنیا سے چلے جانے کے ربع صدی سے بھی زیادہ عرصے کے بعد انہیں اس انداز سے یاد کیا جانا جہاں پاکستان کی قومی سیاست میں ان کے انمٹ کردار کا اعتراف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
یاسر عرفات مرحوم
یاسر عرفات کی وفات سے فلسطین کی تحریک آزادی کا ایک دور ختم ہوگیا ہے اور اب یہ ان کے سیاسی جانشینوں پر منحصر ہے کہ وہ آزادیٔ فلسطین کی جدوجہد کو کس انداز سے آگے بڑھاتے ہیں۔ یاسر عرفات نے اس دور میں تحریک آزادیٔ فلسطین کا پرچم اٹھایا جب خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد فلسطین پر برطانیہ نے تسلط جما لیا تھا۔ اور برطانوی حکومت یہودیوں کے ساتھ کیے گئے اس وعدہ کی تکمیل کے لیے سرگرم عمل تھی کہ وہ انہیں فلسطین میں آباد ہونے اور اپنا الگ قومی وطن قائم کرنے میں مدد دے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
یاسر عرفات مرحوم
یاسر عرفات بھی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انہیں رملہ میں ان کے ہیڈکوارٹر میں امانتاً سپرد خاک کیا گیا ہے اور فلسطینی قیادت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور بیت المقدس کی اس ریاست میں شمولیت کے بعد انہیں بیت المقدس میں دفن کیا جائے گا۔ یاسر عرفات کے جنازے پر فلسطینی عوام اور ان کے عقیدت مندوں کے بے پناہ ہجوم نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ وہ زندگی کے آخری حصے میں متنازعہ ہوجانے کے باوجود فلسطینی عوام کے محبوب ترین رہنما تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
صدام حسین کا اصل قصور جس کا تذکرہ کہیں نہیں
امریکی ذرائع کے مطابق عراق کے معزول صدر صدام حسین کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ اس وقت اتحادی فوجوں کی تحویل میں ہیں۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ انہیں تکریت کے علاقہ میں زیر زمین پناہ گاہ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ سوئے ہوئے تھے، ان کے پاس دو رائفلیں اور متعدد دستی بم تھے اور لاکھوں ڈالر بھی ان کے پاس تھے، جبکہ ان کی ڈاڑھی بڑھی ہوئی تھی اور چہرے پر تھکن اور مشقت کے آثار تھے۔ ان کی ڈاڑھی سمیت تصویر اخبارات میں آئی ہے جس سے تاثر ملتا ہے کہ وہ حالت جنگ میں تھے اور آخر وقت تک ہتھیار بکف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا اللہ وسایا قاسمؒ
گزشتہ روز گوجرانوالہ گھر فون کیا تو یہ غمناک اطلاع ملی کہ مولانا اﷲ وسایا قاسم ٹریفک کے حادثہ میں شہید ہو گئے ہیں، انا ﷲ و انا الیہ راجعون ۔وہ میرے بہت پرانے اور قریبی ساتھیوں میں سے تھے اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے شاگرد اور عقیدت مند تھے۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان جب درخواستی گروپ اور فضل الرحمن گروپ میں تقسیم تھی ،وہ جمعیۃ علماءاسلام درخواستی گروپ کے نظم میں شریک ہوئے اور اپنی جوانی کا پورا زور جمعیۃ علماءاسلام کی تنظیم و ترقی اور خاص طور پر ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کی اشاعت کو بڑھانے میں صرف کردیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علامہ محمد اقبالؒ اور پارلیمنٹ کے لیے تعبیر شریعت کا اختیار
دین کی اجماعی تعبیر جو حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف صالحین کے چودہ سو سالہ تعامل کی صورت میں چلی آرہی ہے اس تعبیر و تشریح سے ملت اسلامیہ کو ہٹانے اور قرآن و سنت کو جدید تعبیر و تشریح کی سان پر چڑھانے کے لیے استعماری قوتیں اپنے آلۂ کار عناصر کے ذریعے ایک عرصہ سے مسلم معاشرہ میں سرگرمِ عمل ہیں۔ نصف صدی قبل تک بیشتر مسلم ممالک پر سامراجی قوتوں کے غلبہ و استعلاء کے دور میں سامراجی آقاؤں نے مسلسل سازشوں اور محنت کے باوجود جب یہ دیکھا کہ مسلمانوں کو دین کی بنیاد قرآن و سنت سے برگشتہ کرنا ممکن نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چند باتیں حضرت درخواستیؒ کی یاد میں
گزشتہ کچھ عرصہ سے ہمارا یہ ذوق بڑھتا جا رہا ہے کہ اپنے بزرگوں کا نام تو لیتے ہیں اور ان کے تذکرہ کے فوائد و ثمرات بھی حاصل کرتے ہیں مگر ان کی حیات و خدمات سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے مطالعہ و آگاہی کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اس کا ایک بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہم ان کی راہنمائی سے محروم رہتے ہیں، اور دوسرا نقصان اس سے بھی بڑا یہ ہوتا ہے کہ بار بار ان کا نام لینے سے لوگ انہیں بھی ہم پر قیاس کرنے لگتے ہیں اور ہم ان کی نیک نامی کا ذریعہ بننے کے بجائے ان کے تعارف کو خراب کرنے کا باعث بن جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا فقہی ذوق و اسلوب
اسلام آباد میں ’’دفاع پاکستان و افغانستان کونسل‘‘ کے اجلاس کے موقع پر حافظ محمد ریاض درانی سکیرٹری اطلاعات جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے یہ خوش خبری سنائی کہ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کے فتاویٰ کا پہلا حصہ جمعیت پبلی کیشنز لاہور کے زیر اہتمام شائع ہو گیا ہے اور وہ میرے لیے اس کا نسخہ ساتھ لائے ہیں۔ یہ معلوم کر کے بے حد خوشی ہوئی اس لیے کہ مدت سے اس بات کی تمنا تھی کہ مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے فتاویٰ کا جو ریکارڈ موجود ہے وہ کسی طرح اشاعت پذیر ہو جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی یاد میں
راقم الحروف کو مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک کارکن اور پھر ایک رفیق کار کے طور پر کم و بیش پندرہ برس تک کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ اور میرے لیے یہ بات بھی سعادت و افتخار کی ہے کہ ۱۹۷۵ء میں جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ نے مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں منعقدہ اجلاس میں جب پہلی بار مجھے جمعیۃ کا مرکزی سیکرٹری اطلاعات منتخب کیا تو میرا نام پیش کرنے والے اور مجلس شوریٰ کو بحث اور دلائل کے ساتھ اس پر قائل کرنے والے خود مولانا مفتی محمودؒ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولوی نصر اللہ منصور شہیدؒ
مولوی نصر اللہ منصورؒ کا تعلق مولوی محمد نبی محمدی کی جماعت ’’حرکت انقلاب اسلامی‘‘ سے تھا اور وہ مولوی محمد نبی محمدی کے بعد اس جماعت کے بڑے لیڈر شمار کیے جاتے تھے۔ حتیٰ کہ جہادی سرگرمیوں میں یکسانیت پیدا کرنے کےلیے چھ جماعتوں نے ’’اتحاد اسلامی افغانستان‘‘ کے نام سے متحدہ محاذ قائم کیا تو مولوی نصر اللہ منصور کو اس کا سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا لیکن وہ زیادہ دیر دوسرے لیڈروں کے ساتھ نہ چل سکے اور پالیسی اختلاف نے نہ صرف ان کا راستہ دوسرے افغان لیڈروں سے الگ کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی چند بھولی بسری یادیں
دار العلوم تعلیم القرآن پلندری آزاد کشمیر کے بانی ومہتمم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خان آزاد کشمیر کے ان بزرگ علماء میں سے ہیں جنہوں نے ۱۹۴۷ء کے جہاد آزادی کو منظم کرنے میں سرگرم کردار ادا کیا، اس میں عملی حصہ لیا اور آزاد کشمیر کی ریاست قائم ہونے کے بعد اس میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے سرگرم عمل ہو گئے جس کے نتیجے میں آزاد کشمیر میں سرکاری طور پر قضا اور افتا کے شرعی محکمے الگ الگ کام کر رہے ہیں، ہر ضلع اور تحصیل میں ججوں کے ساتھ جید علماء کرام بطور قاضی بیٹھ کر مقدمات کی سماعت کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شاہ حسین مرحوم
جہاں تک شاہ حسین کی وفات کا معاملہ ہے ایک مسلم حکمران اور پاکستان کے ایک دوست کی وفات کا ہمیں بھی رنج ہے اور ہم دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت ان کی غلطیاں معاف فرمائے اور جوارِ رحمت میں جگہ دے کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ ہم پر ان کا حق ہے۔ لیکن ان کے اور ان کے خاندان کے جو فضائل و مناقب بیان کیے جا رہے ہیں اور جس طرح مشرق وسطیٰ میں امن کے ہیرو کے طور پر انہیں پیش کیا جا رہا ہے اس کے پیش نظر اصل حقائق کو سامنے لانا اور نئی نسل کو ان سے متعارف کرانا بھی ہماری ذمہ داری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خانؒ گورمانی
حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خانؒ گورمانی گزشتہ ماہ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق تونسہ شریف کے قریب لتڑی جنوبی سے تھا لیکن ان کی زندگی کا بیشتر حصہ گوجرانوالہ میں گزرا۔ وہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ابتدائی فضلاءمیں سے تھے جب نصرۃ العلوم کے شیخ الحدیث حضرت مولانا قاضی شمس الدینؒ تھے۔ بخاری شریف انہوں نے حضرت قاضی صاحبؒ سے پڑھی جبکہ دورۂ حدیث کے دیگر اسباق حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ، حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی اور حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ سے پڑھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی اور ہمارا تعلیمی نصاب
عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی قدس اللہ سرہ العزیز کا ذوق اس بارے میں یہ تھا کہ وہ درس نظامی کی تعلیم کے دوران جہاں خلا محسوس کرتے تھے، اسے پُر کرنے کی اپنے طور پر کوشش کرتے تھے۔ چنانچہ وہ دورۂ حدیث کے طلبہ کو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتاب ”حجۃ اللہ البالغۃ“ سبقاً سبقاً پڑھاتے تھے۔ صبح کا دو سالہ ترجمہ قرآن کریم اور ”حجۃ اللہ البالغۃ“ کی تدریس بحمد اللہ تعالیٰ جامعہ نصرۃ العلوم کے نصاب تعلیم کے امتیازی شعبے ہیں جو ہمارے ان دو بزرگوں کے ذوق کی علامت اور ان کا صدقہ جاریہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت صوفی عبد الحمیدؒ سواتی کی ایک نو مسلم خاتون دانشور سے ملاقات
۱۹۹۰ء کی بات ہے ایک دن ہمارے محترم دوست پروفیسر عبد اللہ جمال صاحب کا فون آیا کہ امریکہ سے ایک محترمہ خاتون جو پروفیسر ہیں اور نو مسلم ہیں، پاکستان آئی ہوئی ہیں اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی سے ملنا چاہتی ہیں مگر حضرت صوفی صاحبؒ نے معذرت کر دی ہے، آپ اس سلسلہ میں کچھ کریں۔ میں نے عرض کیا کہ اگر چہ یہ بات بہت مشکل ہے کہ حضرت صوفی صاحبؒ کے انکار کے بعد انہیں اس ملاقات کے لیے آمادہ کیا جاسکے مگر میں کوشش کر کے دیکھتا ہوں۔ چنانچہ میں حاضر خدمت ہوا اور گزارش کی کہ ملاقات میں کیا حرج ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی
مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے بانی حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی نور اللہ مرقدہ ۶ اپریل ۲۰۰۸ء کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے چھوٹے بھائی اور راقم الحروف کے چچا محترم تھے۔ انہوں نے ہجری اعتبار سے ۹۴ برس کے لگ بھگ عمر پائی اور تمام عمر علم کے حصول اور پھر اس کے فروغ میں بسر کر دی۔ وہ اس دور میں ماضی کے ان اہل علم وفضل کے جہد وعمل، زہد وقناعت اور علم وفضل کا نمونہ تھے جن کا تذکرہ صرف کتابوں میں رہ گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ
۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کی بات ہے، میں اس وقت کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ضلع گوجرانوالہ کا رابطہ سیکرٹری تھا اور مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ چونکہ تحریک کامرکز تھی اس لیے تحریک کے تنظیمی اور دفتری معاملات کا انچارج بھی تھا۔ ضلع گوجرانوالہ کے ایک قصبے میں تحریک کے جلسے کاپروگرام تھا جس میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت کے لیے اے سی صاحب کو درخواست دے رکھی تھی۔ راقم الحروف تحریک ختم نبوت کے ایک اور راہ نما کے ساتھ اے سی گوجرانوالہ سے ملا کہ وہ اجازت دے دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا قاضی عبداللطیفؒ
حضرت مولانا قاضی عبد اللطیفؒ ایک علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے، کلاچی میں ان کا مدرسہ نجم المدارس کے نام سے قرآن و سنت کی تعلیمات لوگوں تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے۔ حضرت قاضی صاحبؒ کلاچی کے عوام کا مرجع تھے، لوگ دور دور سے راہ نمائی اور اپنے معاملات کے فیصلے کروانے کے لیے ان کے پاس آتے تھے۔ وہ ہمیشہ جمعیۃ علماءاسلام میں سر گرم رہے۔ جب میں گوجرانوالہ میں جمعیۃ کا سیکرٹری جنرل تھا، اس وقت وہ کلاچی میں جمعیۃ کے سیکرٹری جنرل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا نور محمد شہیدؒ
حضرت مولانا نور محمد شہیدؒ سے عام طور پر بہت کم لوگ واقف ہیں، میں نے پہلی مرتبہ انہیں ۱۹۷۶ء میں دیکھا جب میں ایک طالب علم تھا۔ اس وقت اسرائیل نے بیت المقدس پر قبضہ کیا ہوا تھا، مفتی محمود صاحبؒ نے ایک جلسے میں فرمایا کہ اگر حکومت ہمیں اجازت دے تو ہم اپنے خرچے پر وہاں جہاد کے لیے جائیں گے۔ مفتی صاحبؒ کے بعد ایک نوجوان کھڑا ہوا اور بڑے جوشیلے انداز میں اس نے اس با ت کا اعلان کیا کہ اگر حکومت اجازت دیتی ہے تو میں قبائل کی طرف سے دس ہزار کا لشکر فراہم کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ
۵ مئی کو حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گزشتہ سال اسی تاریخ کو والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا انتقال ہوا تھا۔ وہ دونوں دار العلوم دیوبند میں ہم سبق رہے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے شاگرد تھے۔ ان کا روحانی سرچشمہ بھی ایک ہی تھاکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں موسیٰ زئی شریف کی خانقاہ کے فیض یافتہ تھے۔ نقشبندی سلسلے کی اس خانقاہ کے حضرت خواجہ سراج الدینؒ سے حضرت مولانا احمد خانؒ نے خلافت پائی جو خانقاہ سراجیہ کے بانی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقبؒ
حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقب بھی انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ شاید فضلائے دیوبند میں سے ہمارے علاقے میں آخری بزرگ تھے۔ ابھی چند ماہ قبل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے سابق ناظم اور محکمہ اوقاف کے سابق ڈسٹرکٹ خطیب مولانا لالہ عبد العزیز سرگودھوی کا انتقال ہوا تو ان کے بعد ہم کہا کرتے تھے کہ اب دیوبند کی آخری نشانی ہمارے پاس حضرت مولانا محمد فیروز خان رہ گئے ہیں، وہ بھی ۹ مارچ کو ہم سے رخصت ہو گئے۔ان کا تعلق آزاد کشمیر کی وادی نیلم سے تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ڈاکٹر محمد دین مرحوم
بدھ (۹ اپریل ۲۰۰۸ء) کے روز میرے خسر بزرگوار ڈاکٹر محمد دین بھی طویل علالت کے بعد کم وبیش ۸۰ برس کی عمر میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق کھاریاں سے کوٹلہ جانے والے روڈ پر واقع قصبہ گلیانہ سے تھا اور انتہائی نیک دل اور ذاکر وشاغل بزرگ تھے۔ طب و علاج کے شعبہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انہیں ڈاکٹر کہا جاتا تھا ورنہ وہ ڈسپنسر تھے، اسی حیثیت سے انہوں نے ریٹائرمنٹ کی عمر تک سرکاری ملازمت کی اور مختلف ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سوڈان پر امریکی نوازشات
سوڈان افریقہ کا ایک مسلمان ملک ہے جو ان دنوں امریکی عتاب کی زد میں ہے۔ سوڈان کی آبادی تین کروڑ کے لگ بھگ ہے اور اسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے گزشتہ دنوں دہشت گرد ملک قرار دے دیا ہے جس کے بعد اس کی اقتصادی ناکہ بندی کا مرحلہ آسان ہو گیا ہے۔ جبکہ خود امریکہ نے تقریباً دو ماہ قبل سوڈان میں اپنا سفارتخانہ بند کر کے عملہ واپس بلا لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قاری محمد عبد اللہؒ
گزشتہ دنوں جامعہ نصرۃ العلوم کے شعبہ حفظ کے سابق صدر مدرس قاری محمد عبد اللہ صاحب طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے پرانے ساتھی اور رفیق کار تھے، ان کا تعلق منڈیالہ تیگہ کے قریب بستی کوٹلی ناگرہ سے تھا۔ ان کے والد محترم حاجی عبد الکریم جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم حضرات میں سے تھے اور مفتیٔ شہر حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ اور امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے ساتھ خصوصی تعلق رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا محمد اعظمؒ
مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کے ناظم تعلیمات مولانا محمد اعظمؒ کی اچانک وفات پر بے حد صدمہ ہوا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے شہر کے بزرگ علماءکرام میں سے تھے اور دینی تحریکات میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ معتدل اور متوازن مزاج کے بزرگ تھے اور انہیں شہر کے تمام مکاتب فکر میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد طاسینؒ
حضرت مولانا محمد طاسینؒ بھی اللہ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ پاکستان کی علمی دنیا کی معروف شخصیت تھے، حضرت السید مولانا محمد یوسف بنوری قدس اللہ سرہ العزیز کے داماد اور مجلس علمی کے سربراہ تھے۔ متبحر اور محقق عالم دین تھے، اسلامی معاشیات پر ان کی گہری نظر تھی اور اس کے مختلف پہلوؤں پر ان کے گراں قدر مقالات مختلف دینی و علمی جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ اہم علمی مجالس میں انہیں اہتمام کے ساتھ بلایا جاتا اور ان کے مطالعہ و تحقیق سے استفادہ کیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
الاستاذ عبد الفتاح ابو غدۃؒ کے ساتھ ملاقات
شام کے بزرگ عالم دین الاستاذ عبد الفتاح ابوغدۃ حفظہ اللہ تعالیٰ کا نام کافی عرصہ سے سن رکھا تھا اور محدث کبیر حضرت الشیخ زاہد الکوثری الحنفیؒ کے مایہ ناز شاگرد اور علمی جانشین کے طور پر ان کا غائبانہ تعارف ذہن میں محفوظ تھا۔ خاتم المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور حضرت السید مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے حوالہ سے علامہ کوثریؒ اور الشیخ ابو غدۃ مدظلہ کا تذکرہ ایک مدت سے علمی مجالس میں سننے میں آرہا تھا اور ملاقات کا اشتیاق تھا۔ کئی بار خواہش ہوئی کہ لندن کا سفر براستہ دمشق ہوجائے تو شاید ملاقات و زیارت کی کوئی صورت نکل آئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانیت ۔ الطاف حسین کے مغالطے
قادیانیوں کے بارے میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ جناب الطاف حسین کے ایک انٹرویو کے بارے میں اخبارات میں اظہارِ خیال کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف دینی حلقوں کی طرف سے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مختلف وجوہ کی بنا پر قادیانیت کا مسئلہ پاکستان کے دینی حلقوں کے ہاں بہت زیادہ حساس مسئلہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ملک کے عوام اور دینی جماعتوں کے نزدیک اس حوالہ سے کسی بھی طرف سے لچک کا اظہار عام طور پر قابل قبول نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ
حضر ت مولانا غلام غوث ہزارویؒ سے میرا تعلق مختلف نسبتوں اور حوالوں سے ہے اور میں خود کو ان خوش قسمت افراد میں سمجھتا ہوں جنہیں حضرت مرحوم سے مسلسل استفادہ کا موقع ملا۔ زندگی کے کسی مرحلہ میں موقف اور پالیسی کے بارے میں اختلاف رائے پیدا ہو جانا ایک الگ امر ہے جو انسانی فطرت کا لازمی حصہ ہے، لیکن آج بھی اپنے دل کو ٹٹولتا ہوں تو بحمد اللہ تعالیٰ زندگی کے کسی لمحہ میں کوئی ایسا واضح جھول محسوس نہیں ہوتا جو حضر ت مولانا ہزارویؒ کے ساتھ عقیدت ومحبت اور ان کی دیانت وللہیت پر اعتماد کے حوالے سے خدا نخواستہ پیدا ہو گیا ہو، الحمد للہ علیٰ ذالک ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حافظ بشیر احمد مصری مرحوم
روزنامہ جنگ لندن نے ۱۴ جولائی ۱۹۹۲ء کی اشاعت میں یہ خبر شائع کی ہے کہ شاہ جہاں مسجد ووکنگ (لندن) کے سابق امام حافظ بشیر احمد مصری گزشتہ روز ۷۸ برس کی عمر میں لندن کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ خبر میں حافظ صاحب مرحوم کا تعارف ماحولیات اور تحفظ حیوانات کے ایک مسلم ماہر کی حیثیت سے کرایا گیا ہے جنہوں نے اس شعبہ میں نمایاں تحقیقی خدمات سرانجام دی ہیں اور اسلام میں حیوانات کے ساتھ برتاؤ کے موضوع پر ان کے مقالہ کو بین الاقوامی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر