۲۹۵۔سی کے خلاف مغرب کی مہم
روزنامہ جنگ لاہور ۱۵ جنوری ۱۹۹۶ء کے مطابق بشپ آف فیصل آباد ڈاکٹر جان جوزف نے بتایا ہے کہ پاکستان میں توہینِ رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون (تعزیراتِ پاکستان ۲۹۵۔سی) کے خاتمہ کے لیے اکثر ممالک نے عملی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں جرمنی کے ۸۸ ہزار سے زائد باشندوں نے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
الجزائر میں اہلِ دین کی آزمائش
روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۲۴ جنوری ۱۹۹۶ء کی اشاعت میں الجزائر کے وزیر مذہبی امور احمد میرانی کے حوالے سے یہ خبر دی ہے کہ الجزائر میں گزشتہ چار برسوں کے دوران انتہاپسند گروپوں کے ہاتھوں ۸۴ ائمہ مساجد مارے جا چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کوڑوں کی سزا اور انسانی حقوق
روزنامہ پاکستان لاہور ۳۱ جنوری ۱۹۹۶ء کی خبر کے مطابق سینٹ آف پاکستان نے کوڑوں کی سزا ختم کرنے کا بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت اب ملک میں حدود کے قوانین کے علاوہ اور کسی مقدمہ میں مجرم کو کوڑوں کی سزا نہیں دی جا سکے گی۔ کوڑوں کی سزا ختم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’تفسیر کشاف (اردو)‘‘
علامہ جار اللہ زمحشریؒ اور ان کی تفسیر ’’کشاف‘‘ اہلِ علم کے ہاں ہمیشہ مطالعہ اور استفادہ کا موضوع رہے ہیں۔ فصاحت و بلاغت کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے احکام و آیات کی عقلی تشریح بھی صاحبِ کشاف کی اس تفسیرِ قرآن کریم کا امتیاز ہے جنہیں بعض معاملات میں اختلافِ رائے اور تحفظات کے باوجود ہر دور میں اہلِ علم کے لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی نظریاتی کونسل کے قیام کا مقصد اور کارکردگی
روزنامہ جنگ لاہور ۱۰ دسمبر ۱۹۹۵ء کی ایک رپورٹ کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے دو سو قوانین پر اپنا کام مکمل کر لیا ہے جبکہ ایک ہزار قوانین پر کام ہونا ابھی باقی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا قیام ۱۹۷۳ء کے آئین کے تحت عمل میں لایا گیا تھا جو ممتاز ماہرینِ قانون اور جید علماء کرام پر مشتمل ایک آئینی ادارہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شاہ فیصل شہیدؒ اور شہزادہ عبد اللہ
سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فہد نے اپنی علالت اور ضعف کے پیش نظر حکومتی اختیارات ولی عہد شہزادہ عبد اللہ کے حوالے کر دیے ہیں اور اس پر عالمی حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ سعودی عرب، حرمین شریف کے باعث عالمِ اسلام کی عقیدت و محبت کا مرکز ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نیٹو اور اسلام
مغربی ممالک کی دفاعی تنظیم نیٹو NATO کے سیکرٹری جنرل ویلی کلاس نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ سوویت یونین کے بکھر جانے کے بعد اب اسلام مغرب کا سب سے بڑا حریف ہے اور مغربی ممالک کو اس حریف سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انڈونیشیا میں قادیانی سرگرمیاں
ہفت روزہ ’’العالم الاسلامی‘‘ مکہ مکرمہ ۱۸ دسمبر ۱۹۹۵ء کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا میں علماء کی سب سے بڑی جماعت ’’جمعیۃ نہفۃ العلماء‘‘ نے دارالحکومت جکارتہ میں منعقدہ ایک کانفرنس میں انڈونیشیا میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے قادیانیوں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ترکی میں رفاہ پارٹی کی جیت
برادر مسلم ملک ترکی کے حالیہ انتخابات میں جناب نجم الدین اربکان کی رفاہ پارٹی کی جیت دنیا بھر میں اس وقت موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ اور اس پر جہاں عالمِ اسلام کے دینی حلقوں میں مسرت و اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے وہاں مغربی لابیوں اور ذرائع ابلاغ کی تشویش و اضطراب میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ترکی ایک زمانہ میں عالمِ اسلام کا بازوئے شمشیر زن تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’حلالہ‘‘ کا مسئلہ اور اس کا پس منظر
ان دنوں قومی اخبارات میں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس جناب محمد شفیع محمدی کے ایک فیصلے کے حوالے سے ’’حلالہ‘‘ کے جواز اور عدم جواز کی بحث جاری ہے، اور احناف اور اہل حدیث علماء کے درمیان بیان بازی نے باقاعدہ مناظرے کی صورت اختیار کر لی ہے، حتٰی کہ بعض علماء کی طرف سے مخالفین کو مناظرے کا چیلنج بھی دے دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بیت المقدس اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی
روزنامہ جنگ لاہور ۶ دسمبر ۱۹۹۵ء کے مطابق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے بیت المقدس پر اسرائیل کے قبضہ کو غاصبانہ قرار دیتے ہوئے اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، اور ان ممالک پر تنقید کی ہے جو اپنے سفارت خانے بیت المقدس میں منتقل کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شام میں علمائے اہل سنت کی رہائی
ہفت روزہ الہلال اسلام آباد نے ۴ اگست ۲۰۰۰ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ شام کے صدر حافظ الاسد کی وفات کے بعد ان کے بیٹے بشیر الاسد نے صدارت سنبھالتے ہی ان سینکڑوں علماء اور دینی کارکنوں کی رہائی کا حکم دیا ہے جنہیں اٹھارہ سال قبل اہل سنت کے خلاف ایک بڑے ایکشن کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا اور وہ اس وقت سے مسلسل زیر حراست تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا اعظم طارق اور لاہور ہائیکورٹ
سپاہ صحابہؓ کے راہنما اور پنجاب اسمبلی کے رکن مولانا اعظم طارق ایک عرصہ سے جیل میں ہیں اور ان کی رہائی کی کوئی صورت سامنے نہیں آ رہی۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۵ دسمبر ۱۹۹۸ء کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے ایک رٹ درخواست پر اس صورتحال کا نوٹس لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سنی شیعہ تنازعہ کے بارے میں کمیٹی
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ دنوں سنی شیعہ کشمکش اور تصادم کے اسباب و عوامل کا جائزہ لینے کے لیے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی تھی جس میں تحریک جعفریہ اور سپاہ صحابہؓ کے سربراہوں سمیت تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دین کی تکمیل اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ
ایران کے مذہبی انقلاب کے بعد وہاں کی مذہبی قیادت مسلسل اس بات کا تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ اہل تشیع کو جن انتہاپسندانہ عقائد کا حامل ٹھہرایا جاتا ہے، ایران کے انقلابی مذہبی راہنما اس سے بری ہیں۔ اور نہ صرف یہ کہ وہ اعتدال پسندانہ مذہبی عقائد و رجحانات رکھتے ہیں بلکہ اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان اتحاد اور مفاہمت کے بھی علمبردار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سپاہ صحابہؓ کے مظاہرے اور مطالبات
روزنامہ جنگ لاہور ۱۴ مئی ۱۹۹۸ء کے مطابق سپاہ صحابہؓ کے قائم مقام سربراہ خلیفہ عبد القیوم نے اپنے قائدین کی رہائی کے لیے ملک بھر میں دوبارہ مظاہرے شروع کرنے اور ۶ جون کو مسجد شہداء لاہور میں کل پاکستان احتجاجی جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نقوی صاحب! تاریخ کا ریکارڈ درست رہنے دیجئے
روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد نے ۱۲ فروری ۱۹۹۸ء کی اشاعت میں تحریک جعفریہ پاکستان کے سربراہ ساجد علی نقوی صاحب کا ایک مفصل انٹرویو شائع کیا ہے جس میں انہوں نے دیگر باتوں کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ ہمارے بارے میں یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ ہم پاکستان میں فقہ جعفریہ کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا محمد اعظم طارق کا علاج
روزنامہ خبریں لاہور ۲۱ دسمبر ۱۹۹۷ء کی خبر کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے سپاہ صحابہؓ کے راہنما اور پنجاب اسمبلی کے رکن مولانا محمد اعظم طارق کی اس درخواست پر ڈی آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے کہ انہیں اپنا علاج جیل سے باہر کرانے کی اجازت دی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انسدادِ دہشت گردی کا قانون اور مذہبی حلقے
گزشتہ دنوں پاکستان کی قومی اسمبلی نے انسدادِ دہشت گردی کا قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت حکومت کو یہ حق حاصل ہو گیا ہے کہ وہ کسی بھی علاقہ کو دہشت گردی سے متاثرہ قرار دے کر خصوصی اقدامات کر سکتی ہے، جن میں پولیس کا بلا وارنٹ گھروں میں داخل ہونا، تلاشی لینا اور بعض مواقع پر گولی مار دینے کا اختیار بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مذہبی راہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں
کچھ عرصہ سے ملک کے مختلف حصوں میں مذہبی راہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں اور بظاہر اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ سنی شیعہ تصادم کو روکنے اور دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے۔ لیکن واقفینِ حال کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ مذہبی طبقہ کو مرعوب کرنے اور خوفزدہ رکھنے کے لیے ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانی مسئلہ اور دستوری و قانونی ابہامات
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا مفتی محمد رویس خان ایوبی نے قادیانی گروہ کی حالیہ سرگرمیوں کے بارے میں پائے جانے والے ابہامات کی وجہ دستوری تقاضوں اور بعض عدالتی فیصلوں میں ظاہری تضاد کو قرار دیا ہے، اور ایک بیان میں تجویز دی ہے کہ اس ابہام اور کنفیوژن کو دور کرنے کے لیے دستوری و قانونی طور پر قادیانی گروہ کو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لفظ ’’فارقلیط‘‘ کیا ہے؟
فارقلیط یونانی لفظ ’’پیرکلوتوس‘‘ سے مقرب ہے اور اس کا معنی تعریف کیا ہوا یعنی ’’احمد‘‘ ہے۔ یہ لفظ انجیل یوحنا ۱۶ : ۷ ۔ ۱۵ میں بار بار استعمال ہوا ہے اور حضرت عیسٰیؑ نے آنحضرت کے بارے میں یہ لفظ استعمال کیا ہے۔ قرآن پاک میں بھی (الصف ۶) حضرت عیسٰی کی اس بشارت کو نقل کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جاحظیہ کون تھے؟
جاحظیہ، معتزلہ کی ایک شاخ ہیں۔ یہ لوگ عمرو بن بحرین الجاحظ کے پیروکار تھے جو معتصم باللہ اور متوکل علی اللہ عباسی خلفاء کے دور (دوسری صدی ہجری کے نصف اول) میں ایک بڑا عالم تھا۔ ان کے چند ایک عقائد کا یہاں تذکرہ کیا جاتا ہے جو جمہور معتزلہ سے جدا ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امام ابن حجرؒ کون بزرگ تھے؟
امام ابن حجرؒ کا نام احمد بن علی ہے اور آٹھویں، نویں صدی ہجری کے محدث ہیں۔ ۷۷۳ھ میں کنانۃ (عسقلان) کے مقام پر پیدا ہوئے پھر مصر چلے گئے۔ مسلکاً شافعی ہیں، تمام علوم و فنون خصاصاً علمِ حدیث میں مہارتِ تامّہ رکھتے تھے ۔ ۔ مکمل تحریر
کیا حضرت عمرؓ نے احادیث بیان کرنے سے منع فرمایا تھا؟
یہ بات درست نہیں ہے اور جو روایات ایسی منقول ہیں ان کا مطلب ہرگز وہ نہیں ہے جو منکرینِ حدیث بیان کرتے ہیں، بلکہ اصل روایات کو ملاحظہ کیا جائے تو مطلقاً منع کرنے کا حکم ہمیں نہیں ملتا بلکہ اس میں روایات کو بکثرت بیان کرنے سے روکا گیا ہے۔ چنانچہ عراق کی طرف روانہ کردہ وفد کو حضرت عمرؓ نے حکم دیا کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کیا علماء دیوبند نے انگریزی سیکھنے کو حرام قرار دیا تھا؟
یہ بات غلط ہے، علماء دیوبند نے انگریزی زبان اور تعلیم کے جلو میں آنے والی یورپی تہذیب و ثقافت اور انگریزی ذہنیت و کلچر کی مخالفت ضرور کی ہے اور حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کے بارے میں ان کا موقف درست تھا، لیکن بحیثیت زبان کے انگریزی کی مخالفت نہیں کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
معرکہ ۱۸۵۷ء اور بہادر شاہ ظفرؒ
۱۸۵۷ء کے معرکہ حریت میں بادشاہ ہند بہادر شاہ ظفر مرحوم مجاہدینِ آزادی کے ساتھ پوری طرح شریکِ کار تھے۔ انہوں نے والیانِ ریاست کے نام اپنے ایک خط میں لکھا کہ ’’میری پرجوش خواہش ہے کہ ہندوستان سے فرنگیوں کو ہر ممکن طریق سے نکال دیا جائے تاکہ ملک آزاد ہو جائے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کیا امام اعظم ابوحنیفہؒ کا تعلق مرجئہ سے تھا؟
عہدِ صحابہؓ کے اختتام پر رونما ہونے والے فرقوں میں سے ایک ’’مرجئہ‘‘ بھی تھا جس کے مختلف گروہوں کا ذکر امام محمد بن عبد الکریم الشہرستانی ؒ (المتوفی ۵۴۸ھ) نے اپنی معروف تصنیف ’’الملل والنحل‘‘ میں کیا ہے، اور مرجئہ کی وجہ تسمیہ ایک یہ بیان کی ہے کہ یہ لوگ ایمان کے ساتھ عمل کو ضروری نہیں سمجھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کیا بے نماز کی قربانی جائز ہے؟
اگر وہ نماز روزہ کا منکر نہیں ہے تو وہ مسلمان ہے۔ جو نیک عمل کرتا ہے اس پر اسے ثواب ملے گا اور جن فرائض کا تارک ہے اس پر اسے گناہ ہو گا اور وہ اس کے ذمہ واجب الادا رہیں گے جب تک کہ ان کی قضا نہ کر لے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کیا اہلِ سنت کے کسی امام کے ہاں متعہ جائز ہے؟
مرد اور عورت کے درمیان عمر بھر کے لیے ازدواج کا جو عقد ہوتا ہے وہ شرعاً نکاح کہلاتا ہے اور ازدواج کی شرعی شکل ہے۔ لیکن اگر اسی عقد کی مدت متعین کر دی جائے تو اسے متعہ کہا جاتا ہے۔ مثلاً یہ کہ اتنے دن کے لیے یا ماہ کے لیے یا سال کے لیے نکاح کیا جائے۔ مدت خواہ ایک گھنٹہ ہو یا پچاس سال، جب نکاح میں مدت طے کر دی جائے تو وہ متعہ بن جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خارجی گروہ کا آغاز کب ہوا؟
امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان جنگ صفین کے درمیان مصالحت کی بات چلی اور دونوں لشکروں نے جنگ بندی کر کے حضرت ابو موسٰی اشعریؓ اور حضرت عمرو بن العاصؓ کو مصالحتی گفتگو کے لیے ثالث مقرر کر لیا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے لشکر کا ایک حصہ ان کے اس فیصلہ پر ناراض ہو کر الگ ہو گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانی اور مسئلہ کشمیر
یہ بات تاریخی لحاظ سے درست ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب پاکستان کے قیام اور ہندوستان کی تقسیم کے ساتھ پنجاب کی تقسیم کا بھی فیصلہ ہو گیا تو پاکستان کے حصے میں آنے والے پنجاب کی حد بندی کے لیے ریڈکلف باؤنڈری کمیشن قائم کیا گیا جس نے متعلقہ فریقوں کا مؤقف معلوم کرنے کے بعد حد بندی کی تفصیلات طے کر دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نشہ کی حالت میں مرنے والے کا جنازہ
نشہ کرنا خواہ وہ کسی چیز سے ہو حرام ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ’’کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ‘‘ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ نشہ کرنے والا شخص کبیرہ گناہ کا مرتکب اور فاسق ہے لیکن اس سے کافر نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص اسی حالت میں مر گیا تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سرسید احمد خان اور جہادِ آزادی
۱۸۵۷ء میں سرسید احمد خاں ضلع میرٹھ میں سرکاری ملازم تھے اور انہوں نے جہادِ آزادی کے دوران مسلمانوں کے خلاف انگریزی حکومت کا دل کھول کر ساتھ دیا۔ سرسید احمد خان نے ۱۸۵۷ء کے معرکۂ حریت پر ’’اسبابِ بغاوتِ ہند‘‘ کے نام سے ایک رسالہ لکھا جس میں اپنے بارے میں ایک انگریز افسر مسٹر جان کری کرافٹ کے مندرجہ ذیل ریمارکس نقل کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت سعد بن عبادہؓ اور بیعت سیدنا صدیق اکبرؓ
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد انصارِ مدینہ سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے اور انہوں نے جانشینِ رسولؐ کے طور پر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے انتخاب کا فیصلہ کیا۔ بیعت کی تیاری ہو رہی تھی کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے صورتحال کو تدبر کے ساتھ سنبھال لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حج بدل کون کرے؟
امام شافعیؒ کے نزدیک حج بدل کے لیے یہ شرط ہے کہ وہی شخص دوسرے کی طرف سے حج بدل کر سکتا ہے جس نے پہلے اپنا حج کیا ہو مگر امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک یہ ضروری نہیں ہے اور ان کے نزدیک وہ شخص بھی دوسرے کی طرف سے حج بدل کر سکتا ہے جس نے پہلے اپنا حج نہیں کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نواب سراج الدولہؒ کون تھے؟
جب انگریز برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں اپنے قدم جمانے میں مصروف تھا، نواب سراج الدولہؒ بنگال کا حکمران تھا اور یہ پہلا حکمران ہے جس نے میدانِ جنگ میں انگریز کی قوت کو للکارا اور مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ سراج الدولہ کو اس کے مرحوم والد علی وردی خان نے وصیت کی تھی کہ بنگال میں انگریزوں کو قدم جمانے کا موقع نہ دینا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مروجہ جمہوریت اور اسلام
جمہوری نظام سے مراد اگر تو یہ ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ہونا چاہیئے تو یہ اسلام کی روح کے عین مطابق ہے۔ مسلم شریف کی ایک روایت کے مطابق جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمران کی تعریف یہ فرمائی ہے کہ ’’’’تمہارے اچھے حکمران وہ ہیں جو تم سے محبت کریں اور تم ان سے محبت کرو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فئی اور غنیمت کا فرق
غنیمت اور فئی دونوں کفار سے حاصل شدہ مال کو کہتے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ جو مال اور سامان میدانِ جنگ میں مقابلہ کے ساتھ کفار سے وصول ہو وہ غنیمت کہلاتا ہے، اور جو ساز و سامان مسلمانوں کے لشکر سے مرعوب ہو کر لڑائی کے بغیر کفار چھوڑ کر چلے جائیں اسے فئی کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تیتو میر کون تھے؟
تیتومیرؒ کا نام نثار علی تھا، بنگال کے رہنے والے تھے، اپنے گاؤں نوکل باڑیہ میں لٹھ مار قسم کے نوجوان شمار ہوتے تھے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب امیر المؤمنین سید احمد شہیدؒ اور امام المجاہدین شاہ اسماعیل شہیدؒ جہادِ آزادی کی تیاری کے سلسلہ میں حجاز مقدس گئے ہوئے تھے۔ نثار علی بھی اسی سال حج کے لیے گئے، سید احمد شہیدؒ سے ملاقات ہوئی - - - مکمل تحریر
شرعی حق مہر ۳۲ روپے؟
اس کی کوئی اصلیت نہیں ہے۔ مہر کے بارے میں بہتر بات یہ ہے کہ خاوند کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہیے جسے وہ آسانی سے ادا کر سکے۔ کچھ عرصہ قبل تک ایک سو بتیس روپے چھ آنے کو مہر فاطمی کے برابر سمجھا جاتا تھا جو کسی دور میں ممکن ہے صحیح ہو لیکن چاندی کی موجودہ قیمت کے لحاظ سے کسی صورت بھی یہ مہر فاطمی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کا نصاب اور اکابر کا طرزعمل
یہ کہنا کہ ہمارے اکابر نے دینی مدارس کے نصاب میں عصری تقاضوں کو شامل کرنے کی طرف توجہ نہیں دی ہے یا اسے پسند نہیں کیا، خلافِ واقعہ بات ہے۔ سب سے پہلے دینی مدارس اور عصری علوم کو اکٹھا کرنے کی بات شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے کی تھی اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خود علی گڑھ تشریف لے گئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام میں معاشی مساوات کا تصور
معاشی مساوات کا معنٰی اگر تو یہ ہے کہ ایک معاشرہ کے تمام افراد ایک ہی جیسی زندگی گزاریں اور خوراک، لباس، رہائش، ملکیت، کاروبار اور دیگر معاملات میں ان میں کسی قسم کا کوئی تفاوت اور ترجیحات نہ ہوں تو یہ قطعی طور پر ایک غیر فطری تصور ہے جو نہ صرف یہ کہ اسلام کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے بلکہ عملاً بھی ناممکن ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قیامِ پاکستان اور جمعیۃ علماء اسلام
یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ آل انڈیا جمعیۃ علماء اسلام نے باقاعدہ جماعتی حیثیت سے تحریک پاکستان میں حصہ لیا تھا۔ اس جمعیۃ کا قیام ۱۹۴۵ء میں عمل میں لایا گیا تھا اور شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کو اس کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔ چنانچہ ان کی قیادت میں علماء کی ایک بہت بڑی تعداد نے تحریک پاکستان میں سرگرم کردار ادا کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ربوہ کا معنٰی اور پس منظر کیا ہے؟
ربوہ عربی زبان میں اونچے ٹیلے کو کہتے ہیں اور قرآن کریم میں حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے حوالہ سے ’’ربوہ‘‘ کا لفظ مذکور ہے کہ ’’واٰویناھمآ الیٰ ربوۃ‘‘ ہم نے ان دونوں کو اونچے ٹیلے پر جگہ دی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا چونکہ دعوٰی یہ ہے کہ وہ خود عیسٰی بن مریم ہے اور احادیث رسولؐ میں مسیحؑ اور عیسٰیؑ کی دوبارہ تشریف آوری کی جو بشارت دی گئی ہے وہ اس کے بارے میں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ اور معراجِ جسمانی
یہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان ہے کیونکہ خود حضرت عائشہؓ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کا واقعہ روایت کرتی ہیں اور فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہٰی کے پاس حضرت جبریل علیہ السلام کو اصلی شکل میں دیکھا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ میں اس امر پر اختلاف تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اشتراکیت کا فلسفہ کیا ہے؟
اشتراک کا فلسفہ یہ ہے کہ چونکہ دنیا میں انسانوں کے درمیان زیادہ تر جھگڑے زمین، مال اور عورت کی وجہ سے ہوتے ہیں اس لیے یہ تینوں چیزیں کسی کی شخصی ملکیت نہیں ہو سکتیں بلکہ یہ تینوں تمام انسانوں کے درمیان کسی تعیین کے بغیر مشترک ملکیت ہیں۔ یہ فلسفہ سب سے پہلے پارسیوں (مجوسیوں) کے ایک راہنما مزدک نے پیش کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بنیاد پرست مسلمان کون ہیں؟
ایک عرصہ سے عالمی اسلام دشمن لابیاں اس منظم کوشش میں مصروف ہیں کہ مسلمانوں کو ان کے بنیادی عقائد و احکام سے ہٹا کر جدید افکار و نظریات کے ساتھ مفاہمت کے لیے تیار کیا جائے اور مسلمانوں کے اندر ایک ایسی لابی منظم کی جائے جو جدید تعبیر و تشریح اور اجتہاد مطلق کے نام پر قرآن و سنت کے احکام کو نئے اور خودساختہ معنی پہنا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جمعیۃ العلماء ہند کب وجود میں آئی؟
۲۲ نومبر ۱۹۱۹ء کو دہلی میں متحدہ ہندوستان کے سرکردہ علماء کرام کا ایک اجلاس مولانا عبد الباری فرنگی محلی کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں ’’جمعیۃ العلماء ہند‘‘ کے نام سے علماء کی ایک مستقل جماعت قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مولانا مفتی کفایت اللہؒ کو جمعیۃ کا پہلا صدر اور مولانا احمد سعیدؒ کو ناظم منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد جمعیۃ کا پہلا اجلاس عام ۲۸ دسمبر ۱۹۱۹ء کو امرتسر میں ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی نظام میں نمائندگی کا تصور کیا ہے؟
کسی مسئلہ پر عوام کی رائے کو صحیح طور پر معلوم کرنے کے لیے نمائندگی کا تصور اسلام میں موجود ہے۔ غزوۂ حنین کے بعد غنیمت کا مال تقسیم ہوا اور مفتوحین کی طرف سے اپنے قیدی واپس لینے کے لیے ایک وفد جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو چونکہ قیدی مجاہدین میں تقسیم ہو چکے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر