آسیہ مسیح کیس: حالیہ بحران اور وزیراعظم کا خطاب
تین سال قبل رہائش کی تبدیلی کے بعد سے معمول ہے کہ نماز فجر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں پڑھاتا ہوں اور اس کے بعد بخاری شریف کا مختصر درس ہوتا ہے، جبکہ اس سے قبل مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں تقریباً چالیس برس تک نماز فجر پڑھانے اور اس کے بعد قرآن و حدیث کا درس دینے کی سعادت حاصل رہی ہے، فالحمد للہ علٰی ذٰلک۔ آج کے درس میں حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کی یہ روایت گفتگو کا موضوع تھی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جب اسلام کی بیعت لی تو اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ ’’والنصح لکل مسلم‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چیف جسٹس آف پاکستان سے ایک مؤدبانہ سوال
چیف جسٹس آف پاکستان محترم جناب جسٹس ثاقب نثار صاحب نے گزشتہ دنوں وکلاء کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے علاوہ کوئی اور نظام نہیں چل سکتا اور ملک کے دستور سے ہٹ کر کوئی بات قبول نہیں کی جائے گی۔ چیف جسٹس محترم کا یہ ارشاد سو فیصد درست ہے اور ملک و قوم کے دستور و قانون کے ساتھ ساتھ اس کی وحدت و استحکام کا بھی یہی تقاضہ ہے مگر ہم اس سلسلہ میں چیف جسٹس آف پاکستان کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کرنا موجودہ حالات کے تناظر میں ضروری سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قومی علماء و مشائخ کونسل کا اجلاس
ہمارے ہاں یہ روایت سی بن گئی ہے کہ حکومت بدلتی ہے تو پہلی حکومت کے اچھے کاموں کی بساط بھی لپیٹ دی جاتی ہے اور ہر معاملہ میں نئی حکومت الگ پالیسی طے کر کے ’’زیرو پوائنٹ‘‘ سے کام شروع کرنے کو ترجیح دیتی ہے جس سے کوئی کام بھی فطری رفتار سے آگے نہیں بڑھتا اور ایڈہاک ازم کا ماحول قائم رہتا ہے۔ اس لیے جب ’’قومی علماء و مشائخ کونسل پاکستان‘‘ کے اجلاس کا دعوت نامہ ملا تو خوشگوار حیرت ہوئی کہ سابقہ حکومت کے ایک اچھے کام کے تسلسل کو قائم رکھا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قراردادِ مقاصد اور تنویر قیصر شاہد
روزنامہ ایکسپریس کے کالم نگار تنویر قیصر شاہد ارشاد فرماتے ہیں: ’’برصغیر پاک و ہند کے علمائے کرام اور مذہبی جماعتیں ہمیشہ سیاست میں حصہ لیتی رہی ہیں، تشکیل پاکستان کے بعد بھی یہ سلسلہ چلتا رہا ہے، حتٰی کہ وہ مذہبی جماعتیں اور علمائے کرام بھی دھڑلے سے سیاسی و انتخابی عمل میں شرکت کرتے رہے جنہوں نے حضرت قائد اعظم، مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی اور اب بنے بنائے پاکستان پر قبضہ کر کے اپنے ایجنڈے اور نظریے کی تنفیذ چاہتی ہیں۔ ۱۹۴۹ء میں قرارداد مقاصد کی منظوری اسی نیت کا شاخسانہ تھی۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
برطانوی استعمار سے آزادی کی جدوجہد اور ایاز امیر
معلوم ہوتا ہے کہ رائے عامہ کی راہنمائی کا دعوٰی رکھنے والے بہت سے دانشوروں نے خود اپنی ہی تاریخ اور تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کا عزم کر لیا ہے اور اس کے لیے کسی طے شدہ منصوبہ کے تحت لگاتار جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ گوئبلز کا یہ مقولہ کہ ’’جھوٹ کو اتنی بار دہراؤ کہ لوگ اسے سچ سمجھنے لگیں‘‘ ہمارے قومی پریس کے بعض قلمکاروں کا ماٹو بن گیا ہے اور اس کے لیے کسی بھی قسم کی اخلاقیات کی پروا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی جس پر انا للہ و انا الیہ راجعون کا ورد ہی کیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحفظ ناموس رسالت پر بیداری کی حوصلہ افزا لہر اور ہمارے دانشور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اکتوبر کے دوران چناب نگر میں منعقد ہونے والی سالانہ ختم نبوت کانفرنس ہر سال اہمیت کی حامل ہوتی ہے کہ فرزندان اسلام ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو کر عقیدۂ ختم نبوت کے ساتھ بے لچک وابستگی کا اظہار کرتے ہیں، تحریک ختم نبوت کے مختلف مرحلوں کی یاد تازہ کرتے ہیں، مختلف مکاتب فکر اور دینی و سیاسی جماعتوں کے راہنما تحریک ختم نبوت کے مقاصد و اہداف کے بارے میں جدوجہد کے لیے باہمی ہم آہنگی اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سالانہ تعطیلات کا آخری ہفتہ
سالانہ تعطیلات کا آخری ہفتہ خاصی مصروفیات میں گزارا۔ اتوار کو ظہر کے بعد لاہور کے ہمدرد سنٹر میں درس قرآن کریم کی تقریب تھی، لٹن روڈ کی تاجر برادری ماہانہ طور پر اس درس کا اہتمام کرتی ہے اور مختلف علماء کرام اس میں اظہار خیال کرتے ہیں۔ اسی روز شام کو مولانا قاری جمیل الرحمان اختر اور مولانا عبد الرزاق آف فیصل آباد کے ہمراہ ساہیوال کے قریب ایک بستی میں واقع مدرسۃ البنات میں بخاری شریف کے سبق کے آغاز کی تقریب میں حاضری ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عوامی احتجاج اور ہمارا معاشرتی رویہ
ایک فارسی محاورہ ہے کہ ’’عدو شرے بر انگیزد کہ خیر مادراں باشد‘‘ یعنی بسا اوقات دشمن شر کو ابھارتا ہے اور اس میں ہمارے لیے خیر کا پہلو نکل آتا ہے۔ کچھ اس قسم کی صورتحال مذموم امریکی فلم کے حوالہ سے سامنے آرہی ہے کہ عالم اسلام ایک بار پھر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و ناموس کے مسئلہ پر متحد ہوتا نظر آرہا ہے، بلکہ اس بار ایک اور تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے کہ وہ بات جو ہم فقیر کیا کرتے تھے اب ہمارے حکمرانوں کی زبانوں پر آنے لگی ہے کہ توہین رسالت کو عالمی سطح پر جرم قرار دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا سید محمد میاںؒ
گزشتہ روز ڈاک میں حضرت مولانا سید حامد میاںؒ کے مقالات کا ایک مجموعہ ’’مقالاتِ حامدیہ‘‘ کے نام سے موصول ہوا تو ماضی کی بہت سی یادیں ذہن میں تازہ ہوتی چلی گئیں۔ اس بات پر خوشی ہوئی کہ مولانا سید محمود میاں اور ان کے رفقاء حضرتؒ کے فرمودات و افادات کو حفاظت کے ساتھ اگلی نسل تک منتقل کرنے کی ’’سعیٔ محمود‘‘ میں مسلسل سرگرم ہیں اور ۹۰ کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت کتابچہ بھی اس کا ایک حصہ ہے جس میں قرآن کریم کے بارے میں حضرت مولانا حامد میاںؒ کے مضامین و خطبات کو جمع کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا عبد السلامؒ اور دیگر مرحومین
عید الفطر کے بعد بدھ اور جمعرات کے دو روز تعزیتوں میں گزرے۔ پاکستان شریعت کونسل اسلام آباد کے امیر اور جی الیون کی جامع مسجد صدیق اکبرؓ کے خطیب مولانا مفتی سیف الدین گلگتی گزشتہ دنوں تہرے صدمہ سے دوچار ہوئے، پہلے ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوا، پھر کچھ دنوں کے بعد ان کے بہنوئی فوت ہوئے اور ۲۴ رمضان المبارک کو مفتی صاحب کے والد گرامی حاجی محمد نذیر صاحب انتقال کر گئے۔ میں بدھ کو اسلام آباد پہنچا، مفتی صاحب ابھی گلگت سے واپس نہیں آئے تھے، ٹیلی فون پر ان سے تعزیت کی اور مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جامعہ دارالعلوم کراچی پر چھاپہ
جامعہ دارالعلوم کراچی پر رینجرز اور پولیس کے چھاپے، محاصرے اور تلاشی کی خبر سن کر یوں محسوس ہوا کہ جیسے کوئی بھیانک خواب دیکھ رہا ہوں۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعۃ المبارک کے خطاب کے لیے منبر کی طرف بڑھ رہا تھا کہ چلتے چلتے ایک دوست نے خبر دی کہ دارالعلوم کراچی اس وقت رینجرز کے محاصرہ میں ہے اور کچھ پتا نہیں چل رہا کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ ذہن اچانک سناٹے کی زد میں آگیا اور جذبات کے سمندر میں تلاطم انگڑائیاں لینے لگا مگر کچھ معلوم نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
برما کا مسئلہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے!
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘‘ نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ میانمار (برما) کے صوبہ اراکان میں مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے، ہنگامی حالت کے باوجود بودھ راہبوں کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں پر تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور اس کی ذمہ داری ملکی سکیورٹی فورسز پر عائد ہوتی ہے۔ رواں سال مئی کے آخر میں شروع ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں درجنوں افراد ہلاک اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روہنگیا برادری کو اپنے ملک کا شہری تسلیم کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علماء کرام کی شہادت، استعمار کی سازش!
گزشتہ دو روز سے مولانا محمد اسلم شیخوپوری کی المناک شہادتؒ پر تعزیتی پروگراموں کا سلسلہ جاری ہے۔ جامعہ نصرۃ العلوم میں طلبہ کے اجتماع میں راقم الحروف نے مولانا شہیدؒ کی دینی و تعلیمی خدمات کا مختصر تذکرہ کیا، انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا، ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی ہوئی اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ ۱۵ مئی کو دارالعلوم گجرات میں جمعیۃ علماء اہل السنۃ کے زیر اہتمام ایک تعزیتی نشست ہوئی جس میں علماء کرام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جناب ایس ایم ظفر کی قانونی موشگافی
ایس ایم ظفر ملک کے نامور قانون دان ہیں، وفاقی وزیر قانون رہے ہیں، ممتاز ماہرین دستور و قانون میں ان کا شمار ہوتا ہے اور دستوری و قانونی معاملات میں ان کی رائے کو وقعت اور اہمیت دی جاتی ہے۔ پاکستان قومی اتحاد میں ان کے ساتھ میری رفاقت رہی ہے اور آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتحاد) کی دستوری کمیٹی اور منشور میں مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ سنجیدہ اور باوقار شخصیت ہیں اور جچی تلی بات کرنے کے عادی ہیں مگر گزشتہ روز ایک دوست نے ان کے ایک حالیہ بیان کی طرف توجہ دلائی تو تعجب سا ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فتنوں سے آگاہی کا میدان اور علماء حق
گزشتہ دنوں چنیوٹ کے دورے کے موقع پر استاذ محترم حضرت مولانا محمد نافع دامت برکاتہم کی زیارت و مجلس نصیب ہوگئی۔ چند سال قبل مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ کے ہمراہ حضرت شیخ مدظلہ کی خدمت میں حاضری ہوئی تھی، اس موقع پر بخاری شریف کی ایک روایت کی قراءت کے بعد انہوں نے اپنی سند کے ساتھ روایت حدیث کی اجازت دی تھی اور ان سے شرفِ تلمذ حاصل ہوگیا تھا۔ اس کے بعد متعدد بار ان کے پاس حاضر ہو کر دعائیں اور شفقتیں سمیٹ چکا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تین خوشیاں اور ایک تمنا!
آج میں خوش ہوں اور اس خوشی میں اپنے قارئین کو بھی شریک کرنا چاہتا ہوں۔ آج کے اخبارات اس وقت میرے سامنے ہیں اور میری نظریں تین خبروں کا مسلسل طواف کر رہی ہیں۔ ایک خبر بہاولپور میں جمعیۃ علماء اسلام کے عظیم الشان جلسہ عام سے مولانا فضل الرحمان کے خطاب کی ہے، دوسری خبر کوئٹہ میں دفاع پاکستان کونسل کی طرف سے منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے بارے میں مولانا سمیع الحق کی پریس کانفرنس کے حوالے سے ہے، اور تیسری خبر ایوان اقبال لاہور میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کی پچاسویں سالانہ فتح مباہلہ کانفرنس کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسٹریٹ پاور ۔ موجودہ دور کا مؤثر ہتھیار
دفاع پاکستان کونسل کے بارے میں امریکی بیانات پر سینٹ آف پاکستان میں اپوزیشن لیڈر مولانا عبد الغفور حیدری کا ردعمل خوش آئند ہے اور اس بات کی علامت ہے کہ الگ الگ عوامی جلسے کرنے کے باوجود جمعیۃ علماء اسلام کے دونوں دھڑوں کی قیادتیں امریکہ کی مسلسل مداخلت اور جارحیت کے خلاف موقف اور پالیسی کے حوالے سے پوری طرح متفق ہیں جو بہرحال باعث اطمینان ہے۔ مولانا حیدری کا یہ حوصلہ افزا بیان آج ہی اخبارات میں نظر سے گزرا ہے کہ وہ دفاع پاکستان کونسل کے بارے میں امریکی بیان کی مذمت کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’مکاتیب رئیس الاحرار‘‘
رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ کی اپنے معاصرین کے ساتھ خط و کتابت کا مجموعہ ’’مکاتیب رئیس الاحرار‘‘ آج کل میرے مطالعہ میں ہے۔ یہ خط و کتابت ان کے پوتے مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی آف فیصل آباد نے خاصی تگ و دو کے بعد جمع کی ہے اور اسے کتابی شکل میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے اس کا مسودہ مجھے بھجوایا جو میں نے کراچی کے سفر میں ساتھ رکھ لیا۔ آج جامعہ اسلامیہ کلفٹن میں بیٹھا یہ سطور قلمبند کر رہا ہوں اور رئیس الاحرار کے زریں خیالات سے فیضیاب ہو رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان میں نفاذ اسلام کے لیے جمعیۃ علماء اسلام کی جدوجہد
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان ۲۷ جنوری جمعۃ المبارک کو کراچی میں اور ۲۹ جنوری اتوار کو گوجرانوالہ میں عوامی جلسوں کا اہتمام کر رہی ہے۔ کراچی کا جلسہ ’’اسلام زندہ باد کانفرنس‘‘ کے عنوان سے اور گوجرانوالہ کا جلسہ ’’تحفظ اسلام و پاکستان کانفرنس‘‘ کے عنوان سے منعقد ہو رہا ہے۔ یہ جلسے جمعیۃ علماء اسلام کی اس ’’رابطۂ عوام مہم‘‘ کا حصہ ہیں جو دوسری سیاسی پارٹیوں کی طرح اگلے الیکشن سے قبل عوامی بیداری اور اپنے کارکنوں کو الرٹ کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس میں تربیتی کورسز کا خوش آئند رجحان
ربع صدی کے بعد شعبان العظم کے دو ہفتے اپنے ملک میں گزارنے کا موقع ملا ہے ورنہ ان دنوں عام طور پر برطانیہ یا امریکہ میں ہوتا ہوں۔ مگر برطانیہ گزشتہ تین سال سے ویزا دینے سے انکاری ہے اور امریکہ کا ملٹی پل ویزا بھی ختم ہو چکا ہے۔ برطانیہ کے ویزا آفس کے حکام کو شبہ ہے کہ میں کہیں برطانیہ میں رہ نہ جاؤں، جبکہ میں سمجھ نہیں پا رہا کہ کم و بیش پچیس بار جا کر واپس آجانے کے باوجود اگر میں انہیں وہاں رہ نہ جانے کی تسلی نہیں کرا سکا تو اور کون سی صورت ممکن ہے کہ میں انہیں اطمینان دلا سکوں؟ بہرحال ’’رموز مملکت خویش خسروان دانند‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان اور مسلم دنیا میں نفاذ شریعت کی صورتحال ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس
اجلاس میں ان خبروں پر غور کیا گیا کہ (۱) مصر کے حالیہ انتخابات میں اکثریت کے ساتھ کامیاب ہونے والی دینی جماعتوں کو غیر مؤثر بنانے کے لیے سپریم کورٹ کی طرف سے انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے (۲) اور کویت میں منتخب پارلیمنٹ نے قرآن و حدیث کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے کا جو بل منظور کیا ہے اسے امیر کویت نے مسترد کر دیا ہے۔ مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی اور راقم الحروف نے اس پر تفصیلی اظہار خیال کیا اور اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ مسلم ممالک کے حکمرانوں کا عمومی طرز عمل یہی ہے کہ وہ نفاذ اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جامعہ شاہ ولی اللہ ۔ خواب سے تعبیر تک!
روزنامہ اسلام میں جامعۃ الرشید کراچی کے سالانہ اجتماع کی تفصیلات نظر سے گزریں تو اس محفل سے بالکل غیر حاضر رہنے کو جی نہ چاہا۔ مولانا مفتی محمد نے مجھے بھی اس اجتماع میں حاضری کی دعوت دی تھی اور میں نے وعدہ کر لیا تھا لیکن حاضری کی ترتیب طے کرتے وقت جب ڈائری پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ اسی دن اسی وقت مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ اور مدرسہ انوار العلوم کی مجلس منتظمہ کا اجلاس طے ہو چکا ہے جو مجھ سے پوچھ کر رکھا گیا ہے اور اس میں مدرسہ کے مہتمم کے طور پر حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ کے جانشین کے انتخاب کا مسئلہ بھی ایجنڈے میں شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اربابِ علم و تحقیق کی خدمت میں چند سوالات
کراچی میں چار روز گزارنے کے بعد جمعرات کی شب گوجرانوالہ واپسی ہوگئی ہے، اس سفر میں میرے سوشل میڈیا کے ایڈمن اور عزیز نواسہ حافظ محمد خزیمہ خان سواتی بھی ہمراہ تھے، اس دوران بیشتر مصروفیات کی جولانگاہ تعلیمی ادارے رہے اور اساتذہ و طلبہ کے ساتھ مختلف امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا، فالحمد للہ علٰی ذٰلک۔ جامعہ انوار القرآن نارتھ کراچی میں ’’ریاست مدینہ اور عصر حاضر‘‘ کے موضوع پر مسلسل تین روز تک گفتگو ہوئی۔ چھ نشستوں میں مجموعی طور پر ساڑھے سات گھنٹے بات ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی نظام معیشت اور بیت المال کا تصور
۱۲ مارچ کو تھوڑی دیر کے لیے ضلع اٹک کے گاؤں موزا جانے کا اتفاق ہوا اور ’’قرآن اور صاحبِ قرآن‘‘ کے عنوان سے ایک کانفرنس میں حاضری ہوئی جو مولانا قاری عطاء الرحمانؒ کے قائم کردہ مدرسہ کے سالانہ اجتماع کے طور پر منعقد ہوئی۔ مولانا قاری عطاء الرحمانؒ میرے طالب علمی کے دور کے ساتھی اور ہم سبق تھے، گزشتہ ماہ ان کا انتقال ہوگیا ہے ، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اب ان کی جگہ ان کے بھائی اور بیٹے اس دینی و تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مولانا قاری عطاء الرحمان جمعیۃ علماء اسلام ضلع اٹک کے امیر کی حیثیت سے بھی متحرک رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قرآن کریم کی حرمت کے تقاضے
آج کا روزنامہ اسلام میرے سامنے ہے اور قرآن کریم کے حوالہ سے دو اہم خبریں توجہ کو اپنی طرف مبذول کرا رہی ہیں۔ ایک خبر یہ ہے کہ سینٹ آف پاکستان نے افغانستان میں قرآن کریم کی توہین کے مرتکب امریکی فوجیوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ قائدین ایوان نیر حسین بخاری کی پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان بالا اس واقعہ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، یہ انتہائی مکروہ فعل تھا جو کہ نیٹو افواج کے سپاہیوں نے کیا ہے، اس واقعہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، امریکہ اور نیٹو ممالک اس واقعہ کی تحقیقات کرائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
گلگت بلتستان میں کشیدگی کا گہرا جائزہ لینے کی ضرورت
شمالی علاقہ جات میں خونریز کارروائیوں کا نیا سلسلہ جہاں انتہائی افسوسناک ہے وہاں مستقبل کے خطرات و خدشات کے لیے الارم کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ اور یہ اندازہ کرنا اب مشکل نہیں رہا کہ اس خطہ کو کن مقاصد کے لیے اس قسم کی کارروائیوں کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے اور اس علاقہ کے مستقبل کی نئی نقشہ گری کا تانا بانا بننے والے عناصر شمالی علاقہ جات میں کہاں کہاں اور کون کون سا رنگ بھرنے کے خواہشمند ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علماء کرام اور دیگر طبقات کے درمیان ربط و تعاون کی ضرورت
گزشتہ جمعرات (۲ فروری) کو ایک روز کے لیے ڈیرہ غازی خان جانے کا اتفاق ہوا، نوجوان علماء کرام کی ایک تنظیم کے زیراہتمام سیرت کانفرنس سے خطاب کے علاوہ مدرسہ امداد العلوم شادن لنڈ کی ایک نشست میں حاضری ہوئی اور راجن پور میں حضرت مولانا سیف الرحمان درخواستی کے مدرسہ جامعہ شیخ درخواستی کے سالانہ جلسہ دستار بندی میں شرکت کی سعادت بھی میسر آئی جس میں اس سال قرآن کریم حفظ مکمل کرنے والے بائیس طلبہ کی دستار بندی کی گئی۔ مگر اس سفر میں میرے لیے زیادہ دلچسپی کا باعث ڈیرہ غازی خان کے ایک ہوٹل میں منعقد ہونے والی وہ تقریب تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی خلافت ۔ دلیل و قانون کی حکمرانی
تا ۴ جنوری کو جامعہ اسلامیہ کلفٹن کراچی کی مجلس صوت الاسلام کے زیر اہتمام فضلائے درس نظامی کے ایک تربیتی کورس میں مسلسل تین روز تک ’’خلافت‘‘ کے عنوان پر گفتگو کا موقع ملا۔ یہ کورس ایک تعلیمی سال کے دورانیے پر مشتمل ہوتا ہے اور کئی سالوں سے جاری ہے، مختلف اصحاب فکر و دانش اپنے اپنے پسندیدہ موضوعات پر اس میں گفتگو کرتے ہیں، مجھے بھی ہر سال دو تین روز کے لیے حاضری کی سعادت حاصل ہوتی ہے اور منتظمین کے ساتھ ساتھ فضلائے درس نظامی کا ذوق اور طلب دیکھ کر خوشی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذ شریعت کی جدوجہد ۔ حضرت مولانا سلیم اللہ خان کا مکتوب گرامی
شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم ہمارے محترم بزرگ اور اکابر علماء کرام میں سے ہیں اور اہل علم کے لیے مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کے معاصرین اکثر اس دنیا سے کوچ کر چکے ہیں اور ان کی یادگار کے طور پر حضرت شیخ مدظلہ کا وجود ہم سب کے لیے باعث برکت اور غنیمت ہے، اللہ تعالٰی انہیں صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھیں، آمین یا رب العالمین۔ گزشتہ دنوں ملک کے اکابر علماء کرام کی خدمت میں راقم الحروف نے ’’ملی مجلس شرعی‘‘ کی ۲۴ ستمبر ۲۰۱۱ء کو لاہور میں منعقد ہونے والی ’’اتحاد امت کانفرنس‘‘ کی رپورٹ ارسال کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذ شریعت کے لیے حقیقی جدوجہد کی ضرورت ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس
پاکستان شریعت کونسل کی مجلس مشاورت کا ایک اہم اجلاس ۹ فروری کو مدرسہ امینیہ فاروقیہ امین ٹاؤن فیصل آباد میں مرکزی امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی کی زیر صدارت ہوا جس میں مولانا عبد الرشید انصاری (فیصل آباد)، مولانا عبد الحق خان بشیر (گجرات)، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر (لاہور)، مولانا قاری عبید اللہ عامر (گوجرانوالہ)، مولانا محمد رمضان علوی (اسلام آباد)، مولانا سیف اللہ خالد (چنیوٹ)، مفتی سیف الدین گلگتی (اسلام آباد)، قاری محمد طیب مدنی (فیصل آباد)، مولانا محمد صابر سرہندی (فیصل آباد)، مولانا محمد فاروق (کھرڑیانوالہ)، مولانا عبد القیوم حقانی (نوشہرہ) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سہ ماہی تعطیلات کا آغاز
اسباق کے دوران میں نے خود پر ایسا سفر ممنوع قرار دے رکھا ہے جس کے لیے جامعہ نصرۃ العلوم میں سبق کی چھٹی کرنا پڑے اس لیے دور دراز کے دوستوں کے تقاضوں کا سارا بوجھ تعطیلات پر آجاتا ہے اور میری چھٹیاں عام طور پر سفر میں گزرتی ہیں۔ سہ ماہی امتحان اور تعطیلات کا دورانیہ ایک ہفتہ کا ہوتا ہے جبکہ دو روز قبل طلبہ کو امتحان کی تیاری کے لیے وقت دینے کا بہانہ بھی کام دے جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
گولیکی ضلع گجرات میں ’’شہدائے ختم نبوت کانفرنس‘‘
گولیکی ایک پرانا گاؤں ہے جہاں کی ایک قدیمی جامع مسجد مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان وجہ تنازع بنی ہوئی ہے جس میں ماسٹر سرفراز احمد شہید کے دو چچا زاد بھائی اس سے قبل شہید ہو چکے ہیں، ایک قادیانی کا قتل بھی اس تنازعے کا حصہ ہے اور ایک مسلمان فرحان قیوم نے بھی جام شہادت نوش کیا ہے۔ گولیکی میں کم و بیش ساڑھے تین سو سال سے چلی آنے والی یہ مسجد شروع سے مسلمانوں کی عبادت گاہ رہی ہے لیکن ۱۹۲۲ء میں اس مسجد کا امام ’’امام دین‘‘ قادیانی ہوگیا اور مسجد میں قادیانیوں کا عمل دخل شروع ہوگیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذِ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کی متبادل حکمت عملی!
تحریک تحفظ ناموس رسالت کے گزشتہ راؤنڈ کی بات ہے جب آسیہ مسیح کیس کے سلسلہ میں گورنر پنجاب قتل ہوگئے تھے اور ریمنڈ ڈیوس کی پاکستان دشمن سرگرمیوں پر پورا ملک سراپا احتجاج تھا، منصورہ لاہور میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام اور دینی جماعتوں کے سرکردہ راہنما شریک ہوئے۔ کانفرنس کے اختتام پر ملک کی ایک بڑی روحانی درگاہ (کوٹ مٹھن) کے سجادہ نشین محترم نے شرکاء س مکمل تحریر
ملی مجلس شرعی پاکستان کی چند اہم تجاویز
کافی عرصہ کے بعد ملی مجلس شرعی پاکستان کا اجلاس گزشتہ اتوار کو لاہور میں منعقد ہوا جس میں مختلف تعلیمی و فقہی مسائل پر باہمی مشاورت کے ساتھ مشترکہ موقف طے پایا۔ مجلس کے دفتر کی طرف سے اجلاس کی جاری کردہ رپورٹ قارئین کی نذر کی جا رہی ہے۔ ’’ملی مجلس شرعی پاکستان تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کا ایک مشترکہ علمی فورم ہے جو وقتاً فوقتاً اپنے اجلاس منعقد کر کے معاشرے کو درپیش مسائل کو زیربحث لاتا اور ان کے بارے میں علماء کرام کا متفقہ موقف سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سی پیک کے چند توجہ طلب پہلو
وزیر اعظم جناب عمران خان نے گزشتہ روز کوئٹہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ CPEC کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے اور بلوچستان کو اس کا حق دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات بلوچستان کے بعض سرکردہ حضرات کی طرف سے اس سلسلہ میں چند تحفظات کے اظہار کے پس منظر میں کہی ہے جبکہ اس کے ساتھ حکومت پاکستان کے مشیر تجارت و صنعت جناب عبد الرزاق داؤد کا ایک روز قبل کا یہ بیان بھی قابل توجہ ہے کہ ہمیں عقل سے کام لینا ہوگا، یہ نہ ہو کہ سی پیک انڈسٹریل زون میں چینی آجائیں اور ہماری صنعتیں بند ہو جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس میں تعلیم و تربیت ۔ مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کا ایک اہم خطاب
جامعہ دارالعلوم کورنگی کراچی کے صدر اور بزرگ عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی ۲ دسمبر کو ایک روز کے لیے گوجرانوالہ تشریف لائے، جامعہ قاسمیہ قاسم ٹاؤن میں علماء کے ایک بھرپور اجتماع سے خطاب کیا اور جامعہ قاسمیہ کی نئی سبزی منڈی والی شاخ میں جمعۃ المبارک کا خطبہ ارشاد فرمایا۔ جامعہ قاسمیہ کے مہتمم مولانا قاری گلزار احمد قاسمی نے صبح کے ناشتے میں علماء کرام کی بڑی تعداد کو جمع کر رکھا تھا جن میں راقم الحروف بھی شامل تھا۔ ہم نے حضرت مفتی صاحب کے ساتھ ناشتہ کیا اور ان کے فکر انگیز خطاب سے مستفید ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پنجاب حکومت کے جانبدارانہ اقدامات
۲۸ نومبر کو شام ساڑھے پانچ بجے وزیر اعلٰی ہاؤس لاہور میں صوبائی اتحاد بین المسلمین کمیٹی کا اجلاس تھا جس کی صدارت وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف نے کرنا تھی۔ میں سوا چھ بجے کے لگ بھگ اجلاس کے ہال میں داخل ہونے لگا تو اندر سے مولانا حافظ فضل الرحیم، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا محمد امجد خان، مولانا قاری احمد میاں تھانوی اور دوسرے علماء کرام باہر آرہے تھے، مجھے انہوں نے دروازے پر روک لیا اور کہا کہ ہم اجلاس کا بائیکاٹ کر کے باہر آئے ہیں آپ بھی ہمارا ساتھ دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ابلاغیات کی اہمیت اور روزنامہ اسلام
سیدنا حضرت موسٰی علیہ السلام کو جب اللہ تعالٰی نے کوہ طور پر نبوت سے سرفراز فرمایا اور بنی اسرائیل کی راہنمائی اور آزادی کی ذمہ داری سونپی تو حضرت موسٰیؑ نے اللہ رب العزت سے درخواست کی کہ میرے بھائی ہارونؑ کو بھی نبوت عطا فرما کر میرا مددگار بنا دیں۔ اس کی ایک وجہ انہوں نے یہ بیان کی کہ ’’ھو افصح منی لساناً‘‘ وہ مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے اور لوگوں کو بات سمجھانے میں میرا اچھا مددگار ثابت ہوگا۔ حضرت موسٰیؑ کی زبان میں لکنت تھی جس کی وجہ سے انہیں مسلسل بات کرنے میں دقت ہوتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ملکی مسائل اور نفاذ شریعت کی جدوجہد ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی نے ملک کی موجودہ صورتحال اور دینی جدوجہد کے حوالے سے اہم امور پر مشاورت کے لیے ۶ اکتوبر کو کونسل کے اہم راہنماؤں کو ’’مرکز حافظ الحدیثؒ‘‘ حسن ابدال میں طلب کیا اور مشاورت کم و بیش دو گھنٹے جاری رہی۔ اجلاس مولانا درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مولانا عبد القیوم حقانی، مولانا عبد الحق خان بشیر، مولانا حافظ مہر محمد، مولانا عبد الرزاق، مولانا قاری عبید اللہ عامر، مولانا صلاح الدین فاروقی، مولانا رشید احمد درخواستی، مولانا مفتی سیف الدین گلگتی، مولانا محمد عمر عثمانی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ماڈل مدارس ۔ چند غور طلب پہلو
روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ میں ۲۵ ستمبر ۲۰۱۱ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’کروڑوں روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے ماڈل مدرسے میں پانچ سال بعد بھی تعلیمی سلسلہ شروع نہیں ہو سکا۔ ۸ کنال رقبہ پر تعمیر مدرسے میں نشئیوں، آوارہ کتوں اور بلیوں نے ڈیرے ڈال لیے۔ سابق وزیر اعلٰی پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے دور حکومت میں پنجاب بھر میں ڈویژنل ہیڈ کوارٹر شہروں میں طلبہ و طالبات کو دینی تعلیم سے روشناس کروانے کے لیے ماڈل دینی مدرسے تعمیر کروائے گئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ائمہ و خطباء کی ذمہ داریاں اور ان کی مشکلات و مسائل
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے نئے تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر ۱۸ ستمبر کو ’’ائمہ و خطباء کی ذمہ داریاں اور ان کی مشکلات و مسائل‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جو صبح ساڑھے دس بجے شروع ہو کر چار بجے تک جاری رہا۔ اس سال اکادمی میں دو نئی کلاسوں کا آغاز کیا گیا ہے، ایک کلاس حفظ قرآن کریم کی ہے جس میں حفظ کے ساتھ مڈل تک عصری تعلیم کا اہتمام کیا گیا ہے اور دوسری درس نظامی کے اولٰی اور ثانیہ کے درجات کے ساتھ تین سال میں میٹرک تک تعلیم کی کلاس ہے جس کے ساتھ گوجرانوالہ بورڈ سے میٹرک کا امتحان دلوایا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سی پیک معاہدات پر بحث کی ضرورت
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بجٹ تجاویز پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ’’سی پیک معاہدات‘‘ کو قومی اسمبلی میں زیربحث لایا جائے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ یہ قرضے ہیں یا سرمایہ کاری ہے؟ اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح افغانستان سے مہاجر یہاں آئے تھے اب چینی گوادر میں بہت تعداد میں آئے ہوئے ہیں، بلوچستان کی معدنیات چین لے جا رہا ہے اور ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا کہ کتنا سونا اور دوسری معدنیات نکل رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا قاضی عصمت اللہؒ / حضرت مولانا محمد الطافؒ / مولانا خلیل احمد نعمانیؒ
مولانا سید عبد المالک شاہ اور مولانا میاں عبد الرحمان کی جدائی کا غم ابھی تازہ تھا کہ دو اور بزرگ علماء کرام حضرت مولانا قاضی عصمت اللہ اور حضرت مولانا محمد الطاف کی وفات کی غمناک خبر سننا پڑ گئی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دونوں بزرگ ملک کے بڑے علماء میں سے تھے اور ان کی دینی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کے شاگردوں کا دائرہ بھی خاصی وسعت رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خطبائے کرام سے چند گزارشات
چند ہفتے قبل میں نے اس کالم میں قرائے کرام اور نعت خواں حضرات کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کیں تو ایک معروف نعت خواں دوست نے فون پر شکوہ کیا کہ آپ نے ہمارے بارے میں تو بہت کچھ لکھ دیا ہے مگر خطباء اور مقررین کے بارے میں کچھ نہیں لکھا۔ میں نے عرض کیا کہ اسی کالم میں یہ عرض کر دیا تھا کہ ابھی کہنے کی بہت سی باتیں باقی ہیں جو موقع و محل کی مناسبت سے ان شاء اللہ تعالٰی لکھی جاتی رہیں گی۔ چنانچہ آج خطبائے کرام اور مقررین کی خدمت میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں مگر پہلے مرحلے میں تمہید کے طور پر کچھ واقعات پیش کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحفظ ختم نبوت کی تنظیموں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی کی ضرورت
قادیانیوں کی عالمی سرگرمیوں کے حوالے سے گزشتہ ایک کالم میں راقم الحروف نے کچھ معروضات پیش کی تھیں اور یہ عرض کیا تھا کہ قادیانیوں کی ان سرگرمیوں کو جو مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور پاکستان کے دستوری و قانونی فیصلوں کے خلاف لابنگ کے حوالے مسلسل سے جاری ہیں، ان پر نظر رکھنے، ان کے بارے میں حکمت عملی طے کرنے اور ان کے تعاقب کے لیے کوئی مربوط سسٹم دینی حلقوں میں موجود نہیں ہے۔ اور وہ تنظیمیں جو خالصتاً تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے کام کر رہی ہیں ان کی بھی اس طرف سنجیدہ توجہ دکھائی نہیں دیتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ائمہ مساجد کی مشکلات اور ان کا حل
۱۶ رمضان المبارک کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں چالیس روزہ دورۂ تفسیر قرآن کریم کا اختتام تھا، ہم نے روایتی طرز کی کوئی تقریب رکھنے کی بجائے اس روز علماء کرام اور خطباء و ائمہ کے لیے ایک فکری نشست کا اہتمام کیا جو ’’ائمہ و خطباء کی ذمہ داریاں اور ان کو درپیش مشکلات‘‘ کے عنوان سے راقم الحروف کی صدارت میں منعقد ہوئی اور اس میں علاقے کے ائمہ مساجد اور خطباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر راقم الحروف نے عرض کیا کہ ہم آج اپنی طرف سے کچھ عرض نہیں کریں گے بلکہ ان ائمہ و خطباء کی بات ان کی زبانی سننا چاہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں ہم جنس پرستوں کا اجتماع
اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں گزشتہ جون کے آخر میں منعقد ہونے والے ہم جنس پرستوں کے اجتماع پر پاکستان کے دینی و عوامی حلقوں کے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اسے ایک غیر ملکی سفارت خانے کی طرف سے ملک کے دستور و قانون کے منافی سرگرمیوں کی پشت پناہی اور حوصلہ افزائی قرار دیا جا رہا ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک یہ اس تہذیبی و ثقافتی کشمکش کا حصہ ہے جس کے تحت مغربی دنیا عالم اسلام میں آسمانی تعلیمات کی پابندی سے آزاد تہذیب و ثقافت کو مسلط کرنے کے لیے دباؤ، لابنگ، میڈیا، خوف اور لالچ کے تمام حربے استعمال کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان پیپلز پارٹی کا تحفظِ ختمِ نبوت سیمینار
پاکستان پیپلز پارٹی گکھڑ نے اپنی روایت قائم رکھتے ہوئے اس سال بھی ’’تحفظ ختم نبوت سیمینار‘‘ کا اہتمام کیا جو ۲۸ ستمبر کو ایک شادی ہال میں منعقد ہوا اور اس میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام، پیپلز پارٹی کی ضلعی و مقامی قیادت، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے راہنماؤں سمیت متعدد سیاسی جماعتوں کے ذمہ دار حضرات اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مجھے بطور مہمان خصوصی اس میں شرکت کا اعزاز بخشا گیا اور میں اپنے ذوق و مزاج کے خلاف ساڑھے تین چار گھنٹے تک مسلسل اس مسند پر براجمان رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا مجاہد الحسینی کی تصنیف ’’قرآنی معاشیات”
معیشت انسانی سماج کی اہم ترین ضرورت اور علم و فکر کے بنیادی موضوعات میں سے ہے جس کے بارے میں انسانی معاشرت کی راہ نمائی اور ہدایت کے لیے بارگاہ ایزدی سے نازل ہونے والی آسمانی تعلیمات میں مسلسل راہ نمائی کی گئی ہے اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ارشادات و فرمودات کا یہ اہم حصہ رہا ہے۔ قرآن کریم نے حضرت شعیب علیہ السلام کے ارشادات میں اس بات کا بطور خاص ذکر کیا ہے کہ انھوں نے اپنی قوم کو توحید اور بندگی کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ اس بات کی ہدایت فرمائی کہ ماپ تول میں کمی نہ کرو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ختم بخاری شریف کی تقریبات میں غیر ضروری تکلفات کا رواج
حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم نے دورانِ گفتگو فرمایا کہ ختم بخاری شریف کی تقریبات میں خرابیاں بڑھتی جا رہی ہیں اس لیے ہم نے جامعہ فاروقیہ کراچی میں اس کا سلسلہ موقوف کر دیا ہے اور طے کیا ہے کہ بخاری شریف کا آخری سبق بھی معمول کے عام اسباق کی طرح ہوا کرے گا اور اس کے لیے کوئی خاص اہتمام نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں میری رائے دریافت کی تو میں نے عرض کیا کہ ہم نے تو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں یہ سلسلہ کئی سال پہلے ختم کر دیا تھا اور اب ہمارے ہاں اس کے لیے کوئی خاص تقریب نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر