مقالات و مضامین

مرزا طاہر احمدکی بڑ یا ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کی ایک جھلک

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۲ جون ۱۹۹۱ء کے مطابق سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی نے انکشاف کیا ہے کہ قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے ایک حالیہ انٹرویو میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کو دوبارہ متحد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ یہ انٹرویو بھارت کے انگریزی جریدہ ’’مسلم انڈیا‘‘ کی گزشتہ اشاعت میں چھپا ہے جس کے مطابق مرزا طاہر احمد کا کہنا ہے کہ: ’’پاکستانی انڈین ہیں، اس طرح بنگلہ دیش کے لوگ انڈین ہیں، یہ ایک تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی حقیقت ہے، تاہم آج کے دور کی سیاسی حقیقت نہیں، یہ صرف ایک سیاسی تقسیم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۱۹۹۱ء

کچھ گھریلو ماحول کے بارے میں

ان دنوں بعض دوست انتہائی تعجب سے پوچھتے ہیں کہ تم آرام سے گھر میں کیسے بیٹھے ہو اور وقت کیسے گزرتا ہے؟ ان کا تعجب بجا ہے اس لیے کہ میرے ساتھ پہلے کبھی ایسا ہوا نہیں۔ والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ مجھے ’’دابۃ الارض‘‘ کہا کرتے تھے اور خاندان کے کسی معاملہ میں میری حاضری ضروری ہوتی تو وہ گھر والوں سے فرماتے کہ اس دابۃ الارض کو تلاش کرو کہاں ہے۔ حتٰی کہ جب جامعہ نصرۃ العلوم میں میرے ذمہ کچھ اسباق لگائے گئے تو اس کے لیے عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ نے اساتذہ کے اجلاس میں کہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اپریل ۲۰۲۰ء

قوموں کی سرکشی پر عذاب الٰہی

سورۃ یوسف کے آخر میں اللہ تعالٰی نے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور مختلف اقوام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن کریم میں ماضی کی قوموں کے واقعات کا ذکر اس لیے کیا ہے تاکہ وہ ارباب فہم و دانش کے لیے سبق اور عبرت کا ذریعہ بنیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ گھڑی ہوئی باتیں نہیں بلکہ پہلی آسمانی کتابوں میں بیان کردہ باتوں کی تصدیق اور وضاحت کرتی ہیں۔ اس پس منظر میں ماضی کی دو قوموں کا تذکرہ موجودہ حالات کے تناظر میں مناسب معلوم ہوتا ہے تاکہ ہمیں ان سے سبق حاصل کرنے اور عبرت پکڑنے کا موقع ملے، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اپریل ۲۰۲۰ء

برطانیہ میں مسلم فرقہ واریت کے اثرات

اس وقت میں برطانیہ کے شہر شیفیلڈ میں مولانا مفتی محمد یونس کشمیری کی رہائشگاہ میں بیٹھا ہوں۔ لندن سے شائع ہونے والا اردو روزنامہ ملت (۲۶ اگست) میرے سامنے ہے، اس کے صفحہ اول پر ایک خبر کی تین کالمی سرخی یہ ہے: ’’نیلسن میں برائرفیلڈ کی مسجد میں ہنگامہ کرنے پر ۶ افراد کو جرمانے کی سزا’’۔ خبر کے مطابق مذکورہ مسجد میں کچھ عرصہ قبل امامت کے مسئلہ پر دو فریقوں میں تنازعہ ہوا جو باہمی تصادم کی شکل اختیار کر گیا۔ مسجد کچھ عرصہ کے لیے بند کر دی گئی۔ پنج وقتہ نمازیں بھی مسلمان اس عرصے میں ادا نہ کر سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اکتوبر ۱۹۸۸ء

تحریک پاکستان اور علماء کرام

پاکستان کے قیام کو نصف صدی گزر چکی ہے مگر ابھی تک اس کے نظریاتی اہداف کے حصول کے لیے کوئی سنجیدہ پیشرفت نہیں ہوئی، بلکہ قیام پاکستان کے نظریاتی مقاصد کو دھندلانے کے لیے اس پراپیگنڈا میں دن بدن شدت پیدا کی جا رہی ہے کہ پاکستان تو علماء کے موقف کے علی الرغم قائم ہوا تھا، اس لیے اس ملک میں علماء کی راہنمائی اور ان کے نظریاتی موقف و پروگرام کی پذیرائی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ حالانکہ یہ محض ایک دھوکہ ہے جس کا مقصد صرف پاکستان کو اسلامی تشخص سے دور رکھنے کی راہ ہموار کرنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۷ء

مذہبی انتہا پسندی کے اسباب اور اس کا علاج

برطانیہ کی انتظامیہ کا مسلمانوں کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ یہاں کے مسلم نوجوانوں کے جذبات اور مبینہ طور پر ان کی انتہا پسندی کو کنٹرول میں رکھنا ہے، تاکہ انتظامی مسائل پیدا نہ ہوں اور اس سلسلے میں مشکلات کم ہوں۔ آج جبکہ میں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں، میرے سامنے لندن میں شائع ہونے والا ایک اردو اخبار پڑا ہے جس کی اہم خبر یہ ہے کہ برطانوی حکومت لوکل اتھارٹیز کو پانچ ملین پونڈ اس مقصد کے لیے دے رہی ہے کہ وہ نوجوان مسلمانوں کو انتہا پسندی کی طرف جانے سے روکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جنوری ۲۰۰۷ء

جنرل مشرف کے لیے تین نکاتی ایجنڈا

پاک فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے آئین معطل کر کے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو کا منصب سنبھال لیا ہے۔ اس کے پس منظر میں واقعات کا ایک پورا تسلسل ہے جو قارئین کے سامنے ہے اور ان میں سے کسی بات کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عام حلقوں میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ملک کسی بڑے بحران سے بچ گیا ہے۔ نواز شریف کے سیاسی مخالفین خوشیاں منا رہے ہیں اور ان کے سیاسی ہمدرد افسوس کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ ہمارے نزدیک اب تک کی صورتحال میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۱۹۹۹ء

مسئلہ قادیانیت: بھٹی صاحب کے تین اعتراضات

راقم الحروف نے مندرجہ بالا عنوان کے تحت چند روز قبل قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے ایک بیان پر گرفت کی تھی جس میں انہوں نے حالیہ مردم شماری میں قادیانی جماعت کے بعض افراد کے اندراج کے حوالہ سے کچھ علماء کرام کے اس بیان کو جھٹلایا تھا کہ مردم شماری میں اپنے نام درج کرانے والے قادیانیوں نے خود کو غیر مسلم تسلیم کر لیا ہے۔ اس کے جواب میں طاہر احمد بھٹی صاحب کا ایک مضمون ’’مولانا! آپ کی دعوت سر آنکھوں پر مگر……’’ کے عنوان سے روزنامہ اوصاف میں شائع ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ مئی ۱۹۹۸ء

کرونا کنٹرول میں چین کی پالیسی اور ہمارا طرز عمل

کرونا وائرس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ چائنہ نے کافی حد تک اسے کنٹرول کر لیا ہے مگر ایران اور اٹلی کے بعد امریکہ میں اس کے پھیلاؤ کو روکنا مشکل مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ رپورٹیں بھی آنا شروع ہو گئی ہیں کہ کرونا وائرس یا وبائی فلو کی یہ لہر فطری ہے یا اس کے پیچھے کوئی منصوبہ بندی کارفرما ہے۔ ہم اس سلسلہ میں اپنے ایک کالم میں عرض کر چکے ہیں کہ اس کا پورا امکان موجود ہے کہ یہ حیاتیاتی جنگ یا وائرس وار کا کوئی مرحلہ ہو، مگر ابھی اس بحث کو چھیڑنے کی بجائے ہم اس کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرین کی مدد کے پہلو کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ مارچ ۲۰۲۰ء

دینی مدارس کو درپیش آزمائش اور اسوۂ حسنہ

دینی مدارس کو درپیش فکری چیلنجز بہت سے ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ ان مدارس کی آخر الگ سے کیا ضرورت ہے؟ اور جب مسلمان معاشرے میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں موجود ہیں اور تعلیمی خدمات سرانجام دے رہی ہیں تو اجتماعی دھارے اور مین اسٹریم سے ہٹ کر یہ مدارس الگ کیا کام کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں؟ یہ بہت بڑا سوال ہے جو پوری دنیا میں دہرایا جا رہا ہے اور بار بار دہرایا جا رہا ہے جس کا جواب دینا ضروری ہے اور نئی نسل کو مطمئن کرنا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ تا ۲۵ جولائی ۲۰۰۷ء

مغربی عوام اور حکمران ہم آہنگ نہیں

۲۸ ستمبر ۲۰۰۲ء کو لندن میں عراق پر مجوزہ امریکی حملے کے خلاف عوامی مظاہرہ تھا۔ گزشتہ سال انہی دنوں میں افغانستان پر امریکی حملے کے خلاف بھی لندن میں ایک بڑا مظاہرہ ہوا تھا جس میں شرکت کا مجھے بھی موقع ملا۔ مغربی ممالک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو عراق، فلسطین، کشمیر اور افغانستان کے حوالے سے امریکہ اور برطانیہ کی قیادت کے درمیان قائم عالمی اتحاد کے عزائم کو ان کے اصل پس منظر میں سمجھتے ہیں اور اسے سراسر ظلم قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف آواز بھی بلند کرتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ اکتوبر ۲۰۰۲ء

مسلمان اور مسیحی مذہبی راہنماؤں کے درمیان مکالمہ کی ضرورت

ایک عرصہ سے دل میں یہ خواہش پرورش پاتی چلی آ رہی ہے کہ مغرب آسمانی تعلیمات اور مذہبی احکامات و اقدار سے بغاوت کے جو تلخ نتائج بھگت رہا ہے اور اب ان میں ہم مشرق والوں کو بھی شریک کرنے کے درپے ہے، ان کے بارے میں سنجیدہ مسیحی مذہبی راہنماؤں سے گفتگو کی جائے اور اگر مذہب گریز رجحانات کو روکنے کے لیے کسی درجے میں مشترکہ کوششوں کی کوئی راہ نکل سکتی ہو تو اس کے لیے پیشرفت کی جائے۔ پاکستان کے مسیحی راہنماؤں میں آنجہانی جسٹس اے آر کارنیلیس اور آنجہانی جوشوا فضل دین کے بعد کوئی ایسا مسیحی راہنما نظر نہیں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اگست ۱۹۹۷ء

فکری بیداری کے مختلف دائرے اور ہماری ذمہ داری

اب سے سترہ اٹھارہ برس پہلے ہم نے ورلڈ اسلامک فورم تشکیل دیا اور احباب کو توجہ دلائی کہ وہ دینی جدوجہد کے حوالے سے آج کے دور کی ضروریات اور تقاضوں کا ادراک حاصل کریں اور ان کو سامنے رکھ کر اسلام اور مسلمانوں کے لیے اپنی محنت کو مؤثر بنائیں، تو ہماری یہ آواز اجنبی سی محسوس ہو رہی تھی اور یوں لگتا تھا کہ شاید کوئی بھی ہماری اس آواز کو سنجیدگی کے ساتھ سننے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ لیکن آج بحمد اللہ تعالٰی ہم مطمئن ہیں کہ اس آواز کو دھیرے دھیرے پذیرائی حاصل ہو رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ و ۳۰ مئی ۲۰۰۸ء

مغربی ممالک میں مسلمان بچوں کی دینی تعلیم

مذاکرہ میں اس امر کا جائزہ لیا گیا کہ مغربی معاشرہ میں ان ضروریات کا دائرہ کیا ہے جن کی تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض عین ہے اور جن کے بغیر کوئی شخص اس معاشرہ میں ایک صحیح مسلمان کے طور پر زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ بحث و تمحیص کے بعد والدین، اساتذہ اور خطباء و ائمہ سے یہ گزارش کرنے کا فیصلہ کیا گیا کہ وہ اپنے اپنے دائرہ کار میں مندرجہ ذیل امور کے حوالہ سے بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کی طرف خاص توجہ دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۳ء

مغرب میں مقیم مسلمانوں کے لیے دینی لائحہ عمل ۔ مولانا مفتی رفیع عثمانی کی تجاویز

امریکی ریاست ورجینیا میں وفاقی دارالحکومت واشنگٹن سے متصل علاقہ اسپرنگ فیلڈ میں ’’دارالہدیٰ‘‘ کے نام سے ایک دینی ادارہ ہے جس میں مسجد، قرآنی تعلیم کا مکتب اور طالبات کے لیے اسکول کے شعبے کام کر رہے ہیں۔ مولانا عبد الحمید اصغر کی سربراہی میں ایک ٹیم اس کارخیر میں مصروف ہے۔ موصوف بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں، بنیادی طور پر انجینئر ہیں، لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی میں استاد رہے ہیں، معروف نقشبندی بزرگ حضرت مولانا حافظ غلام حبیب نقشبندیؒ (آف چکوال) کے خلیفہ مجاز ہیں اور امریکہ آنے کے بعد ایک عرصہ سے دینی خدمات میں سرگرم ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اکتوبر ۲۰۰۳ء

برطانوی مسلمان اور مسٹر ڈیوڈ کیمرون کے خیالات

میں نے گزشتہ کسی کالم میں برطانوی کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر مسٹر ڈیوڈ کیمرون کے ایک انٹرویو کا ذکر کیا تھا جو انہوں نے ایک مسلمان خاندان کے ساتھ چوبیس گھنٹے گزارنے کے بعد دیا ہے اور میں نے اس کی تفصیلات ۱۲ مئی کو لندن سے شائع ہونے والے ایک اردو روزنامہ میں پڑھی تھیں۔ گزشتہ ماہ برطانیہ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے جہاں کنزرویٹو پارٹی کو یہ امید دلا دی ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات میں لیبر پارٹی پر سبقت حاصل کر سکتی ہے، وہاں حکمران لیبر پارٹی بھی نئی صف بندی پر مجبور ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جون ۲۰۰۷ء

مغربی معاشرہ میں دینی تعلیم

مولانا محمد کمال خان ہمارے محترم بزرگ ہیں، سوات کے رہنے والے ہیں، ایک عرصہ تک ڈیوزبری (برطانیہ) کے تبلیغی مرکز کے دینی مدرسہ میں خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں اور اب نوٹنگھم کے قریب نیوارک سے متصل بلڈنگ خرید کر الجامعۃ الاسلامیہ کے نام سے ایک بڑا دینی ادارہ قائم کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ بلڈنگ رائل ایئر فورس کے آفیسرز کے ہاسٹل کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے، اس میں ڈیڑھ سو کے قریب کمرے ہیں اور مجموعی رقبہ دس ایکڑ سے زائد ہے۔ اس کی قیمت کی قرضہ حسنہ سے ادائیگی کے لیے اصحاب خیر سے رابطے کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۲ء

لاک ڈاؤن اور مساجد کا مسئلہ

دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی کی طرف سے ایک اپیل سامنے آئی ہے جو انہوں نے کرونا وائرس کے سلسلہ میں بھارتی مسلمانوں سے کی ہے، ہمارے خیال میں وہ بہت متوازن اور قابل عمل ہے، اسے انہی کے الفاظ میں پیش کیا جا رہا ہے: ’’ملک میں کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا شدہ تشویشناک صورتحال کے پیش نظر تمام باشندگان ملک خصوصاً مسلمانوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ اس سلسلہ میں محکمۂ صحت کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کی پابندی کریں اور وطن عزیز کو اس وبا سے محفوظ رکھنے میں تعاون کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مارچ ۲۰۲۰ء

مغربی ممالک میں مسلمانوں کی نئی نسل کا مستقبل اور مسلم دانشوروں کی ذمہ داری

نئی نسل کے بارے میں اس قسم کے خیالات کا اظہار اکثر ہماری مجالس میں ہوتا رہتا ہے اور ہمیں یہ شکایت رہتی ہے کہ مغربی ممالک میں مقیم ہماری نئی نسل مشرقی روایات، اسلامی اقدار اور پاکستانی تہذیب سے بیگانہ ہوتی جا رہی ہے۔ شکوہ بجا مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس میں نئی نسل کا قصور کیا ہے؟ اور اسے کوسنے میں ہم کس حد تک حق بجانب ہیں؟ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صورتحال کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ جائزہ لیا جائے اور اس کے اسباب کا تجزیہ کیا جائے، مستقبل کی ضروریات کی نشاندہی کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۳ء

’’دیار مغرب کے مسلمان ۔ مسائل، ذمہ داریاں، لائحہ عمل‘‘

برطانیہ کا پہلا سفر میں نے ۱۹۸۵ء میں اور امریکہ کا پہلا سفر ۱۹۸۷ء میں کیا تھا۔ دونوں ممالک کے اس سفر کا ابتدائی داعیہ قادیانی مسئلہ تھا۔ ۱۹۸۴ء میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پاکستان میں اسلام کے نام پر اور مسلمانوں کی اصطلاحات کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے سے قادیانیوں کو روک دیا اور ان کے لیے اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مذہبی شعائر و اصطلاحات کے استعمال کو قانوناً جرم قرار دے دیا تو قادیانیوں نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز لندن کو بنا لیا اور وہاں ’’اسلام آباد‘‘ کے نام سے نیا مرکز بنا کر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جون ۲۰۰۸ء

ملک بھر کے دینی کارکنوں اور علماء کرام سے اپیل

’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کا انتخابی اور حکومتی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس کے قیام کے ساتھ واضح کر دیا گیا تھا کہ انتخابی سیاست اور اقتدار کی کشمکش سے الگ تھلگ رہتے ہوئے پاکستان شریعت کونسل ملک میں (۱) اسلامی نظام کے نفاذ، (۲) دینی قوتوں میں رابطہ و مفاہمت کے فروغ، (۳) اور اسلام مخالف لابیوں اور سرگرمیوں کے تعاقب کے لیے فکری اور علمی محاذ پر کام کرے گی۔ چنانچہ اسی دائرہ میں رہتے ہوئے کونسل اپنے وسائل اور استطاعت کے دائرہ میں سرگرم عمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۲ء

مجلس تحفظ حدود اللہ کا قیام اور متحدہ مجلس عمل کی ریلی

’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کے بارے میں اسلامی نظریہ کونسل کی حالیہ رائے، مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کی طرف سے ’’مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان‘‘ کے قیام کے ساتھ اس بل کے خلاف جدوجہد کے اعلان اور متحدہ مجلس عمل کی لاہور سے گجرات تک ریلی کے بعد اس سلسلہ میں صورتحال خاصی دلچسپ ہوتی جا رہی ہے، مگر اس حوالے سے کچھ عرض کرنے سے قبل ایک وضاحت ضروری سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ دسمبر ۲۰۰۶ء

سرحد حکومت کے اصل کام

سرحد اسمبلی نے گزشتہ دنوں اہم نوعیت کی چند قراردادیں پاس کی ہیں جو اگرچہ سفارشی نوعیت کی ہیں، مگر ان سے سرحد اسمبلی میں ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ کی صوبائی حکومت کے فکری رجحانات کی نشاندہی ہوتی ہے اور نفاذ اسلام کے حوالے سے وفاقی حکومت اور ملک کی دیگر صوبائی حکومتوں کے لیے بھی ان میں راہنمائی کا سامان موجود ہے۔ مکمل تحریر

۲۰۰۲ء غالباً

پاکستان اور عالم اسلام کا مستقبل

مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام کا وفد بھارت کے دورے سے واپس آگیا ہے، وفد میں جمعیت کے تین دوسرے لیڈر حافظ حسین احمد، مولانا گل نصیب خان، اور مولانا قاضی حمید اللہ خان بھی شامل تھے۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند میں حاضری کے علاوہ جمعیت علماء ہند کے راہنماؤں اور بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سمیت متعدد بھارتی لیڈروں سے ملاقاتیں کیں جن میں انڈین نیشنل کانگریس کی لیڈر سونیا گاندھی بھی شامل ہیں۔ اس دورے کا اصل پس منظر تو یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل پشاور میں جمعیت علماء اسلام کے زیراہتمام منعقد ہونے والی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اگست ۲۰۰۳ء

عید الفطر پر تذبذب کی صورتحال اور اس کا حل

عید الفطر گزر گئی ہے اور ملک بھر میں روایتی جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی ہے۔ رؤیت ہلال کا تنازع حسب توقع عید کے موقع پر بھی قائم رہا۔ صوبہ سرحد کی رؤیت ہلال کمیٹی نے اپنے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے پیر کی شام کو اجلاس طلب کر لیا اور سینکڑوں شہادتوں کی بنیاد پر فیصلہ صادر کر دیا کہ عید الفطر ۲۵ نومبر منگل کو ہوگی۔ صوبہ بلوچستان کی رؤیت ہلال کمیٹی نے بھی اس حد تک صوبہ سرحد کا ساتھ دیا کہ چاند دیکھنے کے لیے اجلاس پیر کی شام کو طلب کر لیا مگر کوئی شہادت نہ ملنے کی وجہ سے بدھ کی عید کا اعلان کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ دسمبر ۲۰۰۳ء

تحفظ نسواں بل سے متعلق علماء کمیٹی کی سفارشات

حدود آرڈیننس میں ترامیم بل کے حوالے سے جو بحران پیدا ہوتا نظر آرہا تھا وہ بحمد اللہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن کی خصوصی حکمت عملی اور توجہ کے باعث باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ اصولی طور پر رک گیا ہے۔ اور اگر تحفظ حقوق نسواں بل کو قومی اسمبلی میں دوبارہ پیش کرتے وقت کوئی اور الجھن پیدا نہ ہوئی تو امید ہے کہ اس مسئلہ پر کوئی نیا بحران کھڑا نہیں ہوگا اور اس کے ملک کی سالمیت پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ ستمبر ۲۰۰۶ء

چاند کا مسئلہ: مشترکہ دینی قیادت کی آزمائش

رؤیت ہلال کا مسئلہ اس سال قومی سطح پر متنازعہ صورت اختیار کرنا نظر آرہا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر اس مسئلہ کو سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے کی فوری کوشش نہ کی گئی تو عید الفطر کے موقع پر یہ خلفشار وسیع تر صورت اختیار کر جائے گا اور قوم متفقہ یا کم از کم اکثریتی عید کے ثواب و لطف سے محروم ہو جائے گی۔ اب سے ربع صدی قبل بلکہ اس سے بھی پہلے ہمارے طالب علمی کے دور میں یہ صورتحال عام طور پر پیش آ جاتی تھی کہ چاند کی رؤیت کے مسئلہ پر اختلاف ہو جاتا تھا اور بسا اوقات ایک شہر میں دو دن الگ الگ عید منائی جاتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ نومبر ۲۰۰۳ء

رؤیت ہلال کا مسئلہ۔ قائدین توجہ فرمائیں!

رؤیت ہلال کا مسئلہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد حسن جان کے استعفٰی کے بعد مزید تشویشناک صورت اختیار کر گیا ہے۔ قومی اخبارات میں شائع ہونے والے ایک بیان میں مولانا حسن جان نے فرمایا ہے کہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا مفتی منیب الرحمن نے کمیٹی کے دیگر حاضر ارکان کے مشورے اور رائے پر توجہ دینے کی بجائے ذاتی فیصلے پر اڑے رہنے کو ترجیح دی ہے جس کی وجہ سے ۲۸ اکتوبر کو چاند نظر نہ آنے کا اعلان ان کا ذاتی فیصلہ ہے، کمیٹی کا فیصلہ نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ نومبر ۲۰۰۳ء

رؤیت ہلال کا مسئلہ اور سپریم کورٹ کے جج صاحبان کے ریمارکس

رؤیت ہلال کا مسئلہ اس بار پھر تنازع کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے، اور اس کی بازگشت سپریم کورٹ کے ایوانوں میں بھی سنائی دینے لگی ہے۔ ۲۳ ستمبر (۲۹ شعبان) کو مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا مفتی منیب الرحمن نے اعلان کیا کہ ملک کے کسی بھی حصے سے چاند دیکھے جانے کی شہادت موصول نہیں ہوئی اس لیے مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ یکم رمضان المبارک ۲۵ ستمبر کو پیر کے روز ہو گی۔ جبکہ صوبہ سرحد کے وزیر مذہبی امور مولانا امان اللہ حقانی کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اکتوبر ۲۰۰۶ء

اسلام کی تعبیر و تشریح اور قائد اعظمؒ

سرحد اسمبلی میں شریعت ایکٹ کی منظوری کے بعد ایک بار پھر ملک بھر میں اسلام کی تعبیر و تشریح کے حوالے سے بحث میں شدت آگئی ہے، اور اس سلسلے میں نئے مضامین اور بیانات منظر عام پر آنا شروع ہو گئے ہیں کہ جن اسلامی احکام اور قوانین کے نفاذ کی بات کی جا رہی ہے، ان کی عملی شکل طے کرنے کا معیار اور طریق کار کیا ہوگا اور ان کی تعبیر و تشریح کا حق کسے حاصل ہوگا؟ چنانچہ اس بارے میں فرزند اقبال جسٹس جاوید اقبال صاحب کا یہ دلچسپ بیان ایک قومی اخبار میں نظر سے گزرا کہ اسلام کی وہی تشریح پاکستان میں قبول کی جائے گی جو قائد اعظم نے کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جون ۲۰۰۳ء

طالبانائزیشن اور امریکنائزیشن!

سرحد اسمبلی نے دو دن کی بحث کے بعد ’’حسبہ بل‘‘ ۳۴ کے مقابلے میں ۶۸ کی اکثریت سے منظور کر لیا ہے، جبکہ وفاقی حکومت نے اسے دستور میں بنیادی حقوق کے بارے میں دی گئی ضمانت کے منافی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اے پی پی کے مطابق وفاقی وزیر قانون جناب وصی ظفر نے کہا ہے کہ حسبہ بل ملک میں انارکی پھیلانے اور جمہوریت کو ناکام بنانے کا ذریعہ بنا ہے، جسے موجودہ جمہوری حکومت ہرگز کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جولائی ۲۰۰۵ء

خطوط و مضامین میں اٹھائے گئے اہم نکات پر ایک نظر

محترم عطاء الحق قاسمی، محترم انصر رضا، محترم ڈاکٹر عبد الخالق اور محترم آفتاب عروج کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس بحث میں حصہ لیا اور ایک اہم ملی اور قومی مسئلہ پر اپنے خیالات و ارشادات کے ساتھ ہماری راہنمائی فرمائی۔ ان میں سے بہت سے اہم امور پر گزشتہ گزارشات میں ضروری بات ہو چکی ہے البتہ کچھ نکات پر اظہار خیال کی گنجائش موجود ہے جن کے بارے میں چند معروضات پیش کی جا رہی ہیں۔ محترم عطاء الحق قاسمی سے صرف یہ شکایت ہے کہ انہوں نے غریبی دعویٰ میں دونوں طبقات کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۳ء

کرونا وائرس کے اثرات اور چند احساسات

کرونا وائرس پھیلتا جا رہا ہے اور اس کے اثرات ہر طرف ظاہر ہونے لگے ہیں۔ اس سے قبل اس سلسلہ میں کچھ تاثرات کا اظہار گزشتہ کالم میں کر چکا ہوں، آج کچھ مزید احساسات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ایک بات تو واضح ہے کہ اللہ تعالٰی ہمیں بتا رہے ہیں کہ کائنات میں صرف وہ کچھ نہیں جو تم دیکھ رہے ہو اور محسوس کر رہے ہو بلکہ اس کے علاوہ بلکہ اس سے کہیں زیادہ وہ کچھ بھی تمہارے اردگرد موجود و متحرک ہے جو تمہیں نظر نہیں آتا اور محسوس نہیں ہوتا۔ دنیائے غیب کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے جو اپنا کام کر رہا ہے اور تم اس کے درمیان میں رہتے ہوئے بھی اس کو محسوس نہیں کر پاتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۲۰۲۰ء

دینی مدارس کیلئے حکومتی امداد ۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا مفتی محمودؒ کا موقف

سرکاری سطح پر ’’مدرسہ ایجوکیشن بورڈ‘‘ نے کام شروع کر دیا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم زمان مدرسہ بورڈ کے چیئرمین ہیں۔ اسلام آباد کے حاجی کیمپ میں اس کا ہیڈ آفس قائم ہو گیا ہے اور ڈاکٹر صاحب محترم کی طرف سے اخبارات میں ایک اشتہار کے ذریعے سے دینی مدارس سے اس بورڈ کے ساتھ الحاق کے لیے درخواستیں طلب کرنے کا اعلان بھی ہو گیا ہے۔ گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں ایک حساس ادارے کے ذمہ دار افسر نے مجھ سے دریافت کیا کہ سرکاری بورڈ کے ساتھ الحاق کے سلسلہ میں آپ کی کیا رائے ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اگست ۲۰۰۳ء

نفاذ شریعت کے لیے جامعہ حفصہ کا اقدام

۲۰ فروری کو راولپنڈی پہنچ کر سواں کیمپ کے ہمراہی ٹریول کے اڈے سے جامعہ اسلامیہ راولپنڈی صدر کے لیے ٹیکسی پر جا رہا تھا کہ گوجرانوالہ سے ہمارے ایک صحافی دوست طاہر قیوم چودھری نے موبائل فون پر بتایا کہ صوبائی وزیر ظل ہما عثمان کو گوجرانوالہ میں کھلی کچہری کے دوران میں گولی مار دی گئی ہے اور انہیں انتہائی نازک حالت میں لاہور لے جایا گیا ہے۔ اس وقت اس سے زیادہ خبر نہ ملی، بہت پریشانی ہوئی اور اسی پریشانی کے عالم میں جامعہ اسلامیہ پہنچا جہاں مولانا قاری سعید الرحمن اور دیگر احباب منتظر تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ فروری ۲۰۰۷ء

کلیۃ الشریعہ کے نصاب سے متعلق دو روزہ سیمینار

میں دو روز سے جامعۃ الرشید کراچی میں ہوں۔ ۲۰ اگست اتوار کو عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ کے ہمراہ کراچی پہنچا تو سیدھا لانڈھی چلا گیا۔ معین آباد میں جامعہ عثمانیہ کے مہتمم مولانا حافظ اقبال اللہ نے علماء کرام کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کر رکھا تھا۔ مختلف احباب سے ملاقاتیں ہوئیں۔ لانڈھی سے متحدہ مجلس عمل کے ایم پی اے مولانا احسان اللہ ہزاروی بھی اس نشست میں شریک تھے، وہ ہمارے پرانے ساتھیوں میں سے ہیں، جمعیت علماء اسلام کے سرگرم رہنما ہیں اور پاکستان شریعت کونسل کی سرگرمیوں میں بھی ہمارے ساتھ شریک ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اگست ۲۰۰۶ء

دینی مدارس کا تعلیمی نصاب اور چند ناگزیر جدید تقاضے

دو تین روز جامعہ الہدیٰ نوٹنگھم کی تعلیمی مشاورت میں گزرے۔ یہ جامعہ ’’مدنی ٹرسٹ نوٹنگھم‘‘ کے زیر اہتمام مصروف عمل ہے جس کے چیئرمین میرپور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے مولانا حکیم اختر الزمان غوری اور سیکرٹری سیاکھ آزاد کشمیر کے مولانا رضاء الحق ہیں۔ دونوں کا تعلق بڑے علمی خاندانوں سے ہے۔ غوری صاحب کے والد محترم مولانا حکیم حیات علی چشتیؒ کشمیر کے بزرگ علماء اور مشائخ میں سے تھے۔ حضرت مولانا خلیل احمد محدث سہارنپوریؒ اور حضرت مولانا حافظ محمد صدیق آف بھر چونڈی شریف جیسے عظیم بزرگوں کی زیارت اور ان سے استفادہ کا شرف رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اکتوبر ۲۰۰۴ء

سانحہ لال مسجد اور وفاق المدارس کا اجلاس

دو روز سے ملتان میں ہوں اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ اور مجلس شوریٰ کے ہنگامہ خیز اجلاس میں شریک ہوں۔ یہ اجلاس لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے المناک سانحہ کے بارے میں خصوصی طور پر طلب کیا گیا تھا اور اس کے بارے میں کئی دنوں سے خبریں آ رہی تھیں کہ اس میں خاصی گہماگہمی ہوگی، اس لیے کہ سانحہ لال مسجد کے حوالے سے وفاق المدارس کی جدوجہد کے بارے میں بہت سے احباب شکوک و شبہات کا شکار ہیں اور تحفظات رکھتے ہیں جبکہ بعض حلقوں کی طرف سے شکوک و شبہات کا ماحول پیدا کرنے کی باقاعدہ کوشش بھی کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اگست ۲۰۰۷ء

وفاق المدارس العربیہ عوام کی عدالت میں

رجب ہمارے ہاں دینی مدارس کے تعلیمی نظام میں سال کا آخری مہینہ ہوتا ہے۔ شوال کے وسط سے شروع ہو کر رجب کے وسط تک عام طور پر تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری رہتا ہے، اس کے بعد امتحانات ہوتے ہیں اور پھر شوال کے وسط تک کے لیے سالانہ تعطیلات ہو جاتی ہیں۔ کچھ عرصے سے ان دنوں میں بخاری شریف کے اختتام کی تقریبات کثرت کے ساتھ ہونے لگی ہیں۔ بخاری شریف درس نظامی کے تعلیمی نصاب میں آخری کتاب ہے جس کی تعلیم مکمل ہونے کے ساتھ ہی طالب علم امتحان میں کامیابی کی صورت میں سند فراغت کے مستحق ہو جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اگست ۲۰۰۷ء

شرعی عدالتوں کے قیام کا جواز

متحدہ قومی موومنٹ نے گزشتہ دنوں کراچی میں لال مسجد اسلام آباد کے اس اعلان کے خلاف ریلی نکالی ہے جس میں شرعی عدالت کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے اور اس طرح الطاف بھائی نے شرعی احکام کی بالادستی اور نفاذ کے خلاف باقاعدہ مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ جہاں تک لال مسجد اسلام آباد کی قائم کردہ شرعی عدالت کا تعلق ہے، اس کے خدوخال ابھی تک واضح نہیں ہوئے اور نہ ہی اس کے طریقہ کار اور اس کے حدود عمل کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا سردست قبل از وقت ہوگا، اس لیے کہ یہ بات اس شرعی عدالت کے قواعد و ضوابط اور حدود کار سے واضح ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۰۷ء

ائمہ مساجد اور علماء کرام کی معاشرتی ذمہ داریاں

علماء کرام کے بارے میں ایک حدیث نبویؐ کی بنیاد پر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث ہیں، جبکہ ائمہ جس مصلے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھاتے ہیں اسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مصلیٰ سمجھا جاتا ہے، اور جس منبر پر خطبہ دیتے ہیں اسے منبر رسولؐ کے عنوان سے پکارا جاتا ہے۔ اس حوالے سے علماء اور ائمہ اس معاشرہ میں جناب نبی اکرمؐ کی نیابت اور نمائندگی کے منصب پر فائز ہیں اور ہمیں اس منصب کی ذمہ داریوں اور تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جائزہ لینا چاہیے کہ ہم ان ذمہ داریوں کو کہاں تک ادا کر رہے ہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جنوری ۲۰۰۴ء

دینی مدارس کا نصاب تعلیم اور شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ

بنگلہ دیش کے حالیہ سفر کے دوران سلہٹ کے دینی مدرسہ ’’مدینۃ العلوم دارالسلام‘‘ کی لائبریری میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کا تحریر فرمودہ ایک نصاب تعلیم ملا جو انہوں نے اب سے کم و بیش ستر برس قبل دینی مدارس کے لیے ترتیب دیا تھا۔ پڑھ کر تعجب ہوا کہ جن ضروریات اور تقاضوں کی طرف ہم دینی مدارس کو آج توجہ دلا رہے ہیں، وہ پون صدی قبل حضرت مدنیؒ تفصیل کے ساتھ تحریر فرما چکے ہیں مگر ان امور کو جو توجہ دینی مدارس کی طرف سے حاصل ہونی چاہیے تھی وہ نظر نہیں آرہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جنوری ۲۰۰۴ء

دینی مدارس کے منتظمین سے ایک گزارش

ہمارے معاشرے میں عام آدمی کا تعلق دینی تعلیم کے ساتھ قائم رکھنے اور دینی علوم کی حفاظت و ترویج کے لیے دینی مدارس نے گزشتہ سو، سوا سو برس میں جو کردار ادا کیا ہے، وہ بلاشبہ ہماری ملی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اور کسی سرکاری امداد کے بغیر عام لوگوں کے رضاکارانہ تعاون سے انتہائی سادگی، قناعت اور کم سے کم خرچہ کے ساتھ اپنے اہداف میں پیشرفت کر کے دینی مدارس کے اس نیٹ ورک نے جو سب سے بڑا مقصد حاصل کیا ہے، وہ یہ ہے کہ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے ارشاد کے مطابق یہ خطہ اسپین بننے سے بچ گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ دسمبر ۱۹۹۸ء

وفاق المدارس کے ایک فیصلہ پر چند گزارشات

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس شوریٰ کی کارروائی کی رپورٹ اس وقت میرے سامنے ہے جو وفاق کے سہ ماہی مجلہ میں شائع ہوئی ہے۔ مدارس دینیہ کے حوالہ سے قومی اور عالمی سطح پر اس وقت جو سرگرمیاں سامنے آرہی ہیں، ان کے پیش نظر وفاق المدارس کی مجلس شوریٰ کے ان فیصلوں کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے جن کا ذکر اس رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ وفاق المدارس کے فیصلوں میں پالیسی کے حوالہ سے سب سے اہم فیصلہ یہ ہے کہ دینی مدارس کسی قسم کی سرکاری امداد قبول نہیں کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ دسمبر ۲۰۰۳ء

دینی مدارس میں جدید فکر و فلسفہ کی تعلیم

۲۸ اپریل ۲۰۰۷ء کو لاہور میں ممتاز اہل علم و دانش کی ایک مجلس میں حاضری کا موقع ملا۔ اس کا اہتمام جوہر ٹاؤن میں واقع پنجاب قرآن بورڈ کے دفتر میں جامعہ خیر المدارس ملتان کے مہتمم مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے کیا تھا اور ایجنڈا یہ تھا کہ جامعہ خیر المدارس ملتان نے لاہور میں جوہر ٹاؤن کے قریب اپنی ایک شاخ قائم کی ہے جس کے لیے تعمیر کا ایک مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور اس کے لیے تعلیمی پروگرام طے کرنے کی غرض سے قاری صاحب محترم نے ملک کے ممتاز ارباب علم و دانش کو اس مشاورتی نشست میں جمع کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مئی ۲۰۰۷ء

کرونا وائرس اور ہماری ذمہ داری

حالیہ اسفار کے دوران مختلف مجالس میں کرونا وائرس اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالہ سے گفتگو کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ کرونا فلو طرز کی ایک وبائی بیماری کو کہا جاتا ہے جس کے وائرس کچھ دنوں قبل چائنہ میں پھیلنا شروع ہوئے اور ان کا دائرہ دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ایک مہلک بیماری ہے جس نے پوری دنیا کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ وبائی بیماریاں دنیا میں مختلف مواقع پر رونما ہوتی آئی ہیں جن کا دائرہ اس سے قبل عام طور پر علاقائی ہوتا تھا، لیکن جوں جوں انسانی سوسائٹی گلوبل ہوتی جا رہی ہے یہ وبائیں بھی گلوبل رخ اختیار کرنے لگی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مارچ ۲۰۲۰ء

دینی تعلیم کے فروغ کے نئے رجحانات

بعض ضروری اسفار کے لیے اسباق کو جلدی سے سمیٹ کر ایک ہفتہ فارغ کرنا پڑا اور متعدد دینی مدارس کی سالانہ تقریبات میں شرکت کی سعادت حاصل ہو گئی۔ ۶ مارچ کو جمعۃ المبارک کے موقع پر جامعہ انوار العلوم مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ختم بخاری شریف کی تقریب تھی جس میں حضرت مولانا انوار الحق حقانی اکوڑہ خٹک سے تشریف لائے اور بخاری شریف کا آخری سبق پڑھایا۔ ۷ مارچ کو صبح دس بجے جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن کراچی میں بخاری شریف کے آخری سبق کا پروگرام تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مارچ ۲۰۲۰ء

ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی بین الاقوامی سیرت کانفرنس

۵ مارچ جمعرات کو جی سی ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی تیسری سالانہ بین الاقوامی سیرت کانفرنس کی آخری نشست میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ سیرت کانفرنس پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن لاہور کے تعاون سے انعقاد پذیر ہوئی اور ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی وائس چانسلر محترمہ پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ کوثر کی سربراہی میں یونیورسٹی کے شعبہ عربی و علوم اسلامیہ نے اس کا اہتمام کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مارچ ۲۰۲۰ء

۸ مارچ کا مبینہ ’’خواتین مارچ‘‘ اور حکومت کی ذمہ داری

۸ مارچ کو اسلام آباد میں خواتین کی بعض تنظیموں کی طرف سے عوامی مارچ کے اعلان کے بعد سے اس بارے میں اخبارات اور سوشل میڈیا میں خبروں اور تبصروں کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ سال ہونے والی ریلی کی فری اسٹائل کیفیت بالخصوص ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کے سلوگن کے تناظر میں مختلف نوعیت کے جذبات و احساسات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جہاں تک خواتین کے حقوق اور ان کے لیے دستور و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی جدوجہد اور عوامی مظاہرے کا تعلق ہے ان کے اس حق سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ مارچ ۲۰۲۰ء

بخاری شریف اور عصر حاضر کی سماجی ضروریات

پہلی بات یہ کہ آج کے عالمی حالات اور فکری مباحث کے تناظر میں حدیث نبویؐ کی حجیت و مقام اور اہمیت و ضرورت کے علاوہ اس کا وہ تعارفی پہلو بھی بطور خاص اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں بیان کیا ہے کہ احادیث نبویہ علی صاحبہا التحیۃ والسلام دین کی کسی بھی بات تک پہنچنے کا واحد ذریعہ ہیں حتٰی کہ قرآن کریم تک رسائی بھی حدیث کے ذریعے ہی حاصل ہوتی ہے۔ مثلاً نزول کے حوالہ سے قرآن کریم کی پہلی پانچ آیات سورۃ العلق کی ہیں جو ہمیں غار حرا کے واقعہ سے ملی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ فروری ۲۰۲۰ء

Pages