مقالات و مضامین

امریکہ میں دینی مصروفیات

میں ۱۹ ستمبر ۲۰۰۳ء سے امریکہ ہوں اور رمضان المبارک کے دوسرے ہفتہ کے دوران واپسی کا ارادہ ہے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی قریب ریاست ورجینیا کے علاقہ اسپرنگ فیلڈ میں دارالہدیٰ کے نام سے ایک دینی مرکز قائم ہے جس میں مسجد کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی تعلیم کا مکتب اور طالبات کے لیے اسکول بھی کام کر رہا ہے۔ اس کے بانی و منتظم مولانا الحمید اصغر نقشبندی کا تعلق بہاولپور سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۳ء

حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی قبر کی بے حرمتی

اخبارات میں ان دنوں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیز کی قبر کی بے حرمتی کے حوالہ سے احتجاج کی خبریں اور بیانات شائع ہو رہے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ تھانہ بھون (انڈیا) میں حضرت تھانویؒ کی قبر کی کچھ انتہا پسند ہندوؤں نے بے حرمتی کی ہے جس پر احتجاج کیا جا رہا ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس واقعہ کا سرکاری طور پر نوٹس لے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۷ء

قرآن کریم کے چالیس پارے

سینٹ میں متحدہ حزب اختلاف نے وفاقی وزیر تعلیم جناب جاوید اشرف کے اس بیان کے خلاف تحریک التوا جمع کرا دی ہے جس میں انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ تیسری جماعت سے آٹھویں جماعت تک بچوں کو چالیس پارے پڑھائے جائیں گے تاکہ انہیں مدرسہ جانے کی ضرورت نہ پڑے۔ تحریک التوا میں ارکان سینٹ نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر تعلیم کے اس بیان سے پاکستانی قوم کو شدید دکھ ہوا ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۷ء

’’حسبہ بل‘‘ کی راہ میں رکاوٹیں

سرحد کی صوبائی اسمبلی کی طرف سے ’’حسبہ بل‘‘ کی دوبارہ منظوری کے بعد اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے اور عدالت عظمیٰ نے اس پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے گورنر سرحد کو اس وقت تک اس بل پر دستخط کرنے سے روک دیا ہے جب تک اس کے بارے میں عدالت عظمیٰ کوئی فیصلہ نہیں کر دیتی۔ دوسری طرف سرحد کے وزیر اعلیٰ جناب محمد اکرم درانی نے کہا ہے کہ یہ بل سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق از سر نو ترتیب دیا گیا تھا اور اس میں اپوزیشن کی ترامیم کو بھی شامل کیا گیا ہے اس لیے اس پر اعتراض کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۷

ایک نئے ’’حقوق نسواں بل‘‘ کی تیاریاں

’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ پارلیمنٹ کی منظوری اور صدر کے دستخط کے بعد اب ایکٹ کی صورت اختیار کر چکا ہے اور قانون کے طور پر ملک میں نافذ ہوگیا ہے۔ مگر حکمران طبقے اس ’’دھکا شاہی‘‘ میں کامیاب ہوجانے کے بعد بھی اندر سے مطمئن نہیں ہیں اور ان کے ضمیر کی ملامت ان بیانات کی صورت میں مسلسل سامنے آرہی ہے جو وہ حدود شرعیہ اور دینی حلقوں کے بارے میں دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۷ء

پنجاب یونیورسٹی کا ’’عذر لنگ‘‘

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن آف پاکستان نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی شہادۃ العالمیہ کی سند کو ایم اے عربی و اسلامیات کے برابر تسلیم کر رکھا ہے اور اس کی بنیاد پر ملک کی متعدد یونیورسٹیاں وفاق المدارس کے فضلاء کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سہولت دے رہی ہیں۔ جبکہ پنجاب یونیورسٹی شہادۃ العالمیہ کی بنیاد پر ایک سرٹیفیکیٹ جاری کرتی ہے کہ اس سند کے حامل کو تعلیمی مقاصد کے لیے ایم اے اسلامیات و عربی کے برابر تسلیم کیا جاتا ہے ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۴ء

گھر سے بھاگنے والی لڑکیاں اور لاہور ہائیکورٹ

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ مارچ ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس تصدق حسین گیلانی نے فیصل آباد کے ایک نو عمر جوڑے کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لو میرج کیسوں میں عدالتوں کی ہمدردیاں والدین کے ساتھ ہوتی ہیں مگر قانون گھر سے بھاگنے والی لڑکیوں کا ساتھ دیتا ہے، ایسی صورتحال میں عدالتیں معاشرے میں شرمناک سمجھے جانے والے اس فعل کو روک سکتی ہیں اور نہ ایسے جوڑوں سے کوئی زبردستی کر سکتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۴ء

مدارس اور مغربی حکومتیں

دینی مدارس کے بارے میں مغربی ممالک کی دلچسپی اور سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف ممالک کے سفارت کار، این جی اوز اور انسانی حقوق کے ادارے دینی اداروں کے ساتھ روابط اور ان کے حوالہ سے معلومات حاصل کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ مالی تعاون اور فنی امداد کی پیشکشیں ہو رہی ہیں، اصلاحات کی باتیں ہو رہی ہیں، مدارس کے جداگانہ تشخص اور کردار پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، انہیں اجتماعی دھارے میں لانے کے عزائم ظاہر کیے جا رہے ہیں اور انہیں معاشرہ کا ’’کارآمد حصہ‘‘ بنانے کی نوید سنائی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۴ء

غربت اور دہشت گردی

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۷ مارچ ۲۰۰۷ء کی خبر کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف نے کبیر والا کے دورہ کے موقع پر استقبال کے لیے آنے والوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی دیوار دہشت گرد ہیں اور غربت کے خاتمہ سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑا جا سکتا ہے۔ جہاں تک ملک کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کا تعلق ہے ہمیں صدر جنرل پرویز مشرف کے جذبہ سے اتفاق ہے لیکن ان کا تجزیہ ہمارے نزدیک بہرحال محل نظر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۷ء

تعلیمی اداروں میں ہوش ربا فیسیں

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ نے ۱۵ مارچ ۲۰۰۷ء کو ایک خبر شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ہوش ربا فیسوں کو طلبہ اور والدین کے لیے بوجھ قرار دیتے ہوئے وفاقی وزارت تعلیم سے کہا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں مانیٹرنگ کا مؤثر نظام وضع کرے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سب کمیٹی نے سردار عاشق گوپانگ کی زیر صدارت ایک اجلاس میں سرکاری کالجوں میں بھی طلبہ سے کالج فنڈ کی وصولی کو ٹیکس قرار دیا ہے اور اسے بند کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۷ء

تھائی لینڈ میں شراب پر پابندی کے اقدامات

روزنامہ پاکستان لاہور نے ۱۵ مارچ ۲۰۰۷ء کو اے پی پی کے حوالہ سے یہ خبر شائع کی ہے کہ تھائی لینڈ کی حکومت نے شراب اور الکوحل کے اشتہارات پر پابندی کے قانون کی منظوری دے دی ہے۔ خبر کے مطابق وزیر صحت مونگ کول نا نے بتایا ہے کہ حکومت کی طرف سے اس قانون کو بہت جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ سکولوں، مندروں اور حکومتی دفاتر کے قریب شراب فروخت کرنے پر پابندی ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۷ء

ملک کا عدالتی بحران اور حکومت کی ذمہ داری

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب محمد جسٹس افتخار چودھری کو غیر فعال کرنے کے بعد جبری رخصت پر بھیجے دینے کی کاروائی سے ملک میں جو بحران پیدا ہوا ہے اس کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے۔ پورے ملک کی وکلاء برادری اس پر سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے اور انہیں اس سلسلہ میں اپوزیشن کی سیاسی و دینی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ جسٹس محمد افتخار چودھری جب سے ملک کی عدالت عظمیٰ کے سربراہ بنے ہیں تب سے قومی اور عوامی نوعیت کے مقدمات میں ان کی دلچسپی نمایاں رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۷ء

پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کا مسئلہ

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) نے بھی حکومت سے سفارش کر دی ہے کہ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ دوبارہ بحال کیا جائے اور اس سلسلہ میں دینی حلقوں میں پائی جانے والی تشویش کو ختم کیا جائے۔ پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کا اضافہ اب سے ربع صدی قبل اس وقت کیا گیا تھا جب قادیانیوں کو ملک کے دستور میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ اور یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ قادیانی گروہ اپنے بارے میں عالم اسلام کے دینی مراکز اور پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کا یہ فیصلہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۵ء

دہشت گردی کے بعد رجعت پسندی کے خلاف جنگ

ایک مقتدر شخصیت کا یہ بیان پڑھ کر ذہن میں ایک نیا مخمصہ ابھر آیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ کے بعد اب رجعت پسندی سے جنگ ہوگی۔ خدا جانے ان کے سامنے رجعت پسندی کا کونسا نقشہ ہے مگر یہ بات بہرحال فکر و نظر کو متوجہ کرنے لگی ہے کہ دہشت گردی کا تو ابھی تک کوئی واضح مفہوم طے نہیں پا سکا اور عالمی، علاقائی یا قومی دائروں میں یہ فیصلہ بہرحال ارباب حل و عقد کے ہاتھ میں ہی ہے کہ وہ جسے چاہیں دہشت گرد قرار دے کر قابل گردن زدنی ٹھہرا دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ دسمبر ۲۰۱۸ء

جامعہ حفصہ للبنات اسلام آباد کو گرانے کا نوٹس

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۲ جنوری ۲۰۰۷ء کی ایک خبر کے مطابق دینی مدارس کے وفاقوں کے اتحاد نے وفاقی وزیر مذہبی امور جناب اعجاز الحق کے ساتھ مذاکرات سے معذرت کر لی ہے اور اس امر پر احتجاج کیا ہے کہ حکومت ایک طرف تو دینی مدارس کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کی بات کر رہی ہے اور دوسری طرف دینی مدارس پر دباؤ اور ان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے سختی کے ساتھ اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۷ء

میڈیا اور ٹی وی کی تباہ کاریاں

عید الفطر کے موقع پر عراق کے سابق صدر صدام حسین کو جس انداز سے پھانسی دی گئی اور اس کی جس بھونڈے انداز میں تشہیر کی گئی اسے دیکھ کر بعض اخباری اطلاعات کے مطابق اب تک پاکستان، سعودی عرب اور امریکہ سمیت مختلف مقامات پر سات بچے اس پھانسی کی نقل اتارتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ پاکستان میں رحیم یار خان کے مقام پر ایک بچے نے صدام حسین کی پھانسی کی فلم دیکھ کر اپنے گلے میں رسی ڈال لی اور لٹک کر جان بحق ہوگیا اور اسی طرح کے واقعات دوسرے مقامات میں بھی ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۷ء

غیر فطری نظام کا منطقی نتیجہ

روزنامہ جنگ لاہور ۱۷ جنوری ۲۰۰۷ء کی خبر کے مطابق امریکہ میں خاوند کے بغیر رہنے والی خواتین اب اکثریت اختیار حاصل کر گئی ہیں۔ خبر کے مطابق نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۲۰۰۰ء میں بغیر خاوند کے رہنے والی خواتین کا تناسب ۴۹ فیصد تھا جو ۲۰۰۵ء میں بڑھ کر ۵۱ فیصد ہوگیا ہے۔ رپورٹ میں اس کی ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ طلاق یا بیوہ ہونے کی صورت میں عورتیں دوسری شادی سے گریز کرنے لگی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۷ء

بیرونی ممالک میں فضلائے نصرۃ العلوم کی سرگرمیاں

عید الاضحٰی کی تعطیلات کے دوران مجھے آٹھ دس روز کے لیے برطانیہ جانے کا موقع ملا اور مختلف شہروں میں علمائے کرام اور دینی احباب سے ملاقاتیں ہوئیں۔ جامعۃ الہدیٰ نوٹنگھم، ابراہیم کمیونٹی کالج لندن اور مدینہ مسجد آکسفورڈ میں اجتماعات سے خطاب کے علاوہ مدرسہ نصرۃ العلوم کے بعض فضلاء کے ہاں جانے اور ان کی سرگرمیوں سے آگاہی کا بھی اتفاق ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۷ء

گوجرانوالہ میں خاتون صوبائی وزیر کا قتل

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون صوبائی وزیر مسز ظل ہما عثمان کو کھلی کچہری کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ قاتل گوجرانوالہ کا شہری ہے جو اس سے قبل بھی متعدد خواتین کو بدکاری کے الزام کے حوالہ سے قتل کر چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے خاتون صوبائی وزیر کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قتل کیا ہے کیونکہ وہ بے پردہ پھرتی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ عورت کی حکمرانی کو بھی شرعاً جائز نہیں سمجھتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۷ء

الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ پر پابندی

حکومت نے الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ کو خلاف قانون قرار دے کر ان کی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی ہے اور ملک بھر میں ان کے دفاتر سربہ مہر کر دیے ہیں۔ اس اقدام کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اقوام متحدہ کی ایک قرار داد کی رو سے یہ ضروری ہوگیا تھا اس لیے یہ کاروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ ہمارے ملک کی دو بڑی دینی شخصیات حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ اور حضرت مولانا حکیم محمد اخترؒ کے قائم کردہ رفاہی ادارے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۷ء

حسبہ بل اور سپریم کورٹ آف پاکستان

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سرحد اسمبلی میں پیش کیے جانے والے ’’حسبہ بل‘‘ کی بعض شقوں کو خلاف دستور قرار دے دیا ہے اور بعض خبروں کے مطابق صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل (MMA) کی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق حسبہ بل کو از سر نو مرتب کرنے پر غور کر رہی ہے۔ حسبہ بل کا مقصد صوبہ میں اسلامی احکام و شعائر کی پابندی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ایک سرکاری نظام قائم کرنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۷ء

سپریم کورٹ کا شریعت ایپلٹ بینچ اور یورپی یونین کا جی ایس پی پلس تجارتی معاہدہ

ہمارے جیسے کچھ لوگ ملک میں فکری، معاشرتی اور دینی و قومی مسائل کا جو واویلا کرتے رہتے ہیں اس کا دائرہ کار کوئی عوامی تحریک نہیں بلکہ ’’توجہ دلاؤ تحریک‘‘ ہوتا ہے۔ اس لیے کہ کسی عوامی تحریک کا اس کے سوا کوئی امکان باقی نہیں رہا کہ بڑی دینی اور نظریاتی جماعتوں کی قیادت مل بیٹھے اور ملک کو درپیش سنگین مسائل کا احساس و ادراک کرتے ہوئے رائے عامہ کو منظم و متحرک کرنے کا کوئی راستہ نکالے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ نومبر ۲۰۱۵ء

اسلام کے جدید یورپی برانڈ کی تیاریاں

روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۱۳ جنوری ۲۰۰۵ء کی اشاعت میں ’’نیوزویک‘‘ کی ایک حالیہ رپورٹ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یورپ کی حکومتیں معتدل مسلمانوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ اکثر بیرون ملک سے آنے والے مسلمان امام اسلام کا (ان کے بقول) غلط مطلب نکال کر مسلمانوں کے کان بھر رہے ہیں۔ نیوزویک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سویٹزرلینڈ کے بشپ سے لے کر ڈینش وزراء تک سبھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ یورپ اپنے برانڈ کا جدید ترین اور یورپی رنگ میں رنگا ہوا اسلام ایجاد کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۵ء

بالغ لڑکی کے نکاح کا آزادانہ حق اور خاندانی نظام

روزنامہ جنگ لاہور ۱۵ جنوری ۲۰۰۵ء کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے محترم جسٹس چوہدری مزمل احمد خان نے گوجرانوالہ میں ینگ لائرز ایسوسی ایشن کے عہدہ داروں کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کے موقع پر روزنامہ جنگ کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لڑکی بالغ ہو، اس کا کوئی شناختی کارڈ بنا ہو اور اس نے اپنی آزاد مرضی سے عدالت میں یا کسی مسجد میں نکاح کیا ہو، اس کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۵ء

حدود شرعیہ کے قوانین اور نیا حکومتی مسودہ قانون

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۳ جنوری ۲۰۰۵ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق سیکرٹری محترم ڈاکٹر امین نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی وزیر قانون جناب وصی ظفر صاحب نے گزشتہ دنوں دانشوروں کے ایک اجلاس میں حدود آرڈیننس کے حوالہ سے جس نئے مجوزہ مسودہ قانون کا تعارف کرایا ہے اس کے مطابق زنا کو ناقابل دست اندازیٔ پولیس جرم قرار دیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۵ء

جھگی نشینوں کی تعلیم و اصلاح کا ایک اچھا منصوبہ

۱۶ دسمبر کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں غیث ویلفیئر اینڈ ایجوکیشن ٹرسٹ کا ایک سیمینار ہوا جس میں مجھے بطور خاص شرکت کی دعوت دی گئی اور میں نے ٹرسٹ کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے علاوہ کچھ گزارشات بھی پیش کیں۔ یہ ٹرسٹ چند علماء کرام اور ان کے رفقاء پر مشتمل ہے جن میں ہمارے بعض شاگرد اور ساتھی بھی شریک ہیں جو ’’جھگی تعلیمی پروجیکٹ‘‘ کے عنوان سے خانہ بدوشوں میں اصلاح و ترقی اور تعلیم و تربیت کے حوالہ سے سرگرم عمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ دسمبر ۲۰۱۸ء

مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ ۔ عظیم مؤرخ اور مفکر

جمعیۃ علماء ہند کے قیام کو ایک صدی مکمل ہونے پر انڈیا میں صد سالہ تقریبات کا سلسلہ جاری ہے اور جمعیۃ کے بزرگ اکابر کی یاد میں مختلف سیمینارز منعقد ہو رہے ہیں۔ دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کے سرگرم راہنما، مؤرخ اور مفکر حضرت مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ کے حوالہ سے منعقدہ سیمینار کی مناسبت سے حضرتؒ کے ساتھ عقیدت اور چند ملاقاتوں کے تاثرات پر مشتمل کچھ گزارشات قلمبند ہوگئیں جو قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ دسمبر ۲۰۱۸ء

دینی تعلیم کا نظام اور قومی دھارا

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۴ نومبر ۲۰۰۶ء کی ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور جناب اعجاز الحق نے کہا ہے کہ حکومت دینی مدارس کے تعلیمی نظام کو قومی دھارے میں لانا چاہتی ہے اور اس حوالہ سے تین پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے۔ان میں پہلا اور اہم قدم یہ ہے کہ ملک بھر میں مدرسوں کے قیام کے لیے ٹھوس طریقہ کار اپنایا جائے، دوسرا پہلو یہ ہے کہ نرسری کی سطح پر نصاب میں چند اہم مضامین، ریاضی، سائنس اور انگلش کو بھی شامل کیا جائے، جبکہ تیسرا اور آخری پہلو مدرسوں کو قومی دھارے میں لانا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۶ء

’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کی منظوری اور مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان کا قیام

’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ بالآخر قومی اسمبلی اور سینٹ نے منظور کر لیا ہے اور اس میں نہ صرف یہ کہ ملک کے دینی حلقوں کے متفقہ موقف اور اس سلسلہ میں حکومت اور متحدہ مجلس عمل کی مشاورت سے قائم ہونے والی ’’علماء کمیٹی‘‘ کی سفارشات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے بلکہ حدود قرآنی میں عملاً ردوبدل کے باوجود اس بل کو قرآن و سنت کے مطابق قرار دیا جا رہا ہے۔ اور مقتدر ترین حلقوں کی طرف سے تحدی کے انداز میں یہ کہا جا رہا ہے کہ آئندہ بھی قانون کے معاملات میں دینی حلقوں یا بقول ان کے انتہا پسندوں کی کوئی بات نہیں چلنے دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۶ء

برطانیہ میں عورتوں کے حجاب کا مسئلہ

فرانس کے بعد اب برطانیہ میں بھی مسلمان عورتوں کے حجاب کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا ہے اور مسلمان خواتین کو حجاب سے باز رکھنے کی مہم میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر بھی میدان میں کود پڑے ہیں۔ اس سے قبل فرانس میں یہ سوال کھڑا ہوا تھا اور حکومت فرانس نے مسلمان عورتوں کا یہ حق تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ اسلام کے شرعی احکام کے مطابق پردہ کریں اور شرعی حجاب استعمال کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۶ء

ڈاکٹر عبدالقدیر کی کردارکشی کی افسوسناک مہم

ڈاکٹر عبدالقدیر ہمارے ملک کے محترم سائنس دان ہیں جو اس حوالہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے محسن ہیں کہ انہوں نے پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور ان کی اس عظیم محنت کے نتیجے میں آج ہمارے حکمران پاکستان کو ناقابل تسخیر قوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ مگر عالمی دباؤ پر ڈاکٹر عبدالقدیر کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۶ء

تصوف اور روشن خیالی

گزشتہ دنوں پاکستان میں تصوف کے فروغ کے لیے قومی سطح پر ایک کونسل تشکیل دی گئی ہے جس کا سرپرست اعلیٰ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کو چنا گیا ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اس کے چیئرمین ہوں گے۔ اس کونسل کے اغراض و مقاصد میں بتایا گیا ہے کہ رواداری، انسان دوستی اور اعتدال پسندی کو عام کرنے میں ’’صوفی اسلام‘‘ نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے اور آج ان باتوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۶ء

پاپائے روم کا انتہائی افسوسناک بیان

کیتھولک مسیحیوں کے عالمی راہنما اور پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے گزشتہ دنوں جرمنی کی ایک یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے ایک پرانے بازنطینی مسیحی بادشاہ عمانوتیل دوم کا یہ جملہ اپنی تائید کے ساتھ دہرا کر دنیا بھر کے مسلمانوں کو اضطراب کی کیفیت سے دو چار کر دیا ہے کہ حضرت محمدؐ نے اپنے پیروکاروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ مذہب اسلام کو تلوار کی زور سے دنیا میں پھیلائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۶ء

فرقہ وارانہ کتابوں کی ضبطی کا معاملہ

ان دنوں اخبارات میں حکومت کی طرف سے جاری کردہ کتابوں کی ایک فہرست کے بارے میں مختلف حلقوں کے بیانات شائع ہو رہے ہیں۔ اس فہرست کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ کم و بیش ساٹھ کتابوں پر مشتمل ہے اور یہ ان کتابوں کی فہرست ہے جنہیں فرقہ وارانہ کشیدگی کا باعث بننے والی کتابیں قرار دے کر انہیں ضبط کرتے ہوئے دوبارہ ان کی اشاعت کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کتابوں میں حضرت شاہ محمد اسماعیل شہیدؒ کی تصنیف ’’تقویۃ الایمان‘‘ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے فتاویٰ کا مجموعہ ’’فتاویٰ رشیدیہ‘‘ بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۶ء

حدود آرڈیننس میں ترامیم کی بحث

حدود آرڈیننس میں مجوزہ ترامیم کے حوالہ سے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں اعلیٰ سطح پر مذاکرات ہوئے جن میں راقم الحروف کو بھی شریک ہونے کا موقع ملا، اس کی تھوڑی سی تفصیل قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دور میں معاشرتی جرائم کی شرعی سزاؤں یعنی حدود شرعیہ کا ’’حدود آرڈیننس‘‘ کے نام سے ایک قانونی پیکج نافذ کیا گیا تھا جو سیکولر حلقوں کے اعتراض و تنقید کا مسلسل ہدف بنا ہوا ہے اور یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسے منسوخ کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۶ء

آل پارٹیز کانفرنس کے مطالبات اور حکومت کی خاموشی

آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اسلام آباد منعقد یکم فروری ۲۰۱۷ء نے حکومت کے سامنے چھ نکاتی مطالبہ پیش کر کے اسے ایک ماہ کے اندر منظور کرنے کے لیے کہا تھا اور قبول نہ کیے جانے کی صورت میں عوامی تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے ملک کے متعدد شہروں میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی نگرانی میں مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے علمائے کرام اور دینی کارکنوں کے مشترکہ اجتماعات ہو رہے ہیں اور ان اجتماعات کے ساتھ ساتھ خطبات جمعۃ المبارک میں بھی یہ مطالبات مسلسل دہرائے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ فروری ۲۰۱۷ء

مسلمان ممالک میں ارتدادی سرگرمیوں کی روک تھام

روزنامہ پاکستان ۲۴ اگست ۲۰۰۶ء کے مطابق ملائیشیا کے وزیر اعظم عبداللہ احمد بداوی نے اپنے ملک کی ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے قوانین لاگو کریں جن کے ذریعہ مسلمانوں میں دیگر مذاہب کے پرچار کی ممانعت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جن ریاستوں میں ایسے قوانین نہیں ہیں وہ اپنے ہاں مسلمانوں میں دیگر مذاہب کے پرچار کے امتناع کے قوانین وضع کرکے لاگو کریں اور اس سلسلہ میں جو بھی قدم ضروری ہو اٹھایا جائے۔ خبر کے مطابق ملائشیا کی دو کروڑ ساٹھ لاکھ آبادی میں ساٹھ فی صد مسلمان ہیں اور ملائیشیا کا سرکاری مذہب اسلام ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۶ء

اسرائیل کی پسپائی اور ٹونی بلیئر کی دھمکی

لبنان پر فوج کشی سے اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکنے اور عالمی برادری کے دباؤ پر اسرائیل نے پسپائی اختیار کر لی ہے اور خود اسرائیل کے اندر اسے اسرائیل کی شکست قرار دیتے ہوئے اس کے اسباب پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ بظاہر اسرائیل کا مقصد اپنے دو فوجیوں کی رہائی اور جنوبی لبنان پر تسلط حاصل کرنا تھا لیکن ان میں سے کوئی مقصد بھی پورا نہیں ہوا اور اسرائیل کو اپنی سرحدوں کے اندر واپس جانا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۶ء

حدود آرڈیننس میں ترامیم کا نیا بل

قومی اسمبلی میں ’’تحفظ خواتین بل‘‘ کے نام سے حدود آرڈیننس میں ترامیم کا بل پیش کیا گیا ہے اور متحدہ مجلس عمل نے اسے مسترد کرتے ہوئے ایوان کے اندر اور باہر اس کے خلاف شدید احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ حدود آرڈیننس میں ترامیم کا عندیہ ایک عرصہ سے دیا جا رہا تھا اور بعض ملکی اور بین الاقوامی حلقوں کے مطالبہ پر ان ترامیم کی تیاری پر مسلسل کام ہو رہا تھا جس کا نتیجہ تحفظ خواتین بل کی صورت میں سامنے آیا ہے اور اس سے ملک میں حدود شرعیہ کے نفاذ و بقا کا مسئلہ بحث و مباحثہ کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۶ء

قومی اسمبلی میں نماز کا وقفہ ختم کرنے کی تجویز

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ مئی ۲۰۰۶ء کی ایک خبر کے مطابق قومی اسمبلی کی قواعد و ضوابط کمیٹی نے جناب نصر اللہ دریشک کی صدارت میں منعقدہ ایک اجلاس میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران نماز کا وقفہ ختم کر دینے کی تجویز پیش کی ہے جس پر متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے شدید نکتہ چینی کی ہے اور اسے اشتعال انگیز قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۶ء

وفاقی شرعی عدالت بحران کی زد میں

وفاقی شرعی عدالت ان دنوں بحران کا شکار ہے اور روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ مئی ۲۰۰۶ء کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس نسیم سکندر نے وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کا منصب قبول کرنے سے معذرت کر لی ہے، انہیں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس اعجاز یوسف کی سبکدوشی کے بعد صدارتی نوٹیفکیشن کے ذریعہ چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس منصب کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۶ء

عامر چیمہ ؒ کی شہادت اور حکومت کی ذمہ داری

عامر چیمہ شہیدؒ کو اس کے آبائی گاؤں ساروکی چیمہ میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ جنازہ کے وقت اور پروگرام کو آخر وقت تک ابہام میں رکھا گیا اور اس کے بارے میں متضاد خبریں نشر کی جاتی رہیں جن کا مقصد یہ تھا کہ نماز جنازہ میں زیادہ لوگ شریک نہ ہو سکیں، اس کے باوجود زندہ دل مسلمانوں کے ایک بڑے ہجوم نے نماز جنازہ ادا کی اور اس کے بعد بھی ملک بھر سے مسلمان بڑی تعداد میں ساروکی چیمہ پہنچ کر اس باغیرت مسلم نوجوان کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۶ء

علامہ محمد احمد لدھیانویؒ

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ کے بزرگ عالم دین علامہ محمد احمد لدھیانویؒ کم و بیش پچھتر برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق علماء لدھیانہ کے معروف خاندان سے تھا اور ان کے والد محترم حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانویؒ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے تلامذہ میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۶ء

اسلامی تعلیم کے نصاب میں تبدیلی کے اقدامات

ان دنوں پھر اعلیٰ سطح پر ملک کے سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے اسلامی تعلیمات کے نصاب میں تبدیلی کی باتیں گردش کر رہی ہیں اور صدر پرویز مشرف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ نصاب فرقہ واریت کا باعث بن رہا ہے اس لیے اس کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔ دراصل مغرب کے دباؤ کے باعث ہمارے حکمران طبقے ایک عرصہ سے اس کوشش میں ہیں کہ ملک کے سرکاری نصاب تعلیم میں اسلامی تعلیمات کا جتنا کچھ مواد موجود ہے اسے اگر ختم نہیں کیا جا سکتا تو کم از کم کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۶ء

دوپٹہ اختیاری نہیں دینی فریضہ ہے

گزشتہ روز اسلام آباد کے جناح کنونشن سنٹر میں طلبہ و طالبات کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ عورت کی مرضی ہے کہ وہ دوپٹہ لے یا نہ لے ، کسی پر اس سلسلہ میں جبر نہیں کیا جا سکتا۔ صدر جنرل پرویز مشرف اس قسم کے خیالات کا اظہار اس سے قبل بھی کئی بار کر چکے ہیں لیکن ایسا کہتے ہوئے وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سربراہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۶ء

حضرت مولانا عزیر گلؒ

۱۳ اپریل ۲۰۰۶ء کو شیر گڑھ مردان میں تحریک آزادی کے عظیم راہنما حضرت مولانا عزیر گل ؒ کی یاد میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں متحدہ مجلس عمل کے راہنماؤں مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین احمد کے علاوہ صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم درانی اور دیگر اہم شخصیات نے بھی خطاب کیا۔ سیمینار میں حضرت مولانا عزیر گل ؒ کی دینی و ملی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا اور تحریک آزادی میں ان کے کردار کو سراہتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چلنے کا عزم کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۶ء

پاکستان کے دینی مدارس میں غیر ملکی طلبہ

روزنامہ جنگ کراچی ۲۴ جولائی ۲۰۰۶ء کی ایک خبر کے مطابق کراچی کے بڑے مدارس کے سرکردہ حضرات نے حکومت کی یہ ہدایت مسترد کر دی ہے کہ ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو ان کے ملکوں میں واپس بھجوا دیا جائے۔ خبر کے مطابق حکومت نے چار غیر ملکی طلبہ کو ان کے وطن واپس بھیجنے کے لیے جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن اور جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی کو خط لکھا ہے کہ جامعہ بنوری ٹاؤن کے تین اور جامعہ بنوریہ کے ایک طالب علم کو فوری طور پر فارغ کرکے ان کے وطن واپس بھیجا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۶ء

درسی کتب سے مذہبی مواد حذف کرنے کی کاروائی

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۲ جولائی ۲۰۰۶ء کی خبر کے مطابق سعودی عرب نے درسی کتب میں مذہبی عقائد سے متعلق کٹر خیالات کو حذف کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق سعودی عرب نے درسی کتابوں سے کٹر عقائد اور خیالات کو حذف کرکے اصلاحات کے مخلصانہ رویے کا ثبوت دیا ہے اسی لیے اس پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ معطل کر دیا گیا ہے۔ سعودی عرب میں امریکی سفیر جان یان فورڈ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ اور ان کی حکومت نے اصلاحات پر عملدرآمد کا جو قدم اٹھایا ہے وہ قابل ستائش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۶ء

لبنان کی صورتحال اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری

لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت نے ایک بار پھر پورے علاقہ کے لیے جنگی صورتحال پیدا کر دی ہے اور بعض حلقوں کی طرف سے نئی عالمگیر جنگ کے خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے لیکن عالم اسلام ابھی تک خواب خرگوش میں ہے اور مسلم دارالحکومتوں پر ’’سکوت مرگ‘‘ طاری ہے۔ اسرائیل نے لبنان پر چڑھ دوڑنے کے لیے اسی طرح کا بہانہ تراشا ہے جس طرح کا بہانہ افغانستان اور عراق پر فوج کشی کے لیے امریکہ نے تراشا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۶ء

برطانیہ میں دینی تعلیم کا بڑھتا ہوا رجحان

گزشتہ ماہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں شش ماہی امتحان کی تعطیلات کے دوران مجھے دو ہفتے کے لیے برطانیہ جانے کا اتفاق ہوا، کم و بیش ہر سال ان دنوں برطانیہ جاتا ہوں اور متعدد دینی مراکز اور تعلیمی مدارس کے پروگراموں میں شرکت ہوتی ہے، اس سال ابراہیم کمیونٹی کالج لندن، جامعۃ الہدیٰ شیفیلڈ، مدرسہ قاسم العلوم برمنگھم، مدینہ مسجد آکسفورڈ اور ابوبکر اسلامک سنٹر ساؤتھ آل لندن کے پروگراموں میں شرکت کے علاوہ بریڈ فورڈ، نوٹنگھم، برنلی، کراؤلی، رچڑیل اور ویکفیلڈ میں مختلف دینی اجتماعات میں حاضری ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۶ء

Pages