مقالات و مضامین

مسلم سربراہ کانفرنس کا ’’اعلانِ مکہ‘‘

اسلامی سربراہ کانفرنس تنظیم کا غیر معمولی سربراہی اجلاس مکہ مکرمہ میں دو روز جاری رہنے کے بعد ’’اعلانِ مکہ‘‘ کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ کانفرنس میں شریک مسلم سربراہان مملکت نے بیت اللہ شریف کا اکٹھے طواف کیا اور سعودی فرمانروا شاہ عبد اللہ کے ہمراہ بیت اللہ شریف کے اندر بھی گئے۔ اعلانِ مکہ کی جو تفصیلات ایک قومی اخبار کے ذریعے سامنے آئی ہیں ان کے مطابق اس کے اہم نکات یہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ دسمبر ۲۰۰۵ء

قربانی کے لیے چند احتیاطی تجاویز

وفاقی وزارت مذہبی امور کے تحت گزشتہ دنوں سرکردہ علماء کرام اور وفاقی وزراء کے درمیان عید الاضحٰی اور قربانی کے انتظامات کے حوالہ سے ہونے والی ویڈیو لنک مشاورت کا تذکرہ گزشتہ کالم میں کیا تھا، اس سلسلہ میں بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب مولانا سید عبد الخبیر آزاد نے وفاقی وزارت مذہبی امور کو SOPs (سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز) کے لیے کچھ تجاویز بھجوائی ہیں جو انہی کے الفاظ میں پیش کی جا رہی ہیں۔ ان تجاویز پر کھلے دل سے گفتگو اور مباحثہ کی ضرورت ہے تاکہ ہم بروقت کسی نتیجہ تک پہنچ سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جون ۲۰۲۰ء

کرونا بحران کے ماحول میں عید الاضحٰی اور قربانی

وفاقی وزارت مذہبی امور نے گزشتہ روز ۲۰ جون کو ملک بھر کے سرکردہ علماء کرام و مشائخ کے ساتھ ویڈیو لنک مشاورت کا اہتمام کیا جس کا مقصد کرونا بحران کے ماحول میں عید الاضحٰی کی ادائیگی اور قربانی کے حوالہ سے درپیش مسائل کے بارے میں غوروخوض کر کے کوئی قابل عمل لائحہ عمل طے کرنا تھا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور پیرزادہ ڈاکٹر نور الحق قادری نے صدارت کی، جبکہ گفتگو کرنے والوں میں وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر ا مکمل تحریر

۲۵ جون ۲۰۲۰ء

مغرب پر کام کی ضرورت اور میرا ذوق

جب میں مغربی نظام و فلسفہ پر بات کرتا ہوں تو کچھ دوستوں کو یہ اشکال ہوتا ہے کہ یہ نہ انگلش جانتا ہے، نہ اس نے باقاعدہ فلسفہ پڑھا ہے، اور نہ ہی مغربی فلسفیوں کا مطالعہ کیا ہے، تو پھر یہ مغربی نظام و فلسفہ پر بات کس بنیاد پر کرتا ہے؟ ان دوستوں کا یہ اشکال درست ہے کہ مذکورہ بالا تینوں موضوعات میرے علم و مطالعہ کے دائرے میں نہیں ہیں مگر اس کے باوجود مغربی فلسفہ و نظام کا بحمد اللہ تعالٰی سنجیدہ ناقد ہوں، کیونکہ اس حوالہ سے امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا پیروکار ہوں جو فرنگی حکمرانوں کے خلاف سب سے زیادہ بات کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جون ۲۰۲۰ء

یونیورسٹیوں میں ترجمہ قرآن کی لازمی تعلیم

پنجاب کے گورنر محترم چودھری محمد سرور کی طرف سے یونیورسٹیوں میں ترجمہ قرآن کریم کو لازمی قرار دینے کی خبر یقیناً سب کے لیے خوشی کا باعث بنی ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ پنجاب کی یونیورسٹیوں میں کسی طالب علم کو ترجمہ قرآن کریم پڑھے بغیر ڈگری نہیں ملے گی۔ پنجاب حکومت اور اسمبلی کی طرف سے اس قسم کے اعلانات اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر سامنے آتے رہے ہیں۔ بلکہ ہماری یادداشت کے مطابق صوبائی اسمبلی نے ایک مرحلہ میں بل بھی منظور کیا تھا کہ قرآن کریم کا ترجمہ کالجوں میں لازمی پڑھایا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جون ۲۰۲۰ء

مغرب پر کام کرنے کے مختلف دائرے

مغرب پر کام کرنے کی ضرورت کے حوالہ سے گزشتہ دنوں میرا کالم پڑھ کر بہت سے دوستوں نے رابطہ کیا ہے اور بعض سے بالمشافہہ گفتگو ہوئی ہے جو یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس کی نوعیت اور دائرے کیا ہوں گے؟ مختلف احباب کے سوالات اور ان کے جوابات کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ ایک دوست نے پوچھا کہ وہ کسی مغربی ملک کی یونیورسٹی میں مغرب ہی کے حوالہ سے کسی موضوع پر ڈاکٹریٹ کی تیاری کر رہے ہیں اور موضوع کے انتخاب میں سوچ بچار کے مرحلہ میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جون ۲۰۲۰ء

قومی اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کی نمائندگی کا معاملہ

گزشتہ دنوں قادیانیوں کو قومی اقلیتی کمیشن میں نمائندگی دینے یا کسی قادیانی کو کمیشن کا رکن بنانے کی خبریں منظر عام پر آئیں تو اس پر ملک بھر میں تشویش پیدا ہو گئی کہ یہ قادیانیوں کو چور دروازے سے مین اسٹریم میں داخل کرنے کی سازش ہو سکتی ہے۔ اس پر اعتراضات و خدشات کا سلسلہ شروع ہو گیا اور ہم نے بھی اس کالم میں تحفظات کا اظہار کیا، چنانچہ وفاقی کابینہ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ کسی قادیانی کو اقلیتی کمیشن کا ممبر نہیں بنایا جا رہا۔ یہ اعلان دینی حلقوں کے لیے اطمینان کا باعث بنا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جون ۲۰۲۰ء

نوجوان اہل علم کو مغرب پر کام کرنا چاہیے

مسلم شریف میں حضرت مستورد قرشیؓ کی روایت میں قیامت کی نشانیوں کے حوالہ سے مذکور ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’والروم اکثر الناس‘‘ رومیوں کی لوگوں میں کثرت ہو گی۔ یہاں رومیوں سے مراد مغربی قومیں اور اکثریت سے غلبہ مراد لیا جائے تو اس کا منظر ہم ایک عرصہ سے دیکھ بلکہ بھگت رہے ہیں کہ دنیا میں ہر طرف مغربی اقوام و ممالک کا غلبہ اور اجارہ داری ہے۔ جس کے سامنے دنیا کی زیادہ تر اقوام بے بسی اور غلامی کی تصویر بنی ہوئی ہیں، اور ہم خود بھی اسی کا شکار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جون ۲۰۲۰ء

دینی مدارس کو ایس او پیز کی پابندی کے ساتھ کھولا جائے

ملی مجلس شرعی پاکستان مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کا مشترکہ علمی و فکری فورم ہے جو ایک عرصہ سے قومی و ملی مسائل پر مشترکہ موقف کے اہتمام اور اظہار کی خدمت سر انجام دے رہا ہے۔ اس میں مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی، مولانا عبد المالک خان، مولانا خلیل الرحمان قادری، مولانا عبد الرؤف فاروقی، حافظ عبد الغفار روپڑی، مولانا حافظ محمد حسن مدنی، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، حافظ عاکف سعید، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، مولانا کفیل شاہ بخاری، علامہ نیاز حسین نقوی اور دیگر اہم شخصیات ہمارے ساتھ شریک مشاورت رہتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۲۰ء

دینی مدارس میں تعلیمی سلسلہ کا آغاز

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی دعوت پر تین جون کو اسلام آباد میں وفاق کی ایک خصوصی مشاورتی نشست میں شرکت کا موقع ملا۔ اسلام آباد پہنچتے ہی مولانا عمران جاوید سندھو نے فون پر خوشخبری سنائی کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے معاملات میں مولانا عبد العزیز اور اسلام آباد انتظامیہ کے درمیان ایک سمجھوتہ طے پا گیا ہے جس میں مولانا محمد احمد لدھیانوی کے ساتھ انہوں نے بھی رابطہ کار کے طور پر خدمات سرانجام دی ہیں۔ بہت خوشی ہوئی، اللہ تعالٰی خیر و خوبی کے ساتھ اس سمجھوتے کو تکمیل تک پہنچائیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جون ۲۰۲۰ء

دینی کارکنوں کے بعض خدشات و تحفظات

رمضان المبارک کے بعد ۳۰ مئی کو پہلی بار لاہور جانے کا اتفاق ہوا، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی نے مجلس احرار اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل حاجی عبد اللطیف چیمہ اور راقم الحروف کو خصوصی مشاورت کے لیے مسجد خضراء آنے کی دعوت دی اور ہم نے ملکی، قومی اور وبائی مسائل پر تفصیل کے ساتھ باہمی تبادلۂ خیالات کیا۔ ملی مجلس شرعی پاکستان کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد امین سے بہت سے متعلقہ امور پر بات چیت ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جون ۲۰۲۰ء

عالمی طاقتوں کا دوغلا طرز عمل

لبنان میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے اور فلسطین و لبنان کے عوام مسلسل اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں، مگر دنیا بھر کے مسلم حکمرانوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہے۔ لبنان پر حملے کے لیے اسرائیل نے جس بات کو جواز کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، وہ اس جواز سے مختلف نہیں ہے جو امریکہ نے افغانستان اور عراق پر فوج کشی کے لیے پیش کیا تھا۔ مگر آج تک اس جواز کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ایسی دلیل پیش نہیں کی جا سکی جو طاقت کے علاوہ کسی اور پہلو کی بھی نشاندہی کرتی ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اگست ۲۰۰۶ء

اجتماعی و دینی معاملات میں راہنمائی کا فورم

آزمائش اور ابتلا کے دور میں جس طرح کسی انسان کی شخصی خوبیاں اور کمزوریاں ظاہر ہونے لگتی ہیں، اسی طرح سماج اور سوسائٹی کی اجتماعی خوبیاں اور کمزوریاں بھی مصیبت اور آزمائش کے زمانے میں زیادہ نکھر کر سامنے آتی ہیں۔ مثلاً مسلمان امت اور پاکستانی قوم کی ایک بڑی خوبی انسانی ہمدردی اور کمزور طبقات و افراد کی مدد کرنا ہے، جس کا اظہار عام ماحول میں جاری رہتا ہے، مگر کرونا وائرس کی عالمی آزمائش کے اس دور میں بھی اس کی جھلک دکھائی دے رہی ہے کہ لاک ڈاؤن کی صورت میں غریب اور نادار طبقات و افراد کی ضروریات اور مجبوریوں کا احساس ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۲۰ء

پاپائے روم کی ایک اچھی اپیل کی حمایت

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۵ نومبر ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی یہ خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’کیتھولک مسیحی برادری کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے جاپان کے شہر ناگاساکی میں خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری سے ایٹمی ہتھیار تلف کرنے کی اپیل کی ہے۔ پوپ فرانسیس نے ایٹم بم ہائیووسنٹر پارک (وہ مقام جہاں پر ایٹم بم گرایا گیا تھا) خطاب کرتے ہوئے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدوں کے خاتمے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دنیا میں ایک قابل نفرت تفریق پائی جاتی ہے جس میں خوف اور عدم اعتماد کے ذریعہ تحفظ کے جھوٹے احساس کو فروغ دے کر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۹ء

حج فارم میں ختم نبوت کا خانہ

حج کے فارم میں عقیدۂ ختم نبوت کے خانے کے حوالہ سے اس وقت ملک میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے، اس سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا پریس ریلیز درج ذیل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۲۰ء

سنی شیعہ کشمکش کا کارڈ

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے عراق کی تازہ ترین صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی پالیسیوں کی وجہ سے عراق بتدریج ایران کے زیر اثر جا رہا ہے اور عراق کے اہل سنت اقلیت میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ عراق کے لیے جو دستور تجویز کیا گیا ہے، اس کے بارے میں ہم اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور اس سے عراق کی سنی آبادی مطمئن نہیں ہے۔ اس سے قبل عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل جناب عمرو موسی کی طرف سے بھی اس قسم کے خدشات کا اظہار ہوا ہے اور عرب صحافتی حلقوں میں عراقی دستور پر ملے جلے ردعمل کا سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اکتوبر ۲۰۰۵ء

دینی مدارس کا تعلیمی سال تذبذب کا شکار

دینی مدارس کا تعلیمی سال شوال میں شروع ہوتا ہے جو ابھی تک تذبذب کا شکار ہے اور مختلف مقامات سے احباب پوچھ رہے ہیں کہ اس سال کیا ترتیب ہو گی؟ ان سے یہی گزارش کر رہا ہوں کہ دینی مدارس کے وفاقوں کی قیادت اس سلسلہ میں باہمی صلاح مشورہ میں مصروف ہے اور امید ہے کہ دو چار روز تک وہ کسی حتمی پروگرام کا اعلان کر دے گی۔ جبکہ معروضی صورتحال یہ ہے کہ کرونا بحران کی وجہ سے تعلیمی ادارے مسلسل بند ہیں اور پندرہ جولائی تک ان کے بند رہنے کا اعلان ہو چکا ہے جس کی مدت میں اضافے کا بھی امکان موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ مئی ۲۰۲۰ء

کرونا بحران اور مذہبی تعلیمات و روایات

کرونا وائرس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کے آغاز میں ہم نے اپنی گزارشات میں چند باتوں کا تذکرہ کیا تھا۔ ایک یہ کہ یہ قدرتی وبا بھی ہو سکتی ہے اور جراثیمی جنگ کا حصہ بھی ہو سکتی ہے، مگر چونکہ اس کے اثرات پھیلتے جا رہے ہیں اس لیے پہلے تمام تر احتیاطی تدابیر کے ساتھ اس سے نمٹنے کی ضرورت ہے، اس کے بعد یہ بات بھی ضرور دیکھی جائے گی کہ یہ اگر سازش ہے تو کس نے کی ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں۔ دوسری بات یہ کہ قومی سطح پر ہماری یہ عادت سی بن گئی ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۲۰۲۰ء

حضرت مولانا سعید احمد پالن پوریؒ

حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحبؒ کی وفات کا صدمہ ابھی تازہ تھا کہ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت مولانا سعید احمد پالنپوری بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ صبح ساڑھے آٹھ بجے کے لگ بھگ حسب معمول نیند سے بیدار ہو کر موبائل فون کھولا تو کراچی کے ڈاکٹر ثناء اللہ محمود کے اکاؤنٹ پر حضرت مفتی صاحبؒ کے فرزند مولانا قاسم احمد پالنپوری کا میسج رنج و غم کا ایک نیا طوفان لیے نگاہوں کے سامنے موجود تھا کہ "انتہائی رنج و غم کے ساتھ یہ خبر صاعقہ اثر لکھی جا رہی ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مئی ۲۰۲۰ء

علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ

مفکر اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ کی وفات کی خبر نے نہ صرف ان کے تلامذہ اور معتقدین بلکہ ان کی علمی جدوجہد اور اثاثہ سے با خبر عامۃ المسلمین کو بھی غم و اندوہ کے ایسے اندھیرے سے دوچار کر دیا ہے جس میں دور دور تک روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ علامہ صاحبؒ کی علالت کی خبریں چند دنوں سے آ رہی تھیں اور بستر سے اٹھتے ہوئے گر کر زخمی ہونے کی خبر نے پریشانی میں اضافہ کر رکھا تھا۔ مگر موت نے اپنے وقت پر آنا تھا، وہ آئی اور علامہ صاحبؒ ہزاروں بلکہ لاکھوں عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑتے ہوئے اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مئی ۲۰۲۰ء

الشریعہ اکادمی کا درس نظامی کے مضامین پر مبنی 3 سالہ آن لائن کورس

اب ہم الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام دینی مضامین کی تعلیم کے آن لائن سسٹم کا آغاز کر رہے ہیں تو وہی حکمت عملی ہمارے پیش نظر ہے کہ دینی مدارس کے مروجہ نصاب و نظام میں کوئی دخل دیے بغیر بلکہ اسے حسب سابق مکمل سپورٹ کرتے ہوئے الگ تجربے کے طور پر اس کا نظم تشکیل دیں تاکہ وہ حضرات جو عصری تعلیم سے بہرہ ور ہیں اور دینی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر اپنی مصروفیات اور دیگر اعذار کے باعث مدارس میں رہ کر وقت دینے کے متحمل نہیں ہیں، ان کے لیے ضروری دینی تعلیم کی کوئی قابل عمل صورت پیدا ہو جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مئی ۲۰۲۰ء

مسلمانوں سے قرآن کریم کے چند تقاضے

رمضان المبارک قرآن کریم کا مہینہ ہے جس میں قرآن کریم کی سب سے زیادہ تلاوت کی جاتی ہے، سنا جاتا ہے اور عالم اسلام میں ہر طرف قرآن کریم کی بہار کا سماں ہوتا ہے۔ اللہ تعالٰی کی نازل کردہ یہ آخری کتاب قیامت تک نسل انسانی کی ہدایت اور راہنمائی کا محور و مرکز ہے اور ہر دور میں اس کا یہ فیضان جاری رہتا ہے۔ اس موقع پر قرآن کریم کے چند تقاضوں کی طرف خصوصی توجہ و تذکیر کی ضرورت ہے جو کلام اللہ نے خود ہم سے کیے ہیں، مثلاً: مکمل تحریر

۵ مئی ۲۰۲۰ء

سعودی عرب میں کوڑوں کی سزا کا خاتمہ

ایک تازہ خبر کے مطابق سعودی عرب نے اپنے ملک کے قانونی نظام میں کوڑوں کی سزا اور بچوں کے لیے موت کی سزا ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز کے حکم کے مطابق عدالت عظمٰی نے ماتحت عدالتوں کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ آئندہ کسی جرم میں کوڑوں کی سزا نہ دی جائے اور نابالغ بچوں کو موت کی سزا نہ سنائی جائے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بعض سعودی اداروں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایسا انسانی حقوق کے عالمی نظام کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے کیا گیا ہے جس کا ایک عرصہ سے تقاضہ چلا آ رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اپریل ۲۰۲۰ء

کرونا بحران کے بارے میں ایوان صدر کی مشاورت

صدر مملکت جناب عارف علوی نے کرونا بحران کے دوران مساجد میں نماز باجماعت بالخصوص رمضان المبارک کے دوران نماز تراویح اور دیگر معمولات کے حوالہ سے گزشتہ روز وسیع تر قومی مشاورت کا اہتمام کیا اور میں نے بھی گورنر ہاؤس لاہور میں دیگر علماء کرام کے ساتھ اس مشاورت میں شرکت کی۔ یہ اہتمام کرونا بحران کے آغاز میں ہو جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا اور بہت سی الجھنیں جنم نہ لیتیں مگر ’’دیر آید درست آید‘‘ کے مصداق یہ سعی بھی تحسین کی مستحق ہے اور اس سے جناب صدر کے اس ذوق کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایوان صدر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۲۰ء

قادیانیت اور ’’انٹرنیشنل تحفظ ختم نبوت مشن‘‘

قادیانیت کا مسئلہ بنیادی طور پر پاکستان اور ہندوستان کا مسئلہ ہے لیکن چونکہ اس فتنہ کی تخم ریزی اور آبیاری برطانوی استعمار نے اپنے دور اقتدار میں نوآبادیاتی مقاصد کے لیے کی تھی، اور دنیا میں جہاں برطانوی اقتدار اور اثرات رہے ہیں وہاں اس فتنہ کے قدم بھی پہنچے ہیں۔ بالخصوص پاکستان کے اولین وزیرخارجہ چودھری ظفر اللہ خان نے اپنے دور وزارت میں وزارت خارجہ کو قادیانیت کی تبلیغ و توسیع کے لیے پوری طرح استعمال کیا ہے۔ اس لیے دنیا کے مختلف حصوں میں قادیانیت کے اثرات اور مراکز موجود ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اکتوبر ۱۹۸۵ء

اسامہ بن لادن اور یاسر عرفات

اے ایف پی کے مطابق فلسطینی لیڈر یاسر عرفات نے ’’سنڈے ٹائمز‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے عرب مجاہد اسامہ بن لادن سے کہا ہے کہ وہ فلسطین کا نام استعمال نہ کریں۔ یاسر عرفات فلسطینی لیڈر ہیں اور اسامہ بن لادن کا تعلق سعودی عرب سے ہے، دونوں اپنے اپنے دعویٰ کے مطابق عرب کاز کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں۔ یاسر عرفات کی جدوجہد کا ہدف آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے اور اسامہ بن لادن کا ٹارگٹ یہ ہے کہ امریکی فوجیں خلیج عرب سے نکل جائیں تاکہ عرب ممالک کی خودمختاری بحال ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ دسمبر ۲۰۰۲ء

عالمی استعمار اور عرب قومیت

عراق نے اپنے اسلحہ کے ذخائر کے بارے میں دستاویزات اقوام متحدہ کی معائنہ ٹیم کے سپرد کر دی ہیں، اور اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کی ٹیم کے سربراہ نے کہہ دیا ہے کہ عراق میں ممنوعہ اسلحہ کی موجودگی کا کوئی ثبوت فراہم نہیں ہوا۔ جبکہ عراق کے صدر صدام حسین نے دس سال قبل کویت پر عراقی حملہ کے حوالہ سے کویت کے عوام سے معافی مانگ لی ہے لیکن اس کے باوجود عراق پر امریکی حملے کے امکانات میں کمی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے، اور امریکی حکمرانوں کے تیور یہ نظر آرہے ہیں کہ وہ بہرصورت عراق پر حملہ کر کے رہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ دسمبر ۲۰۰۲ء

عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ اور اسرائیل کی ہٹ دھرمی

اسرائیل نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو ٹھکرا کر ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ بدستور اپنی ہٹ دھرمی اور ضد پر قائم ہے اور اپنے یکطرفہ ایجنڈے کے بارے میں اپنی مرضی کے خلاف کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ عالمی عدالت نے فلسطینی علاقے میں باڑ کی تعمیر کے اسرائیلی اقدام کو ناجائز قرار دے دیا ہے لیکن اسرائیل نے اسے ’’حفاظت کے حق‘‘ کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ اور ’’حفاظت کے حق‘‘ کے نام پر اسے اپنے اس نوعیت کے اقدامات کے لیے مغربی دنیا اور خاص طور پر امریکی قیادت کی مکمل حمایت حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جولائی ۲۰۰۴ء

مسئلہ فلسطین کا تاریخی پس منظر اور عالم اسلام کا اصولی موقف

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ عبد اللہ کی اس تجویز پر دنیا بھر میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے کہ اگر اسرائیل عربوں کے مقبوضہ علاقے خالی کر دے تو سعودی عرب اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے۔ شہزادہ عبد اللہ کی پیشکش عرب اسرائیل سیاست میں ایک اہم پیشرفت ہے کیونکہ اگر اسرائیل کے مقبوضہ عرب علاقوں کو خالی کرنے کی صورت میں سعودی عرب اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر لیتا ہے تو دنیا کے باقی مسلم ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کرانے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مارچ ۲۰۰۲ء

خود انسان نے کیا ترقی کی ہے؟

میڈیا آج کے دور کی ایک بڑی طاقت ہے جو قوموں اور افراد کی ذہن سازی اور فکر و کردار کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کی کارفرمائی دنیا میں ہر طرف اور ہر سطح پر دکھائی دیتی ہے۔ ذرائع ابلاغ ہر دور میں اہم رہے ہیں اور اسلام نے بھی ان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ قرآن کریم نے اپنی تعلیم کا آغاز ہی قلم کے ذکر سے کیا ہے جبکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے خطابت، شعر و شاعری اور ابلاغ کے دیگر ذرائع اسلام کی دعوت و تبلیغ اور دفاع و تحفظ کے لیے مسلسل استعمال ہوتے آ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اپریل ۲۰۲۰ء

قرآن کریم کا ایک بڑا اعجاز

سورۃ العنکبوت کی آیت ۴۸ میں اللہ تعالیٰ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کے نزول سے قبل آپ نہ کوئی کتاب پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی لکھ سکتے تھے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست لوگ شک پیدا کر سکتے تھے۔ یعنی اگر جناب رسول اللہ ’’امّی‘‘ نہ ہوتے اور لکھنا پڑھنا جانتے ہوتے تو مخالفین کو یہ کہنے کا موقع مل سکتا تھا کہ پڑھے لکھے آدمی ہیں اور کہیں سے یہ حکمت و دانش کا ذخیرہ مل گیا ہے جسے قرآن کی شکل میں پیش کر کے یہ دعویٰ کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ دسمبر ۲۰۰۲ء

نسلی تعصب ۔ شاہ اردن سے ایک مؤدبانہ سوال

اردن کے فرمانروا شاہ عبد اللہ نے کہا ہے کہ ’’میں اس تعصب کو مسترد کرتا ہوں کہ اسرائیلی بچے کا خون فلسطینی بچے کے خون سے مقدس اور قیمتی ہوتا ہے‘‘۔ شاہ اردن کو یہ بات مشرق وسطیٰ میں فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان جاری خونی کشمکش کے بارے میں امریکی طرز عمل کی صاف طور پر نظر آنے والی ترجیحات کے حوالے سے کہنا پڑی جس میں فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی فوج کشی کو ’’دفاع کا حق‘‘ اور مظلوم فلسطینیوں کی طرف سے ردعمل اور جوابی کاروائیوں کو ’’دہشت گردی‘‘ قرار دیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ مارچ ۲۰۰۲ء

عورت کا مقام اور اسلام

اخبارات میں جو رپورٹیں شائع ہوئی ہیں ان میں بطور خاص قابل ذکر باتیں یہ ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں غیرت اور کاروکاری کے عنوان پر ہر سال سینکڑوں عورتوں کا قتل ہوتا ہے۔ بھارت میں اولاد نرینہ کی خواہش میں ہزاروں بچیوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ امریکہ میں اوسطاً روزانہ تین خواتین شوہر یا بوائے فرینڈ کے ہاتھوں قتل ہو جاتی ہیں۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً تیس ہزار خواتین حمل اور اس کی پیچیدگیوں کے باعث ہلاک ہو جاتی ہیں۔ دنیا میں اسقاط حمل کے نتیجے میں ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد اوسطاً پانچ لاکھ سالانہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ نومبر ۲۰۰۲ء

فلسطین کی حمایت میں روس، عرب اور یورپی ممالک کا متوقع اتحاد

ایک قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق فلسطین کی حمایت میں روس، عرب اور یورپی ممالک کا اتحاد وجود میں آنے والا ہے، جبکہ فلسطین پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف روس اور یورپی یونین کے بعض ملکوں کے درمیان خفیہ اتحاد ہو گیا ہے۔ ان یورپی ممالک نے روس کو یقین دلایا ہے کہ وہ فلسطین کی حمایت پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اسٹینڈ لیں گے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ روس نے اسلامی و یورپی ملکوں کے سربراہوں سے رابطے کیے ہیں اور اسرائیلی مظالم رکوانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جولائی ۲۰۰۲ء

رمضان المبارک کی آمد اور دینی حلقوں کے تحفظات

اسلام آباد میں پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عبد الرؤف محمدی کی چٹھہ بختاور کی جامع مسجد میں جمعہ پڑھانے کی پاداش میں گرفتاری و رہائی اور بعض دیگر خطباء کے خلاف اسی نوعیت کی کارروائی سے جمعۃ المبارک کے حوالہ سے سرکاری ہدایات کا مسئلہ سنجیدہ غوروفکر کا متقاضی ہو گیا ہے۔ جبکہ رمضان المبارک کی آمد اور مساجد میں نماز باجماعت اور نماز تراویح کی ادائیگی کی متوقع صورتحال دینی حلقوں کی بے چینی اور اضطراب میں اضافہ کا باعث بن رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اپریل ۲۰۲۰ء

مذہبی جماعتیں اور قومی سیاست

سوال: دینی جماعتیں منتشر کیوں ہیں، سیاست اور عوام میں ان کا کردار مؤثر کیوں نہیں ہوا؟ جواب: ہمارے مشرقی معاشرے میں عوام کی مذہب کے ساتھ غیر متزلزل کمٹمنٹ ہے، معاشرے کا فرد عمل میں جیسا بھی ہو مگر خود کو دین و مذہب کے دائروں کا پابند سمجھتا ہے، اس میں بنیادی کردار علماء اور مذہبی جماعتوں کا ہے کہ انہوں نے آسمانی تعلیمات پر خود بھی حتی الوسع عمل کیا ہے اور عوام کو بھی جوڑے رکھا ہے۔ یہ ایک مستقل پہلو ہے کہ ’’کردار مؤثر کیوں نہیں ہوا‘‘ یہ مؤثر اور فیصلہ کن پوزیشن میں بھی ہو سکتا ہے اور ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۰ء

دینی حلقوں کا بڑھتا ہوا اضطراب

کرونا بحران کی سنگینی اور وسعت میں مسلسل اضافہ کے باوجود احتیاطی تدابیر اور علاج و معالجہ کے انتظامات کے ساتھ ساتھ لاک ڈاؤن سے متاثرہ افراد و طبقات کو ضروری کام کاج کی مختلف شعبوں میں سہولت دی جا رہی ہے مگر مسجد و مدرسہ اور نماز باجماعت و جمعۃ المبارک پر پابندیوں کا دائرہ دن بدن تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ حتٰی کہ رمضان المبارک کے بارے میں ابھی سے سرکاری حلقوں کی طرف سے ہدایات سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں کہ سابقہ پابندیوں کے ساتھ ساتھ نماز تراویح کے لیے بھی مسجدوں میں گنجائش نہیں دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اپریل ۲۰۲۰ء

پاکستان کے بارے میں امریکی عزائم کے حوالہ سے وزیر اعظم پاکستان کے نام کھلا خط

جناب وزیر اعظم! یہ عرب باشندے دو چار ہفتوں یا چند مہینوں سے پشاور میں قیام پذیر نہیں ہیں بلکہ دس بارہ سال سے اس علاقہ میں رہ رہے ہیں۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو افغانستان میں روسی استعمار کے تسلط اور مسلح جارحیت کے خلاف افغان عوام کے جہاد حریت میں شمولیت کے لیے دنیا کے مختلف ممالک بالخصوص عرب ملکوں سے آئے ہیں اور جہاد کے دینی جذبہ کے ساتھ جہاد افغانستان میں عملاً شریک رہے ہیں۔ یہ عرب نوجوان افغانستان یا حکومت پاکستان پر بوجھ نہیں بنے بلکہ انہوں نے اپنے ممالک سے جہاد افغانستان کے لیے بے پناہ مالی امداد فراہم کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۱۹۹۳ء

بین الاقوامی سائنس کانفرنس یا عالم اسلام کے خلاف گھناؤنی سازش؟

استعماری قوتیں عالم اسلام کو ایٹمی توانائی، ٹیکنالوجی اور سائنس میں اعلی مہارت سے محروم رکھنے کے لیے جو جتن کر رہی ہیں وہ کسی ذی شعور مسلمان سے مخفی نہیں ہے، اور ان قوتوں کے پورے وسائل اس کوشش میں صرف ہو رہے ہیں کہ کوئی مسلمان ملک ان معاملات میں اعلی مہارت اور وسائل کسی صورت بھی حاصل نہ کر سکے۔ اس سلسلہ میں استعماری قوتوں کا ایک طریق واردات یہ بھی ہے کہ اپنی مرضی کے سائنسدان مسلمان ممالک کے سائنسی شعبوں پر مسلط کر دیے جائیں تاکہ ان کے ذریعے عالم اسلام کی سائنسی استعداد و صلاحیت پر نظر بلکہ گرفت رکھی جا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۲ء

الجزائر کے عوام کا تاریخی فیصلہ

الجزائر کے عام انتخابات میں اسلامک سالویشن فرنٹ کی شاندار کامیابی کے بعد عوام کے اس تاریخی فیصلہ کو سبوتاژ کرنے کے لیے جو قوتیں سامنے آئی ہیں انہوں نے اپنے طرز عمل کے ساتھ اس حقیقت کا ایک بار پھر اظہار کر دیا ہے کہ مسلم ممالک میں اس وقت جو طبقے حکمران ہیں انہیں نہ اسلام سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی جمہوریت پر ان کا یقین ہے۔ وہ ان ممالک میں صرف اپنے استعماری آقاؤں کے مسلط کردہ نظام کے محافظ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اور اس نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ کے لیے اسلام یا جمہوریت جس راستے سے بھی سامنے آئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۱۹۹۲ء

’’الشریعہ‘‘ کا نیا دور

ماہنامہ الشریعہ نے اپنے سفر کا آغاز اکتوبر ۱۹۸۹ء میں کیا تھا۔ حالات کی نامساعدت کے باوجود محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ جریدہ اپنی زندگی کے سوا چھ سال اور چھ جلدیں مکمل کر چکا ہے اور زیر نظر شمارہ سے ساتویں جلد کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس دوران الشریعہ نے اسلامائزیشن، مغربی میڈیا اور لابیوں کی اسلام دشمن مہم کے تعاقب، اور عالمی استعمار کی فکری اور نظریاتی یلغار کے حوالے سے دینی حلقوں کی آگاہی و بیداری کے لیے اپنی بساط کی حد تک خدمات سرانجام دی ہیں۔ اور اہل علم و نظر کے ہاں پسندیدگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۶ء

جمعیۃ کے ساتھ متحرک وابستگی کے دور کی تکمیل اور آئندہ کے عزائم اور پروگرام

گزشتہ سال جولائی کے دوران جب میں لندن پہنچا تو آتے ہی جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے قائم مقام امیر حضرت مولانا اجمل خان مدظلہ کی خدمت میں عریضہ ارسال کر دیا تھا کہ جمعیۃ میں اب کوئی متحرک کردار ادا کرنا میرے لیے مشکل ہوگا اس لیے مجھے مرکزی ناظم انتخابات کے منصب سے فوری طور پر سبکدوش سمجھا جائے، اور نومبر میں ہونے والے جماعتی انتخابات میں سیکرٹری اطلاعات یا کسی اور منصب کے لیے میرا انتخاب نہ کیا جائے، میرے لیے اسے قبول کرنا مشکل ہوگا۔ اس کے بعد مولانا محمد اجمل خان صاحب اگست کے دوران برمنگھم میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۱۹۹۳ء

تحریک خلافت اور اس کے ناگزیر تقاضے

گزشتہ دنوں خلافت اسلامیہ کے احیا کے جذبہ کے ساتھ دو حلقوں کی طرف سے جدوجہد کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایک طرف تنظیم اسلامی پاکستان کے سربراہ محترم جناب ڈاکٹر اسرار احمد نے ’’تحریک خلافت‘‘ بپا کرنے کا عزم کا اعلان کیا ہے اور دوسری طرف مولانا مفتی غلام مسرور نورانی قادری کی سربراہی میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام نے خلافت کی بحالی کے لیے علماء اور عوام کو منظم کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ جہاں تک خلافت اسلامیہ کے احیا اور بحالی کا تعلق ہے یہ ایک انتہائی مبارک اور مقدس جذبہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۱۹۹۱ء

’’یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی‘‘

علامہ محمد اقبالؒ نے افغانستان پر برطانوی استعمار کی یلغار کی ناکامی پر فرنگیوں کے جذبات کی عکاسی ان الفاظ سے کی تھی ؎ ’’افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج ۔ ملّا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو‘‘۔ مگر جب افغانیوں کی غیرت ملی کا ترجمان اور محافظ ملّا فرنگی استعمار کے ہاتھوں افغانستان کے کوہ و دمن سے جلاوطن نہ ہو سکا تو یہ درد سر روسی استعمار نے اپنے کھاتے میں ڈال لیا۔ اور یہ سوچ کر افغانستان کو ملّا اور اس کے دین و ثقافت سے نجات دلانے پر کمر باندھ لی کہ برطانوی استعمار کی کامیابی کی راہ میں شاید جغرافیائی فاصلے رکاوٹ بن گئے ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۱۹۹۲ء

موجودہ حکومت اور سودی نظام

یہ اجتماع وفاقی شرعی عدالت کے اس تاریخی فیصلہ کو ملک میں قرآن و سنت کی بالادستی اور نفاذ کی جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل قرار دیتا ہے جس کے تحت وفاقی شرعی عدالت نے ملک میں رائج تمام سودی قوانین کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت کو ۳۰ جون تک ان کے متبادل اسلامی قوانین نافذ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ اجتماع اس سلسلہ میں حکومت پاکستان کے اس طرز عمل کو انتہائی افسوسناک بلکہ شرمناک قرار دیتا ہے کہ اسلام کے نفاذ کے نعرے پر برسرِ اقدار آنے والی حکومت اس فیصلہ پر عملدرآمد کرنے کے بجائے اس سے پیچھا چھڑانے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۱۹۹۲ء

امریکی امداد کی ناقابل قبول شرائط

پاکستان کے لیے امریکی امداد کی بندش اس وقت قومی حلقوں میں زیر بحث ہے اور ملکی و بین الاقوامی پریس میں اس حوالہ سے خدشات و توقعات کے اظہار اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان ایک غریب ملک کی حیثیت سے اپنے معاشی توازن کو قائم رکھنے کے لیے بیرونی امداد حاصل کرنے پر مجبور ہے۔ اور خلیج کے حالیہ بحران نے پاکستان کی معیشت میں عدم توازن کے جن نئے پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے ان کے پیش نظر بیرونی امداد کی ضرورت و اہمیت پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دینی حلقے اور انتخابی سیاست

ملک میں عام انتخابات کی تیاری جاری ہے، متحارب سیاسی قوتیں ۲۴ اکتوبر کو منعقد ہونے والے الیکشن کے لیے امیدواروں کی نامزدگی اور اعلان کا کام کم و بیش مکمل کر چکی ہیں اور نئی صف بندی کے ساتھ انتخابی مہم کے میدان میں اترنے والی ہیں۔ اس انتخابی مہم میں ملک کے دینی حلقے شریک ہیں اور متعدد دینی جماعتوں کے امیدواروں کی ایک بڑی تعداد الیکشن میں حصہ لیے رہی ہے، لیکن کسی مشترکہ دینی محاذ کے نام پر نہیں بلکہ مختلف حیثیتوں سے اور مختلف سہاروں کے ساتھ دینی جماعتیں انتخابی سیاست میں اپنا وجود قائم رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۰ء

متحدہ مجلس عمل سے ہماری توقعات

سوال: پاکستان کے حالیہ عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی کامیابی کے بارے میں آپ کے تاثرات کیا ہیں؟ جواب: متحدہ مجلس عمل کو میرے خیال میں دو وجہ سے عوام میں پذیرائی ملی۔ ایک ان کے اتحاد کی وجہ سے کہ پاکستان کی نصف صدی کی تاریخ گواہ ہے کہ دینی حلقوں اور مذہبی مکاتب فکر نے جب بھی متحد ہو کر کسی ملی کاز کے لیے قوم کو آواز دی ہے قوم نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ گزشتہ سال امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت کو ختم کرنے اور اپنی کٹھ پتلی حکومت مسلط کرنے کے لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۲ء

جہادِ افغانستان نازک موڑ پر

شعبان المعظم کے آخری ایام میں حرکۃ المجاہدین کی دعوت پر خوست جانے کا اتفاق ہوا اور افغان مجاہدین کے فوجی مراکز، (۱) مرکز حضرت عمرؓ (۲) مرکز خلیل (۳) مرکز رشید اور (۴) مرکز حضرت سلمان فارسیؓ دیکھنے کا موقع ملا۔ معروف افغان کمانڈر مولانا جلال الدین حقانی سے بھی ملاقات ہوئی۔ افغان مجاہدین ان دنوں نجیب حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کے مرحلہ میں ہیں اور خوست شہر کو فتح کرنے کے لیے کاروائیوں میں مصروف ہیں۔ خوست کا شہر اور چھاؤنی فوجی لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۱۹۹۱ء

امریکہ اور عالمِ اسلام

روزنامہ جنگ کراچی نے ۵ نومبر ۱۹۹۰ء کی اشاعت میں اپنے واشنگٹن کے نمائندہ خصوصی کے حوالے سے جہاد افغانستان کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان اس امر پر ۱۹۸۵ء میں ہی خفیہ مفاہمت ہو گئی تھی کہ افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کے بعد افغان مجاہدین کو اسلامی حکومت کے قیام کی منزل تک نہ پہنچنے دیا جائے۔ رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ امریکہ کے ممتاز سفارت کار آنجہانی آرنلڈ رافیل نے تیار کیا تھا جو پاکستان میں امریکہ کے سفیر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۰ء

Pages