مقالات و مضامین

اہم قومی مسائل پر ملی مجلسِ شرعی کا موقف

ملی مجلس شرعی پاکستان تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام کا ایک مشترکہ علمی و فکری فورم ہے جو گزشتہ ڈیڑھ عشرہ سے قومی و دینی مسائل میں سرگرم عمل ہے۔ پاکستان کی نظریاتی شناخت کا تحفظ، ملک میں دستور کے مطابق شرعی قوانین کا نفاذ، مسلم تہذیب و روایات کی پاسداری، قومی خودمختاری اور تعلیمی نظام و نصاب کی پہرے داری اس کے بنیادی اہداف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۲۲ء

افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کی مہم

پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے افغان عوام کے ساتھ یکجہتی و ہم آہنگی کے اظہار کے لیے ’’عشرۂ یکجہتی افغانستان‘‘ منانے کا اعلان کیا گیا تھا جو دس جنوری کو مکمل ہو گیا ہے جبکہ امیر محترم مولانا مفتی محمد رویس خان ایوبی نے یہ سلسلہ جنوری کے آخر تک جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس سلسلہ میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی طرف سے جاری کردہ اعلان درج ذیل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جنوری ۲۰۲۲ء

سورۃ الرحمٰن اور جدید سائنس

سائنس ایک عرصہ تک معقولات اور فلسفہ کا حصہ رہی ہے اور اس کے مباحث عقلیات کے دائرے میں ہوتے رہے ہیں۔ مگر جب سائنس معقولات کے ماحول سے آگے بڑھ کر مشاہدات اور تجربات کے دور میں داخل ہوئی تو اس وقت مغرب کی مذہبی قیادت مسیحیت کے پاس تھی اور پوپ اور چرچ کے ہاتھ میں مذہبیت کی باگ ڈور تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جنوری ۲۰۲۲ء

ترک صدر اور سودی نظام

روزنامہ اسلام لاہور ۲۲ دسمبر ۲۰۲۱ء کی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) ترک صدر رجب اردگان اردوان نے شرح سود میں اضافے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں وہ کروں گا جو دین کہے گا۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مجھ سے شرح سود میں اضافے کی کوئی امید نہ رکھی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۲۲ء

’’عشرہ یکجہتی افغانستان‘‘ کا لائحہ عمل

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا مفتی محمد رویس خان ایوبی نے نئے عیسوی سن کا آغاز ’’عشرۂ یکجہتی افغانستان‘‘ کے عنوان کے ساتھ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے لیے کونسل کا اعلامیہ درج ذیل ہے: دنیا کے تمام ممالک، بالخصوص مسلم حکومتیں اور حکومت پاکستان امارت اسلامی افغانستان کی حکومت کو باضابطہ تسلیم کرنے کا فوری اعلان کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ دسمبر ۲۰۲۱ء

خاندانی نظام، سیڈا معاہدہ اور سعودی وزیرخارجہ

سعودی عرب نے (سیڈا) CEDAW سے متعلق اقوام متحدہ کی دستاویز کو مسترد کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کیا ہے۔ سعودی عرب اسلامی شریعت کی دفعات کو کافی سمجھتے ہوئے سیڈا کے عدمِ تعمیل کا اعلان کرتا ہے۔ بدقسمتی سے کچھ عرب ممالک نے سیڈا سے اتفاق کرنا شروع کر دیا ہے۔ مکمل تحریر

۲۸ دسمبر ۲۰۲۱ء

۲۴ دسمبر کو ’’یومِ افغانستان‘‘ منایا جائے

۲۲ دسمبر کے اجلاس کے حوالہ سے جمعیۃ علماء پاکستان کی جاری کردہ رپورٹ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے، ملک بھر کے دینی احباب سے گزارش ہے کہ اس تسلسل کو قائم رکھنے اور اس میں وسعت کے لیے سرگرمی کے ساتھ ہر سطح پر محنت کریں تاکہ ہم افغان بھائیوں کی بروقت اور مؤثر امداد و حمایت کے لیے اپنی ملی و دینی ذمہ داری صحیح طور پر ادا کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ دسمبر ۲۰۲۱ء

افغانستان کی صورتحال – سنجیدہ توجہ کی ضرورت

افغانستان کی صورتحال اور ہماری دینی و ملی ذمہ داریوں کے حوالہ سے دینی و سیاسی حلقوں کو توجہ دلانے کے لیے پاکستان شریعت کونسل کی رابطہ مہم جاری ہے، اس سلسلہ میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد کےتین اجلاسوں کی کارگزاری پیش خدمت ہے۔ تفصیلی گذارشات ۲۲ دسمبرکے اجلاس کے بعد پیش کروں گا ان شاء اللہ تعالیٰ۔ مکمل تحریر

۱۹ دسمبر ۲۰۲۱ء

سری لنکا کے ہائی کمشنر سے علماء کرام کی ملاقات

سات دسمبر منگل کا دن اسلام آباد میں خاصا مصروف گزرا، اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے سیالکوٹ کے سانحہ کے حوالہ سے سرکردہ علماء کرام کی باہمی مشاورت اور سری لنکا کے ہائی کمیشن میں تعزیت اور اظہار یکجہتی کے لیے حاضری کے پروگرام میں شرکت کا پیغام ملا تو اطمینان ہوا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس قسم کے اہم مسائل پر کردار ادا کرنے کا عزم کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ دسمبر ۲۰۲۱ء

افغانستان کا بحران اور ہمارا افسوسناک طرز عمل

روزنامہ اسلام لاہور کی خبر کے مطابق امارتِ اسلامی افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی محمد امیر خان متقی اپنے وفد کے ہمراہ دوحہ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ افغانستان کی تازہ ترین صورتحال کے حوالہ سے امریکی حکمرانوں سے مذاکرات کریں گے۔ جبکہ اخبار کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات جناب فواد چوھدری نے اسلام آباد میں اے پی پی کے ملازمین کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلحہ کی جنگ تو ختم ہو گئی اب باتوں کی جنگ جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جنگ ساڑھے تین گھنٹے میں ختم ہو گئی تھی جب کابل کے حکمران بھاگ گئے تھے اور امریکہ جنگ ہار گیا تھا مگر اب باتوں اور بیانیہ کی جنگ جاری ہے۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۲۱ء

قرآن و سنت کے احکام اور ہمارا عدالتی نظام

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ ۲۷ اکتوبر ۲۰۲۱ء کی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’جسٹس فائز عیسیٰ نے سوات میں جائیداد کی تقسیم سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ کوئی عدالت یا جرگہ وراثتی جائیداد کی تقسیم کے شرعی قانون کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ جرگے کے فیصلے کے ذریعے دین الٰہی کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا - - - مکمل تحریر

نومبر ۲۰۲۱ء

محسنِ ملت ڈاکٹر عبد القدیر خان کی رحلت

محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان بھی ہم سے رخصت ہو گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ایک ایٹمی سائنسدان کے طور پر انہوں نے وطن عزیز اور عالمِ اسلام کی جو خدمت کی وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور اس پر انہیں غیروں کے ساتھ ساتھ اپنا کہلانے والوں کی طرف سے کردارکشی اور حوصلہ شکنی کے جن کربناک مراحل سے گزرنا پڑا وہ بھی تاریخ کے ایک سیاہ باب کی صورت میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اکتوبر ۲۰۲۱ء

تحریک تحفظ مدارس و مساجد پاکستان کو منظم کرنے کا فیصلہ

۱۶ ستمبر کو جامعہ محمدیہ اسلام آباد میں مختلف مکاتبِ فکر کا ایک اہم اجلاس ’’تحریک تحفظ مدارس و مساجد پاکستان‘‘ کی دعوت پر منعقد ہوا، جس میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا، اس فورم کا قیام متنازع اوقاف قوانین کے نفاذ کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف فکر کے سرکردہ علماء کرام کی مشترکہ کاوشوں سے عمل میں لایا گیا تھا اور اس کے تحت اس قانون پر عملدرآمد کو رکوانے کے لیے مؤثر جدوجہد کی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۲۱ء

قومی زبان — عدالتِ عظمٰی اور بیوروکریسی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک بار پھر ملک میں اردو کے سرکاری طور پر نفاذ کی صورتحال کا نوٹس لیا ہے اور جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے سے متعلق توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی ہے جس میں اردو کو فوری طور پر رائج نہ کرنے پر وفاقی حکومت جبکہ پنجابی زبان کو صوبے میں رائج نہ کرنے پر پنجاب حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ ستمبر ۲۰۲۱ء

عشرۂ دفاعِ وطن و ختم نبوت کی چند جھلکیاں

ستمبر کا پہلا عشرہ اس سال بھی خاصی گہماگہمی میں گزرا۔ یوم دفاع، یوم فضائیہ اور یوم بحریہ کی رونقوں کے ساتھ ساتھ یوم ختم نبوت کی مصروفیات نے قوم کے تمام طبقات کو مصروف رکھا اور مجھے بھی مختلف تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ ۵ ستمبر کو لاہور میں مجلس احرار اسلام پاکستان کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں حاضری دی اور معروضات پیش کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ ستمبر ۲۰۲۱ء

افغانستان میں طالبان کا نیا دور۔ توقعات و خدشات

کابل میں طالبان کے پُراَمن داخلہ پر اطمینان و مسرت کے اظہار کے لیے آج جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں طلبہ نے قرآن خوانی کا اہتمام کیا، قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کی کلاس میں طلبہ نے مکمل قرآن کریم کی قراءت کی اور جہاد افغانستان کے مختلف مراحل کے شہداء اور مرحوم راہنماؤں کو ایصالِ ثواب کیا گیا۔ اس موقع پر راقم الحروف نے درج ذیل خطاب کیا اور بزرگ استاذ مولانا عبد القیوم گلگتی کی پرسوز دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۲۰۲۱ء

آزادی کے اہداف اور درپیش خطرات

آج ہمارا یوم آزادی ہے، ۱۴ اگست کو ہمیں برطانوی استعمار کی غلامی سے آزادی ملی تھی اور اسی روز پاکستان کے نام سے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی خودمختار نظریاتی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس لیے یہ دوہری خوشی کا دن ہے چنانچہ اس روز پاکستانی عوام ملک بھر میں بلکہ دنیا میں جہاں بھی وہ آباد ہیں، آزادی اور نئے وطن کی خوشی میں تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس مناسبت سے ماضی قدیم کی ایک تحریک آزادی کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جس کا قرآن کریم نے ذکر کیا ہے اور جس کی قیادت حضرات انبیائے کرام علیہم السلام نے فرمائی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اگست ۲۰۲۱ء

فرقانِ حمید اور فاروقِ اعظمؓ

قرآنِ کریم نے اپنا دوسرا نام ’’الفرقان‘‘ بتایا ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ’’الفاروق‘‘ کے لقب سے معروف ہیں، دونوں کا معنٰی حق و باطل میں فرق کرنے والا بنتا ہے۔ جبکہ اس لفظی مناسبت کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے حوالہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زندگی بھر کا طرز عمل بھی اس مشابہت و مماثلت کی گواہی دیتا ہے جس کی چند جھلکیاں پیش کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اگست ۲۰۲۱ء

دینی مدارس کی اسناد کا توجہ طلب مسئلہ

ہری پور ہزارہ کے حضرت مولانا حکیم عبد السلامؒ ہمارے محترم بزرگوں میں سے تھے، تحریک آزادی کے نامور راہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا ہے، میری ان سے نیازمندی رہی ہے اور کئی بار ان کی خدمت میں حاضری اور شفقتیں سمیٹنے کی سعادت ملی ہے۔ ان کے فرزند میجر (ر) محمد طارق مرحوم محکمہ تعلیم سے وابستہ رہے ہیں اور ایک دور میں ثانوی تعلیمی بورڈز کی کسی مشترکہ کمیٹی کے سیکرٹری کے طور پر انہوں نے خدمات سر انجام دی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۲۱ء

چھ اگست – یومِ تحفظِ نظامِ خاندان

ملی مجلس شرعی پاکستان کی طرف سے گھریلو تشدد کی روک تھام کے قوانین کے حوالے سے جاری کیے گئے سرکلر کا متن قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ گھریلو تشدد کی روک تھام کا قانون مختلف صوبوں میں اس سے قبل متعلقہ اسمبلیوں سے منظور ہو کر نافذ ہو چکا ہے جبکہ اسلام آباد کی حدود کے لیے اس قانون کا بل ابھی منظوری کے مراحل میں ہے ۔اس قانون کا مقصد گھر کی چار دیواری کے اندر ہونے والے مبینہ تشدد کو روکنا اور اسے قابل سزا جرم قرار دینا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اگست ۲۰۲۱ء

تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا پس ِ منظر اور نئی حکومت سے توقعات

ریاست آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات مکمل ہو گئے ہیں اور حسبِ روایت پاکستان میں برسراقتدار جماعت پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن میں واضح پوزیشن حاصل کر کے آئندہ مدت کے لیے حکومت سازی کا محاذ سنبھال لیا ہے، جبکہ اپوزیشن نے حسبِ روایت دھاندلی کے الزامات کے ساتھ نتائج قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، لیکن اگر باقی سب کچھ بھی حسبِ روایت ہوا تو اگلی ٹرم میں آزاد جموں و کشمیر کے حکمران تحریک انصاف کے عنوان سے ریاست میں حکومت کے فرائض سرانجام دیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جولائی ۲۰۲۱ء

سوویت یونین، افغانستان اور امریکی اتحاد

یہ اس دور کی بات ہے جب افغانستان سے سوویت یونین کی افواج کی واپسی کے بعد امریکہ ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے ’’ابھی اسلام باقی ہے‘‘ کا نعرہ لگا کر اپنی جنگ کے اگلے راؤنڈ کی نشاندہی کر دی تھی اور جنوبی ایشیا کے حوالہ سے نئے علاقائی ایجنڈے مختلف عالمی حلقوں میں تشکیل پا رہے تھے۔ اسلام آباد میں لیفٹ کے کچھ دانشوروں کے ساتھ ایک نشست میں یہ بات زیربحث آگئی کہ افغانستان میں جو جنگ لڑی گئی ہے وہ امریکہ کی جنگ تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جولائی ۲۰۲۱ء

متنازعہ اوقاف قوانین اور گھریلو تشدد کی روک تھام کا بل

متنازعہ اوقاف قوانین کا مسئلہ ابھی چل رہا ہے کہ گھریلو تشدد کی روک تھام کے نئے بل نے ملک بھر کے دینی اور تہذیبی حلقوں کو ایک نئی پریشانی سے دوچار کر دیا ہے اور ان دونوں حوالوں سے بحث و مباحثہ کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ دنوں دو اہم محافل میں شرکت کا موقع ملا جن کی روشنی میں اس بارے میں تازہ ترین صورتحال قارئین کے علم میں لانا چاہتا ہوں۔ ۱۸ جولائی کو اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام سیمینار تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جولائی ۲۰۲۱ء

موجودہ حالات میں ملی مجلس شرعی کا موقف

پاکستان کے اسلامی تشخص، تہذیب و تمدن اور دستور و قانون کے اسلامی پہلوؤں کے حوالہ سے بین الاقوامی سیکولر حلقوں کا دباؤ اور ملک کے اندر سیکولر لابیوں کی سرگرمیاں بڑھتی جا رہی ہیں جبکہ اہل دین کے ارباب شعور و دانش میں اس کا احساس و ادراک پوری طرح دکھائی نہیں دے رہا اور ملی و دینی معاملات میں جدوجہد کا ماحول کمزور پڑتا جا رہا ہے ۔ اس سلسلہ میں ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ کے جملہ ارباب ان دنوں تشویش اور سوچ بچار میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جون ۲۰۲۱ء

دینی جدوجہد کیلئے عوامی بیداری کی ضرورت

۳ جون کو لاہور میں ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ اور ۵ جون کو ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے اجلاسوں میں شرکت ہوئی اور مختلف دینی راہنماؤں اور احباب کے ساتھ پیش آمدہ امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔ اہم عنوانات کم و بیش ملک بھر کے دینی حلقوں میں مشترکہ طور پر درپیش ہیں اور آراء و خیالات میں بھی ہم آہنگی پائی جاتی ہے، البتہ اجتماعی جدوجہد کے لیے علماء کرام اور دینی کارکن ہر جگہ کسی متحرک قیادت کے سامنے آنے کے منتظر ہیں بلکہ بعض حلقوں میں اس سلسلہ میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۲۱ء

اسلامی نظریاتی کونسل اور جمعہ کے خطبات

مسجد و مدرسہ کو ہر حال میں کنٹرول کرنے کے عالمی استعماری ایجنڈے کے سائے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کا کوئی بھی ادارہ کسی بھی حوالہ سے کوئی قدم اٹھاتا ہے تو اسے اسی نظر سے دیکھا جاتا ہے جیسے شکار اپنے شکاری کو دیکھتا ہے اور یہ کوئی غیر فطری بات نہیں، اس لیے کہ اس بے اعتمادی بلکہ بد اعتمادی کی یہ فضا خود ریاستی اداروں کے مسلسل اقدامات کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے جو اس قدر شدید اور گہری ہے کہ اسے اعتماد کے ماحول میں واپس لانے کیلئے خاصا وقت اور محنت درکار ہو گی۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۲۱ء

سر سید احمد خان، قائد اعظم اور مسلم اوقاف

متنازعہ اوقاف قوانین کا نفاذ وفاق اور صوبوں میں بتدریج شروع ہوا اور انتہائی خاموشی کے ساتھ ان قوانین نے پورے ملک کا احاطہ کر لیا، حتٰی کہ نئے اوقاف قوانین کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں مساجد و مدارس کی نئی رجسٹریشن کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا، مگر جوں جوں عوامی اور دینی حلقوں میں ان قوانین کی نوعیت اور ان کے اثرات سے آگاہی بڑھتی گئی اضطراب اور بے چینی میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا اور حکومت کو شدید عوامی احتجاج پر یہ عملدرآمد روکنا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ مئی ۲۰۲۱ء

نئے تعلیمی بورڈ ’’مجمع العلوم الاسلامیہ‘‘ کا قیام

جامعہ الرشید کراچی اور جامعہ بنوریہ کراچی نے مل کر ’’مجمع العلوم الاسلامیہ‘‘ کے نام سے دینی مدارس کے نئے تعلیمی کے قیام کا اعلان کر کے ’’وفاق المدارس العربیہ پاکستان‘‘ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور وفاقی وزارت تعلیم کی طرف سے نئے بورڈ کو تسلیم کرنے کی خبریں بھی اخبارات میں آ رہی ہیں۔ نئے بورڈ کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ دینی و عصری تعلیم کے امتزاج پر مبنی مشترکہ تعلیمی نظام و نصاب کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مئی ۲۰۲۱ء

دہشت گردی، مساجد و مدارس اور نئے اوقاف قوانین

بعض حضرات کی طرف سے نئے اوقاف قوانین کے حوالہ سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ یہ قوانین عالمی معاشی دباؤ کی وجہ سے حکومت کو مجبورًا نافذ کرنا پڑ رہے ہیں اور یہ ایک طرح سے قومی ضرورت بن چکے ہیں۔ اس کا پس منظر یہ بتایا جاتا ہے کہ عالمی سطح پر یہ مفروضہ قائم کر لیا گیا ہے کہ مبینہ دہشت گردی کے فروغ میں زیادہ کردار دینی تعلیم اور دینی مدارس کا ہے اس لیے بین الاقوامی ادارے یہ اطمینان چاہتے ہیں کہ پاکستان میں دینی مدارس، مساجد اور اوقاف کے وسیع ترین نیٹ ورک میں وقف کا کوئی ادارہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مئی ۲۰۲۱ء

نسبتوں کا سفر

چند روز قبل رمضان المبارک کے دوران ہی حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ سے خواب میں ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے مجھے ذاتی استعمال کی دو چیزیں مرحمت فرمائیں۔ تعبیر رویا کی ایک دو کتابوں کے متعلقہ حصوں پر نظر ڈالنے کے بعد تعبیر یہ سمجھ میں آئی کہ کسی سفر اور مہم جوئی کی طرف اشارہ ہے۔ رمضان المبارک کے دوران سفر سے حتی الوسع گریز کرتا ہوں اور عام طور پر اس کے تقاضوں پر معذرت ہی کر دیتا ہوں مگر خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کے رمضان المبارک کے ماحول کے بارے میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مئی ۲۰۲۱ء

قومی نصابِ تعلیم میں نا قابلِ قبول تبدیلیاں

قومی نظام تعلیم میں ایک طرف دینی و عصری تعلیمی نظاموں کو ’’یکساں نصاب تعلیم‘‘ کے عنوان سے کانٹ چھانٹ کے وسیع تر عمل سے گزارا جا رہا ہے، دوسری طرف اوقاف کے نئے قوانین کے ذریعہ مسجد و مدرسہ کی آزادی کو محدود تر کرنے کا عمل جاری ہے، جبکہ تیسری طرف اس وقت ملک کے رائج ریاستی نظام تعلیم کے نظریاتی پہلو کو کمزور کرنے اور نصابِ تعلیم سے اسلامی مواد کو کم سے کم کرنے کے اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۲۱ء

امریکہ کی عالمی چودھراہٹ کا نیا راؤنڈ

اخباری اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے صدارتی دفتر کے سو دن مکمل ہونے پر کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ دنیا کی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ افغانستان سے فوجیں واپس بلانے کا یہی وقت ہے، ہمیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد بحال کرنا ہے، ہم چین کے ساتھ تصادم اور روس کے ساتھ کشیدگی نہیں بڑھانا چاہتے وغیرہ وغیرہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مئی ۲۰۲۱ء

تعلیمی نظام میں تبدیلیوں پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت

ابھی نئے متنازعہ اوقاف قوانین کا سلسلہ چل رہا ہے کہ پنجاب حکومت نے تعلیمی نصاب سے اسلامی مواد کم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر کے ایک نیا مسئلہ کھڑا کر دیا جس سے ملک میں بے چینی کی نئی لہر دوڑ گئی۔ سپریم کورٹ میں اقلیتوں کے مطالبہ پر تعلیمی نصاب کے حوالہ سے جناب شعیب سڈل پر مشتمل یک رکنی کمیشن قائم کر کے رپورٹ اور تجاویز طلب کی گئیں تو انہوں نے اپنی رپورٹ میں تجویز کر دیا کہ نصاب تعلیم میں اسلامیات سے متعلقہ مواد صرف اسلامک اسٹڈی کے دائرہ میں محدود کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اپریل ۲۰۲۱ء

کرونا کی تیسری لہر

کرونا کی تیسری لہر کی تباہ کاریاں بڑھتی جا رہی ہیں اور دنیا کے بہت سے ممالک اس کی لپیٹ میں ہیں، بھارت سب سے زیادہ متاثر بتایا جاتا ہے اور پاکستان میں بھی اس کے دائرہ اثر میں روز افزوں وسعت پریشان کن ہے۔ یہ وائرس قدرتی ہے یا مصنوعی، اس پر بحث جاری ہے مگر بہرحال موجود ہے اور اپنا کام کر رہا ہے۔ ایک مجلس میں اس پہلو پر گفتگو چل نکلی تو میں نے عرض کیا کہ اگر واٹر سپلائی کی ٹینکی میں کوئی بدبخت زہر گھول دے تو اس کی تلاش ضرور کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ اپریل ۲۰۲۱ء

معاہدات – ذمہ داری یا ہتھیار؟

امریکہ کے صدر مسٹر جوبائیڈن نے افغانستان سے فوجوں کے انخلا میں یکطرفہ طور پر چار ماہ کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ معاہدہ کی مدت کے دوران انخلا مشکل ہے اس لیے اب افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا مئی کی بجائے ستمبر کے دوران مکمل ہو گا اور وہ بھی چند شرائط کے ساتھ مشروط ہو گا۔ اس کے ساتھ جرمنی کے وزیردفاع نے بھی کہا ہے کہ افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا ستمبر میں ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اپریل ۲۰۲۱ء

نئے اوقاف قوانین ۔ تمام مکاتب فکر کے راہنماؤں کا مشترکہ اعلامیہ

دس اپریل کو منصورہ لاہور میں ’’ملی مجلس شرعی پاکستان ‘‘کے زیر اہتمام ’’کل جماعتی تحفظ مساجد و مدارس کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جس میں وفاقی دارالحکومت سمیت تمام صوبوں میں نافذ ہونے والے اوقاف کے نئے قوانین کا جائزہ لیا گیا اور ان قوانین کو شرعی احکام، دستوری دفعات، قومی خودمختاری اور مسلمہ شہری حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے اور اس سلسلہ میں عوامی آگاہی و بیداری کی ملک گیر مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اپریل ۲۰۲۱ء

ڈیرہ اسماعیل خان میں دو روز

تین اپریل کو دو روز کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان جانے کا اتفاق ہوا۔ اہل حدیث دوستوں نے مسجد قاضیاں ڈیرہ شہر میں عصر کے بعد مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے سرکردہ حضرات کے اجتماع کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں ممتاز اہل حدیث راہنما مولانا محمد یوسف طیبی اور راقم الحروف نے خطاب کیا۔ اس موقع پر جو گزارشات پیش کیں ان کا اہم نکتہ یہ تھا کہ ہماری نئی نسل کا میٹرک سے پہلے کا دائرہ دینی تعلیمات سے بے خبری کا شکار ہے جبکہ کالج اور یونیورسٹی کا دائرہ شکوک و شبہات اور تذبذب کے حصار میں دکھائی دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اپریل ۲۰۲۱ء

اسٹیٹ بینک کے بارے میں مجوزہ قانونی ترامیم کا جائزہ

آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حوالہ سے ملکی قوانین میں مجوزہ ترامیم ان دنوں قومی حلقوں میں زیربحث ہیں اور انہیں قومی خودمختاری کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ریٹائرڈ سیشن جج چودھری خالد محمود نے ان کا جائزہ لیا ہے جو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مکمل تحریر

یکم اپریل ۲۰۲۱ء

وقف املاک کے نئے قوانین اور ہماری ذمہ داری

ملک بھر میں نافذ کیے جانے والے وقف املاک کے نئے قوانین کے بارے میں دینی حلقوں میں آگاہی اور بیداری کا ماحول بحمد اللہ تعالیٰ بنتا جا رہا ہے اور مختلف شہروں میں اس سلسلہ میں اجتماعات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ یہ قوانین جس عجلت میں منظور کرائے گئے ہیں اور جس طرح خاموشی کے ساتھ ان پر عملداری کی راہ ہموار کی جا رہی ہے وہ بجائے خود محل نظر ہے اور پس پردہ عزائم کی غمازی کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ مارچ ۲۰۲۱ء

نیا اوقاف ایکٹ اور مساجد کی رجسٹریشن

مختلف شہروں میں مساجد کی رجسٹریشن کے حوالہ سے محکمہ اوقاف کی طرف سے مساجد کو نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں اور محکمہ اوقاف کا عملہ ہر سطح پر خلاف معمول متحرک دکھائی دے رہا ہے۔ اسلام آباد کے لیے نئے اوقاف ایکٹ کے نفاذ سے جو صورتحال پیدا ہو گئی ہے اس کے تناظر میں محکمہ اوقاف کی یہ نقل و حرکت خصوصی طور پر لائق توجہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مارچ ۲۰۲۱ء

مساجد و اوقاف کا نیا قانون اور دینی قیادتوں کی ذمہ داری

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی حدود میں نئے اوقاف ایکٹ کے نفاذ کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے مشترکہ طور پر احکام شریعت اور انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قانون کو واپس لیا جائے۔ جبکہ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کی قیادت کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اور دیگر ذمہ دار حکومتی راہنماؤں نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں اعتماد میں لے کر قانون میں ترامیم کرتے ہوئے اسے دینی حلقوں کے لیے قابل قبول بنائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۲۱ء

توہین رسالتؐ اور آزادیٔ رائے کے حوالہ سے مغرب کا افسوسناک رویہ

ملکۂ برطانیہ ایلزبتھ دوم نے سلمان رشدی کو نائٹ ہڈ (سر) کا خطاب دے کر مسلمانوں کے پرانے زخموں کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے اور اس پر عالم اسلام میں احتجاج کی ایک نئی لہر شروع ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ملکۂ برطانیہ نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے نزدیک ایک انتہائی قابل نفرت شخص کو اس اعزاز کے لیے کس بنیاد پر چنا ہے اس کی باقاعدہ وضاحت تو وہی کر سکتی ہیں لیکن ایک عام مسلمان کا دنیا کے کسی بھی خطے میں تاثر یہی ہے کہ اس سے سلمان رشدی کی ان خرافات کی ملکۂ برطانیہ کی طرف سے تائید جھلکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جون ۲۰۰۷ء

اسلام، مسیحیت اور تھیاکریسی

مسیحی دنیا کی مذہبی پیشوائیت کا حال یہ تھا کہ اسے خدا کے براہ راست نمائندہ کی حیثیت دی جاتی تھی۔ سب سے بڑے مذہبی پیشوا کی رائے ہر معاملہ میں حرف آخر سمجھی جاتی تھی اور اس کی مطلق العنانی اور اختیارات کا یہ عالم تھا کہ بائبل کی آیات اور الفاظ کے تغیر و تبدل اور اس کی تعبیر و تشریح میں بھی اس کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ ان اختیارات اور مطلق العنانی کے ساتھ جب مذہبی پیشوائیت نے سائنسی ترقی اور مشاہدات سے انکار کر کے انہیں کفر ٹھہرایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۲۱ء

عالمِ اسلام اور پاکستان کے بارے میں امریکی عزائم

حضراتِ محترم! آج کے اس علماء کنونشن کے دعوت نامہ سے آپ حضرات کو علم ہو چکا ہے کہ یہ اجتماع عالمِ اسلام اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے معاملات میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور اس کے روز افزوں منفی اثرات سے پیدا شدہ صورتحال کا خالصتاً دینی نقطۂ نظر سے جائزہ لینے کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۱۹۹۴ء

چرچ آف انگلینڈ کی ایک دلچسپ رپورٹ

میں ۵ مئی کو لندن گیا تھا اور ۲۴ مئی کو واپس آ گیا ہوں۔ اس بار بھی حسب معمول مختلف شہروں کے دینی اجتماعات میں شرکت کی اور متعدد تعلیمی اداروں کے اجلاسوں میں حاضری دی۔ لندن، برمنگھم، گلاسگو، مانچسٹر، ایڈنبرا، نوٹنگھم، لیسٹر، آکسفورڈ، دالسال، برنلی، مدرویل، ڈنز اور لیوٹن وغیرہ میں علماء کرام اور دیگر احباب سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اور ورلڈ اسلامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شریک ہوا جس میں آئندہ تین سال کے لیے نئے عہدیداروں کا انتخاب عمل میں لایا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جون ۲۰۰۷ء

امام کعبہ الشیخ عبد الرحمان السدیس کے ساتھ ایک نشست

امام حرم مکہ الشیخ عبد الرحمان السدیس حفظہ اللہ تعالیٰ کی پاکستان تشریف آوری پر زندہ دلان پاکستان نے عقیدت و محبت کا جو اظہار کیا ہے وہ اسلام اور اسلامی شعائر کے ساتھ ان کی گہری وابستگی کی علامت ہے۔ مقامات مقدسہ کے حوالے سے اہل پاکستان نے ہمیشہ محبت و عقیدت اور جوش و جذبے کا اظہار کیا ہے۔ الشیخ السدیس مسجد حرام کے امام و خطیب ہیں اور نہ صرف یہ کہ نماز میں ان کی قراءت لاکھوں نمازیوں کے لیے اطمینان و مسرت کا باعث ہوتی ہے بلکہ ان کا جمعۃ المبارک کا خطبہ بھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جون ۲۰۰۷ء

نیکیوں کی تلقین اور برائیوں سے روکنے کا معاشرتی ماحول

بخاری شریف اور حدیث کی دیگر مستند کتابوں میں روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر صحابہ کرامؓ کو عام راستوں اور گزرگاہوں میں بیٹھنے اور مجلس لگانے سے منع فرما دیا۔ اس پر بعض صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمارا اس کے بغیر گزارہ نہیں کیونکہ کوئی ملنے کے لیے آئے تو بسا اوقات گھر میں بٹھانے کی جگہ نہیں ہوتی اور باہر کھلے راستے میں گفتگو کرنا پڑ جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جنوری ۲۰۲۱ء

’’گلوبل فائرپاور انڈیکس‘‘ میں پاک فوج کی ترقی

اس ہفتے جاری ہونے والی رپورٹ ’’گلوبل فائر پاور انڈیکس ۲۰۲۱ء‘‘ کے مطابق پاک فوج اس سال دنیا کی طاقتور ترین افواج کی فہرست میں دسویں نمبر پر آ گئی ہے، جبکہ گزشتہ سال کی رپورٹ میں یہ پندرہویں نمبر پر تھی۔ رپورٹ میں شامل پہلی دس افواج بالترتیب یوں ہیں: امریکہ، روس، چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، فرانس، برطانیہ، برازیل اور پاکستان، جبکہ ترکی کا نمبر گیارہواں اور اسرائیل کا بیسواں ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مسلح افواج کا یہ اعزاز پاکستانی قوم کے لیے قابل فخر و مسرت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جنوری ۲۰۲۱ء

فہم قرآن کریم اور مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ

’’قرآن فہمی‘‘ دین کے فہم اور تفہیم دونوں کا بنیادی تقاضہ ہے اس لیے یہ ہر دور کے اہل علم و دانش کی فکری و علمی جدوجہد کا مرکزی نکتہ رہا ہے جس کا تسلسل قیامت تک اسی طرح رہے گا۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام پر نازل ہونے والی وحی مسلسل کا آخری، حتمی اور مکمل مجموعہ ہے جس کے نزول کے بعد رہتی دنیا تک نسل انسانی کی ہدایت اور رشد و فلاح اسی سے وابستہ ہے۔ قرآن کریم کا اساسی موضوع نسل انسانی کی ہدایت ہے اس کا دائرہ پوری نسل انسانی اور دورانیہ قیامت تک وسیع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جنوری ۲۰۲۱ء

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے سابقہ اساتذہ و طلبہ سے ملاقات

دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کے حسین تصور پر ہم نے گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کے عنوان سے گوجرانوالہ میں ایک تعلیمی پروگرام کا آغاز کیا تھا جو اَب جامعۃ الرشید کراچی کے زیراہتمام ’’جامعہ شاہ ولی اللہؒ‘‘ کے نام سے انہی مقاصد اور پروگرام کے مطابق مصروف عمل ہے۔ اس پروگرام کے بانیوں میں حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ، حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ، الحاج میاں محمد رفیقؒ، الحاج شیخ محمد اشرفؒ، پروفیسر غلام رسول عدیم، میاں محمد عارف ایڈووکیٹ اور دیگر بزرگوں کے ساتھ میں بھی شامل تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ نومبر ۲۰۲۰ء

Pages