وسطی ایشیا کی ریاستیں آزادی کے بعد
ان ممالک کی بدقسمتی یہ رہی کہ آزادی کا لیبل چسپاں ہونے کے باوجود ان ریاستوں میں حکومتی ڈھانچے، ریاستی نظام او رحکمران کلاس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اور آزادی کے منتظم اور رکھوالے بھی وہی قرار پائے جو آزادی سے قبل کمیونسٹ نظام کو چلانے کے ذمہ دار تھے اور چلاتے آرہے تھے۔ اس طرح وسطی ایشیا کے مسلمانوں کے ساتھ بھی وہی ’’ٹریجڈی‘‘ ہوئی جس کا اس سے قبل ہم جنوبی ایشیا کے مسلمان شکار ہو چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی ریاست کے خدوخال ۔ جسٹس منیر اور جسٹس کیانی کی نظر میں
1953ء کی تحریک ختم نبوت کے اسباب و عوامل کا جائزہ لینے کے لیے قائم کیے گئے جسٹس محمد منیر اور جسٹس اے آر کیانی پر مشتمل اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقاتی کمیشن نے انکوائری کے دوران بہت سے دیگر قومی اور دینی مسائل کے علاوہ ’’اسلامی ریاست‘‘ کے خدوخال کو بھی موضوع بحث بنایا تھا اور سرکردہ علماء کرام سے اس سلسلہ میں متنوع سوالات کے ساتھ ساتھ اپنی رائے کا بھی اظہار کیا تھا۔ اس رپورٹ کا ایک حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس وقت ہمارے ملک کی اعلیٰ سطح کی عدلیہ کا ’’اسلامی ریاست‘‘ کے بارے میں تصور کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بلدیاتی انتخابات اور مسلم لیگ
حکومت نے بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر منعقد کرانے کا اعلان کیا تو ملک کی بیشتر سیاسی جماعتوں نے اسے غیر اصولی فیصلہ قرار دینے کے باوجود میدان کو خالی نہ چھوڑتے ہوئے ان میں حصہ لیا۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے بھی اپنے کارکنوں کو بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کی ہدایات جاری کر دیں جن کے بحمد اللہ تعالیٰ خاطر خواہ اثرات ظاہر ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قومی سنی کنونشن: پس منظر، اہمیت اور تقاضے
شیعہ سنی تنازعہ کی تاریخ بہت پرانی ہے اور پاکستان میں بھی ایک عرصے سے ماتمی جلوسوں اور تقریبات کے حوالہ سے مختلف شہروں میں یہ تنازعہ خونریز فسادات کا باعث بنتا چلا آرہا ہے۔ لیکن پڑوسی ملک ایران میں کامیاب مذہبی انقلاب کے بعد اردگرد کے دیگر مسلم ممالک کی طرح پاکستان میں بھی شیعہ سنی تنازعہ مذہبی اختلاف کا لبادہ اتار کر اپنے اصل سیاسی روپ میں ظاہر ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علامہ اقبالؒ کے نام پر گمراہ کن خیالات پیش کیے جا رہے ہیں
مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے بارے میں سردار محمد عبد القیوم خان کی ناروے کی تقریر کے حوالہ سے جو باتیں منظر عام پر آئی ہیں وہ غیر محتاط ضرور ہیں لیکن یہ سب کچھ علامہ اقبالؒ کے بعض نادان دوستوں کی اس نئی مہم کا فطری ردعمل ہے جو انہوں نے اقبالؒ کو پیغمبر اور فکر اقبالؒ کو وحی کے طور پر پیش کرنے کی صورت میں شروع کر رکھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اوجڑی کیمپ راولپنڈی کا سانحہ
۱۰ اپریل کو راولپنڈی میں اوجڑی کیمپ کے اسلحہ کے ڈپو میں آگ لگنے سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں پر جو قیامت ٹوٹی ہے اس سے پورا ملک نہ صرف سوگوار ہے بلکہ رنج و الم اور اضطراب کی ٹیسیں رہ رہ کر اسلامیانِ پاکستان کے دلوں میں اٹھ رہی ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جہادِ افغانستان فیصلہ کن مرحلہ میں!
افغان عوام کا جہادِ حریت سیاسی اور فوجی دونوں محاذوں پر فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ جہادِ آزادی جو آج سے آٹھ نو برس پہلے چند سو سرفروشوں کے نعرۂ مستانہ کے ساتھ شروع ہوا تھا، قربانی، ایثار اور جہد و استقلال کے کٹھن مراحل سے گزرتا ہوا آج اس مرحلہ تک پہنچ چکا ہے کہ افغانستان کے اسی فیصد علاقہ پر مجاہدین کا کنٹرول عملاً قائم ہو گیا ہے۔ روس جیسی استعماری قوت اور عالمی طاقت کو افغان مجاہدین کے ہاتھوں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ اب واپسی کے ارادہ کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے بعد قائم ہونے والی حکومت کے بارے میں تحفظات کی تلاش میں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا سید اسعد مدنی کی آمد اور جماعتی مصالحت کی کوشش
جمعیۃ العلماء ہند کے سربراہ حضرت مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ العالی کی پاکستان تشریف آوری کے موقع پر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے متوازی دھڑے کے ساتھ اختلافات کے خاتمہ اور جماعتی اتحاد کے لیے ایک بار پھر گفت و شنید کا سلسلہ شروع ہوا اور اس ضمن میں متعدد حضرات نے دونوں جانب سے خلوص کے ساتھ اس نیک مقصد کے لیے محنت کی لیکن بات چیت آگے نہ بڑھ سکی اور صورتحال جوں کی توں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسلم ممالک اور سودی نظام
صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے کراچی میں مؤتمر عالم اسلامی کی نویں بین الاقوامی جنرل اسمبلی کا افتتاح کرتے ہوئے عالم اسلام کے مسائل اور مشکلات کا ذکر کیا ہے اور اپنے خطاب کے دوران اس تلخ حقیقت کا بھی اظہار کیا ہے کہ ’’یہ حقیقت ہے کہ جہاں اسلامی ممالک بھی قرضوں پر سود لیتے ہیں وہاں چین پاکستان کو دیے جانے والے قرضوں پر کوئی سود نہیں لیتا۔‘‘ (روزنامہ جنگ، لاہور ۔ ۳۱ مارچ ۱۹۸۸ء) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خوست کے محاذ پر روسی افواج کی مزاحمت ۔ دورۂ افغانستان کی روداد
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ایک وفد کے ہمراہ راقم الحروف کو مارچ ۱۹۸۸ء کے تیسرے ہفتہ کے دوران افغانستان کے محاذ جنگ پر جانے کا موقع ملا۔ وفد میں جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سرحد کے سیکرٹری جنرل مولانا حمید اللہ جان، صوبائی سالار قاری حضرت گل شاکر، گوجرانوالہ ڈویژن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر غلام محمد، ضلع گوجرانوالہ کے امیر مولانا عبد الرؤف فاروقی، ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے مدیر سید احمد حسین زید، جامعہ حنفیہ قاسمیہ نارووال کے خطیب مولانا محمد یحییٰ محسن، مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما چوہدری غلام نبی اور ضلع گجرات سے میرے ایک عزیز عبد الرشید شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانی سرگرمیاں اور سرکاری تفتیشی ادارے
سراغرسانی اور تفتیش کے سرکاری اداروں کا کام صرف سیاست دانوں اور علماء کا پیچھا کرنا نہیں بلکہ وطن دشمن عناصر کی سرگرمیوں کا تعاقب کرنا اور ان کو بے نقاب کر کے ملک و قوم کو ان سے بچانا بھی ان اداروں کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ مندرجہ بالا سنگین امور کے بارے میں صحیح صورتحال کی وضاحت کر کے عوام کو مطمئن کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اقبالؒ کے نام پر فتنہ خیزی
ماہِ رواں کی اکیس تاریخ کو علامہ محمد اقبال مرحوم کی پچاسویں برسی منائی گئی اور حسب معمول مختلف مقامات پر اجتماعات منعقد ہوئے۔ اس موقع پر لاہور کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ محمد اقبالؒ کے فرزند اور سپریم کورٹ کے جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال نے حسب سابق اپنے اس موقف کو علامہ اقبالؒ کے حوالہ سے دہرایا کہ نئے دور کے تقاضوں کے مطابق پورے دین کی نئی تعبیر و تشریح ضروری ہے اور یہ کام اجتہاد کے نام پر پارلیمنٹ ہی کر سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسز بے نظیر زرداری اور علماء کرام ‒ افغان جارحیت اور جنیوا معاہدہ
بدقسمتی سے ہماری سیاست اس وقت مکمل طور پر غیر ملکی حصار میں جکڑی ہوئی ہے۔ بڑے سیاسی راہنما غیر ملکی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے ان کے اشارہ ابر پر چلنے کو اپنے لیے باعث افتخار سمجھتے ہیں۔ اس تگ و دو میں وہ دینی مسلمات اور صریح احکامات تک کو ہدف تنقید بنانے سے گریز نہیں کرتے۔ لادین سیاسی نظریات کی حامل تنظیمیں تو ہمیشہ سے اسلامی تعلیمات اور قوانین و ضوابط کی تضحیک کو اپنا بہترین مشغلہ بنائے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیاسی تخریب کاریاں اور نگران حکومتیں ‒ ڈیرہ اسماعیل خان کے سنگین حالات
حکمران طبقہ کو سیاست کا شوق ضرور پورا کرنا چاہیے اور ’’ادھار کی وزارتوں‘‘ سے خوب لطف اٹھانا چاہیے مگر عارضی سہاروں کے چھننے کے خوف سے اس طرح کی کارروائیاں کروانا ملک میں نفرت کے جذبات ابھارنے کا باعث بنتی ہیں۔ ان حالات میں جبکہ سیاسی فضا میں شکوک و شبہات، ابہام اور غیر یقینی کیفیت مسلط ہے، نگران حکمرانوں کو صرف نگران ہی رہنا چاہیے اور سیاسی راہنماؤں کو بھی اپنا فرض پہچاننا چاہیے۔ حالات کو جس رخ پر لے جایا جا رہا ہے یہ کسی بھی ملک و ملت کے مفاد میں نہیں ہو سکتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پیپلز پارٹی کے مستقبل کے عزائم، منشور کے آئینے میں
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بیگم نصرت بھٹو اور شریک چیئرپرسن مسز بے نظیر زرداری نے ۱۳ اکتوبر کو ایک پریس کانفرنس میں اپنے انتخابی منشور کا اعلان کیا ہے۔ اخبارات کے مطابق دونوں بیگمات نے اپنے منشور میں اسلام کو دین، جمہوریت کو سیاست، سوشلزم کو معیشت، شہادت کو نصب العین اور عوامی اختیارات کو بنیاد قرار دیا ہے۔ معمولی لفظی ہیرپھیر کے ساتھ یہ وہی الفاظ ہیں جو مسٹر بھٹو نے ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں کہے تھے اور جن کا عملی مظاہرہ ان کے دورِ اقتدار میں خوب کیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
برطانیہ کی مساجد کمیٹیاں اور آئمہ و خطباء
برطانیہ میں مساجد و مکاتب کی صورتحال یہ ہے کہ مختلف ممالک سے یہاں آکر بسنے والے مسلمانوں نے یہاں اپنی اپنی ضروریات کے مطابق مساجد قائم کر رکھی ہیں جن کی مجموعی تعداد پورے برطانیہ میں ایک ہزار کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے۔ ان میں سے بہت سی مساجد ایسی ہیں جو باقاعدہ طور پر منظوری لے کر مساجد کی شکل میں تعمیر کی گئی ہیں، بعض مساجد کرایہ یا ملکیت کے فلیٹس میں قائم ہیں اور سینکڑوں مساجد ایسی بھی ہیں جو غیرآباد گرجے خرید کر ان میں بنائی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پروفیسر حافظ محمد سعید کی گمشدگی اور حکومتی ذمہ داری
مولانا اعظم طارق کی بھوک ہڑتال کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا کہ پروفیسر حافظ محمد سعید کی گمشدگی کا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے اور اس کی پیچیدگی اور سنگینی میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پروفیسر حافظ سعید کا تعلق اہل حدیث مکتب فکر سے ہے، انہوں نے ’’لشکر طیبہ‘‘ کے نام سے مجاہدین کی جماعت بنائی جس نے بہت جلد مجاہدین کی تنظیموں میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ وہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مجاہدین کی حمایت کے لیے شروع سے سرگرم عمل رہے جبکہ افغانستان میں طالبان حکومت کی حمایت اور امریکی عزائم کی مذمت و مخالفت میں پروفیسر حافظ محمد سعید ہمیشہ پیش پیش رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکی مفادات اور اسلام آباد کی کمٹمنٹ
’’آن لائن‘‘ کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس نے اپنی حالیہ رپورٹ میں امریکی مفادات کے حوالے سے اسلام آباد کی کمٹمنٹ کو بعض معاملات میں مشکوک قرار دیا اور اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نائن الیون کے بعد انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں پاکستان امریکہ کا اہم اتحادی بنا، تاہم بعض اہم امریکی مفادات کے بارے میں اسلام آباد کی ک مکمل تحریر
حضرت شاہ ولی اللہؒ اور ان کی تحریک
حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو سلطنتِ مغلیہ کا چراغ ٹمٹمارہاتھا۔ طوائف الملوکی ڈیرہ ڈالے ہوئے تھی اور فرنگی تاجر کمپنیاں دھیرے دھیرے مغل حکمرانوں کی جگہ لینے کے لیے آگے بڑھ رہی تھیں۔ مرہٹے ایک طاقتور سیاسی قوت کی حیثیت اختیار کرتے جارہے تھے اور برصغیر ان کے قبضے میں چلے جانے کا خطر ہ دن بدن بڑھتا جارہا تھا۔ حضرت امام ولی اللہؒ نے فوری حکمت عملی کے طور پر مرہٹوں کی سرکوبی اور ان کے خطر ہ سے نجات حاصل کرنے کے لیے افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالیؒ سے رابطہ قائم کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ملی یکجہتی کونسل کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال
ہڑتال کی اس طرح کامیابی کے اسباب میں سب سے بڑا سبب تو یہ تھا کہ ملی یکجہتی کونسل کی صورت میں پاکستان کے عوام کو اپنی اس پرانی اور دلی خواہش کی تکمیل کی جھلک نظر آرہی تھی کہ دینی مکاتب فکر کے قائدین متحد ہو کر قومی معاملات میں راہنمائی کا فریضہ سرانجام دیں۔ اور دوسری بڑی وجہ پاکستان کے قومی و دینی معاملات میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی بڑھتی ہوئی مداخلت سے ملک کے عوام ازحد پریشان ہیں اور اس کے خلاف کسی مضبوط ردعمل کا اظہار چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جامعہ انوار القرآن، نارتھ کراچی
حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم کو اللہ رب العزت نے علم حدیث کے خصوصی شغف کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کے قیام اور سرپرستی کا جو ذوق عطا فرمایا ہے اس کے مظاہر ملک کے مختلف حصوں میں بے شمار چھوٹے بڑے مدارس کی صورت میں نظر آتے ہیں، جن مدارس کے قیام کی تحریک حضرت درخواستی مدظلہ کی طرف سے ہوئی یا عملی سرپرستی کرتے ہوئے حضرت مدظلہ نے لوگوں کو ان مدارس کی معاونت کی ترغیب دلائی۔ چنانچہ حضرت مدظلہ کی سرپرستی میں کام کرنے والے دینی مدارس کی تعداد بلاشبہ سینکڑوں سے متجاوز ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وزیراعظم جناب محمد خاں جونیجو کے نام کھلا خط
باسمہ سبحانہ۔ بگرامی خدمت جناب محمد خاں جونیجو صاحب، وزیراعظم حکومت پاکستان اسلام آباد۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ گزارش ہے کہ قومی اخبارات کی ۱۳ اپریل ۱۹۸۷ء کی اشاعت کے مطابق آنجناب نے اپنے حالیہ دورۂ برطانیہ کے دوران بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے سینٹ آف پاکستان میں علماء کے پیش کردہ شریعت بل کے بارے میں یہ کہا ہے کہ ’’میں شریعت بل کے خلاف ہوں کیونکہ اس سے ایک فرقہ کی بالادستی قائم ہونے کا خطرہ ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسجد اقصیٰ کی تاریخ
روزنامہ ’’الاہرام‘‘ قاہرہ نے دس اکتوبر ۲۰۰۰ء کی اشاعت میں مسجد اقصیٰ کے بارے میں ایک مخصوص صفحہ پر کچھ رپورٹیں اور مضامین شائع کیے ہیں جن کی روشنی میں مسجد اقصیٰ کی تاریخ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ بیت المقدس کی تاریخ تو بہت قدیم ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج کی ایک منزل ہونے کے علاوہ مدینہ منورہ ہجرت کے بعد کم و بیش سترہ ماہ تک مسلمانوں کا قبلہ بھی رہا ہے جس کی وجہ سے اسے قبلۂ اول کہا جاتا ہے۔ لیکن مسجد صخرہ کی تاریخ اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان کے دور سے شروع ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا مفتی محمودؒ
دل زخمی ہے، جگر فگار اور ذہن حیرت کی وسعتوں میں گم کہ خدایا یہ اچانک بیٹھے بٹھائے کیا ہوگیا ہے۔ موت ایک ناگزیر حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں، جو شخص دنیا میں آیا ہے اس نے جانا ہے۔ جب انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات جیسی ذوات مقدسمہ کو دنیا کی زندگی میں دوام نہ مل سکا تو اور کون ہے جسے موت سے مستثنیٰ قرار دیا جا سکے۔ مولانا مفتی محمودؒ بھی دوسرے انسانوں کی طرح گوشت پوست کے انسان تھے، ان کی ذات لافانی نہ تھی، انہوں نے بھی دنیا سے جانا تھا اور وہ اپنا وقت پورا کر کے خالق و مالک کی بارگاہ میں سرخرو چلے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسئلہ ختم نبوت اور قومی وحدت کا منظر
پارلیمنٹ میں راجہ محمد ظفر الحق، مولانا فضل الرحمان، کیپٹن صفدر، شیخ رشید احمد، شاہ محمود قریشی، میر ظفر اللہ جمالی، چودھری پرویز الٰہی، سینیٹر سراج الحق، سینیٹر حافظ حمد اللہ اور مختلف جماعتوں کے دیگر سرکردہ حضرات کو ایک صف میں دیکھ کر 1974ء کا وہ منظر ایک بار پھر آنکھوں کے سامنے آگیا ہے جب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، پروفیسر غفور احمد مرحوم، چودھری ظہور الٰہی مرحوم، حاجی مولا بخش سومرو مرحوم، مولانا عبد الحقؒ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا کوثر نیازیؒ، مولانا محمد ذاکرؒ اور دیگر قائدین نے متفقہ طور پر اس مسئلہ کو دستوری طور پر حل کر دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی جمہوری اتحاد، جمعیۃ کا جماعتی اتحاد اور حلقہ ۹۶
عام انتخابات کا دن جوں جوں قریب آرہا ہے سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم میں شدت اور جوش و خروش پیدا ہو رہا ہے۔ ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی ہے جو اپنے نو سالہ سیاسی حلیفوں پر مشتمل ایم آر ڈی کا تیاپانچہ کر کے اکیلی میدانِ انتخاب میں ڈٹی ہوئی ہے اور دوسری طرف اسلامی جمہوری اتحاد ہے جو اسلامی قوانین کی بالادستی، جہادِ افغانستان کی مکمل حمایت اور ایٹمی قوت کے حصول کے عزم کے ساتھ انتخابی مہم میں پیپلز پارٹی کا سامنا کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پیپلز پارٹی اپنے اصل پر
پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد گزشتہ چار ماہ سے بھی کم عرصہ کے دوران اپنی پالیسیوں کو جس رخ پر چلانے کی کوشش کی ہے اس سے اس کے عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ اور ان سیاسی عناصر کی خوش فہمیاں اب ہوا میں تحلیل ہو رہی ہیں جنہوں نے گزشتہ دس سالہ دور میں پی پی پی کی سیاسی رفاقت کا راستہ اس خیال سے اپنا لیا تھا کہ وہ اس پارٹی کو شاید اپنا مزاج اور فکر تبدیل کرنے پر آمادہ کر سکیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اے بادِ صبا ایں ہمہ آوردۂ تست
یادش بخیر مولانا فضل الرحمان نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اصل مسئلہ عورت کی سربراہی کا نہیں ہے بلکہ موجودہ جمہوری نظام ایک غلاظت ہے جس پر خودبخود مکھی آکر بیٹھے گی۔ اگر تم کہو کہ یہ مکھی غلاظت پر کیوں بیٹھتی ہے تو مکھی نے غلاظت پر بیٹھنا ہے چاہے وہ کسی شکل میں ہو۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عورت کی حکمرانی: علماء کے موقف پر اعتراضات کا تجزیہ
عورت کی حکمرانی کے بارے میں علماء کا موقف قرآن و سنت اور اجماع امت کی روشنی میں اس قدر واضح اور مبرہن ہو کر سامنے آچکا ہے کہ اب اس میں مزید کلام کی گنجائش نظر نہیں آتی۔ اور نہ ہی اہل علم و دانش اور اصحاب فہم و فراست کے لیے اس مسئلہ میں کسی قسم کا کوئی ابہام باقی رہ گیا ہے کہ قرآن و سنت کے صریح احکام اور امت مسلمہ کے چودہ سو سالہ تواتر عملی کی رو سے کسی مسلم ریاست میں خاتون کے حکمران بننے کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔ البتہ اس موقف اور اس کے مطابق علماء کرام کی اجتماعی جدوجہد کے بارے میں مختلف شکوک و شبہات اور اعتراضات سامنے آرہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عورت کی حکمرانی اور مولانا فضل الرحمان کا موقف
عورت کی حکمرانی کے بارے میں تمام مکاتب فکر کے جمہور علماء ایک طرف ہیں کہ قرآن و سنت کے صریح احکام اور امت مسلمہ کے چودہ سو سالہ تواتر عملی کے باعث کسی مسلمان ملک پر عورت کے حکمران بننے کا شرعاً کوئی جواز نہیں ہے۔ جبکہ علماء کہلانے والے چند افراد دوسری طرف ہیں جو کسی منطق، استدلال اور جواز کے بغیر سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعہ اس پراپیگنڈا میں مصروف ہیں کہ عورت کے حکمران بن جانے میں کوئی حرج نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
یورپی یونین کے مطالبات اور جمہوریہ ترکی
روزنامہ اسلام کے فارن ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں رائج سزائے موت کا قانون ختم کرے اور اپنے تعلیمی نظام، ریڈیو اور ٹی وی کی نشریات میں ترکی زبان کا استعمال ترک کر دے اور اس کی بجائے انگریزی کو ذریعہ تعلیم، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی نشریات کی زبان کے طور پر اختیار کرے۔ یورپی یونین کے اس مطالبہ پر ترکی میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے اور ترکی کے نائب وزیراعظم اور نیشنل موومنٹ پارٹی کے سربراہ دولت باصلی نے یورپی یونین کے اس مطالبے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ہاشمی سلطنت کا قیام ۔ نئی امریکی سازش
لندن سے شائع ہونے والے ہفت روزہ نوائے وقت نے ۱۱ اکتوبر ۲۰۰۲ء کی اشاعت میں ایک رپورٹ کے ذریعے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے عراق پر متوقع حملہ کے بعد سرے سے عراق کی ریاست کو ختم کر کے اسے اردن میں ضمن کرنے کے پلان پر غور شروع کر دیا ہے اور اس سلسلہ میں امریکی ماہرین منصوبے کو آخری شکل دینے میں مصروف ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مجوزہ پلان یہ ہے کہ عراق اور اردن کو ملا کر ایک علیحدہ سلطنت تشکیل دی جائے گی جس پر اردن کے شاہ عبد اللہ کی قیادت میں ہاشمی خاندان حکومت کرے گا اور اس نئے مجوزہ ملک کا دارالحکومت عمان ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا محمد اعظم طارق کی نظر بندی
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت سے مولانا محمد اعظم طارق کی ضمانت منظور ہوجانے کے باوجود انہیں حکومت پنجاب نے مزید تین ماہ کے لیے نظربندی کے عنوان سے زیرحراست رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ این این آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق مولانا محمد اعظم طارق کو حکومتی حلقوں کی طرف سے یہ پیشکش کی گئی ہے کہ اگر وہ جلاوطنی قبول کر لیں تو انہیں رہا کیا جا سکتا ہے ورنہ حکومت اس بات پر مجبور ہے کہ انہیں مسلسل زیرحراست رکھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مولانا موصوف نے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا محمد اعظم طارق کی بھوک ہڑتال
عربی ادب کی کتابوں میں کہاوت بیان کی جاتی ہے کہ ایک لڑکا نہر میں ڈبکیاں کھا رہا تھا اور مدد کے لیے چیخ و پکار کر رہا تھا کہ کوئی اسے آکر ڈوبنے سے بچا لے۔ ایک شخص نے نہر کے کنارے سے گزرتے ہوئے اسے دیکھا اور وہیں کھڑے ہو کر اسے ملامت کرنے لگا کہ اگر تجھے تیرنا نہیں آتا تھا تو نہر میں چھلانگ کیوں لگائی تھی؟ یہ بے وقوفی تم نے کیوں کی؟ نہر میں اترتے ہوئے تم نے کیوں نہ سوچا کہ یہ کتنی گہری ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ربوہ کا نیا نام: صدیق آباد، نواں قادیان یا چناب نگر؟
گزشتہ روز فلیٹیز لاہور میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کی طرف سے ربوہ کا نام تبدیل ہونے کی خوشی میں پنجاب اسمبلی کی قرارداد کے محرک مولانا منظور احمد چنیوٹی اور صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر جناب حسن اختر موکل کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی جس میں مختلف دینی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے شرکت کی اور ربوہ کا نام تبدیل کرنے کی قرارداد منظور کرنے پر پنجاب اسمبلی کے ارکان، حکومت، اپوزیشن اور محرک کو خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
یہودی لابی کا اسلام
لاہور کے روزنامہ ’’آوازِ خلق‘‘ نے ۱۴ اپریل ۱۹۸۹ء کی اشاعت میں مغربی جرمنی کے ایک جریدہ کے لیے پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو کے تفصیلی انٹرویو کا ترجمہ شائع کیا ہے جس میں انہوں نے اپنی پالیسیوں کا دوٹوک انداز میں اظہار کیا ہے۔ اس انٹرویو کے مطابق محترمہ بے نظیر بھٹو نے چور کا ہاتھ کاٹنے اور کوڑے مارنے کی سزاؤں کے بارے میں کہا ہے کہ ظالمانہ اور وحشیانہ قوانین کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مدرسہ تعلیمی بورڈ کا قیام اور مدارس کی رجسٹریشن کا حکومتی فیصلہ
دینی مدارس کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے پانچوں وفاقوں نے ان حکومتی اقدامات کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے جن کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی ہے اور جن کے تحت دینی مدارس کو چھ ماہ کے اندر رجسٹریشن کا پابند کرتے ہوئے سرکاری سطح پر ’’مدرسہ تعلیمی بورڈ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رجسٹریشن نہ کرانے والے مدارس کو بند کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے دینی مدارس کو بیرون ملک سے ملنے والی امداد کو مدرسہ تعلیمی بورڈ کی کلیئرنس کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لندن بم دھماکے۔ انجام کیا ہوگا؟
اِدھر اسامہ بن لادن کی تلاش میں خفیہ ادارے منگلا ڈیم کے کنارے جا پہنچے ہیں اور اُدھر لندن میں خوفناک بم دھماکوں نے چار درجن سے زائد انسانوں کی جانیں لے کر مغرب کو خوف و ہراس کی ایک نئی فضا سے دوچار کر دیا ہے۔ میرپور آزادکشمیر میں منگلا ڈیم کے کنارے سیاکھ نامی بستی میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے گزشتہ ہفتے علی الصبح ایک دینی مدرسہ کو اچانک آپریشن کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں فراہم کی گئی معلومات کے مطابق سیاکھ کے دینی مدرسہ جامعہ ابراہیمیہ میں اسامہ بن لادن چھپے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لندن بم دھماکے اور مشرق وسطیٰ میں نوے سالہ برطانوی تاریخ
برطانیہ میں خودکش بم دھماکوں کے ردعمل کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ ترین خبروں کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد لندن کی تاریخ کا سب سے بڑا کریک ڈاؤن اور آپریشن شروع ہو چکا ہے جس میں چھ ہزار کے قریب سپاہی حصہ لے رہے ہیں۔ یہ آپریشن دہشت گردوں کی تلاش، ان کے نیٹ ورک کا سراغ لگانے اور مستقبل میں دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا جا رہا ہے جو حفاظتی نقطۂ نظر سے انتہائی ضروری سمجھا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انسانی حقوق کا چارٹر اور مسلمانوں کے تحفظات
دو ہفتے قبل جب میں لندن پہنچا تو مولانا مفتی عبد المنتقم سلہٹی سے بنگلہ دیش میں دینی حلقوں کی اس احتجاجی مہم کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں جو عبوری حکومت کی طرف سے منظور کیے جانے والے ایک مسودہ قانون کے خلاف جاری ہے اور ایمرجنسی کے باوجود ہزاروں لوگ علماء کرام کی قیادت میں احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ یہ مسودہ قانون عبوری حکومت نے ملک میں نفاذ کے لیے منظور کیا ہے لیکن ابھی نافذ نہیں ہوا، اس میں وراثت کے قانون میں ترمیم کر کے باپ کی وراثت میں لڑکی اور لڑکے کو برابر حصے کا حقدار قرار دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بلوچستان کا ’’تاریخی میزانیہ‘‘
گورنر بلوچستان جناب نواب محمد اکبر خان بگٹی اپنے تمام تر دعاوی کے باوجود صوبائی اسمبلی کا بجٹ اجلاس بلانے کی ہمت نہیں کر سکے اور گورنر کو براہ راست بجٹ کی منظوری کا اختیار دینے کے لیے صدر محترم کو عبوری آئین میں ترمیم کرنا پڑی۔ اس طرح نواب صاحب نے ’’خود کوزہ خود کوزہ گر و خود گلِ کوزہ‘‘ کے مصداق اسے ’’تاریخی میزانیہ‘‘ کا خطاب بھی مرحمت فرما دیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ میزانیہ یقیناً ’’تاریخی‘‘ ہے کہ صوبائی اسمبلی کی موجودگی میں اس کا اجلاس بلائے بغیر گورنر صاحب نے از خود بجٹ پیش کیا اور از خود اس کی منظوری بھی دے دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
متحدہ حزب اختلاف کا قیام اور افغان مجاہدین
قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے موقع پر جناب غلام مصطفیٰ جتوئی کی قیادت میں متحدہ حزب اختلاف کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے اور جناب جتوئی نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ متحدہ حزب اختلاف میں اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل ارکان اسمبلی کے علاوہ نوابزادہ نصر اللہ خان، خان عبد الولی خان، مولانا عبد الستار خان نیازی، مولانا فضل الرحمان، جناب غلام مصطفیٰ کھر اور ان کی جماعتوں کے ارکان بھی شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
یاسر عرفات اور جہادِ افغانستان
فلسطین کی آزاد حکومت کے سربراہ جناب یاسر عرفات گزشتہ دنوں پاکستان تشریف لائے اور پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرنے کے علاوہ افغان مجاہدین کی آزاد عبوری حکومت کے راہنماؤں سے بھی ملے۔ قومی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق ان کا یہ دورہ ان عالمی کوششوں کا ایک حصہ تھا جو افغان مجاہدین کو نجیب انتظامیہ کے ساتھ مفاہمت پر آمادہ کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
صدر مملکت غلام اسحاق خان سے معذرت کے ساتھ
اسلامی جمہوری اتحاد سے تعلق رکھنے والے سینٹروں کے ایک وفد نے گزشتہ روز صدرِ مملکت جناب غلام اسحاق خان سے ملاقات کی اور ان سے جہادِ افغانستان کے بارے میں حکومتی پالیسی میں تبدیلی، سندھ میں اسلحہ بھجوانے کے الزامات اور جنرل فضل حق کو قتل کے کیس میں ملوث کرنے کی مہم کے بارے میں اپنے موقف اور جذبات سے آگاہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’شریعت بل‘‘ اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ
روزنامہ جنگ لاہور ۱۹ جولائی کی اشاعت کے مطابق سینٹ کی خصوصی کمیٹی نے ’’شریعت بل‘‘ کے مسودہ کی منظوری دے دی ہے اور اب اسے چند روز میں سینٹ کے سامنے آخری منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ یہ شریعت بل قائد جمعیۃ مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف نے سینٹ میں پیش کیا تھا جس پر سینٹ کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی نے غور کیا اور مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ راہنماؤں سے تبادلۂ خیالات کے بعد مناسب ترامیم کے ساتھ اس کے مسودہ کی منظوری دے دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جمہوری ممالک کی ایسوسی ایشن اور بے نظیر بھٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بیگم بے نظیر بھٹو نے اپنے دورۂ امریکہ کے موقع پر جمہوری ممالک کی ایسوسی ایشن قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس پر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے حکومتی حلقوں کی طرف سے مثبت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور مغربی پریس اس تجویز کو اس انداز سے اچھال رہا ہے جیسے یہ خود اس کے اپنے دل کی آواز ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا قاضی عبد اللطیف پر بغاوت کا مقدمہ؟
روزنامہ جنگ لاہور ۲۷ اگست کی ایک خبر کے مطابق وفاقی وزارت قانون جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سرحد کے امیر مولانا قاضی عبد اللطیف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کا جائزہ لے رہی ہے۔ خبر کے مطابق قاضی صاحب موصوف نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فوج کو موجودہ صورتحال میں مداخلت کی دعوت دی تھی جس کا وفاقی حکومت نے سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وفاق اور صوبوں کی کشمکش کا افسوسناک پہلو
وفاق اور صوبوں کے درمیان کشمکش جس انتہا کو چھو رہی ہے اس نے ملک کے ہر باشعور شہری کو اضطراب سے دوچار کر دیا ہے۔ اور نہ صرف ملک کا نظام اس کشمکش کے ہاتھوں تعطل کا شکار ہے بلکہ جمہوری عمل اور ملکی سالمیت کے لیے خطرات کا اظہار بھی اب سنجیدہ زبانوں سے ہو رہا ہے۔ اس افسوسناک کشمکش کا آغاز گزشتہ انتخابات کے بعد اس وقت ہوا جب پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے برسرِ اقتدار آتے ہی صوبوں میں برسرِ اقتدار آنے والی مخالف حکومتوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ایم آر ڈی کے مذہبی رفقاء کے لیے لمحۂ فکریہ
روزنامہ جنگ لندن یکم اکتوبر کی ایک خبر کے مطابق پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بیگم بے نظیر بھٹو نے امریکی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسلامی قوانین کی تبدیلی میں جلدی نہیں کریں گی کیونکہ اس سے دباؤ بڑھے گا۔ خبر کے مطابق پی پی حکومت کے وزیر قانون سید افتخار گیلانی نے بھی انٹرویو میں اپنے اس سابقہ موقف کا اعادہ کیا ہے کہ زنا کے جو قوانین پاکستان میں نافذ ہیں وہ غیر منصفانہ اور غیر منطقی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عقیدۂ ختم نبوت کے حلف نامہ میں ردوبدل کا معاملہ
الیکشن قوانین میں ترامیم کے سلسلہ میں پارلیمنٹ سے منظور کیے جانے والے بل میں درج عقیدۂ ختم نبوت کے حلف نامہ کی عبارت میں ردوبدل کے انکشاف پر ملک بھر میں گزشتہ دنوں خاصا اضطراب اور ہیجان پیدا ہوگیا تھا۔ اس پر قومی اسمبلی میں ایک نئی ترمیم کے ذریعے حلف نامہ کی سابقہ پوزیشن بحال کر دینے پر خوش اسلوبی کے ساتھ یہ معاملہ ختم ہوگیا ہے جبکہ پاک آرمی کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے اس اعلان نے مزید اطمینان و اعتماد کا اضافہ کیا ہے کہ پاک فوج ناموس رسالتؐ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور ختم نبوت کی شق کے خاتمہ کو کوئی پاکستانی قبول نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر