مقالات و مضامین

مولانا اعظم طارق کی رہائی کا مطالبہ

جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان نے میانوالی جیل میں اسیر کالعدم سپاہِ صحابہؓ کے سربراہ مولانا اعظم طارق سے ملاقات کر کے ان کی ایک ماہ سے زائد عرصہ سے جاری بھوک ہڑتال ختم کرا دی ہے اور ان کی مسلسل گرفتاری کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ وہ ان کی رہائی کے لیے متعلقہ حکام سے بات چیت کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۲ء

دینی مدارس کے خلاف امریکی کاروائیاں

قبائلی علاقہ میں مبینہ دہشت گردوں کی تلاش کی آڑ میں دینی مدارس کے خلاف امریکی کمانڈوز پاکستانی فورسز کی مدد سے جو کاروائیاں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں وہ ہر محبِ وطن شہری کے لیے بے چینی اور اضطراب کا باعث ہیں، اور قومی خودمختاری اور دینی تشخص کے خلاف کی جانے والی ان کاروائیوں کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۲ء

افغانستان کے سابق فرمانروا ظاہر شاہ کی واپسی

افغانستان کے سابق فرمانروا ظاہر شاہ کم و بیش تیس سال کی جلاوطنی کے بعد گزشتہ روز وطن واپس پہنچے ہیں۔ انہیں تقریباً تیس برس قبل عین اس وقت جبکہ وہ بیرون ملک دورے پر تھے، داؤد خان نے معزول کر کے ملک کے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد سے ظاہر شاہ روم میں جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۲ء

پاکستان کی افغان پالیسی اور عوامی جذبات

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ فروری ۲۰۰۲ء کی رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا نے گزشتہ روز خانۂ فرہنگ ایران لاہور کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ افغانستان کے مسئلہ پر حکومتی پالیسی عوامی جذبات کے برعکس تھی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور جہاد میں بڑا فرق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۲ء

افغان خواتین کے خیالات

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ فروری ۲۰۰۲ء کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کی آمد کے بعد کابل سے پشاور شفٹ ہونے والی چند سرکردہ خواتین نے گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کا دورہ کیا، اور ہائیکورٹ بار کے صدر مزمل خان ایڈووکیٹ کی طرف سے دیے گئے استقبالیہ میں شرکت کے علاوہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۲ء

مذہبی و جہادی جماعتوں پر پابندی

صدر جنرل پرویز مشرف نے لشکر طیبہ، جیش محمدؐ اور سپاہ صحابہؓ سمیت متعدد مذہبی و جہادی تنظیموں کو خلافِ قانون قرار دے دیا ہے جس کے تحت ان تنظیموں کے ہزاروں افراد کی مسلسل گرفتاریوں کے علاوہ ان کے سینکڑوں دفاتر بند کر دیے گئے ہیں اور اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۲ء

طالبان قیدیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک

روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۱۳ جنوری ۲۰۰۲ء کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر دفاع رمزفیلڈ نے پینٹاگان میں پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ طالبان کے جن قیدیوں کو تفتیش کے لیے کیوبا کے قریب امریکی بیس میں منتقل کیا جا رہا ہے ان سے جنیوا کنونشن کے مطابق جنگی قیدیوں جیسا سلوک نہیں کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۲ء

کابل کی نئی حکومت اور اسلامی قوانین

روزنامہ جنگ لاہور یکم دسمبر ۲۰۰۱ء کی ایک خبر کے مطابق کابل کا کنٹرول سنبھالنے والے شمالی اتحاد کی وزارتِ انصاف کے ڈائریکٹر نور محمد امیری نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ افغانستان میں اب سرعام پھانسی، سنگساری، اور مرد و عورت کی تمیز کیے بغیر کوڑے لگانے کی سزائیں نہیں دی جائیں گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۲ء

محدثین اورفقہاء کا دائرہٴ کار اورمنہجِ عمل

جناب سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اسے اپنی امت کے ساتھ اجتماعی طور پر الوداعی ملاقات قرار دیتے ہوئے مختلف خطبات میں بہت سی ہدایات دی تھیں اور ان ارشادات و ہدایات کے بارے میں یہ تلقین فرمائی تھی کہ: فلیبلغ الشاھد الغائب فرب مبلغ اوعٰی لہ من سامع۔ ’’جو موجود ہیں، وہ ان باتوں کو ان لوگوں تک پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں۔ بسا اوقات جس کو بات پہنچائی جائے، وہ سننے اور پہنچانے والے سے زیادہ اس بات کی حفاظت کرتا ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ و ۱۴ مارچ ۲۰۱۶ء

ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

یکم مئی کو عام طور پر دنیا بھر میں محنت کشوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے جو امریکہ کے شہر شکاگو میں مزدوروں کے حقوق کے لیے جانوں کی قربانی دینے والے مزدوروں کی یاد میں ہوتا ہے، اس میں مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق و مفادات کی بات ہوتی ہے اور محنت کشوں کی تنظیموں کے علاوہ دیگر طبقات بھی ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اپریل ۲۰۲۳ء

دہشت گردی کے الزام کا بے نام وارنٹ

روزنامہ جنگ لاہور ۲۱ نومبر ۲۰۰۱ء کے مطابق دولتِ قطر کے امیر شیخ حماد بن خلیفہ الثانی نے گزشتہ روز متحدہ عرب امارات کی مشاورتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی اور اپنے ملک کو آزاد کرانے کی جدوجہد کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۱ء

امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کا عندیہ

روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۲۱ نومبر ۲۰۰۱ء کے اداریہ میں امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کے ان ریمارکس کا حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ’’جب تک تہذیب مکمل طور پر محفوظ نہیں ہو جاتی دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۱ء

افغانستان میں طویل جنگ کا ایک نیا دور

افغانستان میں امریکی اتحاد کی وحشیانہ بمباری بدستور جاری ہے اور اس بمباری کی مدد سے شمالی اتحاد نے کابل، ہرات اور مزار شریف سمیت بہت سے شہروں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جبکہ قندوز میں محصور طالبان پر بمباری ہو رہی ہے اور قندھار ملحقہ علاقوں سمیت طالبان کے قبضے میں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۱ء

اظہارِ رائے کی آزادی کا مغربی معیار

مغرب کو رائے کی آزادی اور اس کے اظہار کے حق پر بڑا ناز ہے اور دوسری اقوام و ممالک پر اس کا سب سے بڑا اعتراض یہی ہوتا ہے کہ وہ اظہارِ رائے کے اس معیار کو پورا نہیں کرتے جو مغرب کے نزدیک ضروری ہے۔ لیکن مغرب کا اس سلسلہ میں اپنا طرزِ عمل کیا ہے، اس کا اندازہ روزنامہ جنگ لندن ۲۶ ستمبر ۲۰۰۱ء کی اس خبر سے کیا جا سکتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۱ء

ہاتھی کے دانت کھانے کے اور، دکھانے کے اور

روزنامہ جنگ لندن ۶ اکتوبر ۲۰۰۱ء کے مطابق ساؤتھ ہیمپٹن یونیورسٹی میں ایک درخت پر مقامی کونسل کی طرف سے ایک خط چسپاں کیا گیا ہے جس میں کونسل کی لیگل سروسز کے سربراہ کے دستخطوں کے ساتھ اس درخت کو یقین دلایا گیا ہے کہ اسے کاٹا نہیں جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۱ء

امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی حیرت انگیز حیرت

معروف کالم نگار جناب ارشاد احمد حقانی نے جنگ لندن میں ۱۴ اکتوبر کو شائع ہونے والے کالم میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی ایک حالیہ گفتگو کا مندرجہ ذیل اقتباس نقل کیا ہے کہ ’’ش نے کہا کہ مجھے اس نفرت پر حیرت ہے جو اسلامی دنیا میں لوگ امریکہ کے لیے رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر امریکی حملوں کے اصل اہداف اور مقاصد

امارتِ اسلامیہ افغانستان پر امریکہ اور برطانیہ کے حملوں کے خلاف عالمی رائے عامہ مسلسل غم و غصہ کا اظہار کر رہی ہے مگر تا دمِ تحریر (۱۷ اکتوبر) حملوں کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اور امریکی صدر جارج بش نے حملوں کا دائرہ وسیع کرنے، جنگ کو لمبی مدت تک جاری رکھنے، اور جنگ بند ہونے کے بعد بھی افغانستان میں موجود رہنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۱ء

امریکہ کو روسی کرنل کا مشورہ

روزنامہ جنگ لاہور ۱۵ ستمبر ۲۰۰۱ء میں افغانستان میں پانچ برس تک جنگ لڑنے والے روسی کرنل یوری شامانوف کا ایک بیان شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے امریکہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ افغانستان سے جنگ نہ لڑے، یہ ان کے لیے ویتنام سے دس گنا زیادہ تباہ کن ملک ثابت ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۱ء

سانحہ گیارہ ستمبر پر ایک امریکی مذہبی راہنما کا تبصرہ

نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور واشنگٹن میں پینٹاگون کی عمارت سے اغوا شدہ طیاروں کے ٹکرانے سے جو قیامتِ صغرٰی بپا ہوئی ہے اس پر سب سے زیادہ دلچسپ اور حقیقت پسندانہ تبصرہ خود امریکہ کے ایک پروٹسٹنٹ مذہبی راہنما جیری فالول نے کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۱ء

افغانستان اور پاکستان ۔ سانحہ گیارہ ستمبر کے تناظر میں

۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو امریکہ کے دو شہروں نیویارک اور واشنگٹن میں ہونے والے بڑے سانحات میں ہزاروں جانوں کا نقصان ہوا ہے جس پر دنیا کے ہر شخص کو افسوس ہے، مگر امریکہ کی قیادت اس پر سیخ پا ہو کر جس بدحواسی کا مظاہرہ کر رہی ہے اس نے اہلِ دنیا کو افسوس اور رنج کے ساتھ ساتھ تعجب اور حیرت سے بھی دوچار کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۱ء

پاک افغان سرحد کی مانیٹرنگ کیلئے اقوامِ متحدہ کی ٹیمیں

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۹ اگست ۲۰۰۱ء کی خبر کے مطابق قبائلی علاقہ میں مولانا امان اللہ خان کی زیرصدارت منعقد ہونے والے جمعیت علماء اسلام کے کنونشن میں اعلان کیا گیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیموں کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ان ٹیموں کے افراد اپنی حفاظت کے خود ذمہ دار ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۱ء

افغانستان میں عیسائیت کی تبلیغ اور طالبان کا موقف

افغانستان کے بارے میں ایک عرصہ سے یہ خبریں آ رہی تھیں کہ خوراک کی فراہمی اور انسانی ہمدردی کے دیگر امور کی انجام دہی کے نام سے جو غیر ملکی این جی اوز وہاں کام کر رہی ہیں ان میں سے بعض عیسائیت کی تبلیغ اور افغان عوام کو مذہب تبدیل کرنے کی ترغیب دینے میں مصروف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۱ء

امریکہ اور برطانیہ کی پاکستان کو طالبان سے فاصلہ رکھنے کی ہدایت

روزنامہ نوائے وقت لاہور کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزارتِ خارجہ نے حکومتِ پاکستان سے کہا ہے کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ فاصلہ رکھے اور طالبان کی حمایت سے باز رہے ورنہ اسے نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اس سے قبل برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا بھی پاکستان کے وزیر خارجہ جناب عبد الستار کے ساتھ گفتگو میں یہ بات کہہ چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۱ء

بت شکنی اور طالبان حکومت کا موقف

عید الاضحٰی کے بعد پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی کے ہمراہ قندھار جانے کا اتفاق ہوا اور طالبان حکومت کے سربراہ امیر المومنین ملا محمد عمر اور دیگر سرکردہ حضرات سے ملاقات و گفتگو کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۱ء

وزیرِ داخلہ پاکستان اور جہادی تنظیمیں

ملک بھر میں ان دنوں وفاقی وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر کے حالیہ بیانات پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے جن میں انہوں نے جہادی تنظیموں کی سرگرمیوں کو ہدفِ تنقید بنایا ہے اور اس عندیہ کا اظہار کیا ہے کہ جہادی تنظیموں پر پابندی عائد کی جا رہی ہے تاکہ وہ جہاد کے نام کھلے بندوں چندہ نہ کریں اور اسلحہ کی برسرِ عام نمائش نہ کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۱ء

افغان عوام کی امداد و حمایت کا وقت

افغان دفاع کونسل نے امارت ِاسلامی افغانستان کی طالبان حکومت کی حمایت میں سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اور مختلف مکاتبِ فکر کے سرکردہ زعماء پر مشتمل اس کونسل کے مرکزی قائدین مولانا سمیع الحق، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا معین الدین لکھوی، قاضی حسین احمد، ڈاکٹر اسرار احمد، جنرل (ر) حمید گل، مولانا اعظم طارق اور دیگر حضرات نے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۱ء

’’دفاعِ افغانستان کونسل‘‘ کا قیام

۱۰ جنوری ۲۰۰۱ء کو دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں جمعیت علماء اسلام کے راہنما مولانا سمیع الحق کی دعوت پر ’’متحدہ اسلامی کانفرنس‘‘ کے عنوان سے ملک کی دینی جماعتوں کے قائدین کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں افغانستان کی طالبان حکومت کے خلاف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے امارتِ اسلامی افغانستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۱ء

طالبان حکومت پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیاں

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے، جن میں طالبان پر دہشت گردی کی سرپرستی کرنے اور عرب مجاہد اسامہ بن لادن کو امریکہ کے سپرد نہ کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے دنیا بھر کی حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ اقتصادی اور مواصلاتی بائیکاٹ کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۱ء

امریکی نائب وزیرخارجہ کو ’’طالبانائزیشن‘‘ کا خطرہ

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۳ ستمبر ۲۰۰۰ء کے مطابق امریکہ کے نائب وزیرخارجہ مسٹر کارل انڈرفرتھ نے کہا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت کو صرف امریکہ اور دوسرے ممالک کے لیے ہی خطرہ نہیں سمجھتے بلکہ پاکستان کے لیے بھی خطرہ قرار دیتے ہیں کیونکہ انہیں تشویش ہے کہ پاکستان بھی طالبانائزیشن کا شکار ہو کر ایک زیادہ بنیاد پرست ملک بن سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۰ء

طالبان حکومت کی مشکلات اور عزم

گزشتہ ہفتہ کے دوران راقم الحروف کو حرکۃ الجہاد الاسلامی کے ایک وفد کے ہمراہ کابل جانے کا موقع ملا۔ مدیر نصرۃ العلوم حاجی محمد فیاض خان سواتی اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے مدرس مولانا ظفر فیاض بھی وفد میں شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۰ء

افغانستان میں این جی اوز کی سرگرمیاں اور طالبان کا موقف

امارتِ اسلامی افغانستان میں طالبان کی حکومت نے گزشتہ دنوں ایک امریکی خاتون کو افغانستان سے نکال دیا جو ایک این جی او کے حوالے سے وہاں مصروف کار تھی اور مبینہ طور پر رفاہی کاموں کی آڑ میں جاسوسی سرگرمیوں میں ملوث پائی گئی تھی۔ اس پر اقوامِ متحدہ کے رابطہ افسر ایرک ڈیمرل کابل پہنچے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۰ء

جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال کے دورۂ افغانستان کے تاثرات

مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے فرزند اور لاہور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال نے گزشتہ دنوں افغانستان کا دورہ کیا ہے اور واپسی پر لاہور میں ایک تقریب کے دوران اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے امارتِ اسلامی افغانستان کی طالبان حکومت کو خراجِ تحسین پیش کیا ہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۰ء

چیچنیا کا جہادِ آزادی اور مسلم حکومتیں

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۷ فروری ۲۰۰۰ء کی ایک رپورٹ کے مطابق چیچنیا کے سابق صدر اور موجودہ چیچن صدر کے نمائندہ جناب زیلم خان نے لاہور ہائیکورٹ بار کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیچنیا کے مسلمانوں پر روسی افواج کے مظالم کے ذمہ دار مسلم ممالک ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۰ء

اسامہ بن لادن کی آڑ میں امارتِ اسلامی افغانستان کا نشانہ

اسلام آباد میں امارتِ اسلامی افغانستان کے سفیر مولوی سید محمد حقانی نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کی آڑ میں افغانستان کو اسلامی نظام کے نفاذ پر انتقامی کاروائی کا نشانہ بنا رہا ہے اور معصوم افغان شہریوں کے خلاف دہشت گردی کی کاروائی کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۰ء

طالبان اور شمالی اتحاد میں مفاہمت

گزشتہ ہفتے ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد میں افغانستان کی طالبان حکومت اور ان کے مخالف شمالی اتحاد کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کے بعد دونوں فریقوں کی طرف سے اس امر کا اظہار کیا گیا ہے کہ ان میں قومی حکومت کے قیام پر اتفاق ہو گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۱۹۹۹ء

مسیحی طالبان اور مسلح جدوجہد کی تربیت

ہم نے ’’نصرۃ العلوم‘‘ کے گزشتہ شمارے میں صوبہ سرحد میں ’’مسیحی طالبان تنظیم‘‘ کے نام سے عیسائی نوجوانوں کی ایک تنظیم کے قیام کا ذکر کیا تھا اور عرض کیا تھا کہ یہ افغانستان میں طالبان کی اسلامی تحریک کے اثرات ہیں کہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی اپنی کمیونٹی کو مذہب کی طرف راغب کرنے کے لیے طالبان کے طریق کار کو اپنا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۱۹۹۹ء

طالبان کے نقشِ قدم پر

روزنامہ جنگ لاہور ۱۲ جنوری ۱۹۹۹ء کے مطابق صوبہ سرحد میں مسیحی کمیونٹی کے کچھ افراد نے ’’مسیحی طالبان تنظیم‘‘ قائم کر لی ہے اور بھارت میں مسیحی اقلیت پر انتہاپسند ہندوؤں کی طرف سے ہونے والے مظالم کے خلاف پشاور میں احتجاجی مظاہرہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۱۹۹۹ء

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور طالبان کا اسلام

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ دنوں مہمند ایجنسی میں قبائلی عوام سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان میں نفاذِ اسلام کے لیے طالبان کی اسلامی حکومت کے اقدامات کا ذکر کیا ہے، اور کہا ہے کہ طالبان نے اسلامی نظام کے ذریعے ملک کے بڑے حصے میں امن قائم کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۸ء

طالبان کی مزید کامیابیوں پر مبارکباد

افغانستان میں بالآخر طالبان کی اسلامی حکومت نے مزار شریف اور دیگر ایسے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے جو ان کے مخالف شمالی اتحاد کے کنٹرول میں تھے۔ اور جس وقت یہ سطور تحریر کی جا رہی ہیں وادئ پنج شیر کے علاوہ پورے افغانستان پر طالبان کا کنٹرول قائم ہو چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۱۹۹۸ء

امریکہ اور حرکۃ الانصار

امریکی وزارتِ خارجہ نے اس سال عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیموں کی جو فہرست جاری کی ہے اس میں فلسطین میں اسرائیلی حکومت سے نبرد آزما مجاہدین کی جماعت حماس کے ساتھ ساتھ افغانستان اور کشمیر کے جہاد میں شریک حرکۃ الانصار کا نام بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۱۹۹۷ء

اسامہ بن لادن اور سعودی علماء کرام کی جدوجہد

روزنامہ پاکستان لاہور ۴ دسمبر ۱۹۹۶ء کی ایک خبر کے مطابق سعودی عرب کے ایک جلاوطن لیڈر اسامہ بن لادن نے سعودی حکومت کی یہ پیشکش مسترد کر دی ہے کہ اگر وہ سعودی حکومت کو ایک اچھی اسلامی حکومت قرار دیں تو انہیں سعودی عرب واپس آنے کی اجازت دے دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۷ء

افغانستان میں تین حکومتیں اور عالمی قوتوں کی حکمتِ عملی

روزنامہ جنگ لاہور نے ۱۸ اگست ۱۹۹۶ء کی اشاعت میں وائس آف جرمنی کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ افغانستان میں ربانی حکومت کے احتجاج کو نظرانداز کرتے ہوئے دو امریکی فرموں نے جنرل رشید دوستم کے ساتھ تیل کی تلاش اور ازبکستان سے پاکستان تک تیل کی پائپ لائن تعمیر کرنے کے معاہدے کیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۱۹۹۶ء

چیچنیا کے صدر جوہر داؤد دوفؒ کی شہادت

چیچنیا کے مجاہد صدر جوہر داؤد دوفؒ گزشتہ دنوں روسی فوجوں کی گولہ باری کے دوران ایک مورچہ میں جامِ شہادت نوش کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ گزشتہ پانچ برس سے روسی جارحیت کے خلاف اپنی بہادر قوم کی جنگِ آزادی کی قیادت کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۹۶ء

افغانستان میں دینی مدراس کے طلبہ کی حکومت

راقم الحروف کو ۹ اور ۱۰ جون کو افغانستان میں طالبان کے دارالحکومت قندھار اور افغانستان کے سرحدی قصبہ سپین بولدک میں طالبان کے راہنماؤں کے ساتھ افغانستان کی تازہ ترین صورتحال پر گفت و شنید اور افغانستان کے اس خطہ کے حالات کا جائزہ لینے کا موقع ملا۔ اس دوران جن حضرات سے ملاقات ہوئی ان میں طالبان کے امیر مولوی محمد عمر اخوند ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۱۹۹۶ء

قسم اور خیر کے کام

آج قسم کے حوالے سے ایک ضروری پہلو پر بات کرنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی وقت حالات سے مجبور ہر کر کوئی ایسی قسم اٹھا لی جس کے بارے میں بعد میں احساس ہوا کہ یہ قسم نہیں اٹھانی چاہیے تھی یا یہ قسم کسی خیر کے کام میں رکاوٹ بن رہی ہے تو ایسے موقع پر اسلام کی تعلیم کیا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مبارکہ کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۲۳ء

ایک عشرہ حرمین شریفین کے بابرکت ماحول میں

حرمین شریفین کی حاضری کسی بھی مسلمان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے اور برکتوں کے اس ماحول میں وقت گزارنے کی تمنا ہر مسلمان کے دل میں انگڑائی لیتی رہتی ہے۔ اللہ رب العزت کا بے پناہ فضل و کرم ہے کہ اس نے زندگی میں متعدد بار یہ سعادت نصیب فرمائی ہے اور اس سے بڑا کرم یہ کہ اکثر اوقات یہ حاضری کسی پیشگی منصوبہ بندی کے بغیر ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اپریل ۲۰۲۳ء

معاشی بدحالی سے نکلنے کا صحیح راستہ

روزنامہ جنگ لاہور ۲۶ مارچ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچیس ہزار روپے ماہانہ میں ایک فیملی کا گزارہ موجودہ حالات میں ممکن نہیں ہے، اس لیے محنت کش کی اجرت کم از کم پینتیس ہزار روپے ماہوار مقرر کی جانی چاہیے۔ وطنِ عزیز میں اجرتوں کا مسئلہ قیامِ پاکستان کے بعد سے ہی بحث و مباحثہ کا موضوع چلا آرہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جو ناہموار معاشی سسٹم ہمیں نوآبادیاتی حکمرانوں سے ورثہ میں ملا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۲۳ء

ادھوری بات غلط فہمی کا سبب بنتی ہے

امام ابو جعفر طحاویؒ نے ’’شرح مشکل الآثار‘‘ میں حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک صاحب نے کہا ’’من اطاع اللہ ورسولہ فقد رشد و من عصاھما‘‘۔ یہ کہہ کر اس نے بات موقوف کر دی اور جملہ مکمل نہیں کیا۔ اس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ فرما کر ڈانٹ دیا کہ ’’بئس الخطیب انت، قم‘‘ تم برے خطیب ہو، اٹھ جاؤ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ مارچ ۲۰۲۳ء

مولانا قاری جمیل الرحمٰن اخترؒ اور مولانا محمد یوسف رشیدیؒ

مولانا محمد یوسف رشیدی کی جدائی کا غم ابھی تازہ تھا کہ مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر بھی داغِ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دونوں دینی و تعلیمی جدوجہد کے سرگرم راہنما اور میرے انتہائی معتمد ساتھی ہونے کے ساتھ ساتھ آپس میں بھی گہرے دوست تھے جو یکے بعد دیگرے ہم سے رخصت ہو گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مارچ ۲۰۲۳ء

خاوند کے ذمہ بیوی بچوں کے مالی حقوق

قرآن کریم نے نکاح کے مقاصد یہ بیان کیے ہیں ’’ان تبتغوا باموالکم محصنین غیر مسافحین ‘‘ (النساء۲۴) ۔ پہلی شرط یہ کہ ’’ان تبتغوا باموالکم‘‘ خاوند بیوی کی تمام مالی ذمہ داریاں قبول کرے گا تو نکاح ہو گا۔ نکاح کے ساتھ خاوند کو بیوی اور ہونے والی اولاد سب کے خرچے کی ذمہ داری لینا ہو گی۔ اس میں مہر، نفقہ اور وراثت سب شامل ہیں۔ نکاح کے مقاصد میں دوسری شرط یہ ذکر فرمائی ’’محصنین غیر مسافحین‘‘ کہ باقاعدہ گھر بساؤ گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۲۳ء

Pages